| عنوان: | مدینہ منورہ کے مختلف نام اور ان کے معانی |
|---|---|
| تحریر: | مولانا عمران رضا عطاری مدنی (بنارس) |
| پیش کش: | مجمع التصانیف |
عظمتِ مدینہ اور کثرتِ اسماء
دنیا میں بے شمار شہر آباد ہیں، مگر شہرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیاز یہ ہے کہ جتنے القاب اور نام مدینۂ منورہ کے ہیں، اتنے کسی اور شہر کے نہیں۔ اہلِ علم نے اس مقدس شہر کے درجنوں نام ذکر فرمائے ہیں، اور یہ کثرتِ اسما اس کی عظمت، فضیلت اور بے مثال شرف کی روشن دلیل ہے۔ کیوں کہ کسی چیز کے زیادہ نام ہونا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ اس کی صفات، خصوصیات اور مراتبِ بزرگی بھی غیر معمولی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدینۂ منورہ اپنے ہر نام کے ساتھ اپنی کسی نہ کسی شانِ عظمت اور فضیلت کو نمایاں کرتا ہے۔
امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (م:۱۳۴۰ھ) فرماتے ہیں:
نامِ مدینہ لے دِیا چلنے لگی نسیمِ خلد
سوزشِ غم کو ہم نے بھی کیسی ہوا بتائی کیوں
علامہ نور الدین علی بن عبد اللہ سمہودی رحمۃ اللہ علیہ (م:۹۱۱ھ) نے مدینہ منورہ کے ۹۴ نام بیان فرمائے ہیں، جن میں سے چند مشہور نام اور ان کی وجوہات درج ذیل ہیں:
مدینہ منورہ کے مبارک نام اور ان کے معانی
- المدینہ: شہر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا سب سے مشہور و معروف نام ہے۔ مدینہ مطلقاً شہر کو کہا جاتا ہے، مگر اب یہ علم کی طرح ہوگیا ہے، جب بھی مطلقاً مدینہ کہا جائے اس سے مدینۃ الرسول ہی مراد ہوتا ہے۔ مدینہ منورہ میں رہنے والے کو مدنی کہا جاتا ہے۔ لغت میں مدینہ ایسے مقام کا نام ہے جو مکانات اور کثرت عمارات میں قریہ کی حد سے تجاوز کرگیا ہو اور شہر کے درجہ کو پہنچ گیا ہو۔ توریت شریف میں بھی اسی نام کا ذکر ہے۔
- مدینۃ الرسول (رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا شہر): یہ شہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا شہر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی زندگی کے ۱۰ سال اسی شہر میں گزارے ہیں۔
- طیبہ، طابہ (پاک): یہ وہ نام ہے جو خود اللہ پاک نے رکھا ہے جیساکہ حدیث پاک میں ہے: ”إن الله أمرنی أن أسمی المدینة طابة“ (بے شک اللہ پاک نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں مدینہ کا نام طابہ رکھوں)۔ یہ شہر ناپاکی اور شرک سے پاک کرنے والا ہے۔ مدینہ منورہ کی بارش میں ایسی خوشبو پائی جاتی ہے جو دیگر جگہ کی بارش میں نہیں پائی جاتی۔
- سیدة البلدان (شہروں کا سردار): یہ شہر دنیا کے تمام شہروں کا سردار ہے۔ جیساکہ حدیث پاک میں آتا ہے "یا طیبة یا سید البلدان"۔
- الشافیۃ (شفا دینے والا): مدینہ منورہ شفا دینے والا شہر ہے، جیساکہ حدیث پاک میں ہے: ”ترابُها شفاء من کل داء“ (مدینہ کی مٹی میں ہر مرض سے شفا ہے)۔ علامہ سمہودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مدینے کی مٹی سے بخار کا دور ہونا تو مشہور ہے۔
- الفاضحۃ (ذلیل کرنے والا): مدینہ منورہ کا یہ نام اس لیے ہے کہ بد عقیدہ اور بدکار لوگ اس میں پوشیدہ نہیں رہ سکتے، آخر کار ذلیل و رسوا ہوکر ظاہر ہوجاتے ہیں۔
- ارض الله (اللہ کی زمین): تعظیماً اس شہر کو اللہ کی زمین بھی کہا جاتا ہے۔ سورۃ النسا آیت ۹۷ (اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً...) کے تحت بعض مفسرین نے ذکر فرمایا ہے کہ اس سے مراد مدینہ منورہ ہے۔
