| عنوان: | اسلام میں عورتوں کے حقوق و مسائل (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد ابرار مصباحی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
عورتوں کو عطا کردہ اسلامی حقوق
تعلیم و تربیت کا حق
اسلامی تعلیمات کا آغاز ”اِقْرَاْ“ سے کیا گیا اور تعلیمِ نافع کو شرفِ انسانیت اور معرفتِ خداوندی کی اساس قرار دیا گیا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی تعلیم و تربیت کو اتنی ہی اہمیت و فضیلت دی ہے جتنی مردوں کو دی ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیمِ نسواں کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”وہ شخص جس کے پاس باندی ہو پھر وہ اسے نفع بخش تعلیم دے اور اچھے آداب سکھائے پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس شخص کے لیے دو اجر ہیں۔“ [صحیح البخاری، کتاب الجہاد، باب فضل من أسلم من أھل الکتابین]
یعنی ایک اجر تو اچھی تعلیم و تربیت دینے کا، دوسرا اجر اس بات کا کہ اسے آزاد کر کے نکاح کر لیا اس طرح اسے غلامی کی ذلت سے نجات بخشی۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام اگر باندیوں تک کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کو کارِ ثواب قرار دیتا ہے تو وہ آزاد لڑکوں لڑکیوں کے تعلیم سے محروم رکھے جانے کو کیوں کر گوارا کر سکتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی عظمت و فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”علم و حکمت کی بات مومن کا گمشدہ مال ہے پس وہ اسے جہاں پائے اسے حاصل کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔“ [سنن الترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ]
عصمت و عفت کا حق
عورت کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی عفت و پاک دامنی ہے۔ معاشرے میں اس کی عزت و تکریم کو یقینی بنانے کے لیے اس کے حقِ عصمت کا تحفظ ضروری ہے۔ اسلام نے عورت کو حقِ عصمت عطا کیا، اور مردوں کو اس کے حقِ عصمت کی حفاظت کا حکم دیتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ [سورۃ النور: 30]
ترجمہ: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔
اس کے بعد عورتوں کو حکم ہوتا ہے:
وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اٰبَآئِھِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآئِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْ اَخَوٰتِھِنَّ اَوْ نِسَآئِھِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ وَ تُوْبُوْۤا اِلَی اللہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ [سورۃ النور: 31]
ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا بھتیجے یا بھانجے یا اپنے دین کی عورتوں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنھیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
تحفظِ عصمت ہی کی وجہ سے عورت کو تنہا سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ تین دن کا سفر بغیر محرم کے کرے۔“ [صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ]
سفرِ شرعی یعنی تین دن سے کم جو کہ تقریباً ساڑھے بانوے کلومیٹر ہے عورت تنہا کر سکتی ہے جب کہ اس کی عزت و آبرو کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ لیکن اس سے زیادہ مسافت کا سفر عزت و آبرو کے خطرہ کے قائم مقام ہے لہٰذا اب بغیر محرم کے سفر جائز نہیں۔ اور یہ اس کی شخصی آزادی کے منافی نہیں ہے بلکہ اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کا ضامن ہے۔
نکاح کا حق
اسلام سے قبل عورتوں کو مردوں کی ملکیت تصور کیا جاتا تھا اور انہیں نکاح کا حق حاصل نہیں تھا۔ اسلام نے عورت کو نکاح کا حق دیا، خواہ یتیم ہو، باندی ہو یا مطلقہ، شریعت کے مقرر کردہ اصول و ضوابط کی پابندی کے ساتھ انہیں نکاح کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ [سورۃ البقرہ: 232]
