| عنوان: | یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
اللہ تعالیٰ کا خوف
سچا اور کامل مومن وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مغفرت کی امید رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرتا بھی رہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
﴿فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ﴾ [سورۃ المائدۃ: 44]
ترجمہ: لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو۔
رسولِ اکرم نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جب کوئی بندہ خوفِ الٰہی سے کانپتا ہے تو اس کے گناہ اس کے بدن سے ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کو ہلانے سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔” [الترغیب والترہیب]
مخبرِ صادق صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سات آدمیوں کا ذکر فرمایا کہ جس دن کوئی سایہ نہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا، ان میں سے ایک وہ آدمی ہے جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور وعید کو یاد کیا اور اپنے قصور کو یاد کر کے خوفِ الٰہی سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اور خوفِ الٰہی کی وجہ سے وہ نافرمانی اور گناہوں سے کنارہ کش ہو گیا۔ [صحیح البخاری]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: “دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔ ایک وہ آنکھ جو آدھی رات میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے روئی اور دوسری وہ آنکھ جس نے راہِ خدا میں نگہبانی کرتے ہوئے رات گزاری۔” [سنن الترمذی]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: “قیامت کے دن ہر آنکھ روئے گی مگر جو آنکھ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے رک گئی، جو آنکھ راہِ خدا میں بیدار ہوئی اور جس آنکھ سے خوفِ الٰہی کی وجہ سے مکھی کے سر کے برابر آنسو نکلا وہ رونے سے محفوظ رہے گی۔” [الترغیب والترہیب]
جن بندوں کے اندر خشیتِ الٰہی ہے اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے:
﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ [سورۃ البینۃ: 8]
ترجمہ: اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے (اللہ تعالیٰ سے) یہ اس کے لیے جو اپنے رب سے ڈرے۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
﴿سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى﴾ [سورۃ الاعلیٰ: 10]
ترجمہ: عنقریب نصیحت مانے گا (وہ) جو ڈرتا ہے۔
