| عنوان: | ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
جب سے مرکز میں ایک مخصوص پارٹی برسرِ اقتدار آئی ہے، ملک کے ہر شعبے میں اس نے اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے اور اب دانش وروں کے مطابق عدلیہ بھی اپنا دامن داغ دار ہونے سے بچانے میں ناکام ہے۔ تعصب کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ نہ کوئی محکمہ اس کی زد میں آنے سے خالی ہے اور نہ جمہوریت کے مضبوط ستون محفوظ۔ ان تمام عام خطرات کے ساتھ چند ایسے بڑے خطرات بھی اب ہندوستان کا مقدر بنتے جا رہے ہیں جن کا فائنل نتیجہ جمہوریت اور انسانیت کا خاتمہ ہوا کرتا ہے مثلاً:
(1) اس وقت سب سے بڑا مسئلہ اقلیتوں کے تحفظ کا ہے۔ پہلے خواتین کی عصمت دری ہوتی تھی، لیکن اب ڈرائیوروں اور راستے چلتے عام مسافروں کی زندگیاں بھی غیر محفوظ بن چکی ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے ماب لنچنگ کا جو نامراد سلسلہ شروع ہوا ہے، اس نے جہاں ایک جمہوری ملک کے باشندوں کو عملاً ان کے بنیادی حق سے محروم کر رکھا ہے وہیں اس سے مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے مظالم نے ان طبقات کو ذہنی اور فکری طور پر بھی غیر معمولی متاثر کیا ہے۔ رونا صرف یہ نہیں کہ ایک ظالم طبقہ مسلسل یہ ظلم کیے جا رہا ہے، افسوس اس بات کا بھی ہے کہ مظلوموں کے وارثوں نے اپنا حق مانگنا اور اپنی میتوں پر رونا بھی چھوڑ دیا ہے۔ افسوس بالائے افسوس یہ ہے کہ اب تک ماب لنچنگ کے خلاف دنیا کے اس سب سے بڑے جمہوری ملک میں کوئی ایسا بڑا احتجاج نہیں ہوا جس کی دھمک حکومت محسوس کرے۔
(2) نصابِ تعلیم کے ساتھ مسلسل چھیڑ خانی چل رہی ہے اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ اسلام کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے۔ ہر وہ علمی مواد جو اسلام اور اسلامی مزاج سے مطابقت رکھتا ہے، بڑی چابک دستی سے ہٹایا جا رہا ہے اور اس کی جگہ زہریلا مواد معصوم ذہنوں کی غذا بننے کو ہے۔ اس خصوص میں نہ صرف تاریخ غیر محفوظ ہے بلکہ سائنسی ایجادات میں بھی ان لوگوں کو جگہ دی جا رہی ہے جن کے بے چاروں کا سائنس کے ابجد سے بھی واسطہ نہیں رہا۔
(3) اندرونی طور پر مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے کی سازشیں مکمل ہو چکی ہیں اور کچھ حد تک یہ جنرل پلان زمین پر بھی اتر چکا ہے۔ جس کی تازہ مثالیں میڈیا ہاؤسز سے جاری خبروں اور ٹیلی ویژن پر ہوتی ڈیبیٹس سے بخوبی اخذ کی جا سکتی ہیں۔ اس موقع پر یہ افسوس ناک حقیقت بھی بیان کی جانی چاہیے کہ ادھر کچھ عرصے سے موجودہ مسلم پرسنل بورڈ کی پالیسیاں بھی مشکوک رہی ہیں۔ کبھی بورڈ کی ذمہ دار باڈی میں شامل کچھ افراد کے بیانوں نے اسلامیانِ ہند کو زک پہنچائی تو کبھی خود بورڈ کا غیر واضح طرزِ عمل باعثِ تشویش رہا۔ حالیہ دنوں میں جاری بورڈ کے سلسلہ وار نسوانی احتجاجوں کا بنا کسی پیشگی تنبیہ کے اچانک رک جانا بھی تجزیہ نگاروں کے لیے حیرت اور تردد کا سبب رہا۔ ماہرینِ سیاست کا ماننا ہے کہ بورڈ مسلمانوں کی امیدوں سے زیادہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کے مفادات پر کھرا اتر رہا ہے۔
(4) موجودہ مرکزی حکومت اپنی اکثریت اور عوام میں اپنے تئیں ہموار فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان کے بنیادی قوانین میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ماضی قریب میں کچھ تلخ زمینی تجربات کیے گئے، ٹیلی ویژنوں کے ذریعے یہ موضوع زیرِ بحث لایا گیا اور ان تجربات کے مثبت منفی نتائج بھی نوٹ کیے گئے تاکہ آگے کے لیے اسی کے مطابق روڈ میپ تیار کیا جا سکے اور مضبوط پلاننگ کے ساتھ میدان میں اترا جا سکے۔
جبکہ کچھ خوش فہم مسلمان اب بھی یہ غلط فہمی پال رہے ہیں کہ جیسے تین طلاق بل نہ پاس ہو سکا، آگے بھی ایسا کچھ نہیں ہو پائے گا، اس بھولے پن کے حق میں دعا کے ساتھ یہی کہا جا سکتا ہے: بے شک مشیتِ مولیٰ سے کچھ بعید نہیں تاہم اسباب کی روشنی میں یہ فکر خیالِ خام سے زیادہ کچھ نہیں کیوں کہ آئینِ ہند کے مطابق اکثریت کی صورت میں ایسے قانون کی گنجائش ہے اور آج کے مشینی دور میں اپنی اکثریت بنا لینا کچھ مشکل نہیں۔ ہم جمود کا شکار ہیں، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دشمن بھی خاموش بیٹھا ہے۔