ترجمہ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہو جائے تو اے عورتوں کے والیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں جب کہ آپس میں موافقِ شرع رضامند ہو جائیں۔
حقِ زوجیت
مرد پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ حتی الوسع حقِ زوجیت ادا کرنے سے دریغ نہ کرے۔ عبادات میں زیادہ شغف بھی بیوی سے بے توجہی کا سبب ہو سکتا ہے۔ اگر خاوند دن بھر روزہ رکھے اور راتوں میں نماز پڑھتا رہے تو ظاہر ہے کہ وہ حقِ زوجیت ادا کرنے سے قاصر رہے گا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے صومِ وصال یعنی روزہ پر روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور زیادہ سے زیادہ صومِ داؤدی کی اجازت دی ہے کہ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھو۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ:
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور ہمیشہ قیام کرتے ہو، میں نے عرض کیا: جی، فرمایا: اگر ایسا کرتے رہو گے تو تمہاری آنکھوں میں گڑھے پڑ جائیں گے اور تمہارا جسم بے جان ہو جائے گا، نیز ہر مہینہ میں تین روزے رکھنا گویا ہمیشہ روزہ رکھنا ہے۔ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ فرمایا: داؤد علیہ السلام والے روزے رکھ لیا کرو جو ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے۔ [صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب صومِ داؤد]
خلع کا حق
شریعتِ مطہرہ نے طلاق کا حق صرف شوہر کو دیا ہے، کیونکہ شوہر ہی خاص طور سے رشتہ زوجیت قائم رکھنے کا خواہاں ہوتا ہے، وہ مہر اور نان و نفقہ کی صورت میں بیوی پر کافی مال خرچ کر چکا ہوتا ہے، اس لیے وہ طلاق نہ دینے کو پسند کرتا ہے، جب کہ بیوی پر شوہر کا کوئی مالی حق واجب نہیں ہوتا، اس لیے اس کو طلاق کا حق نہیں دیا۔ تاہم اسلام نے اس دوسرے پہلو کو بھی ملحوظِ نظر رکھا ہے کہ کسی وقت عورت کو بھی شوہر سے جدا ہونے کی ضرورت پیش آسکتی ہے، مثلاً شوہر حقِ زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہو، یا نان و نفقہ ادا نہ کرتا ہو، یا بلاوجہ اس پر ظلم و ستم کرتا ہو، یا عورت اپنے خاوند کو ناپسند کرتی ہو، یا ان جیسی دیگر تمام صورتوں میں عورت خاوند کو یہ پیش کش کر کے کہ تم نے مجھے جو مہر یا ہدیہ وغیرہ دیا ہے وہ میں تمہیں واپس کرتی ہوں اس کے عوض تم مجھے طلاق دے دو۔ اگر شوہر اس پر رضامند ہو کر طلاق دے دے تو ٹھیک ہے، بصورتِ دیگر وہ عورت قاضی سے رجوع کر کے خاوند سے چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔ عورت کے اس حق کو ”خلع“ کہتے ہیں۔ قرآن کی درج ذیل آیت سے اس کا ثبوت فراہم ہوتا ہے:
وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ [سورۃ البقرہ: 229]
ترجمہ: اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے۔
اس آیت میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ طلاق کی صورت میں تو مہر میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں البتہ خلع میں (عورت کی طرف سے مطالبہ طلاق پر طلاق دینے کی صورت میں خاوند کے لیے) مہر کا واپس لینا جائز ہے۔ اس میں لینے والے پر کوئی گناہ ہے نہ دینے والے پر، کیوں کہ عورت اپنی خوشی سے دے رہی ہے اور شوہر اپنا وہ مال وصول کر رہا ہے جو اس نے اس عورت پر اس نقطہ نظر سے خرچ کیا تھا کہ وہ اس کے گھر میں آباد رہے گی۔ لیکن اب وہ رہنے کے لیے تیار نہیں تو شوہر کا یہ وہ حق ہے جسے وہ واپس لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل اور فیصلے سے بھی خلع کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ: (حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے) کہ زَید بن ثابت کی اہلیہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیں: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں کسی بات پر ثابت بن قیس سے ناخوش نہیں ہوں، نہ ان کے اخلاق سے اور نہ ان کے دین سے، لیکن میں اسلام میں ناشکری کرنا نہیں چاہتی (ایک دوسری روایت میں ہے کہ میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی) تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس کر دو گی؟ (جو انہوں نے تمہیں مہر میں دیا تھا) انہوں نے کہا ہاں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت بن قیس سے) فرمایا: باغ لے لو اور انہیں طلاق دے دو۔ [صحیح البخاری، کتاب الطلاق، باب الخلع]
