Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط: پنجم)|علامہ محمد احمد مصباحی

علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط:پنجم)
عنوان: علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط:پنجم)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

تصنیفات و تالیفات

8۔ جاء الحق (جلد دوم): یہ کتاب احناف اور غیر مقلدین کے درمیان مختلف فیہ مسائل پر ایک تفصیلی اور محققانہ تصنیف ہے۔ حصہ اول ہی کے طرز پر اس میں بھی پہلے مسلکِ احناف کا مضبوط دلائل سے اثبات کیا گیا ہے اور پھر مخالفین کے اعتراضات کے دندان شکن جوابات دیے گئے ہیں۔

9۔ اسلامی زندگی: اس کتاب میں شادی بیاہ، ختنہ، عقیقہ اور دیگر مختلف خاندانی و سماجی تقریبات میں رائج بدعات اور رسومِ قبیحہ کا تفصیلی ذکر کر کے ان کی شرعی و معاشرتی خرابیاں بیان کی گئی ہیں، اور پھر ان کا جائز و اسلامی طریقہ واضح کیا گیا ہے۔ یہ کتاب 2 صفر تا 22 صفر 1363ھ بمطابق 1944ء صرف 25 دن کے قلیل عرصے میں تصنیف ہوئی۔ تقریباً ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب غیر شرعی اور مسرفانہ رسم و رواج کے رد اور معاشرتی اصلاح میں اپنی مثال آپ ہے۔

10۔ اسرار الاحکام بانوار القرآن: اس تصنیف میں مختلف اسلامی احکام اور مسائل کی عقلی و نقلی حکمتیں سوال و جواب کے خوبصورت انداز میں پیش کی گئی ہیں۔ یہ کتاب 21 جمادی الاولیٰ تا 25 جمادی الآخرہ 1368ھ بمطابق 1949ء ایک ماہ پانچ دن میں تصنیف ہوئی اور تقریباً پونے دو سو صفحات پر مشتمل ہے۔

11۔ مواعظِ نعیمیہ: یہ مفتی صاحب کی مختلف علمی و عوامی تقریروں کا گراں قدر مجموعہ ہے جو تین حصوں (جلدوں) پر مشتمل ہے اور اس کے کل صفحات کی تعداد تقریباً پانچ سو ہے۔

12۔ نئی تقریریں: مواعظِ نعیمیہ کی اشاعت کے بعد مفتی صاحب کی تازہ تقاریر کا مجموعہ ہے جس کی ضخامت قریباً ڈیڑھ سو صفحات ہے۔

13۔ سفر نامہ ایران، عراق، حجاز و شام وغیرہ: یہ سفر نامہ مفتی صاحب نے اس مبارک موقع پر قلمبند فرمایا جب وہ خشکی کے راستے سے حجِ بیت اللہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

14۔ سفر نامہ حجاز (اول): یہ ان کے سفرِ حجاز کی ایک علیحدہ اور خصوصی یادداشت پر مبنی رسالہ ہے۔

15۔ سفر نامہ حجاز (دوم): یہ مفتی صاحب کے آخری حج مبارک کی ڈائری ہے، جو غالباً زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہے۔

16۔ الکلام المقبول فی طہارۃ نسب الرسول: اس کتاب کا موضوع اس کے نام ہی سے ظاہر ہے، جس میں حضور سرورِ کائنات ﷺ کے نسبِ پاک کی طہارت و پاکیزگی کو علمی دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔

17۔ فتاویٰ نعیمیہ: یہ مفتی صاحب کے جاری کردہ فتاویٰ کا ایک عظیم مجموعہ ہے۔ (واضح رہے کہ نمبر 13 سے 17 تک کی پانچوں کتب مرتبِ مضمون کی نظر سے نہیں گزریں)۔

18۔ نعیم الباری فی انشراح البخاری: یہ جامعہ بخاری (بخاری شریف) پر مفتی صاحب کا لکھا ہوا علمی عربی حاشیہ ہے جو ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔

19۔ نور العرفان فی حاشیہ القرآن: قرآن مجید پر مفتی صاحب کا لکھا ہوا یہ مختصر، جامع اور انتہائی مقبول تفسیری حاشیہ ہے۔ یہ ہند و پاک میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کے ترجمہٴ قرآن “کنز الایمان” کے ساتھ کثرت سے شائع ہوتا ہے۔ اس حاشیے کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آیات سے ثابت اور مستنبط ہونے والے عقائد و مسائل کی ایک کارآمد فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔

20۔ تفسیر نعیمی (اشرف التفاسیر): یہ مفتی صاحب کی زندگی کی سب سے شاہکار اور عظیم ترین تصنیف ہے۔ دس پاروں کی تفصیلی تفسیر دس ضخیم جلدوں میں مکمل ہو کر شائع ہو چکی ہے۔ گیارہویں پارے میں آیتِ کریمہ “اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ” کی تفسیر مکمل لکھنے کے چند ہی دنوں بعد آپ کا وصال ہو گیا۔ یہ تفسیر علمی، تحقیقی اور عوامی ہر اعتبار سے بے نظیر ہے۔ اس کی زبان عام فہم ہے، اس میں فرقِ باطلہ اور غیر اسلامی مذاہب کا دندان شکن رد موجود ہے اور آیات و سور کا باہمی ربط بھی بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کی تصنیف کا آغاز 1363ھ بمطابق 1944ء میں ہوا تھا، اسی مناسبت سے اس کا تاریخی نام “اشرف التفاسیر” رکھا گیا۔

21۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح: یہ مفتی صاحب کا دوسرا عظیم علمی شاہکار ہے۔ اس میں احادیثِ مشکوٰۃ شریف کا پہلے لفظی ترجمہ کیا گیا ہے، پھر ان کی نہایت آسان اور عام فہم شرح لکھی گئی ہے، اور ساتھ ہی عقائد و مسائل کا دلکش اور مدلل بیان شامل ہے۔ یہ پوری شرح آٹھ یا نو جلدوں میں مکمل ہے، جس کی آٹھ جلدیں پاکستان سے شائع ہو کر مقبولِ عام ہو چکی ہیں۔

22۔ درسِ القرآن: یہ قرآنِ پاک کی منتخب چند آیات پر کی جانے والی تفسیری تقریروں کا مجموعہ ہے، جو تقریباً 250 صفحات پر مطبوعہ ہے۔

23۔ علم القرآن لترجمۃ الفرقان: دورِ حاضر کے گمراہ فرقوں کے غلط تراجمِ قرآن کے سدِ باب کے لیے یہ ایک بہترین محققانہ تصنیف ہے، جس میں قرآنی اصطلاحات کا محققانہ بیان، قواعدِ ترجمہ اور اہم قرآنی مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ ترجمہٴ قرآن کے شائقین کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس کی تصنیف کا آغاز 22 رمضان 1371ھ کو ہوا اور 5 ذی قعدہ 1371ھ بمطابق 1952ء کو صرف ایک ماہ بارہ دن کے قلیل عرصے میں مکمل ہوئی۔ یہ کتاب قریباً سوا سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ مفتی صاحب نے اکثر نصابی کتب پر علمی حواشی بھی لکھے، جو فی الحال غیر مطبوعہ ہیں۔

وفات و مدفن

مفتی صاحب نے اپنی زندگی کے قریباً پچاس سال دینِ حق کی اشاعت اور اعلیٰ علمی و تدریسی خدمات میں صرف کیے۔ زندگی کے آخری ایام میں وہ علیل ہو گئے اور انہیں لاہور کے ہسپتال میں داخل کیا گیا، لیکن مرض بڑھتا گیا اور شفایابی نہ ہو سکی۔ بالآخر 3 رمضان المبارک 1391ھ بمطابق 23 اکتوبر 1971ء کو گجرات (پاکستان) میں آپ کا وصالِ باکمال ہوا اور آپ وہیں سپردِ خاک کیے گئے۔ آپ کی قبرِ انور اسی مبارک کمرے میں بنائی گئی جہاں آپ نے کئی برس تک تشنگانِ علم کو درسِ قرآن دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائے اور امت کو ان کے نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔ [مقالاتِ مصباحی، ص: 359۔360]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!