Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قرآن کی روشنی میں خاندانی مسائل کا حل|محمد عارف رضا قادری امجدی

قرآن کی روشنی میں خاندانی مسائل کا حل
عنوان: قرآن کی روشنی میں خاندانی مسائل کا حل
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

قرآنِ مجید اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ آخری کلام ہے جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور قیامت تک تمام انسانوں کے لیے کامل ہدایت، دستورِ حیات اور سرچشمۂ رشد و ہدایت ہے۔ اس میں عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت، حلال و حرام اور انسانی زندگی کے تمام معاملات کے بارے میں کامل رہنمائی موجود ہے۔ جو شخص قرآنِ کریم کی تعلیمات پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور فہمِ صحابۂ کرام و ائمۂ اہلِ سنت کے مطابق عمل کرے، وہ دنیا میں بھی عزت و کامیابی حاصل کرتا ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا مستحق بنتا ہے۔

موجودہ دور میں اگر خاندانی مسائل کا جائزہ لیا جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے گھرانے باہمی اختلافات، نااتفاقی اور گھریلو نزاعات کا شکار ہیں۔ یہی اختلافات محبت و الفت کو کمزور کرتے، خاندان کے سکون کو برباد کرتے اور اس کی تعمیر و ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہم قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف رجوع کریں، کیونکہ یہی وہ سرچشمۂ ہدایت ہے جو خاندانوں میں محبت، اتفاق، عدل اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔

اختلاف زوجین اور ان کا حل

گھر کی ترقی کا انحصار زوجین کے باہمی رشتے پر ہوتا ہے، میاں بیوی جب تک ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے رہتے ہیں، تب تک پورے گھر کا ماحول صحیح و سالم رہتا ہے لیکن زوجین کے درمیان کی عدم اتفاقی اور معمولی سی ان بن پورے گھر کی فضا کو مسموم و مکدر کر دیتی ہے جس سے نہ صرف ان دونوں کا مستقبل بلکہ بچوں کی تربیت پر بھی ایک برا اثر پڑتا ہے، ساتھ ہی ساتھ پورے گھر کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔

آئیے قرآنِ کریم کی روشنی میں اس موضوع کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقدس رشتے کو قائم رکھنے، اس کی حفاظت کرنے اور باہمی محبت و الفت کو فروغ دینے کے لیے کیا ہدایات ارشاد فرمائی ہیں۔

ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی، بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ [سورۃ الروم: 21]

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے عورتیں بنائیں، جو شرعی نکاح کے بعد تمہاری بیویاں بنتی ہیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اگر اللہ تعالیٰ آدم کی اولاد سے صرف مرد پیدا فرماتا، عورتوں کو ان کے علاوہ کسی دوسری جنس جیسے جنات یا حیوان سے پیدا فرماتا تو مردوں کو عورتوں سے سکون حاصل نہ ہوتا بلکہ ان میں نفرت پیدا ہو جاتی کیونکہ دو مختلف جنسوں کے افراد میں ایک دوسرے کی طرف میلان نہیں ہوتا اور وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل نہیں کر سکتے اور انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کمال رحمت ہے کہ مردوں کے لیے ان کی جنس سے عورتیں بنانے کے ساتھ ساتھ شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔ [تفسیر کبیر]

معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت نے میاں اور بیوی کے درمیان کافی الفت و محبت کو پیدا فرمایا ہے لیکن یہ ہماری کمی ہے کہ چند غلط فہمیوں کے باعث زوجین میں تفریق کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے، لہٰذا ہمیں قرآن کی ان آیات طیبات کے ذریعے اپنے باہمی رشتے کو مخاصمت و منافرت سے دور رکھ کر باہم محبت و مودت سے رہنا چاہیے اور اس کے علاوہ بھی بے شمار آیات طیبات قرآن پاک میں موجود ہیں، جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے میاں اور بیوی کو محبت سے رہنے کا حکم فرمایا ہے۔

والدین سے اختلاف اور اس کا حل

عصر حاضر میں خاندانی مسائل کی فہرست میں والدین کی نافرمانی بھی قابل ذکر مسئلہ ہے کہ ہمارے والدین ہماری نشوونما میں طرح طرح کے مصائب و آلام کو برداشت کرتے ہیں لیکن افسوس کہ بڑے ہو کر ہم اپنے والدین کے تمام تر احسانات کو بھول جاتے ہیں، اب والدین ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے، اب دیکھیں کہ قرآن میں بچے کے متعلق والدہ کی خدمات کو اللہ رب العزت قرآن پاک میں بیان فرماتا ہے۔

ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، اس کی ماں نے اسے پیٹ میں مشقت سے رکھا اور مشقت سے اس کو جنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینہ ہے۔ [سورۃ الاحقاف: 15]

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے بے شمار مقامات پر اولاد سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔

اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے خوبصورت نرم کلام کرنا۔ [سورۃ الاسراء: 23]

مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد اس کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کے وجود کا حقیقی سبب اللہ کی تخلیق اور ایجاد ہے جبکہ ظاہری سبب اس کے ماں اور باپ ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب کی تعظیم کا حکم دیا پھر اس کے بعد ظاہری سبب کی تعظیم کا حکم دیا آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اپنے والدین کے ساتھ انتہائی اچھے طریقے سے نیک سلوک کرو کہ جس طرح والدین کا تم پر احسان عظیم ہے تم پر لازم ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اسی طرح نیک سلوک کرو۔

جب دینِ اسلام ہمیں اپنے والدین کے سامنے “اف” تک کہنے کی اجازت نہیں دیتا، تو پھر ان سے لڑنا، جھگڑنا، بدزبانی کرنا یا اختلاف و نافرمانی کا رویہ اختیار کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ قرآنِ کریم میں والدین کے حقوق، ان کی اطاعت و فرمانبرداری اور حسنِ سلوک کے بارے میں بے شمار آیات موجود ہیں، جو ہمیں ان کے ساتھ محبت، ادب اور احترام کا درس دیتی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر قرآنِ کریم کو اخلاص کے ساتھ پڑھا، سمجھا اور اس پر عمل کیا جائے تو وہ نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بلکہ خاندانی مسائل کے حل میں بھی ہر قدم پر ہماری بہترین رہنمائی کرتا ہے۔

بھائیوں میں اختلاف اور اس کا حل

خاندانی مسائل کی ضمن میں بھائیوں کا اختلاف بھی ایک بہت بڑی بربادی کا سبب ہے، اگر ہم بچپن کی بات کریں تو کم سنی میں بھائی باہم الفت و محبت کی زندہ مثال ہوا کرتے ہیں، لیکن جیسے جیسے ان کی عمریں طویل ہوتی ہیں، ان میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں اختلاف شروع ہو جاتا ہے اور یہی اختلاف آگے چل کر ایک جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے، ان میں تفرقہ پڑ جاتا ہے، جس سے پورے گھر کی خوشحالی ماتم میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور وہ گھر نمونہ جہنم بنتا ہوا نظر آتا ہے۔

اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و احسان ہے کہ اس نے تمام اختلافات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بھائیوں کے اختلافات کو بھی ختم کرنے کے طریقوں کو بیان فرما کر آپس میں محبت سے رہنے اور زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا، ایک بھائی کی موجودگی دوسرے بھائی کے لیے کس قدر اہمیت کی حامل ہے، آئیے ملاحظہ کریں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:

ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے تقویت بخشیں گے۔ [سورۃ القصص: 35]

پتا چلا کہ بھائی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں، کیونکہ اللہ ان کے ذریعے ہمارے بازوؤں کو قوت عطا فرماتا ہے، لہٰذا ہمیں اپنے بھائیوں سے محبت سے رہنا چاہیے، ان کی تعظیم و تکریم کرنی چاہیے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کمی اور کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

عام طور سے بھائیوں میں اختلاف کی سب سے بڑی وجہ گھر کی زمین و جائیداد میں ایک دوسرے کی حق تلفی کرنا ہے اور اس مسئلے کا حل بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان فرما دیا ہے: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اور فضول خرچی نہ کرو۔ [سورۃ الاسراء: 26]

لہٰذا اگر زمین و جائیداد کے معاملے میں ہم پوری دیانتداری کا مظاہرہ کریں، تو ان شاء اللہ بھائیوں میں اختلاف کا دروازہ ہی نہیں کھلے گا اور ہمارا گھر ترقیوں کی جانب رواں دواں رہے گا۔

بلاشبہ قرآنِ کریم قیامت تک مسلمانوں کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں زندگی کے ہر مسئلے کا جامع حل موجود ہے۔ افسوس کہ ہم قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں، مگر اس کے معانی اور مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اسی لیے اس کی حقیقی رہنمائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم قرآنِ کریم کو ترجمہ کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں اور اپنے گھروں اور معاشرے میں فہمِ قرآن کا ماحول پیدا کریں، تاکہ ہر شخص اپنی انفرادی، خاندانی اور معاشرتی زندگی کے مسائل کا حل قرآنِ حکیم کی روشنی میں حاصل کر سکے۔

اللہ رب العزت ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!