| عنوان: | علم غیب اور دیوبندیوں کے باطل عقائد |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
تحریر میں بیان کردہ مؤقف کے مطابق، اہلسنّت و الجماعت اور دیوبندی مکتبہ فکر کے درمیان اصل اختلاف محض فروعی مسائل (جیسے درود و سلام، نذر و نیاز، یا مزارات پر حاضری) کا نہیں، بلکہ بنیادی عقائد اور شانِ نبوت میں گستاخی کا ہے۔ مضمون نگار کا دعویٰ ہے کہ اکابرِ دیوبند کی کتب میں ایسی عبارات موجود ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس میں توہین کا پہلو پایا جاتا ہے۔
اکابرِ دیوبند کی عبارات پر اعتراضات
مضمون نگار نے چند مخصوص حوالہ جات پیش کیے ہیں جن پر اہلسنّت کی جانب سے سخت اعتراضات کیے جاتے ہیں:
- حفظ الایمان: اشرف علی تھانوی کی کتاب 'حفظ الایمان' کے حوالے سے اعتراض کیا گیا ہے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علمِ غیب کا موازنہ بچوں، پاگلوں اور جانوروں کے علم سے کیا گیا ہے۔
- تحذیر النّاس: قاسم نانوتوی کی کتاب 'تحذیر الناس' پر اعتراض ہے کہ اس میں خاتمیتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مفہوم کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
- صراطِ مستقیم: اسمعیل دہلوی کی کتاب 'صراط مستقیم' میں نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصور کو جانوروں کے خیال سے بدتر کہا گیا ہے۔
- براہینِ قاطعہ: خلیل احمد انبیٹھوی کی 'براہینِ قاطعہ' میں میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کنھیا کے جنم دن سے تشبیہ دینے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردو زبان سیکھنے جیسے دعووں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔
عقیدۂ علمِ غیب میں تضاد کا پہلو
مضمون میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ دیوبندی علماء 'تقویۃ الایمان' جیسی کتب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے غیب کے معمولی علم کو شرک قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف 'انکشاف' جیسی کتب میں اپنے اکابر (جیسے نانوتوی، گنگوہی، تھانوی) کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ عالمِ مثال اور انوارِ تجلیات کا بے حجاب مشاہدہ کرتے تھے۔ مضمون نگار کے مطابق، اپنے بزرگوں کے حق میں غیب کا مشاہدہ تسلیم کرنا اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں اللہ کی عطا سے علمِ غیب کو شرک قرار دینا ایک واضح تضاد ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کا مؤقف
تحریر میں امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ کا فتویٰ نقل کیا گیا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی عطا سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کثیر و وافر علمِ غیب کا منکر ہے، وہ صریح گمراہ اور بددین ہے۔ نیز امامِ اہلسنّت نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ جو شخص دیوبندی عقائدِ کفر یہ پر مطلع ہو کر ان کو اچھا جانے یا انہیں مسلمان سمجھے، وہ خود بھی ایمان سے خارج ہو سکتا ہے، کیونکہ "من شک فی کفرہ فقد کفر" (جس نے اس کے کفر میں شک کیا وہ خود کافر ہو گیا)۔
مضمون نگار کا اختتامی نقطہ یہ ہے کہ ان باطل عقائد رکھنے والوں کا اسلام کے اصل مسلک سے کوئی واسطہ نہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے اور ان سے اصلاحی روابط رکھنے کو اہلسنّت کے نزدیک ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ دعا کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلکِ اعلیٰ حضرت پر ثابت قدم رکھے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔
