Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اردو تراجم قرآن کو دوسری عجمی زبانوں کے رسم الخط میں لکھنے کا حکم (قسط: دوم)|مولانا محمد اختر کمال قادری

اردو تراجم قرآن کو دوسری عجمی زبانوں کے رسم الخط میں لکھنے کا حکم (قسط: دوم)
عنوان: اردو تراجم قرآن کو دوسری عجمی زبانوں کے رسم الخط میں لکھنے کا حکم (قسط: دوم)
تحریر: مولانا محمد اختر کمال قادری
پیش کش: محمد کوثر العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

دوسرا سوال

کیا ہندی میں خاص خاص حروف کے نیچے نقطے رکھنا یا انگریزی میں کچھ حروف کے ساتھ H بڑھا دینا یا گجراتی میں اسی طرح کا کوئی سسٹم جاری کر دینا انہیں عربی کے متعلقہ حروف کے ہم مخرج بنا دے گا، یا کم از کم ان حروف کے مخارج و صفات کی نشان دہی کے لیے کافی ہوگا اور تحریف کا ارتکاب لازم نہیں آئے گا؟

سوال (2) کے جواب میں بھی مندوبین حضرات تین مختلف رائے رکھتے ہیں، زیادہ تر مندوبین کا خیال ہے کہ قریب الصوت حروف کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنے کے لیے ہندی کے متبادل حروف کے ساتھ H وغیرہ بڑھا کر مروجہ علامت مفید ہیں اور عربی کے متعلقہ حروف کے مخارج و صفات کی نشان دہی کے لیے کافی ہیں، اور تحریف کا ارتکاب لازم نہیں آئے گا۔

مولانا محمد ناظم علی رضوی مصباحی، اشرفیہ، مبارک پور اپنے مقالے میں لکھتے ہیں: ہر زبان کے الگ الگ احکام ہوتے ہیں اس لیے اگر یہ علامات و امارات خاص حروف کی نشان دہی کے لیے ہوں تو ضرور وہی لفظ مراد ہوں گے اور اس علامت کے ذریعہ عربی، اردو، فارسی کا خاص وہی لفظ مراد ہوگا جیسا کہ انگریزی حروف کے ذریعہ عربی، اردو اور فارسی کے تمام مشترکہ حروف کی تحریر و کتابت اس کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ اور زبان و رسم کے اختلاف سے عربی و فارسی و اردو کا رسمِ خط متاثر نہیں ہوتا، مثلاً انگریزی میں ایک حرف T ہے، اس سے “تا” اور “طا” خاص علامتوں کے ذریعہ لکھتے ہیں، اگر اہلِ زبان اس رعایت و موافقت کی طرف متوجہ ہوں تو یہ موافقت ہو سکتی ہے اور اختلاف بالکل جاتا رہے گا۔۔۔ یہ کام ہمارا ہے، ظاہر ہے کہ عربی، فارسی و اردو ہم لوگ پڑھتے پڑھاتے ہیں، یہ موافقت ہم نہ کریں گے تو کیا کوئی خالص ہندی و انگریزی کا ماسٹر کرے گا، ان رموز و اشارات کے ذریعہ ہندی، گجراتی وغیرہ زبانوں میں بھی کوشش کریں تو یہ موافقت ہو سکتی ہے، رہا تحریف و تبدیل کا معاملہ تو میرے نزدیک یہ حقیقتاً تحریف نہیں جبکہ ان الفاظ سے ان کے حقیقی معانی ملحوظ و معتبر ہوں۔ [مقالہ، ص: 66/65]

مولانا مسیح احمد قادری، بلرام پور نے انگلش ڈکشنری مطبوعہ اردو اکیڈمی، لکھنؤ کے حوالے سے عربی حروف کے متبادل انگریزی حروف کا ایک مختصر چارٹ پیش کیا ہے، جو مفید ہے:

اردو/عربی حرف انگریزی متبادل اردو/عربی حرف انگریزی متبادل اردو/عربی حرف انگریزی متبادل
ث ص شSH
سS ظ ض
ذŻ زZ ح
ہH ق کK
غGH گG

مفتی ابرار احمد اعظمی، جلال پور کا خیال ہے کہ اردو زبان کے قریب الصوت حروف کے متبادل انگلش زبان کے حروف کا استعمال یہ ایک جدید اصطلاح ہے، اس میں عرف و تعامل پایا جاتا ہے، اس میں کوئی تصحیف و تحریف نہیں، اس پر انہوں نے درِ مختار کتاب النکاح کی ایک عبارت سے استدلال کیا ہے، لکھتے ہیں:

