| عنوان: | حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی حیات اور کارنامے (قسط دوم، آخری) |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
شعر و شاعری:
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ اپنے وقت کے استاذ الشعراء تھے۔ والدِ ماجد امامِ اہلِ سنّت رحمۃُ اللہ علیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عشقِ رسول سے بھرپور نعتیہ شاعری فرمائی۔ آپ اپنا تخلص اپنے پیر و مرشِد کے تخلص پر ”نوری“ رکھتے تھے۔ آپ کے کلام کا مجموعہ ”سامانِ بخشش“ کے نام سے مشہور ہے، جو نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔
طلبہ سے شفقت و محبت:
حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ طلبہ پر نہایت مہربان تھے۔ غریب طلبہ کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے خفیہ طور پر خرچ کے لئے رقوم عنایت فرماتے۔ کوئی طالبِ علم مسئلہ پوچھتا تو نہایت شفقت سے اطمینان بخش جواب دیتے۔ جلسوں کے موقع پر عُلما و طلبہ کے لئے خصوصی دعوت کا اہتمام فرماتے، اور بہت سے مستحق طلبہ کو اپنے مکان پر ٹھہرا کر ان کے رہائش اور کھانے کا بندوبست فرماتے، نیز انہیں اپنے علمی و روحانی فیضان سے مالا مال کرتے تھے۔
عبادت و ریاضت:
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ عبادت و ریاضت میں بلند مقام رکھتے تھے۔ سفر و حضر میں کبھی آپ کی نمازِ پنجگانہ قضا نہیں ہوتی تھی۔ سفر کے دوران نماز کا اہتمام نہایت مشکل ہوتا ہے، لیکن آپ پوری حیاتِ مبارکہ اس پر کاربند رہے۔ چشم دید واقعات بیان کیے جاتے ہیں کہ نماز کی ادائیگی و اہتمام کے لیے آپ ٹرین چھوٹنے کی بھی پرواہ نہیں فرماتے تھے، خود بھی پابندی سے نماز ادا کرتے اور ساتھیوں کو بھی سخت تاکید فرماتے۔
مجاہدانہ زندگی:
شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی پوری زندگی دین و سنیت اور قوم کی بے لوث خدمت میں صرف ہوئی۔ آپ کے دور میں جب ”شدھی تحریک“ کے نام سے مسلمانوں کے ایمان کو لوٹنے کی سازش رچی گئی، تو حضور مفتی اعظم ہند نے میدان میں آکر باطل پرستوں سے پنجہ آزمائی کی، لاکھوں لوگوں کو کلمہ پڑھایا اور بے شمار مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی۔ اسی طرح آپ کی زندگی کے اخیر دور میں جب ”نسبندی“ کا طوفان آیا، تو حکومت کے فرمان کے سامنے جب بڑوں کے قدم متزلزل ہو گئے، اس وقت اعلیٰ حضرت کے اس شہزادے نے حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ببانگِ دہل فتویٰ دیا کہ ”نسبندی حرام ہے، حرام ہے، حرام ہے۔“
حج و زیارت اور استقامت:
آپ نے تین مرتبہ حج و زیارت کی سعادت حاصل کی مگر کبھی تصویر نہیں بنوائی۔ تیسری مرتبہ حج پر جاتے وقت جب حکومتِ ہند کی جانب سے پاسپورٹ پر تصویر لگانے کا قانون سخت ہوا تو آپ نے برجستہ انکار کرتے ہوئے فرمایا: ”جس رسولِ محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں تصویر بنانا حرام ہے، میں اس دربار میں تصویر کھینچوا کر کیسے حاضر ہو سکتا ہوں؟“ آپ کی اس استقامت اور اتباعِ سنت پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی انتظام فرمایا، حکومتِ ہند اور حکومتِ سعودی عرب نے آپ کو بغیر تصویر کے خصوصی اجازت نامہ جاری کیا، اور مدینہ منورہ میں آپ کی حاضری کا منظر نہایت پُر کیف و ایمان افروز تھا۔
وصالِ پر ملال:
آسمانِ علم و فن کا یہ روشن ستارہ، 14 محرم الحرام 1402ھ بمطابق 12 نومبر 1981ء کی رات، ایک بج کر چالیس منٹ پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتا ہوا خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)۔
اگلے دن نمازِ جمعہ کے بعد اسلامیہ کالج کے وسیع میدان میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور تقریباً چھ بجے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے بائیں پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ جنازے میں لاکھوں افراد کا سمندر حضور مفتی اعظم کی مقبولیت و جلالتِ شان کا کھلا ثبوت تھا۔
