| عنوان: | یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
نفس کے ساتھ جہاد
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: “افضل الجہاد جہاد النفس” [البیہقی]۔ یعنی نفس کے ساتھ جہاد بہترین جہاد ہے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جب جہاد سے واپس آتے تو کہتے کہ ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نفس، شیطان اور خواہشات کے ساتھ جہاد کو کفار کے ساتھ جہاد کرنے سے چند وجوہات کی بنا پر اکبر اور عظیم کہا ہے:
- نفس کے ساتھ جہاد ہمیشہ جاری رہتا ہے، جبکہ کفار کے ساتھ جہاد کبھی کبھی ہوتا ہے۔
- کفار کے ساتھ جہاد میں غازی اپنے دشمن کو سامنے دیکھتا ہے، مگر شیطان نظر نہیں آتا، اور چھپ کر وار کرنے والے دشمن سے لڑائی زیادہ سخت ہوتی ہے۔
- کافر کے ساتھ غازی کی ہمدردیاں نہیں ہوتیں، جبکہ شیطان کے ساتھ جہاد میں نفس اور خواہشات شیطان کی حامی قوتوں میں شمار ہوتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ خواہشات سے باز رہنے والوں کو جنت کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے:
﴿وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَھَی النَّفْسَ عَنِ الھَویٰ فَاِنَّ الجَنَّۃَ ھِیَ الْماَویٰ﴾ [سورۃ النازعات: 40-41]
ترجمہ: اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ﴾ [سورۃ الرحمٰن: 46] یعنی اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔
موت کی کثرت سے یاد
موت کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: “اكثروا من ذكر هاذم اللذات” [سنن الترمذی]۔ یعنی لذتوں کو مٹانے والی (موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “موت کو کثرت سے یاد کرو، اس سے گناہ ختم ہو جاتے ہیں اور دنیا سے بے رغبتی بڑھتی ہے۔” [کنز العمال]
ہوشیار کون؟
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ ایک انصاری جوان نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! سب سے زیادہ باعزت اور ہوشیار کون ہے؟ آپ نے فرمایا: “جو موت کو بہت یاد کرتا ہے اور اس کے لیے زبردست تیاری کرتا ہے وہ ہوشیار ہے اور ایسے ہی لوگ دنیا اور آخرت میں باعزت ہوتے ہیں۔” [سنن ابن ماجہ] ایک مرتبہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہنستے دیکھ کر فرمایا: “موت کو یاد کرو، ربِ ذوالجلال کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں معلوم ہو جائے تو کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔” [احیاء العلوم]
موت کی سختی
درۃ الواعظین میں مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کو زندہ کیا تو ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے۔ انہوں نے بتایا کہ قیامت کے خوف سے یہ سفیدی آئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو انتقال کیے کتنے برس ہو گئے؟ تو انہوں نے کہا پورے چار ہزار برس، اور اب تک موت کی تلخی اور نزع کے وقت کی تکلیف اور بے چینی باقی ہے۔ [درۃ الواعظین]
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر تمہاری طرح جانور موت کو جان لیتے تو ان میں کوئی موٹا جانور کھانے کو نہ ملتا۔” [کنز العمال] یعنی موت کا جتنا علم انسان کو ہے اگر اتنا علم جانوروں کو ہوتا تو وہ سب موت کے خوف سے سوکھ جاتے۔
