| عنوان: | امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) (قسط: پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
مصنف کے دور میں جدید ترقی کے نتیجے میں لین دین کے جدید طریقوں پر فقہی کلام
فقہ المعاملات اور خاص کر فقہ المعاوضات سے متعلق امام اہل سنت رضی اللہ عنہ کے زمانے میں درپیش مسائل کو اگر سامنے رکھا جائے تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ شاید ہی کوئی موضوع ہوگا جس پر فتاویٰ رضویہ میں کلام نہ کیا گیا ہو، درج ذیل سطور میں صرف ایک نمونے کے طور پر 140 ایسے موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے جو انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز پر امت مسلمہ کو درپیش تھے اور فقیہ اعظم امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے ان پر بہت ہی جامع انداز میں فقہی کلام فرمایا۔
-
مالی جرمانے کے احکام [ج: 5، ص: 111]
-
تکیہ کی زمین کرایہ پر دینا [ج: 9، ص: 479]
-
افیون و حشیش کی بیع کا حکم [ج: 11، ص: 386]
-
اینٹوں کو نیلامی میں خریدنا [ج: 16، ص: 483]
-
دیہات کا رائج ٹھیکہ حرام ہے [ج: 16، ص: 197]
-
کورٹ کے وکیلوں کے برے افعال پر گرفت [ج: 19، ص: 95]
-
تعطیل معہود کی تنخواہ کے احکام [ج: 19، ص: 438]
-
تالاب کرایہ پر لے کر اس کی مچھلیاں پکڑنے کے مسئلہ پر شرعی گرفت [ج: 19، ص: 480]
-
دیہاتی بینک کے نام سے موجود ادارے میں انویسٹ کرنا [ج: 19، ص: 510]
-
پراویڈنٹ فنڈ میں کمپنی سے ملنے والی رقم تنخواہ ہی کا حصہ ہے اور ملازم کی ملکیت ہے [ج: 19، ص: 533]
-
ڈاک خانہ کے مسائل اور منی آرڈر کا حکم [ج: 19، ص: 564]
-
دوامی پٹہ پر لی گئی پراپرٹی کے احکام [ج: 20، ص: 205]
-
کچہریوں کے جبراً نیلام کر کے بیچ کرنے کا حکم [ج: 20، ص: 115]
-
چونگی وصولی کی ملازمت کا حکم [ج: 23، ص: 581]
-
قیدیوں کی تیار کردہ اشیا خریدنا [ج: 23، ص: 596]
-
فونو گرام میں قرآن پاک بھرنے اور ایسے ادارے کی ملازمت کے احکام [ج: 23، ص: 411]
-
بیمہ اور انشورنس کے احکام [ج: 17، ص: 364]
-
پرامیسری نوٹوں کی خریداری کا حکم [ج: 17، ص: 166]
-
شیئرز پر زکوٰۃ کا حکم [ج: 17، ص: 362]
-
کرنسی نوٹ کے احکام [ج: 17، ص: 395]
-
کمپنی کے حصص کی بیع و شرا کا حکم [ج: 17، ص: 371]
-
آڑھت کے کام کے مسائل [ج: 17، ص: 126]
-
پراویڈنٹ فنڈ کی زائد ملنے والی رقم کا حکم [ج: 17، ص: 339]
-
زرعی سودی بینک پر گرفت [ج: 17، ص: 340]
-
بیعانہ ضبطی کا حکم [ج: 17، ص: 133]
-
سرکاری اسٹامپ کی خرید و فروخت کا حکم [ج: 17، ص: 148]
-
مصنوعی گھی کی خرید و فروخت کا حکم [ج: 17، ص: 150]
-
ہنڈی کی بیع [ج: 17، ص: 712]
-
عقد بیع میں رجسٹری کی حیثیت [ج: 17، ص: 96]
-
حقوق مجردہ کی بیع [ج: 17، ص: 109]
-
حرام مال سے خریداری پر عقد و نقد کے مسائل [ج: 17، ص: 129]
-
پھل آنے سے پہلے ان کی خریداری [ج: 17، ص: 155]
-
کھیتوں میں کھڑے گنے کے رس کی بیع [ج: 17، ص: 159]
-
قرض کی خرید و فروخت [ج: 17، ص: 166]
-
ملٹی لیول مارکیٹنگ پر مشتمل ایک اسکیم کی شرعی گرفت [ج: 17، ص: 330]
-
مختلف قسم کی لاٹریوں کا حکم [ج: 17، ص: 147]
-
تاجروں کے لیے سود سے بچنے کے لیے متبادل طریقے [ج: 17، ص: 494]
