Loading...

تعزیت یا تقریب؟ ایک سنجیدہ جائزہ

تعزیت یا تقریب؟ ایک سنجیدہ جائزہ
عنوان: تعزیت یا تقریب؟ ایک سنجیدہ جائزہ
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

انسانی زندگی کا سب سے یقینی مرحلہ موت ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام رونقیں، مصروفیات اور ترجیحات بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اسلام، جو ایک کامل اور فطری دین ہے، اس نے اس مرحلے کو بھی بے راہ روی یا جذباتی افراط و تفریط کے حوالے نہیں چھوڑا بلکہ اس کے لیے نہایت متوازن، باوقار اور حکیمانہ ہدایات عطا فرمائی ہیں۔ موت کے بعد کا ماحول، اہلِ خانہ کا صدمہ، اور معاشرے کی ذمہ داری—یہ سب ایسے پہلو ہیں جن میں شریعت نے انسان کو ایک ایسا راستہ دکھایا ہے جو نہ صرف دینی اعتبار سے درست ہے بلکہ انسانی فطرت سے بھی مکمل ہم آہنگ ہے۔ تعزیت کا مقصد محض رسمی حاضری نہیں بلکہ دلجوئی، غمگساری اور عملی تعاون ہے، اور اسی میں اسلامی معاشرت کی اصل روح پوشیدہ ہے۔

معاشرتی رسومات اور بے جا تکلفات

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، جب دینی شعور میں کمی اور معاشرتی رسم و رواج کا غلبہ بڑھا، تو اس پاکیزہ نظام میں ایسی چیزیں داخل ہو گئیں جن کا نہ قرآن و سنت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ اسلامیج کے مطابق ہیں۔ خصوصاً برصغیر کے بعض معاشروں میں “تیجہ”، “چالیسواں” اور اس نوع کی دیگر تقریبات نے ایک مستقل اور لازمی حیثیت اختیار کر لی ہے۔

ان مواقع پر جس طرح دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، لوگوں کو بلایا جاتا ہے، اور بعض اوقات اسے سماجی وقار یا عزت کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے، وہ نہ صرف اصل سنت کے خلاف ہے بلکہ اس میں کئی دینی اور اخلاقی خرابیاں بھی جمع ہو گئی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان رسومات میں شرکت نہ کرے تو اسے برا سمجھا جاتا ہے، اس سے ناراضگی اختیار کی جاتی ہے، اور بعض اوقات تعلقات تک منقطع کر دیے جاتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

سنتِ نبوی ﷺ اور عملی ہمدردی

شریعتِ مطہرہ کا مزاج اس بارے میں نہایت واضح اور دو ٹوک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مصیبت زدہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کو محض زبانی تسلی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عملی تعاون کی شکل دی۔ چنانچہ حضرت عبدالله بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ:
"جعفرؓ کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ وہ ایسی مصیبت میں مبتلا ہیں جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔"

یہ ایک مختصر مگر جامع ہدایت ہے، جس میں اسلامی معاشرت کا ایک سنہری اصول مضمر ہے کہ غم کے موقع پر بوجھ کم کیا جائے، نہ کہ اس میں اضافہ کیا جائے۔

شریعت کا مزاج: سہولت یا بوجھ؟

قرآنِ کریم نے بھی اسی اصول کو ایک عمومی قاعدے کی شکل میں بیان فرمایا کہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی گئی۔ گویا شریعت کا پورا مزاج سہولت، ہمدردی اور باہمی تعاون پر قائم ہے۔

اس تناظر میں اگر ہم موجودہ رسومات کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان میں نہ تو سہولت ہے، نہ تعاون، بلکہ اکثر اوقات یہ غمزدہ خاندان کے لیے ایک اضافی بوجھ بن جاتی ہیں۔ انہیں کھانے پکانے، مہمان نوازی کرنے اور سماجی توقعات کو پورا کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ خود اس حالت میں ہوتے ہیں کہ انہیں دوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

صحابۂ کرام کا طرزِ عمل

صحابۂ کرام، جو شریعت کے سب سے بہتر فہم رکھنے والے تھے، انہوں نے اس مسئلے میں جو طرزِ عمل اختیار کیا وہ ہمارے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول اس سلسلے میں نہایت اہم ہے کہ:
"ہم (صحابہ کرام) میت کے گھر جمع ہونے اور وہاں کھانا کھانے کو نوحہ (یعنی حرام ماتم) میں شمار کرتے تھے۔"

اس ایک جملے میں اس پورے مسئلے کی حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ جس چیز کو آج ہم ثواب اور رسمِ وفا سمجھ کر ادا کر رہے ہیں، اسے صحابہ کرامؓ ناپسندیدہ بلکہ ممنوع طرزِ عمل سمجھتے تھے۔

ائمہ و فقہاء کا موقف

بعد کے ادوار میں آنے والے ائمہ و فقہاء نے بھی اسی موقف کی تائید کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر لکھا کہ میت کے گھر والوں کے لیے کھانا بھیجنا مستحب ہے، جبکہ ان کی طرف سے دعوتوں کا اہتمام کرنا مکروہ اور بعض صورتوں میں بدعت ہے۔ “تیجہ” اور “چالیسواں” جیسی رسومات نہ عہدِ نبوی میں موجود تھیں، نہ عہدِ صحابہ میں، اور نہ ہی ائمہ مجتہدین نے انہیں دین کا حصہ قرار دیا۔ اس کے باوجود اگر انہیں دین کا رنگ دیا جائے یا ان کی پابندی کو لازم سمجھا جائے تو یہ ایک سنگین دینی غلطی ہے۔

رسومات ترک کرنے والوں سے قطع تعلق

مزید افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان رسومات کو ترک کرنے والوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا جاتا ہے، وہ خود شریعت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی مسلمان سے محض اس بنیاد پر ناراض ہو جانا، اس سے تعلق توڑ لینا یا اسے معاشرتی طور پر الگ کر دینا کہ اس نے ایک غیر ثابت شدہ رسم میں شرکت نہیں کی، نہایت خطرناک طرزِ عمل ہے۔

نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔ اس تعلیم کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل غلطی رسم چھوڑنے والے کی نہیں بلکہ اس پر ناراض ہونے والے کی ہے۔

اصلاحِ معاشرہ کی ضرورت

اس پورے مسئلے کا حل محض تنقید یا الزام تراشی میں نہیں بلکہ سنجیدہ علمی بیداری اور حکیمانہ دعوت میں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شریعت کے اصل مزاج کو سمجھیں، سنتِ نبویہ کو عام کریں، اور معاشرے میں ایسی اصلاحی فضا پیدا کریں جس میں سادگی، ہمدردی اور اخلاص کو فروغ حاصل ہو۔ لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ تعزیت کا مقصد دکھاوا نہیں بلکہ دلجوئی ہے، اور اس میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ غمزدہ خاندان کے بوجھ کو کم کیا جائے، نہ کہ اسے بڑھایا جائے۔

آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ دین کی اصل خوبصورتی اس کی سادگی اور فطری پن میں ہے۔ جب ہم اس میں غیر ضروری رسومات اور خود ساختہ طریقے شامل کر دیتے ہیں تو نہ صرف اس کی اصل روح متاثر ہوتی ہے بلکہ ہم خود بھی بے جا تکلفات اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں، اور ہر اس عمل سے بچیں جس کی بنیاد محض روایت، رسم یا معاشرتی دباؤ ہو، نہ کہ شریعت کی دلیل۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اعتدال، سکون اور حقیقی دینی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!