Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فتنۂ روافض سے نسلِ نو کی حفاظت|محمد ایوب مصباحی

فتنۂ روافض سے نسلِ نو کی حفاظت
عنوان: فتنۂ روافض سے نسلِ نو کی حفاظت
تحریر: مولانا محمد ایوب مصباحی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اسلام اتحاد، اعتدال اور محبت کا دین ہے۔ قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو باہمی اتحاد کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا [سورۃ آل عمران: 103]

ترجمہ: “اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔”

مگر تاریخِ اسلام میں بعض ایسے فتنے رونما ہوئے جنہوں نے امت کی وحدت کو نقصان پہنچایا۔ انہی فتنوں میں ایک بڑا فتنہ رافضیت کا ہے۔ یہ فرقہ بظاہر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی محبت کے نام پر وجود میں آیا، لیکن محبت میں غلو کرتے کرتے جمہور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت و عدالت کا انکار کیا، امہات المؤمنین پر زبان درازی کی، اور امت کے اندر تفرقہ و انتشار کا دروازہ کھول دیا۔

حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کے مقام و مرتبہ کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِيْ فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيْفَهُ۔ [صحيح البخاري، رقم الحديث: 3673]

ترجمہ: “میرے صحابہ کو برا نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے ایک مُد بلکہ آدھے مُد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔”

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَللّٰهَ اللّٰهَ فِيْ أَصْحَابِيْ، اَللّٰهَ اللّٰهَ فِيْ أَصْحَابِيْ، لَا تَتَّخِذُوْهُمْ غَرَضًا بَعْدِيْ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِيْ، وَمَنْ آذَانِيْ فَقَدْ آذَى اللّٰهَ، وَمَنْ آذَى اللّٰهَ فَيُوْشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ۔ [جامع الترمذي، رقم الحديث: 3862]

ترجمہ: “میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا۔ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا جس نے انہیں تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی گویا اس نے اللہ کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تکلیف دی اللہ اس کا مواخذہ فرمائے گا۔”

ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور تعظیم ایمان کا تقاضا اور اہل سنت والجماعت کا بنیادی عقیدہ ہے۔

اسی طرح اہل بیتِ اطہار کی محبت بھی دینِ اسلام کا اہم جز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

“میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔” [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 6225]

خصوصاً حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ ملاحظہ کریں:

عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ۔ [جامع الترمذي، رقم الحديث: 3737]

ترجمہ: “حضرت علی سے وہی محبت کرے گا جو مومن ہو گا اور ان سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہوگا۔”

یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظمت، محبت اور ان کے بلند مقام کو واضح کرتی ہے۔ لیکن اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کے ساتھ ساتھ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت بھی ضروری ہے۔ محبتِ اہل بیت اور تعظیمِ صحابہ ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کا لازمی تقاضا ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“تم میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔” [سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 4607، جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2676]

لہٰذا حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم چاروں خلفائے راشدین کی محبت، تعظیم اور اتباع اہل سنت والجماعت کا شعار ہے۔

آج بعض لوگ باغِ فدک کے مسئلے کو بنیاد بنا کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرتے ہیں، حالانکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی روشنی میں فرمایا تھا:

“ہم انبیاء کی جماعت وراثت نہیں چھوڑتے، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔” [صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3093]

اسی طرح بعض لوگ جنگِ جمل کے واقعات کو بنیاد بنا کر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اعتراضات کرتے ہیں، جبکہ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ ام المؤمنین قرآن کریم کی نص سے مسلمانوں کی مائیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَأَزْوَاجُهٗ أُمَّهَاتُهُمْ [سورۃ الاحزاب: 6]

لہٰذا ان کی شان میں گستاخی کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔

اسی طرح بعض لوگ یزید کے جرائم کو بنیاد بنا کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع کرتے ہیں، حالانکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی، کاتبِ وحی اور ایک عظیم صحابی رسول ہیں۔ اہل سنت کا طریقہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام کے بارے میں ادب، احترام اور حسن ظن کا معاملہ کیا جائے۔

اہل سنت والجماعت کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اہل بیتِ اطہار اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یکساں محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ بعض روایات میں اہل بیتِ اطہار کو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی سے تشبیہ دی گئی ہے اور صحابہ کرام کو ستاروں سے تشبیہ دی گئی ہے کہ کشتی اگرچہ نجات کا ذریعہ ہوتی ہے، لیکن سمندر میں منزل تک پہنچنے کے لیے ستاروں کی رہنمائی بھی درکار ہوتی ہے۔ گویا اہل بیتِ اطہار اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون اور مؤید ہیں۔

اسی حقیقت کو امام اہل سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے:

اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

لہٰذا جو شخص اہل بیت کی محبت کے نام پر صحابہ کرام کی تنقیص کرے یا صحابہ کرام کی محبت کے نام پر اہل بیتِ اطہار کے حقوق کو فراموش کرے، وہ اہل سنت کے معتدل راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ اہل سنت کا راستہ محبتِ اہل بیت، تعظیمِ صحابہ، احترامِ ازواجِ مطہرات اور اتحادِ امت کا راستہ ہے۔

آج نسلِ نو کو اس فتنہ سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں قرآن و حدیث کی صحیح تعلیم دی جائے، صحابہ کرام اور اہل بیتِ اطہار کے فضائل سے روشناس کرایا جائے، مستند علماء سے وابستہ رکھا جائے اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کا علمی جواب دیا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام، اہل بیتِ اطہار اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہم اجمعین کی سچی محبت نصیب فرمائے، ہماری نسلوں کو فتنوں سے محفوظ رکھے اور اہل سنت والجماعت کے عقائد پر استقامت عطا فرمائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!