Loading...

قبر اقدس کی زیارت

قبر اقدس کی زیارت
عنوان: قبر اقدس کی زیارت
تحریر: مولانا عمران رضا عطاری مدنی (بنارس)
پیش کش: مجمع التصانیف

زیارتِ روضۂ انور کی اہمیت و فضیلت

ہر عاشقِ رسول کے دل میں یہ تمنا اور خواہش ہوتی ہے کہ مجھے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قبر انور کی زیارت کا موقع ملے۔ ایک عاشق مصطفی کے لیے اس سے بڑی بات کیا ہوگی کہ اپنے آقا کی بارگاہ میں حاضر ہو، یقیناً یہ بہت بڑی سعادت ہے۔

حضرت اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے روضۂ مقدسہ کی زیارت سنت مؤکدہ قریب بَواجب ہے۔ ایک عاشق کے دل میں روضۂ انور کی زیارت کی تڑپ کیوں نہ ہو جب خود اللہ پاک نے محبوب کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا.

ترجمہ کنز الایمان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمھارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔

مغفرت کی تین شرائط

شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (م:۱۴۰۶ھ) فرماتے ہیں:

"اس آیت میں گناہ گاروں کے گناہ کی بخشش کے لیے ارحم الراحمین نے تین شرطیں لگائی ہیں: اول؛ دربارِ رسول میں حاضری۔ دوم؛ استغفار۔ سوئم؛ رسول کی دعائے مغفرت۔ اور یہ حکم حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ظاہری دنیوی حیات ہی تک محدود نہیں بلکہ روضہِ اقدس میں حاضری بھی یقیناً دربارِ رسول ہی میں حاضری ہے۔ اسی لیے علمائے کرام نے تصریح فرمادی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دربار کا یہ فیض آپ کی وفات اقدس سے منقطع نہیں ہوا ہے۔ اس لیے جو گناہ گار قبر انور کے پاس حاضر ہو جائے، اور وہاں خدا سے استغفار کرے اور چونکہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تو اپنی قبر انور میں اپنی امت کے لیے استغفار فرماتے ہی رہتے ہیں۔ لہذا اس گناہ گار کے لیے مغفرت کی تینوں شرطیں پائی گئیں۔ اس لیے ان شاء اللہ تعالی اس کی ضرور مغفرت ہو جائے گی۔"

یہی وجہ ہے کہ چاروں مذاہب کے علمائے کرام نے مناسک حج و زیارت کی کتابوں میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ جو شخص بھی روضہ منورہ پر حاضری دے اس کے لیے مستحب ہے کہ اس آیت کو پڑھے اور پھر خدا سے اپنی مغفرت کی دعا مانگے۔ (سیرت مصطفی، ص:۸۴۸)

فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

مذکورہ آیت کریمہ کے علاوہ کئی احادیث میں روضۂ پاک کی زیارت کے فضائل بیان کیے گئے ہیں، چند احادیث مختلف الفاظ کے ساتھ درج ذیل ہیں:

  • ۱۔ مَن زارَ قَبْرِي وجَبَتْ لَهُ شَفاعَتِي: ترجمہ: جس نے میری قبر کی زیارت کی اس پر میری شفاعت واجب ہے۔ (دار قطنی، ج:۳، ص:۳۳۴)
  • ۲۔ من حج البيتِ ولم يزرني فقد جفاني: ترجمہ: جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ سے جفا کی۔ (کنز العمال، ج:۵، ص:۱۳۵)
  • ۳۔ من زارني بعد موتي فكأنما زارني في حياتي...: ترجمہ: جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی، اس نے گویا میری حیات میں میری زیارت کی، اور جو حرمین شریفین میں سے ایک میں مرا، وہ قیامت کے دن امن والوں کی جماعت میں اٹھایا جائے گا۔ (کنز العمال، ج:۵، ص:۱۳۵)
  • ۴۔ من زارني متعمدا كان في جواري يوم القيامة: ترجمہ: جس نے قصداً میری زیارت کی وہ قیامت کے دن میرے پڑوس میں ہوگا۔ (کنز العمال، ج:۵، ص:۱۳۵)
  • ۵۔ مَن زارَنِي إلى المَدِينَةِ مُحْتَسِبًا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا...: ترجمہ: جس نے ثواب کے لیے مدینہ آکر میری زیارت کی میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور شفیع ہوں گا۔ (سنن صغیر للبیہقی، ج:۲، ص:۲۱۱)
  • ۶۔ مَن جاءَنِي زائِرًا لا يَعْلَمُهُ حاجَةً إلّا زِيارَتِي...: ترجمہ: جو میری زیارت کو اس طرح آیا کہ میری زیارت کے سوا کوئی اور چیز اس کو نہ لائی، تو مجھ پر حق ہے کہ قیامت کے دن میں اس کا شفیع ہوں گا۔ (معجم کبیر، ج:۱۲، ص:۲۹۱)
  • ۷۔ من حج حجة الإسلام، وزار قبري...: ترجمہ: جس نے حَجۃ الاسلام (فرض حج) کیا اور میری قبر کی زیارت کی اور کسی غزوہ میں شریک ہوا اور بیت المقدس میں نماز پڑھی، اللہ پاک اس سے فرض کردہ چیزوں کے متعلق پوچھ گچھ نہیں فرمائے گا۔ (المشیخۃ البغدادیۃ، ج:۳، ص:۲۱)
  • ۸۔ من أتى المدينة زائرا لي وجبت له شفاعتي...: ترجمہ: جو میری زیارت کرنے مدینہ آئے، قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہے۔ (وفاء الوفاء، ج:۴، ص:۱۷۶)
  • ۹۔ من زار قبري حلت له شفاعتي: ترجمہ: جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی۔ (كشف الأستار، ج:۲، ص:۵۷)
  • ۱۰۔ من حج فزار قبري بعد وفاتي كان كمن زارني في حياتي: ترجمہ: جس نے میری وفات کے بعد، حج کرکے، میری زیارت کی، وہ ایسا ہی ہے جیساکہ میری زندگی میں میری زیارت کی۔ (كنز العمال، ج۱۵، ص۶۵۱)
  • ۱۱۔ مَنْ زَارَ قَبْرِي أَوْ قَالَ: مَنْ زَارَنِي كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا: ترجمہ: جس نے میری قبر کی زیارت کی، یا فرمایا: جس نے میری زیارت کی میں اس کا شفیع یا گواہ رہوں گا۔ (مسند أبي داود الطيالسي، ج۱، ص۶۶)
  • ۱۲۔ مَنْ زارني بعد موتِي فَكَأَنَّمَا زارني فِي حَياتِي...: ترجمہ: جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی وہ ایسا ہی ہے جیساکہ میری زندگی میں میری زیارت کی۔ اور جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے جنت ہے۔ (البدر المنير، ج:۶، ص:۲۹۳)
  • ۱۳۔ من زارني بعد موتي فكأنما زارني وأنا حيّ...: ترجمہ: جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ اور جس نے میری زیارت کی میں قیامت کے دن اس کا گواہ یا شفیع رہوں گا۔ (وفاء الوفاء، ج:۴، ص:۱۷۴)
  • ۱۴۔ مَنْ زَارَنِي فِي الْمَدِينَةِ مُحْتَسِبًا كَانَ فِي جِوَارِي...: ترجمہ: جس نے ثواب کے لیے مدینہ میں میری زیارت کی وہ میرے پڑوس میں ہوگا اور میں قیامت کے دن اس کا شفیع رہوں گا۔ (الشفا بتعريف حقوق المصطفى، ج:۲، ص:۱۹۵)
  • ۱۵۔ مَا من أحد من أمتِي لَهُ سَعَة ثمَّ لم يزرني فَلَيْسَ لَهُ عذر: ترجمہ: میرے جس امتی نے وسعت (طاقت) کے باوجود میری زیارت نہ کی، اس کے لیے کوئی عذر نہیں ہوگا۔ (المقاصد الحسنۃ، ص:۶۶۹)
  • ۱۶۔ مَنْ زَارَنِي فِي مَمَاتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي...: ترجمہ: جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی وہ ایسا ہی ہے جیساکہ میری زندگی میں میری زیارت کی۔ اور جس نے میری زیارت کی حتی کہ میری قبر تک آگیا، میں قیامت کے دن اس کا گواہ، یا فرمایا: شفیع رہوں گا۔ (الضعفاء الكبير للعقيلي، ج:۳، ص:۴۵۷)
  • ۱۷۔ مَنْ لَم يَزُرْ قَبْرِي فَقَدْ جَفَانِي: ترجمہ: جس نے میری قبر کی زیارت نہ کی، اس نے مجھ سے جفا کی۔ (اتحاف الزائر واطراف المقیم، ص:۲۸)

عاشقانِ رسول کا شیوہ اور مدینہ منورہ

مَنْ زَارَ تُرْبَتِیْ وَجَبَتْ لَہ ٗ شَفَا عَتِیْ
اُن پر درود جن سے نوید اِن بُشَر کی ہے

مذکورہ آیت اور احادیث ہمارے اسلاف کے پیش نظر تھیں، جبھی تو دور صحابہ سے لے کر آج تک علما، فقہا، صوفیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قبر انور کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے آرہے ہیں اور ان شاءاللہ تا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:

سارے نبیوں کا سروَر مدینے میں ہے
سب رسولوں کا افسر مدینے میں ہے
سارے دیوانے بیتاب ہیں اِس لیے
شاہ کی قبرِ انور مدینے میں ہے
سبز گنبد کا عطارؔ منظر تو دیکھ
کس قدر کیف آور مدینے میں ہے

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!