| عنوان: | تصوف کی تعلیمات اور دہشت گردی کا سدِ باب |
|---|---|
| تحریر: | شاہ محمد انور علی سہیل فریدی |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اس وقت دنیا میں درجنوں دہشت گرد تنظیمیں ہیں، ان کو اسلحہ اور سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے؟ انھیں مرنے اور مارنے پر کون سے جذبات مجبور کر رہے ہیں؟ ان جرائم کا تعلق اسلام اور تصوف سے کتنا ہے؟ کیا شرعی طور پر ان خودکش حملوں اور دیگر جرائم کو جہاد کا نام دیا جا سکتا ہے؟
تصوف قدیم اور ابتدائے اسلام سے ہے، جب دنیا وجود میں آئی، تصوف بھی آیا، اپنے ساتھ نیک تعلیم، خدمتِ خلق اور حسنِ خلق کے اوصاف ساتھ لایا۔ تصوف کے پہلے صوفی و صافی ابو البشر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام ہیں، آپ کو تصوف کا اعلیٰ خطاب صفی اللہ عطا ہوا اور آدم صفی اللہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ پہلی صوفی خاتون صوفیہ و صافیہ حضرت بی بی حوا ہیں۔ زمانہ کروٹیں لیتا رہا، تبدیلیاں آتی گئیں، گردشِ ایام کے ساتھ تبدیلیاں ہوتی رہیں گی۔ اندازِ گفتگو اور طرزِ تحریر بدلتا رہے گا۔ تبدل و تغیر صرف فروغی افکار و خیالات میں ہوں گے، حقیقت اور اصلیت وہی رہے گی جو روزِ اول میں تھی۔ تہذیب و تمدن اور ماحول کے اثر سے اندازِ بیان، تحریر و تقریر میں تبدیلی آنا فطری ہے۔
تصوف، نیکی، احسان، شائستہ تہذیب، اچھی خصلت، نیک عادت، عمدہ تمدن، بڑے اور چھوٹے کا لحاظ، فرائض و سنن کی ادائیگی اور ادب کا نام ہے۔ تصوف کے مرکزی نقطۂ نظر میں حدیثِ احسان ہے۔ تعلیماتِ تصوف میں خلوصِ نیت کی خاص اہمیت ہے۔ اس کی تعلیم اللہ رب العزت نے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ اِنِّیْ اُومِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ
(سورہ زمر، آیت: 11، پ: 23)
"اے نبی! کہہ دیجیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں، خالص اُسی کا ہو کر۔"
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصوف کی تعلیم اپنے جاں نثار ساتھیوں یعنی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو دی، ان کی تعلیمات میں کامل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیماتِ تصوف کے لیے مسجدِ نبوی شریف میں الگ گوشہ کا انتخاب کیا، اس گوشۂ خاص میں صحابۂ کرام جمع ہوتے، ان کی مجلس ہوتی، اس مجلس میں پیارے نبی بنفسِ نفیس تشریف فرما ہوتے اور تصوف کی تعلیمات دیتے۔ یہ صحابۂ کرام "اصحابِ صفہ" کے نام سے مشہور ہوئے۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام سے وقت اور ضرورت کے مطابق پیارے اور سلیس انداز میں گفتگو فرماتے، تصوف کی تعلیم دیتے، کبھی قرآنِ پاک کی آیت تلاوت فرماتے، کبھی اپنے ارشاداتِ مبارک انھیں سناتے، اکثر اس حقیقت سے آگاہ کراتے کہ تم خدا کی بہترین مخلوق ہو اور تمام انسانیت کے فائدے اور بھلائی کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
(سورہ آل عمران، آیت: 110)
"تم سب سے بہترین امت ہو، جو تمام انسانیت کے فائدے کے لیے لائی گئی ہو۔"
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
وعظ و نصیحت کے درمیان پیارے ساتھیوں سے فرماتے کہ ساری مخلوق اللہ تبارک و تعالیٰ کا کنبہ ہے اور تم اس کنبہ کے افراد ہو، "اَلْخَلْقُ کُلُّہُمْ عِیَالُ اللہِ" اور تم کو بھلائیوں کا حکم دینے والا اور برائیوں سے روکنے والا بنایا گیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ
(سورہ آل عمران، آیت: 110)
"اے نبی! تم بھلائیوں کی طرف لوگوں کو بلاتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو۔"
مومن کی شان یہ ہے کہ اس کے ہاتھ پیر سے دوسرے محفوظ رہیں، اس کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور تمام انسانیت محفوظ رہے، "وَالْمُؤْمِنُ مَنْ اَمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی دِمَائِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ"۔ مخلوق کی بھلائی اور انسانی خدمت کی اہمیت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تمام انسانوں میں بہترین انسان وہ ہے جو انسانیت کو زیادہ فائدہ پہنچائے، اس کی زندگی کا نصب العین مخلوق کی بھلائی کرنا ہو، اس کے وجود سے جہاں والوں کو فائدہ پہنچے، "خَیْرُ النَّاسِ اَنْفَعُہُمْ لِلنَّاسِ" (الحديث)۔ خدمتِ خلق اور بھلائی کا کام کرنے والے کا اللہ کے نزدیک کتنا بلند مقام ہے اور وہ اللہ کا کس قدر پسندیدہ ہے، اس کے بارے میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک ارشاد ہے:
"اَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَی اللہِ مَنْ اَحْسَنَ اِلٰی عِیَالِہٖ"
اللہ کی مخلوق میں اللہ کو سب سے زیادہ پیارا اور محبوب وہ انسان ہے جو مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
ہمارا تصوف اسلامی ہے، اس سے انکار کی گنجائش نہیں، انکار وہی کرے گا جو نامسعود ہوگا۔ اس کی تعلیمات اسلامی ہیں، یہ وہ تعلیماتِ تصوف ہیں جو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اصحابِ صفہ کو مسجدِ نبوی کے گوشۂ خاص میں دیا کرتے تھے۔ زمانہ آگے بڑھتا گیا، تغیرات آتے گئے، سب سے بہتر زمانہ پیارے نبی اور آپ کے اصحاب کا تھا، اس کے بعد ان کا جو ان کے بعد ہوئے۔
اصحابِ رسول اللہ کے قلوب زمانۂ رسالت کی برکت اور صحبتِ رسول کی بنا پر مجلّٰى و مصفّٰى تھے، ان میں نورانیت بھری ہوئی تھی، نور کا عالم یہ تھا کہ جس نے ایمان کی نگاہ سے جی بھر دیکھ لیا نوری ہو گیا۔ تبع تابعین کے بعد صلحا، زہاد اور عباد و اصفیا کا دور آیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ فی زمانہ لوگ تعلیمِ تصوف سے دور ہو رہے ہیں، انھوں نے رشد و ہدایت اور تصوف کی طرف رغبت دلانے کے لیے باقاعدہ خانقاہوں کا اہتمام کیا اور خانقاہیں قائم کیں، اس میں تصوف کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور خانقاهی نظام کو رائج کیا۔ صوفیانہ نظام میں انھوں نے عقائد کی درستگی، فرائض و سنن کی پابندی کے بعد خدمتِ خلق، آپسی بھائی چارے اور پیار و محبت کو فوقیت دی تاکہ انسان تشدد سے پاک صاف رہے، انسان انسان سے محبت کرے اور نفرتیں دور ہوں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہولت اور آسانی پیدا کرنے اور نفرت دور کرنے کے لیے فرمایا ہے:
"یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا وَبَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا" (صحیح بخاری و مسلم)
یعنی سہولت اور آسانی پیدا کرو اور دقت و مشقت میں نہ ڈالو اور بشارت و خوش خبری دو اور نفرت و وحشت پیدا نہ کرو۔
مشائخِ کرام نے نورِ باطن سے عوام الناس کے قلوب میں نورانیت کی کمی کا مشاہدہ کیا، ان کا جھکاؤ دوسری طرف زیادہ پایا، ضرورت کے مطابق تعلیماتِ تصوف میں کچھ اذکار کا اضافہ کیا۔ یہ اذکار ان کے تجربہ شدہ تھے، جن کی خلوصِ دل سے پابندی کرنے سے دل کی نورانیت دوبالا ہو جاتی ہے اور انسان کا دل شیطانی وسوسوں اور نفسانی خواہشات سے محفوظ رہتا ہے۔
دہشت گردی اور تصوف: ایک تقابل
جدید زمانہ ترقی یافتہ اور ایڈوانس ہے، سائنس کا استعمال آبادکاری سے زیادہ تخریب کاری کے لیے ہو رہا ہے، دنیا والے حیران و پریشان ہیں۔ مادہ پرستی کا دور دورہ ہے، چاروں طرف دہشت گردی اور بے چینی ہے۔ ہر شخص گدا ہو یا بادشاہ دہشت گردی سے عاجز اور پریشان ہے اور سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ دانش ور اس کے حل کے لیے نئے نئے فارمولے ایجاد کر رہے ہیں جو وقتی طور پر اثر دکھاتے ہیں بعد میں فیل ہو جاتے ہیں۔ روز بہ روز دہشت گرد اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے، پہلے کے مقابلہ میں ان کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے، ان کی مختلف جماعتیں اور گروہ ہیں، الگ الگ نام سے یہ شناخت رکھتے ہیں، کہیں یہ نجدی کہلاتے ہیں، کہیں القاعدہ، کہیں بوکو حرام اور کہیں داعش کے نام سے مشہور ہیں۔
ہمیں اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہے کہ دہشت گردی کہاں پیدا ہوئی، کیوں پیدا ہوئی؟ دہشت گردی کا تعلق کس جماعت سے ہے؟ اور اس کا حل یعنی انسدادِ دہشت گردی کس طرح احسن طریقے سے ہو سکتا ہے؟
قدرت کا قانون ہے کہ جب انسان فطرت کے خلاف کام کرتا ہے، اس پر عتاب نازل ہوتا ہے، اس لیے کہ فطرت فطرت ہے اور وہ فطری ہے۔ دینِ فطرت اسلام ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا" (سورہ مائدہ، آیت: 3) اور میں نے تمھارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔ جس دین کو سارے جہان کا پالن ہار خداوندِ قدوس پسند فرمائے، اس دین میں دہشت گردی کی ذرہ برابر گنجائش نہیں، اس میں سلامتی ہی سلامتی ہے، اس کے ماننے والے اور صحیح پیروکار خود بھی سلامت رہیں گے اور ان سے دوسرے بھی سلامت رہیں گے، اس لیے کہ اسلام کا معنیٰ امن، چین، سکون، راحت اور سلامتی کے ہیں۔ یہی پیغامِ امن مشائخِ کبار نے خانقاہوں سے دیا اور اس کو تعلیماتِ تصوف کا جز قرار دیا۔ جس جماعت یا گروہ نے صوفیانہ تعلیمات سے انحراف کیا اور تصوف سے کنارہ کشی اختیار کی، اس نے امن کا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ یعنی تخریب کاری اور دہشت گردی کو اپنایا اور وہ تخریب کار اور دہشت گرد کہلائے۔ فی زمانہ دہشت گرد اور صوفی لفظ ایک دوسرے کے برعکس یعنی متضاد الفاظ ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص نیک، سیدھا سادہ، امن پسند اور خیر خواہ ہوتا ہے اس کو "صوفی" کہتے ہیں، اس کے برعکس جو شرپسند ہے، جس سے لوگ خائف رہتے ہیں، اس شخص کو عام آدمی بھی دہشت گرد سے تشبیہ دیتا ہے۔ اس چھوٹی سی مثال سے دونوں میں فرق ظاہر ہوتا ہے۔
تاریخی پس منظر اور فتنۂ نجدی