نوٹ: خلع کی مختلف صورتیں ہیں جن کی تفصیلات کتبِ فقہیہ میں موجود ہیں۔
حقِ وراثت
اسلام نے عورتوں کو مردوں کی طرح وراثت کا حق بھی دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا [سورۃ النساء: 7]
ترجمہ: مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے، اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا۔
لیکن اسلام کے قانونِ وراثت کا سطحی اور سرسری مطالعہ کرنے والوں کو یہ مغالطہ لگتا ہے کہ عورت کا حصہ محض عورت ہونے کی وجہ سے مرد سے کمتر ہے۔ یہ مغالطہ قرآن کی درج ذیل آیتِ مبارکہ کی حکمت صحیح طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ [سورۃ النساء: 11]
ترجمہ: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر۔
تاہم اسلام کے قانونِ وراثت کا بنظرِ غائر جائزہ اس مغالطہ کی نفی کرتا ہے۔ اسلام کا قانونِ وراثت عورت کے حق کی تنصیف یا تخفیف نہیں بلکہ حسنِ معاشرت و معیشت پر مبنی ہے۔ اسلام کا قانونِ وراثت عورت کے تقدس و عظمت کی پاسبانی کرنے والی درجِ ذیل حکمتوں پر مبنی ہے:
عورت کا حصہ تقسیمِ وراثت کی اکائی ہے
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ پر غور تقسیمِ میراث کے بنیادی پیمانے کو واضح کرتا ہے۔ یہاں مرد و عورت کا حصۂ وراثت بیان کرتے ہوئے عورت کے حصے کو اکائی قرار دیا گیا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ ایک عورت کا حصہ مرد کے نصف حصے کے برابر ہے۔ بلکہ تقسیمِ میراث کے نظام میں عورت کے حصے کو اساس و بنیاد بنایا گیا اور پھر تمام حصوں کی تعیین کے لیے اسے اکائی بنایا گیا۔ گویا میراث کی تقسیم کا سارا نظام عورت ہی کے حصہ کی اکائی کے گرد گھومتا ہے، جو درحقیقت عورت کی تکریم و وقار کا مظہر ہے۔
کیا حصوں کی تعیین محض جنسیت کی بنا پر ہے؟
اسلامی قانونِ وراثت میں حصوں کی تعیین محض جنسیت کی بنیاد پر نہیں ہے۔ بلکہ اس کی بنیاد اسلام کا عادلانہ نظام ہے، جو ہر مرد و عورت کو اس کی ضرورت کے مطابق حق اور حصہ عطا فرماتا ہے۔ کیونکہ ماں، بیٹی، بیوی اور بہن کی کفالت کا ذمہ دار مرد کو بنایا گیا ہے عورت کو نہیں اس لیے حصوں کی تعیین دونوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں مرد و عورت دونوں کے حصے مساوی ہیں۔ قرآنِ کریم میں ہے:
وَلِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ [سورۃ النساء: 11]
ترجمہ: اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو۔
اس آیت میں صراحتِ مذکور ہے کہ والدین میں سے ہر ایک کے لیے سدس یعنی چھٹا حصہ ہے، والد کو بھی سدس ملے گا اور والدہ کو بھی۔ یہاں پر جنسیت میں اختلاف ہے لیکن حصۂ وراثت میں کوئی اختلاف نہیں ہے، دونوں کے حصے برابر ہیں۔ ایک اور مقام پر ہے:
وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ [سورۃ النساء: 12]
ترجمہ: اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔
مذکورہ بالا دونوں آیتوں سے یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو گئی کہ عورت کے حصہ کی تنصیف محض جنسیت کی بنا پر نہیں کی گئی، بلکہ کوئی دوسری وجہ ہے اور وہ یہ ہے: چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورت کی تمام ضروریات کا کفیل مرد کو بنایا ہے اور عورت کو اس ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ مزید یہ کہ عورت کے لیے روزگار اور معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی گئی جبکہ وہ حدودِ شرع کا پاس و لحاظ رکھے، عورت پیسہ کما سکتی ہے لیکن اس صورت میں بھی کفالت کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہی ہوگی اور وہ اپنی کمائی خصوصی حق کے طور پر محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اگر وہ گھریلو ضروریات کے لیے خرچ کرنا چاہے تو اس کا یہ عمل احسان ہوگا، کیونکہ یہ اس کے فرائض میں شامل نہیں ہے۔ جبکہ مرد کی آمدنی چاہے عورت سے کم ہی کیوں نہ ہو پھر بھی کفالت کا ذمہ دار وہی ہوگا۔ اسی وجہ سے ذمہ داریوں کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن، مستحکم اور معاشی عدل وانصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ مردوں کو وراثت میں زیادہ حصہ دیا جائے، تاکہ وہ اپنے اوپر عائد جملہ عائلی ذمہ داریوں کو بطورِ احسن ادا کر سکیں۔ گویا عورت کا حصۂ وراثت کم نہیں کیا گیا بلکہ مرد کا حصۂ وراثت اس کی اضافی ذمہ داریوں کی وجہ سے بڑھا دیا گیا ہے اور اس طرح مرد و عورت کی معاشرتی، سماجی اور عائلی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مالی توازن قائم کر دیا گیا ہے۔
اسلامی قانونِ وراثت میں جن رشتہ داروں کو وارث قرار دیا گیا ہے وہ تین اقسام پر مشتمل ہیں: ذوی الفروض، عصبات اور ذوی الارحام۔ ذوی الفروض: وہ رشتہ دار ہیں جن کے حصے متعین ہیں اور ان کے متعلق قرآنِ کریم یا احادیثِ مبارکہ میں واضح احکام موجود ہیں۔ ترکہ کی تقسیم کا آغاز ذوی الفروض سے ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ذوی الفروض کو ملے گا اس کے بعد عصبات کو اور پھر ذوی الارحام کو۔ ذوی الفروض درج ذیل مردوں اور عورتوں پر مشتمل ہیں:
-
ذوی الفروض مرد: شوہر، والد، اخیافی بھائی، اور جدِ صحیح۔
-
ذوی الفروض عورتیں: بیوی، ماں، بیٹی، پوتی، حقیقی بہن، علاتی بہن، اخیافی بہن اور جدہِ صحیحہ۔
ذوی الفروض کا چار مردوں اور آٹھ عورتوں پر مشتمل ہونا مردوں اور عورتوں کی نفسِ وراثت میں مساوی شرکت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ذوی الفروض میں مردوں کی تعداد سے دوگنا عورتیں شامل کی گئیں اور ان خواتین میں کچھ ایسی بھی ہیں جو براہِ راست متوفی کی شرعی کفالت میں نہیں آتی ہیں اس کے باوجود انہیں وراثت میں شامل کیا گیا اس طرح تقسیمِ وراثت میں مرد و عورت برابر ہو گئے۔
عورت کی سماجی حیثیت
اسلامی معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عظیم فریضہ کی ادائیگی کا حکم جس طرح مردوں کو دیا گیا عورتوں کو بھی دیا گیا ہے۔ یہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کی بنا پر امتِ محمدیہ کو خیرِ امت کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ [سورۃ التوبہ: 71]
ترجمہ: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔
یہ ہے اسلام کی عطا کردہ عزت و تکریم جس کی وجہ سے عورتیں معاشرے کا ایک محترم اور باوقار حصہ بن گئیں اور انہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسلامی عہد میں علوم و فنون کے میدان میں بھی عورتیں نمایاں مقام کی حامل تھیں۔ اسلام نے دیگر افرادِ معاشرہ کی طرح خواتین کو بھی عزت، تکریم، و قار اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہوئے ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جہاں ہر فرد سماج کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔
اسلام نے عورتوں کو وہ تمام حقوق عطا کیے جن کی وہ مستحق ہیں۔ مرد و عورت دونوں کا وجود انسانی زندگی کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں کی کاوشیں انسانیت کے ارتقا میں برابر کی حصہ دار ہیں۔ اس معاملے میں کوئی بھی کسی سے کمتر نہیں۔ نہ انسانی و شہری حقوق میں اور نہ مملکت کے ارتقا و عروج میں۔ تاہم دونوں کے مابین فطری صلاحیتوں میں فرق و تفاوت ہے، جو کہ ایک مسلمہ امر ہے۔ اس کے پیشِ نظر تقسیمِ کار ضروری ہے، جسے دونوں کو قبول کرنا چاہیے، اسلام نے عورت کے لیے جو حدودِ کار قائم کی ہیں ان میں عزت و عافیت کا انتظام ہے۔ اسلامی تعلیمات میں مرد و عورت ایک دوسرے کے حلیف ہیں حریف نہیں، ایک دوسرے کے معاون ہیں رقیب نہیں، ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار ہیں باہم دشمن نہیں۔