-
اینٹوں میں بیع سلم کا حکم [ج: 17، ص: 576]
-
سونے کی تجارت کے مسائل [ج: 17، ص: 627]
-
رہن کو اجارہ پر لینے کے احکام [ج: 25، ص: 281]
قسم ثالث: مسلمانوں کی معاشی بہتری و ترقی کو سامنے رکھ کر لکھے گئے رسائل
امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک فقیہ ہی نہیں ایک مدبر اور مصلح بھی ہیں، مسلمانوں کی معاشی تنزلی کو دیکھتے ہوئے آپ نے متعدد فکری رسائل بھی تحریر فرمائے جس میں سر فہرست یہ رسالہ ہے:
تَدْبِيرُ فَلَاحٍ وَنَجَاتٍ وَإِصْلَاحٍ (1331ھ) نجات اصلاح معاشرہ اور کامیابی کی بہترین تدبیریں۔
یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ جلد 15 کے صفحہ 142 پر واقع ہے، یہ رسالہ کلکتہ سے ایک سائل جناب حاجی منشی لعل خان صاحب کے ایک سوال کے جواب میں لکھا گیا۔
سوال یہ تھا کہ “الموئد کے پرچے برائے ملاحظہ مرسل ہیں، ارشاد ہو کہ آج کل مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے، اور امداد ترک کا کیا طریقہ ہو؟” اس سوال پر جو تاریخ درج ہے وہ ہے مورخہ 19 ربیع الاول 1331ھ یعنی تقریباً 1912ء میں یہ سوال اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے کیا گیا، جس کے جواب میں آپ نے مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر کرنے کے لیے چار نکاتی معاشی فارمولا بیان کیا۔
اول: باستثناء ان معدود باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی ہو اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے، اپنے سب مقدمات اپنے آپ فیصل کرتے۔ یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ و وکالت میں گھسے جاتے ہیں گھر کے گھر تباہ ہو گئے اور ہوئے جاتے ہیں محفوظ رہتے۔
ثانی: اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدتے کہ گھر کا نفع گھر ہی میں رہتا اپنی حرفت و تجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانک بھر تانبہ کچھ صناعی کی گھڑنت کر کے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر آپ کو دے جائیں اور اس کے بدلے پاؤ بھر چاندی آپ سے لے جائیں۔
ثالث: بمبئی، کلکتہ، رنگون، مدراس، حیدرآباد وغیرہ کے توانگر مسلمان اپنے بھائی مسلمانوں کے لیے بنک کھولتے سود شرع نے حرام قطعی فرمایا مگر اور سو طریقے نفع لینے کے حلال فرمائے ہیں جن کا بیان کتب فقہ میں مفصل ہے اور اس کا ایک نہایت آسان طریقہ کتاب كِفْلُ الْفَقِيهِ الْفَاهِمِ میں چھپ چکا ہے۔ ان جائز طریقوں پر بھی نفع لیتے کہ انہیں بھی فائدہ پہنچتا اور ان کے بھائیوں کی بھی حاجت برآتی اور آئے دن جو مسلمانوں کی جائیدادیں بنیوں کی نذر ہوئی چلی جاتی ہیں ان سے بھی محفوظ رہتے اگر بنیوں کی جائیداد ہی لی جاتی مسلمان ہی کے پاس رہتی یہ تو نہ ہوتا کہ مسلمان ننگے اور بنیے تنگے۔
رابع: سب سے زیادہ اہم سب کی جان سب کی اصل اعظم وہ دین متین تھا جس کی رسی مضبوط تھامنے نے اگلوں کو ان مدارج عالیہ پر پہنچایا چار دانگ عالم میں ان کی ہیبت کا سکہ بیٹھایا نان شبینہ کے محتاجوں کو بلند تاجوں کا مالک بنایا اور اسی کے چھوڑنے نے پچھلوں کو یوں چاہ ذلت میں گرایا۔
فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ.
دین متین علم دین کے دامن سے وابستہ ہے۔ علم دین سیکھنا پھر اس پر عمل کرنا اپنے دونوں جہاں کی زندگی چاہتے وہ انہیں بتا دینا اندھو! جسے ترقی سمجھ رہے ہو سخت تنزل ہے جو سخت حزل ہے نئے عزت جانتے ہو اشد ذلت ہے مسلمان اگر یہ چار باتیں اختیار کر لیں تو ان شاء اللہ العزیز آج ان کی حالت سنبھل جاتی ہے۔
مذکورہ بالا چار نکات کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں۔ پہلا اصول بچت کی مہم پر مشتمل ہے، دوسرا اصول جہاں کمیونٹی کو مضبوط کرتا ہے وہیں مسلمانوں کو معاشی طور پر اوپر لے جانے کا ایک اہم سبب بن سکتا ہے۔ یورپی یونین کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے کہ ان ممالک نے جب ایک کرنسی اور آپس میں آزاد تجارت اور آزاد ویزہ کی پالیسی اپنائی تو ان کی ترقی بڑھ گئی۔
تیسرا اصول اسلامک بینکاری اور اسلامک طریقے سے مائیکرو فنانس بینکنگ کے نظریے پر مشتمل ہے جس کا خواب امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے 1912ء میں دیکھا تھا۔ چوتھا اصول بھی براہ راست معاشیات ہی سے متعلق ہے، قرآن کریم فرقان حمید کی اس آیت کی تفسیر ہے۔
وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى [سورۃ طہ: 124]
ترجمہ کنز الایمان: اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔
یہاں خاص بات یہ ہے کہ ان چار اصولوں کو امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے محض کتاب کے صفحات تک محدود نہیں رکھا بلکہ مسلمانوں کو موٹو (Motto) طور پر یہ اصول دے کر ان کا پرچار کرنے اور ان پر عمل کرنے کی ترغیب بیان فرمائی۔ اسی رسالہ میں آپ فرماتے ہیں:
“اہل رائے ان وجوہ پر نظر فرمائیں، اگر میرا خیال صحیح ہو تو ہر شہر و قصبہ میں جلسے کریں اور مسلمانوں کو ان چار باتوں پر قائم کر دیں پھر آپ کی حالت خوبی کی طرف نہ بدلے تو شکایت کیجیے۔”
اس رسالہ کی افادیت اور پس منظر پر ماہر معاشیات پروفیسر محمد رفیع اللہ صدیقی صاحب سابق چیئرمین بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن حیدر آباد نے ایک عمدہ مقالہ تحریر کیا ہے جو کہ معارف رضا 1414ھ بمطابق 1993ء میں شائع ہوا جس کے بعد یہ مقالہ اسی رسالہ کے آخر میں دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے “المدینۃ العلمیۃ” نے سال 2001ء میں شائع کیا۔
پروفیسر محمد رفیع اللہ صدیقی صاحب کے مقالے سے چند اقتباس درج ذیل ہیں، آپ لکھتے ہیں: “ڈاکٹر اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
تقدیرِ امم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ
بلا شبہ مومن کے اشارے میں اور مومن بھی کیسا مومن کہ جس کی ہر سانس عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معطر تھی ان اشاروں میں جہاں معنی پوشیدہ ہے اس سے پہلے کہ کسی نکتہ پر بحث کروں بطور تمہید کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں 1331ھ بمطابق 1912ء میں جب یہ نکات کلکتہ سے شائع ہوئے برصغیر میں علم اقتصادیات کا مطالعہ عام نہیں تھا، دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک مثلاً انگلینڈ، امریکہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ میں دانشوروں کا ایک مخصوص حلقہ اس علم کے اکتساب کی طرف مائل تھا، معاشیات پر باقاعدہ کتابیں لکھی جا چکی تھیں اور لکھی جا رہی تھیں، لیکن عوام کی توجہ اور دلچسپی اس مضمون کے متعلق بہت کم تھی۔ طلباء اس مضمون کو خشک سمجھ کر اس سے گریز کرتے تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اور خاص طور پر 1929-1930 کی عظیم عالمی سرد بازاری کے بعد معاشیات کی اہمیت میں جس تیزی سے اضافہ ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ امریکہ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں معاشیات کے طلبا کی تعداد بہت کم تھی۔ خواتین یہ مضمون پڑھنے سے کتراتی تھیں۔ لیکن 1940ء اور اس کے بعد حالات یک لخت بدل گئے اور معاشیات کے طلبا کی تعداد میں بے اندازہ اضافہ ہوا اور اب تو امریکی ماہرین تعلیم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ پرائمری سطح ہی سے طلبا کو معاشیات کی تعلیم دی جائے۔