جب تک اہلِ جہاں تصوف سے وابستہ رہے، ہر طرف چین اور سکون رہا، لیکن جب افرادِ زمانہ کی نگاہ میں تصوف کھٹکنے لگا، شیطان ان کے دماغ پر مسلط ہو گیا، اس نے دل میں یہ خیالاتِ فاسدہ پیدا کیے جس کے اثر سے تصوف سے نفرت پیدا ہوئی اور اصفیا کی قدر و منزلت کم ہوئی۔ تصوف کی بنیاد عشقِ رسول پر ہے، شیطان کو یہ گوارا نہ ہوا کہ جہاں والے عشقِ نبی سے سرشار ہو کر خدائے وحدہ لا شریک کی حمد و ثنا اور عبادت کریں۔ اس نے سب سے پہلے تصوف کی تعلیم دینے والے اہلِ تصوف کے گھرانے پر حملہ بولا۔ آج سے دو سو سال قبل کی بات ہے، سرزمینِ عرب شریف کے علاقہ نجد میں ایک اعلیٰ کردار والا صوفی خاندان تھا۔ اہلِ خاندان راہِ سلوک کی تعلیمات سے واقف تھے، اس پر عمل پیرا تھے اور دوسروں کو تصوف کی تعلیمات دیتے تھے، سارا عرب چین و سکون سے تھا، حجازِ مقدس میں شانتی تھی اور شریفِ مکہ مطمئن تھے۔ اسی خاندان میں ایک ایسا شخص پیدا ہوا جس نے آبا و اجداد کے مسلک کی مخالفت کی، اسلاف کی روش سے ہٹ کر اپنا الگ راستہ اختیار کیا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا تصوف اسلامی ہے جس میں عشقِ نبی بھی ہے اور شانتی بھی، جب اسلامی تصوف سے ہٹ کر الگ راستہ اختیار کیا تو دہشت گردی سما گئی اور تخریب کاری کا عنصر سرایت کر گیا۔ حجازِ مقدس میں مکہ شریف کے اندر قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا۔ بیت اللہ شریف جہاں قتال حرام ہے، اہلِ حرم کو قتل کرنے سے بھی باز نہ آیا۔ اس کے بعد مدینۃ الرسول میں ظلم و ستم ڈھائے اور دہشت گردی پھیلائی۔ صحیح عقیدۂ اہلِ سنت کے مخالف ایک کتاب "التوحید" لکھی، اس میں تصوف اور تعلیماتِ تصوف کی مخالفت کی۔ دنیا اسے محمد بن عبد الوهاب نجدی کے نام سے جانتی ہے، اس کے ماننے والوں کے مختلف نام ہیں اور ہمارے ہندوستان میں یہ "وہابی" کے نام سے مشہور ہیں۔
اس کے فتنہ اور شر انگیزی کی پیشین گوئی غیب بتانے والا پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ یہ حدیثِ بخاری شریف میں ہے اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے:
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ شَامِنَا ، اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ یَمَنِنَا، قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ فِیْ نَجْدِنَا، قَالَ اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ شَامِنَا ، اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ یَمَنِنَا، قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ فِیْ نَجْدِنَا فَاَظُنُّهٗ ، قَالَ فِی الثَّالِثَةِ هُنَاکَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَ بِهَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطٰنِ
(استقامت ڈائجسٹ، تحفظِ عقائد نمبر، ص: 8، بحوالہ بخاری شریف)
"اے اللہ! ہمارے شام میں برکت نازل فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت نازل فرما۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے نجد میں بھی؟ آپ نے فرمایا: اے اللہ! ہمارے شام میں برکت نازل فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت نازل فرما۔ صحابہ نے پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے نجد میں بھی؟ راوی کا بیان ہے کہ تیسری مرتبہ میں حضور نے فرمایا: وہاں زلزلوں اور فتنوں کی جگہ ہے اور وہاں سے شیطان کا سینگ ظاہر ہو گا۔" (عام طور پر قرن الشیطان کا ترجمہ شیطان کا سینگ کیا جاتا ہے، مصباح اللغات میں اس کا ایک معنی شیطان کی رائے کا پابند بھی کیا گیا ہے)۔
