| عنوان: | دین میں گول مول عقیدہ اختیار نہ کرو |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ [سورۃ المائدۃ: 9]
اے ایمان والو! اللہ کے لیے خوب قائم رہنے والے بنو، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
اب دیکھیے، عدل و انصاف کا اس سے بلند معیار اور کیا ہو سکتا ہے کہ قرآن ہمیں دشمن کے ساتھ بھی انصاف کا حکم دیتا ہے۔ اگر کسی قوم کی دشمنی بھی انسان کو انصاف سے ہٹنے پر مجبور کر دے تو یہ اس کے ایمان اور اللہ کے خوف پر سوالیہ نشان ہے۔
زبان سے تو ہم اللہ کے بندے ہونے اور اس سے ڈرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اصل حقیقت ہمارے عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر عمل انصاف کے خلاف ہو تو یہ دعویٰ اپنی روح کھو دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بننا چاہتے ہو تو تمہارے اندر عدل و انصاف کا وصف ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کر دو۔ اسلام کا یہ حکم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عدل و انصاف میں کسی قسم کی عصبیت، دشمنی یا ذاتی رنجش کی کوئی گنجائش نہیں۔
اس حکم کی عملی تفسیر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں واضح طور پر ملتی ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ ایک موقع پر بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خبر رسانی کے لیے روانہ کیا گیا، کیونکہ اس وقت حالات نہایت نازک تھے اور دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ضروری تھا۔ راستے میں ان کی ملاقات دشمن کے دو افراد سے ہو گئی، اور اندیشہ ہوا کہ اگر انہیں چھوڑ دیا گیا تو وہ جا کر مسلمانوں کے حالات دشمن تک پہنچا دیں گے، جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی اندیشے کے تحت ان میں سے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا۔
جب یہ خبر مدینہ منورہ پہنچی تو کفار کے نمائندے شکایت لے کر حاضر ہوئے کہ ہمارے دو آدمی حرم کی حدود میں قتل کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت عدل و انصاف کے ساتھ معاملہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے وہ لوگ اس خیال سے حرم میں داخل ہوئے ہوں کہ وہ محفوظ ہیں، اور انہوں نے اپنی طرف سے جنگی احتیاط پوری نہ کی ہو۔ اس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مقتولین کا خون بہا (دیت) ان کے ورثاء کو ادا فرمایا، جیسا کہ عرب معاشرے میں اس کا دستور تھا۔
یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں عدل و انصاف کا معیار حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ بھی انتہائی بلند تھا، اور اسلامی تعلیمات کا اصل جوہر یہی ہے کہ ہر حال میں حق اور انصاف کو مقدم رکھا جائے۔ [تفسیر القرآن]
حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ کہ تمہاری گواہیاں اللہ تعالیٰ کے لیے عدل کے ساتھ ہوں پھر اس کی تشریح کہ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا کسی کی دشمنی انصاف کے مانع نہ ہو۔ مثال دیتے ہیں مثلاً بعض غیر آریہ لوگ اس زمانے میں تھے تمہیں دفتروں سے نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اسلام کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ تم ان کے مقابلے میں بھی ایسی کوشش کرو، جہاں تمہیں اختیار ہو تم ان کے خلاف کارروائی کرو، نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا علاج یہ بتایا ہے کہ تم یہ یقین رکھو کہ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا اور ان سے خبررکھنے والا بھی کوئی ہے۔ اس طرح تم تقوے پہ قائم ہو جاؤ گے، تمہیں یقین ہو گا کہ تمہیں دیکھنے والا، تمہارے کاموں سے باخبر کوئی ہے تو پھر یہ اعلیٰ معیار عدل و انصاف کے قائم ہو سکیں گے۔ [ضمیمہ اخبار بدر قادیان: 15 اگست 1909ء بحوالہ حقائق الفرقان، ج: 2، ص: 85]
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حق اور انصاف پر قائم ہو جاؤ۔ اور چاہیے کہ ہر ایک گواہی تمہاری خدا کے لیے ہو، جھوٹ مت بولو، اگرچہ سچ بولنے سے تمہاری جانوں کو نقصان پہنچے یا اس سے تمہارے ماں باپ کو ضرر پہنچے اور قریبیوں کو۔ یعنی بچوں، بیویوں اور رشتہ داروں کو نقصان پہنچے، تب بھی گواہی جھوٹی نہیں دینی۔ [اسلامی اصول کی فلاسفی، ص: 53 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، ج: 2، ص: 274]
