| عنوان: | نوجوان علما میں بغاوت کے تیور یوں ہی تو نہیں؟ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
آج کے دور میں اگر کوئی باصلاحیت فرد کسی بزرگ کا مؤدب ہے تو ہمارے بزرگوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ مجبور ہے، بلکہ یہ اس کی شرافت طبع ہے اور اخلاص ہے، ورنہ آج کی نسل حدود و قیود سے بہت بالاتر ہے، نہ اس کی دوستیاں کسی سرحدی علاقے کی پابند ہیں اور نہ اس کا دائرہ کار۔ ایک چھوٹی گلی کے کونے میں بسنے والا، کس طرح دنیا کے ایک بڑے اور اپنے حق میں مفید حلقے سے بلاواسطہ چوبیس گھنٹے منسلک رہ رہا ہے یا رہ سکتا ہے، شاید بہت سے عمر دراز لوگوں کو اس کی بھنک بھی نہیں۔ اب خلوت کدے بھی کیسی بہاروں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور تنہائیوں میں بھی کتنی رفاقتیں پنپ رہی ہیں، اندازہ لگانا مشکل ہے۔
یہ بات کہنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم بارہا اپنے بڑوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی بات دلیل کے بجائے، اپنی عمر کے بڑکپن کی وجہ سے منوانا چاہتے ہیں اور کبھی کبھار دلیل کے جواب میں انا پر بھی اتر آتے ہیں۔ جب کہ اسلام ادب و تعظیم کا مذہب ضرور ہے، لیکن ادب کے نام پر کسی کی ذاتی انا کی تسکین کا سامان فراہم کرنے والوں کی یہاں کوئی حوصلہ افزائی نہیں، یہاں تو چاند سے زیادہ روشن اصول ہے:
لِيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ
کبھی کبھی تعجب ہوتا ہے کہ مفروضہ بزرگی کے زعم میں کچھ عمر دراز حضرات اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ ان کا پورا زور بیان صرف اس بات پر صرف ہوتا رہتا ہے کہ ہم فلاں شہر میں اتنے پرانے ہیں، آپ نئے ہیں اور یہی پرانا پن گویا سنیت کے تئیں ان کی خدمت ہے۔ دین خداوندی کے نام پر احسان جتانے والے ایسے دیوانوں کے لیے شرافت کی زبان میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ: سنیت، دین داری، تبلیغ اور خدمت خلق جیسے دینی امور کسی فرد، تحریک یا ٹولے کی جاگیر نہیں اور نہ ہی دنیا میں ان کا صلہ مانگنے والا سچا خادم دین۔ متنبی نے ایسے لوگوں کے لیے بہت ٹھیک بات کہی ہے: “ان لوگوں کا کمال یہ ہوتا ہے کہ یہ پہلے پیدا ہو گئے”۔
واضح رہے کہ ہمارا نشانہ کوئی بھی مخلص عالم دین نہیں، ظاہر ہے مخلصوں کا کردار ایسا ہو بھی نہیں سکتا، ہمارا موضوع سخن وہ لوگ ہیں جن کے پاس درازی عمر بالخیر تو ہے لیکن قیادت کی مطلوبہ صلاحیت اور توفیق خداوندی نہیں۔
یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مفروضہ بزرگی کا سودا ایک حد تک ان سروں میں بھی خوب سمایا ہوتا ہے قسمت کی یاوری سے جن کی دست بوسی کرنے والوں کی ایک تعداد ہو جاتی ہے۔ کیا عوام کے پیر صاحبان، کیا خانقاہوں کے سجادہ نشینان، کیا مدرسوں کے مہتمم، کیا علاقوں کے قضاۃ و مفتیان اور کیا تنظیموں کے امیر۔ اس مزاج کے لوگوں کا سب سے بڑا پرابلم یہ ہوتا ہے کہ یہ مذہب کے نام پر اپنی ذاتی انا کا سامان فراہم کرتے ہیں اور اس میں یہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں تائید غیبی حاصل نہیں ہوتی، نصف حصہ قبر میں لٹک جانے کے باوجود بھی یہ حضرات متنازع فیہ ہی رہتے ہیں اور اس وقت تک بھی مذہب کے نام پر سیاست سے باز نہیں آتے۔
عالم یہ ہوتا ہے کہ یہ حضرات کسی خاص جگہ امامت کا مسئلہ ہو یا اجتماعی دعا کا، پوسٹرز میں نام کی بات ہو یا جلسہ گاہ میں نشست گاہ کی، ہر جگہ اپنا ایک مفروضہ مقام رکھتے ہیں اور جہاں انھیں لگتا ہے کہ ان کی انا کو ٹھیس پہنچ رہی ہے، طوفان بدتمیزی سے گریز نہیں کرتے، عوام انھیں اس لیے عزت دیتی ہے کہ ان کا لبادہ اسلامی قیادت کا ہوتا ہے جب کہ فیضان اسلامی سے یہ شاید اس لیے محروم رہتے ہیں کہ ان کی نیتوں میں فتور ہوتا ہے۔
ان نازک حالات میں ضروری ہو جاتا ہے کہ دونوں قسم کے گروہ اپنا محاسبہ کریں اور اپنے آپ کو اصولی بنانے کی کوشش کریں تاکہ جہاں اپنے فرض کی بخوبی ادائیگی ہو، وہیں دین و سنیت کا بھی بھلا ہو۔
(الف) آج کی نسل کا حل تشدد اور جبر نہیں، محبت ہے۔ ضروری ہے کہ ہمارے بزرگ قرینے سے اس نسل کی نفسیات کو سمجھیں۔ (ب) اس کے لیے خطوط راہ متعین کریں۔ (ج) تحکم، ڈکٹیٹر شپ اور جاگیردارانہ انداز چھوڑیں۔ (د) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قائدانہ زندگی کا مطالعہ کریں۔ (ھ) اپنے ماتحتوں پر طنز کسنے کے بجائے، ان پر اعتماد ظاہر کریں تاکہ کام بھی آگے بڑھے اور دراڑیں بھی ختم ہوں۔ (و) کسی کی صلاحیتوں کو کچل کر اپنی قیادت منانے کے پرانے وسوسوں سے باہر نکلیں اور نئی صلاحیتوں کو نئے آفاق دیں تاکہ خود بخود آپ کی قیادت کا لوہا تسلیم ہو، کام بھی بڑھے اور حالات بھی معتدل رہیں۔ (ز) تقسیم کار کے اصولوں پر کام کریں تاکہ مسلک و ملت کا بھلا ہو اور ہر فرد کو مناسب کام اور مناسب مقام ملتا رہے۔ بارہا دیکھا جاتا ہے کہ مذہبی دنیا کے بہت سارے چھوٹے بڑے عہدے کچھ لوگ اس طرح ہتھیا لیتے ہیں کہ ماتحت یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں: “ہمارے یہاں شیخ الحدیث سے چپراسی تک سارے کام، ایک ہی آدمی کرتا ہے”۔