اردو، ہندی، انگریزی اور دیگر زبانوں کے اخبارات میں نام نہاد اپنے آپ کو "خالص سنت پر چلنے والا" بتانے والے گروہوں اور جماعتوں کے مظالم کی خبریں آ رہی ہیں جن کو پڑھ کر دل دہل جاتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دو سو سال قبل تعلیماتِ تصوف سے ناواقف اور عشقِ محمدی سے عاری نجدیوں نے دہشت گردی کی ابتدا کی، اہلِ ایمان و اسلام کا قتلِ عام کیا اور اللہ کی نشانیوں، شعائرِ اللہ جن کا احترام کرنا "مومن کے قلوب کا تقویٰ" بتایا گیا ہے، کو مٹانا شروع کیا۔ اگر کسی کو شک ہو تو عرب شریف جا کر ملاحظہ کرے، آنکھوں کے سامنے حقیقت ظاہر ہو جائے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ
(سورہ حج، آیت: 32)
"اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔" اور فرمایا: "وَمَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ" (سورہ حج، آیت: 30) اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے۔
معاصر دہشت گرد تنظیمیں اور صوفی نشین علاقوں پر حملے
نجدی دہشت گردی کے بعد مختلف دہشت گرد تنظیموں نے جنم لیا جیسے القاعدہ، بوکو حرام، داعش وغیرہ۔ القاعدہ نے بہت ظلم و ستم ڈھائے، ساری دنیا نے انھیں دہشت گرد قرار دیا اور ان کے دفاع کی تدبیریں کیں۔ کئی ملک دہشت گردی کا نشانہ بنے، خاص کر صوفیوں اور عقیدت مندوں کا ملک افغانستان جہاں نقش بندی سلسلہ سے وابستہ سنی صوفی حضرات اور مشائخِ ذوی الاحترام کثیر تعداد میں تھے۔
چند روز قبل ہفتہ 16 جنوری 2016ء کو افریقہ میں صوفیوں پر بڑا ظلم ڈھایا گیا جس سے انسانیت تڑپ اٹھی اور کائنات کانپ گئی۔ افریقہ کا خشکی سے گھرا ہوا مسلم اکثریت کا ملک "برکینا فاسو" حملے کی زد میں آیا۔ اس حملہ میں 22 افراد ہلاک اور 15 لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر روزنامہ انقلاب دہلی مورخہ 17 جنوری 2016ء نے دی۔ اس ملک میں ساٹھ فی صد مسلمان ہیں اور مالکی سنی مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے، جو تصوف سے زیادہ متاثر ہیں اور تجانیہ سلسلہ سے وابستہ ہو کر تعلیماتِ تصوف پر عمل کرتے ہیں، ان کے شیخ الشیوخ اور مربی سیدی احمد التجانی ہیں۔ اس سے پہلے دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے برکینا فاسو کے شمال میں واقع ملک "مالی" پر نومبر 2015ء میں حملہ کر کے دہشت گردی کا مظاہرہ کیا اور امن کے داعی مذہبِ اسلام کو بدنام کیا۔ تیسری دہشت گرد تنظیم "بوکو حرام" نائیجیریا اور قرب و جوار میں قتلِ عام کر رہی ہے اور عوام و خواص کو ہراساں و پریشان کر رہی ہے، حد یہ ہے کہ بچوں کو ظلم کا نشانہ بنا رہی ہے اور ان کا قتل کر رہی ہے۔
ایک اور دہشت گرد تنظیم داعش (دولتِ اسلامیہ فی العراق والشام) ہے۔ یہ تنظیم سابقہ تنظیموں سے زیادہ خطرناک اور دہشت گرد ہے، فی زمانہ اس کا زیادہ زور ہے۔ اس نے دھوکا دینے کے لیے ایک طرف خود کو سنت پر چلنے والا بتایا اور دوسری طرف شعائرِ اللہ جن کا احترام کرنا "مومن کے قلوب کا تقویٰ" کہا گیا ہے، کو ختم کرنا شروع کیا۔ انبیا کرام علیہم السلام، اصحابِ رسول اللہ اور اولیاء اللہ کے مزارات اور مقبروں کو گولہ بارود سے شدید نقصان پہنچایا۔ جلیل القدر پیغمبر حضرت یونس علیہ السلام کے مزارِ اقدس اور مسجدِ شریف کو بم سے اڑا دیا۔ مشہور اسلامی سپہ سالار حضرت خالد بن ولید اور عاشقِ رسول حضرت اویس قرنی کے مزاراتِ مقدسہ اور مقبروں کو دھماکہ کر کے نقصان پہنچایا۔ بستیوں پر حملہ کر کے کثیر تعداد میں افراد کو ہلاک کیا اور بالائے ستم یہ کہ کچھ کو زندہ درگور کیا۔ یہ تنظیم عراق اور شام کو برباد کرنے پر آمادہ ہے۔ شام وہ ملک ہے جس کی برکت کے لیے اللہ کے رسول نے دعا کی، عراق مردم خیز ملک ہے جہاں کثیر تعداد میں محبانِ نبی، اولیاء اللہ اور ائمہ مجتہدین آرام فرما ہیں، کثیر تعداد میں قدیم صوفی خانقاہیں موجود ہیں جن سے رشد و ہدایت کا دریا جاری ہے اور ہر خاص و عام فیض یاب ہو رہا ہے۔
