Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تواضع اور عاجزی کی فضیلت ( قسط:دوم ) | امام احمد بن حجر مکی

تواضع اور عاجزی کی فضیلت (قسط:دوم)
عنوان: تواضع اور عاجزی کی فضیلت (قسط:دوم)
تحریر: شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

100۔ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "ادنی درجے کا لباس پہننا ایمان میں سے ہے۔" یعنی اللہ عزوجل کے لئے تواضع کرتے ہوئے اعلیٰ لباس ترک کرنا اور ادنیٰ لباس کو ترجیح دینا ایمان کی علامت ہے۔ [سنن ابی داؤد، کتاب الترجل، باب ۱، الحدیث: 4161، ص 526]

101۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزولِ سکینہ، فیض گنجینہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جس نے قدرت کے باوجود اللہ عزوجل کے لئے اعلیٰ لباس ترک کر دیا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے۔" [جامع الترمذی، ابواب صفة القيامة، باب النساء كله، الحدیث: 2481، ص 1901]

102۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "اعتدال پسندی، میانہ روی اور اچھی نیت نبوت کے 24 اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔" [جامع الترمذی، ابواب البر والصلة، باب ماجاء فی التأنی، الحدیث: 2010، ص 1853]

103۔ دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحر و بر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "عملِ آخرت کے علاوہ ہر چیز میں اعتدال پسندی اچھی چیز ہے۔" [المستدرک، کتاب الایمان، باب التؤدة فی کل شیء، الحدیث: 221، ج 1، ص 239]

104۔ سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "حلم و تدبر اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔" [مجمع الزوائد، کتاب الادب، باب ماجاء فی الرفق، الحدیث: 12652، ج 8، ص 23]

105۔ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگار ﷺ نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا: "اے عائشہ! عاجزی اپناؤ کہ اللہ عزوجل عاجزی کرنے والوں سے محبت، اور تکبر کرنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔" [کنز العمال، کتاب الخلافہ، قسم الافعال، باب الهديه، الحدیث: 14478، ج 5، ص 32]

106۔ حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوبِ ربِّ اکبر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جو اللہ عزوجل کے لئے عاجزی اختیار کرے اللہ عزوجل اسے بلند کرتا ہے اور جو تکبر کرے اللہ عزوجل اسے رُسوا کر دیتا ہے۔" [الترغيب والترهيب، كتاب التوبة، باب الترغيب فی الزهد......الخ، الحدیث: 5032، ج 4، ص 7]

107۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جو اللہ عزوجل کے لئے عاجزی اختیار کرے اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے، جو خرچ میں میانہ روی اختیار کرے اللہ عزوجل اسے غنی کر دیتا ہے اور جو اللہ عزوجل کا ذکر کرے اللہ عزوجل اس سے محبت فرماتا ہے۔" [المرجع السابق]

108۔ نبی مکرّم، نُورِ مجسّم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جو اللہ عزوجل کے لئے عاجزی اختیار کرے اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرمائے گا، پس وہ خود کو کمزور سمجھے گا مگر لوگوں کی نظروں میں عظیم ہو گا اور جو تکبر کرے اللہ عزوجل اسے ذلیل کر دے گا، پس وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہو گا مگر خود کو بڑا سمجھتا ہو گا یہاں تک کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور خنزیر سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔" [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحدیث: 5734، ج 3، ص 50]

109۔ رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جس نے اللہ عزوجل سے ڈرتے ہوئے تواضع اختیار کی تو اللہ اسے بلند فرمائے گا اور جو خود کو بڑا سمجھتے ہوئے غرور کرے اللہ عزوجل اسے رسوا کر دے گا، لوگ اللہ عزوجل کی رحمت کے سائے میں اپنے اعمال بجا لاتے ہیں جب اللہ عزوجل کسی بندے کو ذلیل و رسوا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی رحمت کے سائے سے نکال دیتا ہے، لہٰذا اس بندے کے گناہ ظاہر ہو جاتے ہیں۔" [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب التواضع، الحدیث: 5735، ج 3، ص 50]

110۔ حضورِ نبی پاک، صاحبِ لَولاک، سیاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "تواضع بندے کی رفعت میں اضافہ کرتی ہے لہٰذا تواضع اختیار کرو اللہ عزوجل تمہیں رفعت عطا فرمائے گا۔" [المرجع السابق، الحدیث: 5716، ج 3، ص 48]

111۔ اللہ کے محبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ’جو میری مخلوق سے نرمی کرے اور میرے لئے تواضع اختیار کرے اور میری زمین پر تکبر نہ کرے تو میں اسے بلندی عطا کروں گا یہاں تک کہ عِلِّیِّین تک پہنچا دوں گا۔‘ "

112۔ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن و جمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "ہر آدمی کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جس پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، اگر وہ تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ عزوجل اسے رفعت و بلندی عطا فرماتا ہے اور اگر بلندی چاہتا ہے تو اللہ عزوجل اسے ذلیل کر دیتا ہے اور کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے، تو جو اللہ عزوجل سے (اس میں) جھگڑے گا اللہ عزوجل اسے ذلیل کر دے گا۔" [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب التواضع، الحدیث: 5739، ج 3، ص 50]

113۔ دافعِ رنج و ملال، صاحبِ جُود و نوال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "ہر آدمی کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جسے ایک فرشتہ تھامے ہوتا ہے جب وہ تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس لگام کے ذریعے اسے بلند فرما دیتا ہے اور فرشتہ کہتا ہے: ’بلند ہو جا! اللہ عزوجل تجھے بلند فرمائے۔‘ اور جب وہ (اکڑ کر) اپنا سر اوپر اٹھاتا ہے تو اللہ عزوجل اسے زمین کی طرف پھینک دیتا ہے اور فرشتہ کہتا ہے: ’پست ہو جا! اللہ عزوجل تجھے پست کرے۔‘ " [المرجع السابق، الحدیث: 5740، ج 3، ص 50]

114۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "ہر انسان کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جو ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اس لگام کے ذریعے اسے بلندی عطا کی جاتی ہے اور فرشتہ کہتا ہے: ’بلند ہو جا! اللہ عزوجل تجھے بلند فرمائے۔‘ اور اگر وہ اپنے آپ کو (تکبر سے) خود ہی بلند کرتا ہے تو وہ اسے زمین کی جانب پست کر کے کہتا ہے: ’پست ہو جا! اللہ عزوجل تجھے پست کرے۔‘ " [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب التواضع، الحدیث: 5741، ج 3، ص 50]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!