| عنوان: | اوصاف و کمالات اعلی حضرت (قسط:سوم) |
|---|---|
| تحریر: | نا معلوم |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے مثال قوتِ حافظہ سے نوازا تھا چنانچہ حضرت جناب سید ایوب علی صاحب علیہ الرحمہ کا بیان ہے:
“ایک روز اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ بعض ناواقف حضرات میرے نام کے آگے حافظ لکھ دیا کرتے ہیں، حالانکہ میں اس لقب کا اہل نہیں ہوں۔ سید ایوب علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اسی روز سے دور شروع کر دیا جس کا وقت غالباً عشاء کا وضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک مخصوص تھا۔ روزانہ ایک پارہ یاد فرما لیا کرتے تھے، یہاں تک کہ تیسویں روز تیسواں پارہ یاد فرما لیا۔ ایک موقع پر فرمایا کہ میں نے کلامِ پاک بالترتیب بکوشش یاد کر لیا اور یہ اس لیے کہ ان بندگانِ خدا کا (جو میرے نام کے آگے حافظ لکھ دیا کرتے ہیں) کہنا غلط ثابت نہ ہو”۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۱۲۹]
ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری (متوفی ۱۳۸۳ھ / ۱۹۶۲ء) تحریر فرماتے ہیں:
مولانا احسان حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ:
میں، امام احمد رضا کی ابتدائی تعلیمِ عربی میں ہم سبق رہا ہوں۔ شروع سے ان کی ذہانت کا یہ حال تھا کہ:
استاد سے کبھی، ربعِ کتاب سے زائد تعلیم نہیں حاصل کی۔ ایک ربعِ کتاب، استاد سے پڑھنے کے بعد، بقیہ پوری کتاب از خود پڑھ کر اور یاد کر کے، سنا دیا کرتے تھے۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۵۴]
اطاعتِ والدین
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی اطاعتِ والدین بھی بے مثال تھی۔ آپ نے ہمیشہ اُن کی اطاعت کی، یہاں تک کہ بعد از وصال اگر والدین نے خواب میں آکر کوئی حکم فرمایا تو آپ نے اُس کی بھی پیروی فرمائی۔ والدِ گرامی کے وصال کے بعد اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی والدہ محترمہ کی کس طرح اطاعت و دلجوئی فرمائی “حیاتِ اعلیٰ حضرت” کے درج ذیل اقتباس سے آپ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں چنانچہ علامہ ظفر الدین بہاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
جب اعلیٰ حضرت کے والد ماجد مولانا شاہ نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو آپ اپنے حصۂ جائیداد کے خود مالک تھے، مگر سب اختیار والدہ ماجدہ کے سپرد تھا۔ وہ پوری مالکہ و متصرفہ تھیں، جس طرح چاہتیں صرف کرتیں۔ جب آپ کو کتابوں کی خریداری کے لیے کسی غیر معمولی رقم کی ضرورت پڑتی تو والدہ ماجدہ کی خدمت میں درخواست کرتے، اور اپنی ضرورت ظاہر کرتے۔ جب وہ اجازت دیتیں اور درخواست منظور کرتیں تو کتابیں منگواتے تھے۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۷۴]
اعلیٰ حضرت کی والدہ کی اطاعت کا ایک عجیب منظر ملاحظہ کیجیے جس کا ذکر مولانا حسنین رضا خان رحمۃ اللہ علیہ یوں کرتے ہیں:
ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت قبلہ (اپنے صاحبزادے) حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان کو (جب کہ وہ چھوٹے بچے تھے) گھر کے ایک دالان میں پڑھانے بیٹھے، وہ پچھلا سبق سُن کر آگے سبق دیتے تھے پچھلا سبق جو سنا تو وہ یاد نہ تھا اس پر ان کو سزا دی۔ اعلیٰ حضرت کی والدہ محترمہ جو دوسرے دالان کے کسی گوشے میں تشریف فرما تھیں انہیں کسی طرح اس کی خبر ہو گئی وہ (اپنے پوتے) حضرت حجۃ الاسلام کو بہت چاہتی تھیں، غصہ میں بھری ہوئی آئیں اور اعلیٰ حضرت قبلہ کی پشت پر ایک دوہتّڑ (دونوں ہاتھوں سے مارنا) مارا اور فرمایا “تم میرے حامد کو مارتے ہو” اعلیٰ حضرت فوراً جھک کر کھڑے ہو گئے اور اپنی والدہ محترمہ سے عرض کیا کہ “اماں اور ماریے جب تک کہ آپ کا غصہ فرو نہ ہو”۔ یہ سننے کے بعد انہوں نے ایک دوہتّڑ اور مارا، اعلیٰ حضرت سر جھکائے کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ خود واپس تشریف لے گئیں۔ اس وقت تو جو غصہ میں ہونا تھا ہو گیا مگر بعد میں اس واقعہ کا ذکر جب بھی کرتیں تو آبدیدہ ہو کر فرماتیں کہ دوہتّڑ مارنے سے پہلے میرے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے کہ ایسے مطیع و فرماں بردار بیٹے کہ جس نے خود کو پٹنے کے لیے پیش کر دیا، دوسرا ہتّڑ کیسے مارا۔ افسوس۔ [سیرتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۹۷]
عاجزی و انکساری
اعلیٰ حضرت علم میں جبلِ شامخ تو تھے لیکن عاجزی و انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور ایسی جو قابلِ رشک ہے۔ چنانچہ ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری لکھتے ہیں:
“رمضان شریف میں بعد افطار صرف پان کھا لیتے اور سحری کے وقت ایک چھوٹے سے پیالے میں فیرنی تناول فرماتے۔ زمانۂ اعتکاف میں ایک دن ملازم بچہ دو گھنٹے کی تاخیر سے پان لے کر آیا۔ حضرت نے اس کو ایک چپت مار کر فرمایا: اتنی دیر میں لایا۔ اس ایک چپت مارنے پر انہیں رات بھر فکر رہی۔ آخر سحری کے وقت اسے بلوایا اور فرمایا کہ رات کو جو تاخیر ہوئی، اس میں تمہارا قصور نہ تھا۔ بھیجنے والے کی کوتاہی تھی۔ مجھ سے غلطی ہوئی کہ تمہیں چپت ماری۔ اب تم میرے سر پر چپت مارو۔ ٹوپی اتار کر اصرار فرماتے رہے۔ بچہ دم بخود کانپنے لگا۔ ہاتھ جوڑ کر عرض کیا: حضور! میں نے معاف کیا، فرمایا: تم نابالغ ہو۔ تمہیں معاف کرنے کا حق نہیں۔ چپت مارو! پھر اپنا بکس منگوا کر مٹھی بھر پیسے نکالے اور فرمایا: یہ پیسے تم کو دوں گا۔ تم چپت مارو۔ آخر خود اس کا ہاتھ پکڑ کر بہت سی چپتیں اپنے سر پر لگائیں اور پھر اسے پیسے دے کر رخصت کیا”۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۷۶]
تعظیمِ ساداتِ کرام
اعلیٰ حضرت ساداتِ کرام کی حد درجہ عزت و تکریم کیا کرتے اور کیوں نہ ہو کہ آپ ایک سچے عاشقِ رسول تھے اور ایک عاشق اپنے محبوب سے متعلق ہر چیز کو منظورِ نظر رکھتا ہے تو ساداتِ کرام تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خون ہی ہیں پھر ان سے الفت و محبت کیوں نہ ہو۔ دیکھیے محبتِ ساداتِ کرام کے جلوے، حیاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے:
فقیر (سید ایوب علی رضوی) اور برادرم سید قناعت علی کے بیعت ہونے پر بموقع عید الفطر بعد نماز دست بوسی کے لیے عوام نے ہجوم کیا، مگر جس وقت سید قناعت علی دست بوس ہوئے سیدی اعلیٰ حضرت نے اُن کے ہاتھ چوم لیے، یہ خائف ہوئے اور دیگر مقربانِ خاص سے تذکرہ کیا تو معلوم ہوا کہ آپ کا یہی معمول ہے کہ بموقع عیدین دورانِ مصافحہ سب سے پہلے جو سید صاحب مصافحہ کرتے ہیں۔ آپ اس کی دست بوسی فرمایا کرتے ہیں۔ غالباً آپ موجود ساداتِ کرام میں سب سے پہلے دست بوس ہوئے ہوں گے۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۱۱۳]
مزید جناب سید ایوب علی صاحب اعلیٰ حضرت کی محبتِ سادات کا ایک واقعہ یوں بیان کرتے ہیں:
حضور کے یہاں مجلسِ میلادِ مبارک میں ساداتِ کرام کو بہ نسبت اور لوگوں کے دوگنا حصہ بوقتِ تقسیمِ شیرینی ملا کرتا تھا اور اسی کا اتباع اہلِ خاندان بھی کرتے ہیں۔ [ایضاً، ص: ۱۱۵]