ان کی تعلیماتِ تصوف سے جہاں روشن ہے، خانقاہیں انسانیت کا مرکز ہیں، تعلیماتِ تصوف پاکیزہ ہیں اور اہلِ خانقاہ اس کی اشاعت میں مصروف ہیں۔ وہ ہمیشہ بھلائی کی بات کرتے ہیں اور آنے والے کو ذہن نشین کراتے ہیں کہ پیارے نبی کے ارشادات و فرمودات پر عمل کرو۔ آپ کا مبارک ارشاد ہے: "خیر الناس من ینفع الناس" (بہترین شخص وہ ہے جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔) تمھارے لیے ضروری ہے کہ بڑوں کی عزت کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو۔ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
"مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَلَمْ یُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا فَلَیْسَ مِنَّا"
(جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی توقیر نہ کرے، وہ ہمارے طریقے پر نہیں۔)
جب کوئی ان کے پاس آتا ہے تو اس سے کہتے ہیں کہ اے خدا کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا" (بخاری شریف)
حالات کے مشاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنظیمیں اس ملک اور مقام پر زیادہ ظلم و ستم ڈھاتی ہیں جہاں تصوف کا زیادہ چرچا ہے، لوگ تعلیماتِ تصوف پر عمل کر رہے ہیں اور بھلائی و ہدایتِ خلقِ خدا میں مشغول ہیں۔ اسلام اور تصوف کی حقیقت سے ناآشنا، ناواقف حضرات اسلام کی شبیہ بگاڑنے اور بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔ دھوکا دینے کے لیے اسلامی جھنڈا ساتھ رکھتے ہیں، عربی لباس زیب تن کر کے عمامہ باندھتے ہیں اور جھنڈے پر کلمۂ طیبہ لکھ دیتے ہیں۔ دہشت گرد بھول جاتے ہیں کہ کلمۂ طیبہ کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے:
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ
(سورہ ابراہیم، آیت: 24)
"کیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں ہیں۔" (پاکیزہ بات سے مراد کلمۂ توحید ہے۔) محمد رسول اللہ تو رحمت للعالمین ہیں، "وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ"۔ خانقاہوں میں رسول کے دیوانے رحمتِ عالم کی رحمت بھری تعلیم دیتے ہیں، جبکہ دہشت گرد پاکیزہ کلمہ کا استعمال فریب دینے کے لیے کرتے ہیں۔ کیا ان کا تعلق اسی جماعت سے تو نہیں ہے جس کی خبر چودہ سو سال قبل مخبرِ صادق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی؟
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا جس کی گہری آنکھیں، گھنا ماتھا، کھچڑی داڑھی، ڈھلکی ہوئی گالیں اور منڈا ہوا سر تھا، کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈرو۔ آپ نے فرمایا: "اگر میں ہی نافرمان ہو جاؤں تو اللہ کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ نے مجھے زمین والوں پر امین بنایا ہے لیکن تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔" اسی درمیان ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی تو پیارے نبی نے انھیں روک دیا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو فرمایا: "اس کی نسل سے ایک جماعت پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں انھیں پاتا تو قومِ عاد کی طرح ان کے ساتھ قتال کرتا۔"