“آمد بر سرِ مطلب: اس تداول و تعامل سے مستفاد ہوتا ہے کہ اردو زبان کے قریب الصوت حروف مثلاً ہمزہ اور عین کو انگلش زبان کے حرف A کا بدل قرار دینا، ثا، سین، اور صاد کو S کا متبادل ٹھہرانا، “تا” اور “طا” کی آواز پیدا کرنے کے لیے T کا استعمال کرنا، ذال، زاء اور ظا کو حرف Z کا بدل قرار دینا تصحیف و تحریف کے قبیل سے نہیں بلکہ یہ ایک عرفِ عملی اور عوام و خواص کی ایک اصطلاحِ جدید ہے، وَلَا مُنَاقَشَةَ فِي الِاصْطِلَاحِ۔

نظیر مسئلہ: انعقادِ نکاح کے لفظوں میں سے ایک لفظ “تَزَوَّجْتُ” ہے، اب اگر کوئی شخص زا کو جیم سے اور جیم کو زا سے بدل کر “تَجَوَّزْتُ” کہے تو علامہ ابو السعود کے فتوے کے مطابق اس تحریف شدہ اور بہ اعتبارِ محل بے معنی لفظ سے نکاح منعقد نہ ہوگا، ہاں اگر کوئی قوم زاء کو جیم اور جیم کو زاء کا بدل ٹھہراتے ہوئے اس تَجَوَّزْتُ پر اتفاق کر لے تو علامہ ابو السعود کے نزدیک بھی اس لفظ سے نکاح ہو جائے گا۔ کیونکہ اب “تَجَوَّزْتُ” کے لفظ کو تحریف سے خارج مان کر اسے ایک اصطلاحِ جدید مانا جائے گا، درمختار کتاب النکاح میں ہے:

لَا يَصِحُّ بِلَفْظِ إِجَارَةٍ وَإِعَارَةٍ وَوَصِيَّةٍ وَأَلْفَاظٍ مُصَحَّفَةٍ كَتَجَوَّزْتُ لِصُدُورِهِ لَا عَنْ قَصْدٍ بَلْ عَنْ تَحْرِيفٍ وَتَصْحِيفٍ فَلَمْ تَكُنْ حَقِيقَةً وَلَا مَجَازًا لِعَدَمِ الْعَلَاقَةِ بَلْ غَلَطًا فَلَا اعْتِبَارَ بِهِ أَصْلًا. تَلْوِيحٌ: نَعَمْ لَوْ اتَّفَقَ قَوْمٌ عَلَى النُّطْقِ بِهَذِهِ الْغَلْطَةِ وَصَدَرَتْ عَنْ قَصْدٍ كَانَ ذَلِكَ وَضْعًا جَدِيدًا فَيَصِحُّ بِهِ أَفْتَى أَبُو السُّعُودِ. [رد المحتار، ج: 9، ص: 2 و 3] [مقالہ، ص: 44/1]

تقریباً تمام مندوبین اس بات پر متفق ہیں کہ عربی زبان کے کلمات کو ہندی یا انگریزی وغیرہ دوسری عجمی زبانوں کے حروف میں بدلنے سے تحریف کا التزام نہیں۔

مولانا محمد ناصر حسین مصباحی لکھتے ہیں:

بعض علاقوں میں زیادہ تر لوگوں کی تعداد ایسی ہوتی ہے جو اردو زبان سمجھتے ہیں مگر اردو رسم الخط سے بالکل ناآشنا ہوتے ہیں، ایسے علاقوں میں دینی مسائل اور شرعی علوم کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لیے ہندی یا انگریزی یا کسی اور عجمی زبان کے رسم الخط کا سہارا لینے کی ضرورت پڑتی ہے، لہٰذا ایسے علاقوں کے لیے اردو تراجمِ قرآن کو دوسری عجمی زبانوں کے رسم الخط میں منتقل کرنا جائز ہونا چاہیے۔ اور ان سب کے باوجود یہ کام تحریف کے قبیل سے نہ ہوگا، ورنہ عربی بولنے اور لکھنے والے تحریف کے سب سے بڑے مرتکب ہوں گے کہ وہ لوگ پ، ٹ، چ، ڈ، ڑ، کو ب، ت، ج، دال اور را سے بدل دیتے ہیں اور عجمی لوگ بھی ان کی روش پر ایسا ہی کرتے ہیں، لیکن کوئی بھی ان کے اس فعل کو تحریف نہیں کہتا، بلکہ تعریف کی جاتی ہے کہ عربی بول رہا ہے۔۔۔۔ اسی طرح اردو بولتے وقت لفظ صبر اور ثنا جیسے میں عربی مخارج و صفات کا لحاظ نہ کرنا بھی تحریف کے قبیل سے نہیں ہے، کیونکہ اردو میں عوام و خواص کا اس پر عمل ہے اور مخارج کے اختلاف سے کوئی دوسرا معنی مراد نہیں لیا جاتا، ہاں! تحریف اس وقت ہوتی جب غلط تلفظ کر کے غلط معنی مراد لیا جاتا ہے۔

مولانا خالد ایوب صاحب اسے تحریف قرار دیتے ہوئے کارِ خیر اور حق کی توسیع کی خاطر اسے جرم قرار نہیں دیتے کہ اس میں بہت سارے لوگوں کی تاثیم کا سبب ہے کہ ایسے لوگ اب کم نہیں رہ گئے بلکہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں، ایسے پورے طبقے کو بیک جنبشِ قلم نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ [مقالہ، ص: 4-5]

مولانا زاہد علی سلامی صاحب نے ٹیلی گرام کے قدیم طرز سے مذکورہ وضعِ علامات سے تحریف لازم نہ آنے پر استدلال کیا ہے، لکھتے ہیں:

آج سے کوئی پچیس تیس سال پہلے تک بعجلت پیغام رسانی کے لیے ڈاک خانوں میں تار (Telegram) کا عام رواج تھا، جبکہ اس مشین کے ذریعہ کلمات و حروف کی ادائیگی اور ان کی افہام و تفہیم اس شعبے کے ماہرین کے علاوہ کسی اور کے لیے سخت دشوار کیا، ناممکن تھی، کیسے ہی خالص عربی کے کلمات و حروف ہوں، مشین سے صرف ٹن ٹن ہی کی آواز سننے میں آتی تھی، پھر اس سے ماخوذ پیغام کو پوسٹ ماسٹر رومن انگریزی یا رومن ہندی میں لکھ کر مرسل الیہ کو بھیج دیا کرتا تھا، اس قدر لفظی و معنوی تحریف اور توڑ مروڑ کے باوجود بلا نکیر علما و عوام سب میں یہ برقی تار کا سلسلہ رائج رہا، سوال نامے میں جس قدر کلمات بطور مثال پیش کیے گئے ہیں، مثلاً السلام علیکم، اسمِ جلالت، رحمن، رحیم، عبدالرحمن، عبدالرحیم، عبداللہ، رضی اللہ، انشاء اللہ، وغیرہ یہ تمام کے تمام عربی کلمات اسی مذکورہ طریقے “تار” انگریزی رومن یا ہندی رومن میں استعمال ہوتے تھے، مگر علما و فقہا نے اس سے نہ کبھی منع فرمایا اور نہ ہی کبھی اظہارِ بیزاری کیا۔

مولانا رضاء الحق اشرفی مصباحی کے نزدیک ہندی اور انگریزی حروف کے ساتھ علامات کی وضع، مخارج کا کچھ علم رکھنے والوں کے لیے مفید ہے، پھر بھی تنبیہ و اشارہ کے لیے بے فائدہ بھی نہیں ہے، لکھتے ہیں:

بعض لوگ عربی حروف لکھنا پڑھنا نہیں جانتے لیکن جو الفاظ اردو زبان میں عام بول چال میں استعمال ہوتے ہیں، لوگوں سے سن کر انہیں ان کے معروف مخارج کے ساتھ ادا کرتے ہیں، حالانکہ ان حروف کے مخارج کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ جواب نہیں دے سکیں گے، لیکن وہ انہیں اردو میں معروف و مستعمل مخارج کے ساتھ ادا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے عربی، اردو، فارسی زبان کے مشترک حروف کو دوسری زبان کے رسم الخط میں لکھنے میں “علاماتِ امتیاز” لگانے کی ضرورت نہیں مثلاً لفظ ضرورت کو ہندی میں “जरूरत”۔ “ज” کے نیچے نقطہ دیے بغیر لکھا جائے تو بھی ایسے لوگ اسے “ج” کے تلفظ کے ساتھ “جرورت” نہیں پڑھیں گے، کیونکہ عام بول چال میں ان کی زبان پر “ضرورت” اردو میں معروف تلفظ کے ساتھ جاری ہے، لہٰذا ان کے لیے “जरूरत” لکھنے میں “ज” کے نیچے نقطہ لگانا ضروری نہیں، ہاں نقطہ لگانا تنبیہ و اشارہ کے لیے لغو و بے فائدہ نہ ہوگا، لیکن ایک عام اردو، ہندی پڑھا لکھا آدمی جو عربی و اردو حروف کو ان کے مخارج کے ساتھ ادا کرنا نہیں جانتا، وہ “ضرورت” کو “جرورت” اور “حالت” کو “ہالت” ہی پڑھے گا خواہ اس کو اردو میں لکھا جائے یا ہندی میں۔ حاصلِ کلام یہ کہ اردو تراجمِ قرآن کو ہندی رسم الخط یا رومن میں لکھنا جائز نہیں۔ اسے مترجم کے ترجمے میں تحریف نہیں کہا جا سکتا، یہ نہ لفظاً تحریف ہے، نہ معنیٰ۔ [مقالہ، ص: 22/2]

ہمارے کچھ مندوبین کے نزدیک یہ علامتیں بے کار ہیں۔

مولانا سلیمان مصباحی کے نزدیک ہندی و انگریزی حروف کے ساتھ علامات کا تقرر ایک لاحاصل عمل اور غلط ہے، جن زبانوں میں مخارج کے لیے کوئی خاص علامت مقرر نہیں، ان زبانوں میں اگر کوئی شخص اپنی طرف سے مخارج کے لیے علامت مقرر کر دے تو یہ نہ صرف لاحاصل عمل ہوگا، بلکہ اس زبان کے ماہرین کے نزدیک وہ علامت غلط قرار پائے گی، اس لیے ناچیز راقم الحروف کا رجحان یہ ہے کہ بغیر کوئی علامت و نشان دہی کے اردو تراجمِ قرآن کو دوسری عجمی زبانوں کے رسم الخط میں لکھنے کا جواز ہونا چاہیے۔ [مقالہ، ص: 26/1]

ایسی صورت میں تحریف لازم آئے گی یا نہیں اس کا کوئی ذکر نہیں۔

مفتی شہاب الدین نوری، براؤں شریف کی اس سلسلے میں سب سے الگ رائے ہے، لکھتے ہیں:

“عربی حروف کے مخارج و صفات کی تعیین کے لیے اگر ہندی وغیرہ میں کچھ علامتیں اور خاص خاص حروف کے نیچے نقطے رکھ دینا یا کسی بھی طرح کی کچھ علامتیں خاص کر لی جائیں جس سے ممکن حد تک قراءت اور تحریف کی غلطیوں سے بچا جا سکے یہ بڑا دشوار امر ہے جو کارے دارد کیونکہ عربی، فارسی، اردو کے بہت سارے ایسے حروف ہیں جن کا بدل گجراتی، ہندی، انگریزی زبان میں موجود نہیں ہے جیسے ح، ص، ض، ط، ظ، ع، غ، ق وغیرہ، تو یہ ایسے حروف ہیں کہ ان کے مخارج و صفات کو ہندی، انگریزی، گجراتی کے حروف سے بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، نہ تحریر میں، نہ تلفظ میں، مثلاً عبد الحنان، عبد الخالق، عبد الحی، عبد الصمد، تو اگر ان اسما کو انگریزی، ہندی، یا کسی بھی عجمی زبان میں لکھنا ہو جن کے یہاں عربی، فارسی، اردو کے وہ حروف جن کے بدلے میں ان کے یہاں کوئی حرف نہیں ہے تو لا محالہ وہ اپنی زبانوں میں لکھیں گے اور جب ان کے یہاں ان حروف کے مخارج و صفت کا کوئی بدل نہیں ہے تو یقیناً غلط ہوگا اور جب غلط ہوگا تو معنی ضرور تبدیل ہوگا اور جب معنی تبدیل ہوگا تو یہ طے ہے کہ تحریف سے خالی نہ ہوگا۔” [مقالہ، ص: 28/1]

