| عنوان: | اسلام کا دستور طلاق: ایک تجزیاتی مطالعہ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | صابر رضا رہبر مصباحی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
طلاق دینے کے طریقے: اگر مرد کو بیوی ناپسند ہو یا دونوں ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہوں اور ان کے درمیان صلح کی کوئی بھی امید نہ ہو تو وہ بجائے اس کے کہ مرد عورت کو اپنے نکاح میں رکھ کر اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرے اور دونوں اپنا سکون غارت کر کے زندگی جہنم بنا لیں، طلاق کے ذریعہ علیحدگی اختیار کر لینا زیادہ بہتر ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۖ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۗ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْـًٔا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۗ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ ۗ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ [سورۃ البقرۃ: 229]
ترجمہ: طلاق دو بار تک ہے، پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں کچھ واپس لے لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے، پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہی حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
اس آیتِ کریمہ میں دو چیزیں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ طلاقِ رجعی دو بار تک ہے اس کے بعد رجعت نہیں کر سکتے۔ دوسرا خلع کا بیان، یعنی اگر دونوں کو یہ خوف ہو کہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو مرد طلاق دے دے۔ اگر عورت مطالبہ کر رہی ہے تو مرد طلاق دینے کے بدلے عورت سے کچھ لے کر اس کو اپنے نکاح سے آزاد کر دے۔ بیوی کو ستانے کی نیت سے طلاق نہ دینا گناہ ہے۔ اسلام میں اس کی سخت ممانعت ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّلَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا ۚ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ [سورۃ البقرۃ: 231]
ترجمہ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آ لگے تو اس وقت بھلائی کے ساتھ روک لو یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دو اور انہیں ضرر دینے کے لیے نہ روکو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ زمانہ ماضی میں لوگ اپنی بیویوں کو ستانے کے لیے یہ طریقہ اپناتے تھے یعنی وہ اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دیتے اور جب عدت کی مدت قریب ہوتی تو وہ رجعت کر لیتے، چنانچہ اسلام نے اس طریقہ کو باطل قرار دیا۔
مرد کو خیارِ طلاق کے اسباب
اسلام میں طلاق دینے کا حق صرف مرد کو حاصل ہے، عورت کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے شوہر کو طلاق دے۔ مساوات کے کھوکھلے نعرے لگانے والے نا عاقبت اندیش لوگ اسلام کے اس دستور کو لے کر یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اسلام نے صرف مردوں کو طلاق کا حق دے کر عورتوں پر ظلم و ستم کا دروازہ کھول دیا ہے کہ مرد جب چاہے اس پر ظلم کرے اور اس کے ساتھ سوتیلا سلوک اختیار کرے۔ حالانکہ اسلام نے عورتوں کو حقِ طلاق نہ دے کر اسے خود اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کو جہنم بنانے سے بچایا ہے، جو عورتوں پر اسلام کا احسانِ عظیم ہے۔ مردوں کو طلاق کا اختیار کیوں دیا گیا، اس کی چند وجوہات ہیں:
شوہر اپنی بیوی کا مالک ہوتا ہے، اس کے نان و نفقہ کا سارا بوجھ اس کے سر ہوتا ہے۔ لہٰذا طلاق کا مالک وہی ہوگا اور یہ حق اسی کو ملنا چاہیے کہ وہ اپنی ملکیت سے کسی کو بے دخل کر دے۔
عورت میں غور و فکر اور سوچنے سمجھنے کا مادہ کم ہوتا ہے۔ وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام لیتی ہے۔ مشاہدات و تجربات سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ عورت کبھی کبھی معمولی باتوں پر طلاق کا مطالبہ کرنے لگتی ہے۔ بسا اوقات ایسی ایسی بات پر طلاق کا مطالبہ کر بیٹھتی ہے جس کو سن کر ایک انسان بے ساختہ ہنس پڑتا ہے۔
خلع اور اس کے احکام
خلع کی تعریف: مرد کی طرف سے کسی ایسے مال کے مقابلے میں جس پر زوجین کا اتفاق ہو گیا ہو، رشتۂ نکاح کو ختم کرنا خلع ہے۔ مثلاً شوہر کہے کہ میں تجھے اتنے مال کے بدلے طلاق دیتا ہوں اور بیوی اسے قبول کر لے یا بیوی شوہر سے کہے کہ حق مہر کے بدلے طلاق دے دو اور شوہر طلاق دے دے۔ [الدر المختار، ج: 2، ص: 466]
خلع کا حکم: خلع کرنے سے طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔ بیوی اگر شوہر کو ناپسند کرتی ہو اور اس کے ساتھ رہنا نہ چاہتی ہو تو شوہر کو کچھ مال دے کر طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ [سورۃ البقرۃ: 229]
ترجمہ: پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہی حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے۔
ایلا، ظہار اور لعان کے احکام
ایلا کی تعریف: چار ماہ یا اس سے زائد عرصہ کے لیے یا بلا تعیین مدت کے اپنی بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھا لینا۔ یا بیوی سے صحبت کرنے پر کسی ایسے کام کو اپنے اوپر لازم کر لینا جس کا ادا کرنا فی نفسہ مشکل ہو ”ایلا“ کہلاتا ہے۔ اگر شوہر نے ایلا کی مدت کے اندر بیوی سے صحبت نہ کی اور مدت گزر گئی تو طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔ [الدر المختار، ج: 2، ص: 497]
ظہار کی تعریف: مرد کا اپنی بیوی کے کسی ایسے جزِ ظاہر کو یا ایسے جز کو جس کو کل سے تعبیر کیا جاتا ہو، ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس مرد پر ہمیشہ کے لیے حرام ہے، یا ایسی عورت کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس عضو کی طرف اس مرد کو دیکھنا حرام ہے۔ ظہار سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے، بلکہ کفارہ واجب ہوتا ہے۔ [قانونِ شریعت، ج: 2، ص: 95]
لعان کی تعریف: مرد کا اپنی پاک دامن بیوی پر زنا کی تہمت لگانا ”لعان“ ہے۔ لعان کا طریقہ یہ ہے کہ قاضی کے سامنے پہلے شوہر قسم کے ساتھ چار مرتبہ شہادت دے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ ”مجھ پر خدا کی لعنت ہو اگر اس بات میں جھوٹا ہوں“۔ اور عورت چار بار کہے کہ ”میں گواہی دیتی ہوں خدا کی قسم کھا کر کہ اس نے جو مجھ پر زنا کی تہمت لگائی ہے اس بات میں وہ جھوٹا ہے“ اور پانچویں مرتبہ کہے کہ ”مجھ پر خدا کی لعنت ہو اگر یہ اس میں سچا ہے جو مجھے زنا کی تہمت لگائی۔“ اگر لعان ثابت ہو جائے تو قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کر دے گا اور یہ تفریق طلاقِ بائن کے حکم میں ہوگی۔ [الدر المختار، ج: 2، ص: 805]