بہر حال یہ امر واقع ہے کہ علم اقتصادیات میں عوام اور حکومتوں کی دلچسپی کا آغاز 1929-1930 کی عالمی سرد بازاری کی وجہ سے ہوا۔ کساد بازاری کو قابو میں لانے کے لیے کلاسیکی نظریات موجود تھے، لیکن اس عظیم عالمی کساد بازاری نے ان نظریات کو باطل کر دیا اور اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ ایک ایسے نئے نظریے کی ضرورت ہے جو اس کساد بازاری پر قابو پانے میں مدد دے سکے بالآخر 1932ء میں ایک انگریز ماہر اقتصادیات جے ایم کینز (J. M. Keynes) نے اپنا مشہور زمانہ “نظریہ روزگار و آمدنی” پیش کیا جو اقتصادیات کے میدان میں ایک انقلاب کا سبب بنا اس انقلابی نظریے نے حکومتوں کو اس قابل بنا دیا کہ وہ اس عالمی سرد بازاری پر قابو پالیں کینز کو ان کی خدمات کے صلے میں تاج برطانیہ نے لارڈ کے خطاب سے نوازا جو کسی بھی انگریز کے لیے اعلیٰ ترین خطاب ہے اور باعث افتخار۔
اس تمہید سے میری غرض صرف اتنی ہے کہ ناظرین یہ ذہن نشین کر لیں کہ جدید اقتصادی نظریات کی ابتداء 1930 کے بعد سے ہوئی اور یہ بات کس قدر حیرت انگیز ہے کہ نگاہ مومن نے ان جدید اقتصادی تقاضوں کی جھلک 1912ء ہی میں دکھا دی تھی۔ اگر 1912ء سے مولانا احمد رضا خان بریلوی کے نکات پر غور و فکر کیا جاتا اور صاحب حیثیت مسلمان ہند اس پر عمل کرتے تو ہندوستانی مسلمانوں کی حیثیت معاشی اعتبار سے انتہائی مستحکم ہوتی۔
کینز کو اس کی خدمات کے صلے میں اعلیٰ ترین خطاب مل سکتا ہے اس بنا پر کہ اس نے وہ چیز دریافت کر لی تھی جسے چوبیس سال قبل مولانا احمد رضا خان بریلوی شائع کروا چکے تھے، لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے اس طرف ذرہ برابر توجہ نہ دی۔ [حاشیہ تدبیر فلاح، ص: 20 تا 27، مطبوعہ المدینۃ العلمیۃ]
یہاں قابل ذکر یہ ہے کہ تدبیر فلاح میں موجود نکات کے فالو اپ کے طور پر ہمیں مزید رسائل بھی فتاویٰ رضویہ میں دیکھنے کو ملتے ہیں ان میں سے ایک رسالہ ہے۔
الْحُجَّةُ الْمُؤْتَمَنَةُ فِي آيَةِ الْمُمْتَحَنَةِ (1339ھ)
سورہ ممتحنہ کی آیت کریمہ کے بارے میں درمیانی راستہ۔
یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ جلد 14 میں موجود ہے، اس رسالہ میں کفار کے ساتھ تعلقات اور معاملات کے احکام پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ دوسرے اصول میں مسلمانوں کو آپس میں تجارت کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔
جبکہ ایک اور رسالہ جو فتاویٰ رضویہ جلد 23 میں موجود ہے:
رَادُّ الْقَحْطِ وَالْوَبَاءِ بِدَعْوَةِ الْجِيرَانِ وَمُوَاسَاةِ الْفُقَرَاءِ (1312ھ)
پڑوسیوں کی دعوت اور فقیروں کی غم خواری کے ذریعے قحط اور وبا کو لوٹا دینے والے اعمال۔
اس رسالہ میں غریب مسلمانوں کی مدد اور ان کے ساتھ چیرٹی کے کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ تدبیر فلاح کے تیسرے نکتہ میں توانگر مسلمانوں کو نفع لے کر وسیع پیمانے پر تجارت کی ترغیب اور اسلامک بینک بنانے کا نظریہ بیان کیا گیا جبکہ “راد القحط” میں صدقہ اور خیرات کے ذریعے ان کی معاشی بہتری کی ترغیب موجود ہے۔
قسم رابع: مصنف کے دور میں عام فقہ نوازل پر لکھے گئے تفصیلی رسائل یا مختصر جوابات
ہر دور میں نت نئے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ فقہائے عصر کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان حدوث پذیر مسائل اور نوازل پر حکم شرع بیان فرمائیں۔ رونما ہونے والے مسائل ایک جیسے نہیں ہوتے کچھ وہ ہوتے ہیں کہ معاملہ کی حقیقت و ماہیت جان کر ہی حکم شرع لگایا جاتا ہے اور کچھ وہ ہوتے ہیں کہ جن کا حل صرف فقہی جزئیات کے گرد گھومتا ہے۔ پہلی قسم کے مسائل زیادہ مشکل واقع ہوتے ہیں، اعلیٰ حضرت امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے ہر دو قسم کے وقوع پذیر معاملات پر فتاویٰ اور مستقل رسائل تصنیف فرمائے۔ یہاں صرف 110 اہم رسائل سے متعلق تبصرہ و تعارف بیان کیا جا رہا ہے۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فقہ المعاملات میں امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے کس قدر قیمتی سرمایہ ہمارے لیے چھوڑا ہے۔
الْكَشْفُ الشَّافِيَا حُكْمُ فُونُوجْرَافِيَا (1328ھ)
مزید مطالعہ کے لیے قسط 6 ملاحظہ کریں۔