ہمارے کچھ مندوبین نے اردو سے ہندی چارٹ کو ناکافی کہا ہے اور مشورہ دیا ہے کہ اس سے متعلق ایک جامع مضبوط لائحہ عمل مرتب کیا جائے پھر اس کی تعلیم و تربیت دی جائے تاکہ اس کا فائدہ عام و تام ہو۔

تیسرا سوال

ان کے سوا کوئی شرعی حل آپ کی نگاہ میں ہے تو اسے بھی بیان فرمائیں۔

بہت سے مندوبین نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے، کئی لوگوں نے لکھا ہے کہ اردو تراجمِ قرآن وغیرہ کو دوسری عجمی زبانوں کے رسم الخط میں لکھنا دینی ضرورت اور ایک اہم دینی تقاضا ہے، کچھ لوگوں نے ضروری دینی تعلیم کو اسلامی زبانوں ہی میں حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

مفتی انفاس الحسن چشتی صاحب لکھتے ہیں:

ہندی اور رومن میں جو نقطے رکھنے اور H کے اضافے کا جو رواج ہے اس سے حروف کے درمیان ایک حد تک امتیاز ہو جاتا ہے، لیکن اب تک رائج شدہ نقطے اور H کا اضافہ سارے حروف کے درمیان امتیاز کے لیے کافی نہیں ہے، اس لیے کہ ضاد، ذال اور زا کو ج سے ممتاز کرنے کے لیے اس کے ہندی متبادل ج کے نیچے نقطہ رکھ دیتے ہیں اس طرح ج، ضاد، ذال اور زا سے ممتاز تو ہو جاتا ہے، لیکن ضاد، ذال، زاء آپس میں ممتاز نہیں ہو پاتے، اسی طرح رومن میں “خ” کا متبادل KH اور یہی “کھ” کا بھی متبادل ہے، یہاں “خ” اور “کھ” میں امتیاز کے لیے کوئی طریقہ رائج نہیں ہے، لہٰذا مزید کچھ ایسی علامتیں متعین ہونی چاہئیں جن کے ذریعہ ہندی میں “ض، ذ، ز” یوں ہی “س” اور “ث” کے درمیان امتیاز ہو سکے اسی طرح رومن کے جو حروف آپس میں ممتاز نہیں ہو پاتے ہیں وہ بھی ممتاز ہو جائیں۔ [مقالہ، ص: 31/2]

مولانا مبشر رضا ازہر مصباحی اور مولانا اختر حسین فیضی مصباحی نے کچھ مزید علامتوں کا اضافہ کیا ہے:

  • ز کے لیے ज़ ایک نقطہ
  • ذ کے لیے ज़़ دو نقطے
  • ظ کے لیے ज़ لکیر اور اس کے نیچے ایک نقطہ
  • ض کے لیے ज़़ لکیر اور اس کے نیچے دو نقطے

[مقالہ مولانا اختر حسین فیضی، ص: 27/2]

“ث، ژ” کی تعبیر عجمی زبانوں میں جس حرف کے ذریعہ کرتے ہیں اس کے نیچے تین نقطے دیے جائیں، اسی طرح جن دو یا تین حرفوں کی تعبیر ایک ہی حرف سے ہوتی ہے، اس کے نیچے نقطے دیے جائیں، جو عربی حروف کے مخارج کی نشان دہی کریں، یوں ہی مد اور کھڑا زبر کے لیے بھی نشان وضع کریں۔ [مقالہ، ص: 11/3، مولانا مبشر رضا ازہر]

مولانا محمد نظام الدین قادری مصباحی لکھتے ہیں:

سوال نمبر 2 و 3 میں مذکورہ طریقِ کار سے مخارج و صفات کی نشان دہی کی جا سکتی ہے، اس کے لیے ایک تدبیر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کتاب کے آغاز میں مذکورہ طریقِ کار کا ایک چارٹ دے دیا جائے اور حروف کے مخرج کی نشان دہی کر دی جائے، ساتھ ہی کسی صحیح اردو خواں سے صحیح تلفظ کی مشق کرنے کا مشورہ بھی دے دیا جائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

تنقیح طلب امور

  • کیا واقعی اردو و فارسی زبانوں میں بعض حروفِ عربیہ کے مخارج بدل جاتے ہیں؟
  • تحریف کسے کہتے ہیں؟
  • ہندی و انگریزی حروف کی علامات کی توضیح و تعیین۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!