- بیت الرسول (رسول کا گھر): یہ شہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا مسکن ہے۔ سورہ انفال میں (كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ۪) مفسرین کے نزدیک اس سے مراد مدینہ ہے، اس لیے کہ وہی آپ کی ہجرت گاہ اور مسکن ہے۔
- جزیرة العرب (عرب کا جزیرہ): حدیث پاک میں مدینہ منورہ کو جزیرہ فرمایا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ”إن الله برأ هذه الجزیرة من الشرك“ (بے شک اللہ پاک نے اس جزیرے کو شرک سے بری کردیا ہے)۔
- حرم رسول الله (رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا حرم): یہ شہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا حرم پاک ہے، آپ نے ہی اس کو حرمت و عزت عطا فرمائی۔ حدیث میں ہے: ”حرم ابراهیم مکة وحرمي المدينة“ (ابراہیم علیہ السلام کا حرم مکہ ہے اور میرا حرم مدینہ)۔
- حسنۃ (خوبصورت): اس مبارک شہر میں حسنِ حسی (باغات، چشمے، کنوئیں، بلند و بالا پہاڑ، مزارات) بھی ہے اور حسنِ معنوی (خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا وجود مسعود) بھی۔
- دار الابرار (نیکوں کا گھر): یہ شہر نیکوں کا دیار ہے۔ یہی وہی شہر ہے جس میں نیکوں کے سردار جناب احمد مختار صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے اصحاب مہاجرین و انصار تشریف فرما ہیں۔
- دار السنۃ (سنت کا گھر): اسی شہر (مدینہ منورہ) سے دنیا بھر میں سنت پھیلی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ہجرت اور سنت کا گھر ہے۔
- دار السلام (سلامتی کا گھر): مدینہ منورہ سے ہی اسلام کا ظہور ہوا ہے، حدیث پاک میں بھی اس کو دار السلام فرمایا گیا ہے: ”المدینة قبة الإسلام ودار السلام“۔
- قریۃ رسول الله (رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بستی): حدیث پاک میں اس شہر کو قریۃ (بستی) فرمایا گیا ہے۔
- قبۃ الإیمان (ایمان کا قبہ): حدیث پاک میں ہے: ”المدینة قبة الإسلام“ (مدینہ منورہ اسلام کا قبہ ہے)۔
- المؤمنۃ (مومن): مدینہ منورہ نے عقل والوں کی طرح اللہ پاک کی تصدیق کی ہے۔ تورات میں مدینہ منورہ، مؤمنہ کے نام سے مذکور ہے۔
- المحبوبۃ (پسندیدہ): یہ شہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا پسندیدہ شہر ہے۔
- المبارکۃ (برکت والا): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اللهم اجعل بالمدینة ضعفي ما جعلت بمكة من البركة“ (اے اللہ! جتنی تو نے مکہ کو برکت عطا فرمائی، اس سے دگنی برکت مدینہ کو عطا فرما)۔
- المختارۃ (چنا ہوا): اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سب سے محبوب بندے مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زندگی اور وفات کے بعد کے لیے اس شہر کو چن لیا ہے۔
- مضجع الرسول (رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی آرام گاہ): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "المدینة مهاجری ومضجعی فی الأرض" (مدینہ منورہ زمین میں میری ہجرت گاہ اور آرام گاہ ہے)۔
- المقدسۃ (پاک زمین): یہ مبارک شہر شرک اور دیگر گندگیوں سے پاک ہے، اور اس مبارک شہر سے برکتیں حاصل کی جاتی ہیں۔
- مهاجر الرسول (رسول کی ہجرت گاہ): مدینہ منورہ وہ مبارک شہر ہے جس کی طرف اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہجرت فرمائی۔
- الناجیۃ (نجات دینے والا): مدینہ منورہ اپنے اندر رہنے والوں کو طاعون اور دجال سے نجات بخشنے والا ہے، اس لیے مدینہ کو ناجیہ کہتے ہیں۔
ماخوذ: وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی
