| عنوان: | مدارس میں ماہر و باصلاحیت مدرسین کی کمی |
|---|---|
| تحریر: | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
امتِ مسلمہ کی علمی تاریخ کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ اس امت کی اصل طاقت نہ اس کی ظاہری وسعت میں رہی ہے اور نہ محض اس کے اداروں کی کثرت میں، بلکہ اس کی حقیقی قوت ہمیشہ اس کے علمی سرمائے اور اس سرمائے کے امین افراد میں مضمر رہی ہے۔ یہی وہ افراد تھے جنہوں نے علم کو صرف محفوظ نہیں رکھا بلکہ اسے زندہ رکھا، اسے منتقل کیا، اس کی تشریح کی، اس پر اضافہ کیا اور ہر دور کے فکری و تہذیبی چیلنجز کے مقابل اسے ایک مضبوط حصار بنا کر پیش کیا۔ دینی مدارس اسی علمی روایت کے وہ روشن مراکز رہے ہیں جہاں علم کتابوں کی سطروں میں مقید نہیں رہا بلکہ سینوں میں منتقل ہوا، کرداروں میں ڈھلا اور معاشروں کی تشکیل کا ذریعہ بنا۔ ان اداروں کی اصل روح نہ ان کی عمارتیں تھیں، نہ نصاب کی ضخامت، بلکہ وہ باکمال اساتذہ تھے جو علم کے ساتھ اخلاص، بصیرت اور فکری گہرائی کا حسین امتزاج رکھتے تھے۔ مگر آج اسی مضبوط اور درخشاں روایت کے اندر ایک ایسا خاموش بحران جنم لے رہا ہے جو بظاہر فوری طور پر محسوس نہیں ہوتا لیکن اپنی نوعیت اور اثرات کے اعتبار سے نہایت سنگین ہے۔ اور وہ بحران ہے ماہر، باصلاحیت، صاحبِ نظر اور فن پر عبور رکھنے والے مدرسین کی کمی کا بڑھتا ہوا رجحان، جو اگر اسی طرح نظر انداز ہوتا رہا تو آنے والے وقت میں دینی مدارس کی فکری سمت، علمی معیار اور قیادی حیثیت سب کچھ متاثر ہو سکتا ہے۔
تقرریوں کا معیار: اہلیت یا مصلحت؟
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کا دار و مدار اس کے اساتذہ پر ہوتا ہے، اور اسلامی روایت میں تو استاد کا مقام محض ایک معلم کا نہیں بلکہ ایک مربی، ایک رہنما اور ایک امینِ علم کا رہا ہے۔ چنانچہ اکابرین نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مدرس کو محض ایک ملازم کے درجے میں نہ دیکھا جائے بلکہ اسے اس علمی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھا جائے جو نسل در نسل منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن موجودہ صورتِ حال میں یہ توازن بگڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آج بہت سے اداروں میں تقرریوں کا معیار علمی اہلیت اور فکری پختگی کے بجائے ذاتی تعلقات، گروہی وابستگیوں اور وقتی مصلحتوں پر مبنی ہو گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ افراد آگے آ جاتے ہیں جو بظاہر نظام کو چلا تو لیتے ہیں لیکن اس میں کوئی علمی روح اور تحقیقی جان پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جبکہ وہ لوگ جو واقعی علمی گہرائی اور تحقیقی بصیرت کے حامل ہوتے ہیں، یا تو نظر انداز کر دیے جاتے ہیں یا خود اس ماحول سے بددل ہو کر کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں، اور یوں ایک ایسا خلا پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
معاشی مسائل اور ذہنی یکسوئی کا فقدان
اسی کے ساتھ ایک اور اہم اور حساس پہلو معاشی مسائل کا ہے، جسے نظر انداز کرنا اس پورے مسئلے کو سطحی انداز میں دیکھنے کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ جب ایک مدرس اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی فکر مند ہو، جب اس کی علمی محنت کا صلہ اس کی عزتِ نفس کے مطابق نہ ہو، جب اسے وہ معاشی استحکام حاصل نہ ہو جو اسے یکسوئی کے ساتھ علمی کام کرنے کے قابل بنا سکے، تو ایسے حالات میں اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہمہ وقت مطالعہ، تحقیق اور تدریس میں مصروف رہے گا، ایک غیر حقیقی مطالبہ معلوم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے باصلاحیت مدرسین تدریس کے ساتھ دیگر معاشی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی توجہ تقسیم ہو جاتی ہے، ذہنی یکسوئی متاثر ہوتی ہے اور وہ علمی گہرائی پیدا نہیں ہو پاتی جو ایک بڑے عالم کی پہچان ہوتی ہے۔ یوں علم کا وہ درجہ جو کبھی فکر و بصیرت کی بلندیوں تک پہنچتا تھا، رفتہ رفتہ ایک رسمی ادائیگی میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
مطالعے کے رجحانات میں تبدیلی
مزید برآں موجودہ دور میں مطالعہ کے رجحانات میں جو تبدیلی آئی ہے وہ بھی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ ماضی کے علماء کی زندگیوں میں کتاب ایک مستقل رفیق کی حیثیت رکھتی تھی، گھنٹوں بلکہ دنوں اور مہینوں تک جاری رہنے والا عمیق مطالعہ ہی ان کی علمی عظمت کا راز تھا۔ مگر آج کے ماحول میں جہاں فوری معلومات، مختصر مواد اور ڈیجیٹل مصروفیات نے جگہ بنا لی ہے، وہاں گہرائی کے ساتھ پڑھنے، غور کرنے اور تحقیق کرنے کا مزاج کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اور جب ایک مدرس خود اس مزاج سے دور ہو جائے تو اس کے اثرات براہِ راست اس کے طلبہ پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ایک ایسی نسل تیار ہونے لگتی ہے جس کے پاس معلومات تو ہوتی ہیں مگر وہ فکری پختگی اور تحقیقی بصیرت نہیں ہوتی جو اسے ایک حقیقی عالم بنا سکے۔
ہمہ گیر فکری بحران کا خطرہ
ان تمام عوامل کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ مسئلہ محض چند افراد کی کمی کا نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری بحران کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جس کے اثرات تدریس کے معیار سے لے کر تحقیق کے ذوق تک اور اداروں کی روح سے لے کر امت کی فکری قیادت تک ہر سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں جب مدارس اپنی ظاہری شکل و صورت کے ساتھ باقی تو رہیں گے مگر ان کے اندر وہ علمی روح اور فکری توانائی باقی نہیں رہے گی جو انہیں تاریخ میں ممتاز بناتی رہی ہے۔
وقت کا تقاضا اور عملی تجاویز
لہٰذا اس صورتِ حال کا تقاضا یہ ہے کہ اس مسئلے کو وقتی یا جزوی حلوں کے بجائے ایک جامع اور سنجیدہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے:
- شفافیت اور اہلیت: تقرریوں کے نظام میں شفافیت اور اہلیت کو بنیادی معیار بنایا جائے۔
- معاشی استحکام: مدرسین کو ایسا باوقار ماحول اور مناسب معاشی استحکام فراہم کیا جائے جو انہیں یکسوئی کے ساتھ علمی کام کرنے کے قابل بنائے۔
- علمی و تحقیقی ماحول: اداروں کے اندر ایسا علمی ماحول پیدا کیا جائے جہاں مطالعہ، تحقیق اور تنقیدی فکر کو فروغ حاصل ہو۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ایک مضبوط تعلیمی نظام صرف عمارتوں، نصابوں یا نظم و ضبط سے قائم نہیں ہوتا بلکہ ان افراد سے قائم ہوتا ہے جو اس نظام کو اپنی فکر، اپنے اخلاص اور اپنی علمی صلاحیتوں سے زندہ رکھتے ہیں۔
ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ
آخر میں یہ سوال ہم سب کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے کہ: کیا ہم واقعی علم کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ رکھنا چاہتے ہیں یا ہم صرف اداروں کی ظاہری بقا پر مطمئن ہیں؟ کیا ہمیں ایسے علماء درکار ہیں جو زمانے کی فکری رہنمائی کر سکیں یا صرف ایسے افراد جو رسمی طور پر تدریسی ذمہ داریاں ادا کر دیں؟
کیونکہ اگر ہم نے اس بنیادی فرق کو نہ سمجھا تو وہ خلا جو آج آہستہ آہستہ پیدا ہو رہا ہے کل ایک ناقابلِ تلافی بحران کی صورت اختیار کر لے گا، اور اس وقت شاید ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فہم، اخلاص اور دور اندیشی عطا فرمائے اور ہمارے دینی اداروں کو حقیقی معنوں میں علم و تحقیق کا گہوارہ بنائے۔ (آمین)
