| عنوان: | بُرے اخلاق کی تباہ کاریاں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
بعض احادیثِ مبارکہ کا مفہوم
- بندہ اچھے اخلاق سے روزہ دار اور عبادت گزار کا درجہ پا لیتا ہے، نیز آخرت کے درجات اور جنت کے بالا خانوں کو پا لیتا ہے۔
- بد اخلاقی ایسا گناہ ہے جس کی بخشش نہیں۔
- بندہ اس کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں پہنچ جاتا ہے۔
- اچھا اخلاق خطاؤں کو اس طرح پگھلا دیتا ہے، جس طرح دھوپ برف کو پگھلا دیتی ہے۔
- خُوش خلقی (باعثِ) برکت ہے۔
- قیامت کے دن لوگوں میں نبی کریم ﷺ سے سب سے زیادہ قریب وہی ہوگا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہوگا۔
- سب سے اچھا اخلاق شفیعِ روزِ شمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار ﷺ کا اخلاق ہے۔
- سب سے افضل مؤمن وہی ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔
- میزان میں رکھے جانے والے اعمال میں حسنِ اخلاق سب سے افضل اور وزنی ہوگا۔
17۔ اُم المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں: "حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجدار، محبوبِ ربِ اکبر عزوجل ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔" قرآنِ کریم میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیْنَ
(ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔) [پ 9، الاعراف: 199]
18۔ اس آیتِ مبارکہ کے نزول کے بعد حضورِ نبی کریم، رءوفِ رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اس سے مراد یہ ہے کہ جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑو اور جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو۔" [الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، سورۃ الاعراف، آیت 199، ج 3، ص 230]
19۔ نبی مکرم، شفیعِ معظم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "ابلیس اپنے چیلوں سے کہتا ہے کہ ظلم اور حسد کی طلب میں انسانوں کی مدد کیا کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں اللہ عزوجل کے نزدیک شرک کے برابر ہیں۔" [فردوس الاخبار للدیلمی، الحدیث: 923، ج 1، ص 24]
20۔ رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "بغض سے بچتے رہو کیونکہ یہ دین کو مونڈنے (یعنی برباد کرنے) والا ہے۔" [جامع الاحادیث للسیوطی، قسم الاقوال، الحدیث: 9513، ج 3، ص 219]
21۔ حضورِ پاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "اے وہ لوگو جو زبان سے تو اسلام لے آئے ہو مگر تمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کو برا مت کہو اور نہ ہی ان کے پوشیدہ معاملات کی تلاش میں رہا کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ معاملہ میں تجسس کرے تو اللہ عزوجل اس کا پردہ فاش کر کے اس کے پوشیدہ راز کو ظاہر فرما دیتا ہے اگر چہ وہ اپنے گھر میں پوشیدہ ہو۔" [المعجم الاوسط، الحدیث: 2936، ج 2، ص 78]
22۔ اللہ کے محبوب، دانائے غیوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے وہ لوگو جو زبانوں سے تو ایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کو ایذا مت دو، اور نہ ان کے عیوب کو تلاش کرو کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کا عیب تلاش کرے گا اللہ عزوجل اس کا عیب ظاہر فرما دے گا اور اللہ عزوجل جس کا عیب ظاہر فرما دے تو اسے رسوا کر دیتا ہے اگر چہ وہ اپنے گھر کے تہہ خانہ میں ہو۔" [شعب الایمان، الحدیث: 7603، ج 5، ص 296]
23۔ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حسن و جمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "اے وہ لوگو جو زبانوں سے تو ایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کو ایذا مت دو، نہ ہی انہیں نقصان پہنچاؤ اور نہ ان کے عیوب کو تلاش کرو کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرے گا اللہ عزوجل اس کا عیب ظاہر فرما دے گا... پھر اگر وہ کسی تاریک مکان کی اندھیری کوٹھری میں بھی کوئی گناہ کرتا ہے، تو بھی اللہ عزوجل اس کو اور اس کے عمل کو ظاہر کر دیتا ہے۔" [کنزالعمال، الحدیث: 4244، ج 3، ص 182]
24۔ دافعِ رنج و ملال، صاحبِ جود و نوال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "لوگوں سے تعریف کا خواہاں رہنا انسان کو اندھا اور بہرہ کر دیتا ہے۔" [فردوس الاخبار، الحدیث: 2528، ج 1، ص 374]
25۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ عزوجل اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو بلا کر اپنی بارگاہ میں کھڑا کرے گا اور اس سے اس کی دنیوی قدر و منزلت کے بارے میں اسی طرح مؤاخذہ فرمائے گا جیسے اس کے مال کے بارے میں مؤاخذہ فرمائے گا۔" [جامع الاحادیث للسیوطی، الحدیث: 1752، ج 1، ص 461] (جہنم میں لے جانے والے عمل، جلد 1، صفحہ 266 تا 270)