اسلام بدنام کرنے کی بین الاقوامی سازش
یہودیوں کی ایک تنظیم ہے جس کا کام ہے اسلام کو بدنام کرنا۔ ان کی بول چال، پہناوا اور اسلامی لباس دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ مسلمان ہیں، لیکن حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہوتے۔ عالیجناب احمد سعید خاں نواب چھتاری جب انگلینڈ سے سیرو سیاحت کر کے ہندوستان واپس آئے تو انھوں نے اپنا چشم دید واقعہ بیان کیا کہ میں نے لندن میں ایک عجیب منظر دیکھا جسے دیکھ کر حیران و ششدر رہ گیا۔ میرے ایک دیرینہ انگریز دوست نے مجھے ایک اسلامی ادارہ دکھایا جس میں طلبہ اسلامی تعلیم حاصل کر رہے تھے، ہر جگہ قرآن و حدیث اور فقہ پر گفتگو اور مباحثے ہو رہے تھے، طلبہ اسلامی لباس پہنے ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت سلام و مصافحہ کرتے تھے۔ میں بہت خوش ہوا کہ انگلستان میں دینی تعلیم کا اتنا بڑا مرکز قائم ہے اور کثیر تعداد میں مسلم طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ واپس آنے پر عزیز دوست نے حقیقت سے آگاہ کیا اور کہا: "مسٹر! یہ طلبہ مسلمان نہیں، یہودی ہیں، یہ ادارہ یہودی مشن کے تحت چل رہا ہے، اس کا کام فارغینِ علما کو مسلم ممالک اور مسلم اکثریت والے علاقوں میں بھیجنا ہے، یہودی علما وہاں جا کر مسلمانوں کے عقیدے کو خراب کرنے کا کام کرتے ہیں جس سے اختلاف پیدا ہو اور مسلمانانِ عالم بدنام ہوں" (استقامت ڈائجسٹ، تحفظِ عقائد نمبر)۔
اس جماعت کے افراد لوگوں کو کاٹتے ہیں، جوڑتے نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ کریم فرقانِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَیَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ اُولٰٓىِٕکَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ
(سورہ البقرہ، آیت: 27)
"اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہی نقصان میں ہیں۔"
اس کے برعکس خانقاہوں میں ہمیشہ جوڑنے اور ملانے کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ بلاوجہ تفریق سے پرہیز کرتے ہیں۔
حاصلِ کلام اور حل
حاصلِ تحریر یہ ہے کہ اگر تعلیماتِ تصوف پر عمل کیا جائے، اہلِ تصوف کی صحبت اختیار کی جائے تو دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا اور دنیا میں امن قائم ہوگا۔ تصوف امن کی چابی ہے اور تعلیماتِ تصوف پر عمل دہشت گردی کے انسداد کا بہترین حل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو عام کیا جائے اور عوام کو خانقاہ اور اہلِ خانقاہ سے جوڑا جائے۔ احقر نے بارہا تجربہ کیا ہے کہ جو لوگ سلسلۂ عالیہ میں داخل ہوئے، خانقاہ سے جڑے اور تعلیماتِ تصوف پر عمل کیا، ان لوگوں نے امن کی مثال قائم کی، ورنہ اس سے پہلے ان کے سابقہ اعمال ایسے تھے جن سے لوگ خائف رہتے تھے۔ ان پر علامہ اقبال کا یہ مصرع:
یہ وہ مسلم ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
صادق آتا تھا۔ ذلک فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم۔
ماہ نامہ اشرفیہ حاصل کریں:
مولانا ہارون رشید صاحب
عزیزی کتاب گھر، بڑہریا، ضلع سیوان (بہار)
موبائل نمبر: 9955020974
جناب قاری اسلام اللہ عزیزی
میونسپل بلڈنگ نمبر 4، تھرڈ فلور، روم نمبر 22، 6-L کراس روڈ نمبر 2، ولکر بائی، ماہم، ممبئی