پھر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى اور جب تم بولو تو وہی بات منہ پر لاؤ جو سراسر سچ اور عدالت کی بات ہے، اگرچہ اپنے تم کسی قریبی پر گواہی دو۔
یعنی انصاف قائم رکھنے کے لیے تم نے اپنا ذاتی مفاد نہیں دیکھنا۔ یا اپنے عزیزوں اور قریبیوں کا مفاد نہیں دیکھنا بلکہ حق اور سچ بات کہنی ہے۔
نئے مسائل کا حل
شریعت اسلامی قیامت تک کے لیے ہے، اس لیے جو بھی نئے مسائل پیدا ہوں، شریعت میں ان کے حل کے لیے اصول موجود ہیں، ان اصولوں کو واقعات پر منطبق کرنا ہر عہد کے علماء کی ذمہ داری ہے، حضرت الاستاذ کا خاص موضوع یہی ہے اور اس سلسلہ میں آپ کی کتاب “جدید فقہی مسائل” (5 حصے) معروف ہے، فتاویٰ کے ذیل میں بھی بہت سے نئے مسائل آگئے ہیں اور آپ نے ان پر خصوصی توجہ فرمائی ہے، مثلاً: اپنے جائز حقوق کے لیے جدوجہد اور احتجاج جائز ہے، مگر بھوکے رہ کر ناراضگی کا اظہار کیا جانا مروج اور آئینی طریقہ ہو، تو اتنی دیر بھوکا رہنا جائز ہے، جس سے صحت متاثر نہ ہو، اور عبادات نیز اس سے متعلق حقوق و فرائض کی ادائیگی میں خلل نہ پڑتا ہو، اتنی دیر بھوکا رہنا جائز نہیں کہ جس سے ہلاکت کا خطرہ پیدا ہوجائے، کیوں کہ جسم بھی اللہ کی ایک امانت ہے، اسی لیے اتنا کھانا فرض ہے کہ آدمی ہلاک ہونے سے بچ جائے، اگر بھوکا رہنے کی وجہ سے جان چلی جائے تو وہ گنہگار ہو گا، فَإِنْ تَرَكَ الْأَكْلَ وَالشُّرْبَ حَتَّى هَلَكَ، فَقَدْ عَصَى [رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، ج: 9، ص: 488] اور اتنا کھانا باعث اجر و ثواب ہے کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر قدرت رہے، اور آسانی سے روزہ رکھ سکے، لِيَتَمَكَّنَ مِنَ الصَّلَاةِ قَائِمًا وَيَسْهُلَ عَلَيْهِ الصَّوْمُ [الفتاوى الهندية، ج: 5، ص: 336]۔
علم و تحقیق، عقیدے کا تصلب اور چیز ہے اور لفاظی، خطابانہ جملے، قصہ گوئی اور چیز۔
چہ باید مرد را طبعِ بلندے، مشربِ نابے
دلِ گرمے، نگاہِ پاک بینے، جانِ بیتابے
ہر زمانے میں بھاری مقتدا اور لائق اعتبار صاحبان علم و تحقیق ہی رہے ہیں۔ اور ان سب نے تعلیم و تربیت بھی یہی دی کہ عقیدہ خالص ہونا چاہیے، کسی قسم کی ملاوٹ اور تذبذب نہ ہو کہ اصل یہی ہے۔
استادوں کے استاد، حضور محدث ابو الفضل مولانا سردار احمد قادری صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“اہل سنت وجماعت کی تبلیغ و اشاعت خوب کرو لیکن گول مول عقیدہ نہ رکھو! فقیر یہ کہتا ہے کہ سردار احمد رہتا تو گول باغ میں ہے لیکن، سردار احمد کا مذہب و عقیدہ گول مول نہیں۔” [تلخیص حیاتِ محدثِ اعظم، ص: 36، طبع جماعت رضائے مصطفی]
کیوں کہ عقیدہ حقہ پر رہتے ہوئے ہی دین کی تبلیغ و اشاعت ہو سکتی ہے، بصورت دیگر نہیں، اور نہ پھر اسے دینی خدمت سے تعبیر کرنا درست ہوگا۔
خالص عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے باطل عقائد و نظریات کی تردید تو لا محالہ ہوگی، ایسے میں یہ شیطانی وسوسہ پال لینا کہ:
لوگوں کے ہاں مقبولیت نہیں ملے گی، تو میرے دینی کاموں میں رکاوٹ آئے گی۔
ظاہر ہے جی! مقبولیت ہوگی تو دین کا فائدہ ہوگا، کہ ہر طرح کا بندہ جڑتا رہے گا۔ دینی کاموں کی تشہیر و اشاعت ہوگی اور نفاذ اسلام ہوگا۔
یہ وسوسہ خود دینی کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چہ جائیکہ کسی اور رکاوٹ کا سوچا جائے۔ کیونکہ دین کا نفاذ، دین کے دیے گئے طریقے سے ہی ہو گا؛ ہمارے خود ساختہ رویوں اور اصولوں سے نہیں۔
اس لیے بردار عزیز! معیار اور مدار عقیدے کا خلوص رکھو، محض جلسے جلوس نہیں۔
ہشیار یار جانی! یہ دشت ہے ٹھگوں کا
یاں ٹک نگاہ چوکی، اور مال دوستوں کا
ایک حدیث ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومنوں میں سے کامل ترین ایمان والا شخص وہ ہے جو ان میں سے سب سے بہتر اخلاق کا مالک ہے۔ اور تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں سے بہترین سلوک کرنے والے ہیں۔ [ترمذی، کتاب الرضاع، باب ما جاء فی حق المرأۃ علی زوجھا]
اسی لیے ہر وہ شخص ہمیں عزیز ہے، جسے امام اہل سنت، اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ عزیز ہیں۔ کیونکہ امام اہل سنت، پاک و ہند میں حق اور باطل کے درمیان حد فاصل ہیں، تو جو ان سے ایک قدم بھی پیچھے ہوا؛ ہمارا اس سے کیا علاقہ!
“جو ان سے بے تعلق ہو ہمارا ہو نہیں سکتا”۔
اللہ رب العزت ہمیں دین حق، اہل سنت والجماعت پر ثابت قدم رکھے، اسی پر زندگی عطا فرمائے اور اسی ایمان و عقیدہ کے ساتھ ہمیں حسن خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
