Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اخلاصِ عمل (قسط: اول) | علامہ قمر الزماں خان اعظمی

اخلاصِ عمل (قسط: اول)
عنوان: اخلاصِ عمل (قسط: اول)
تحریر: علامہ قمر الزماں خان اعظمی
پیش کش: سلطانی رضویہ

دین کا کوئی بھی کام کیا جائے اس کو اللہ کے نزدیک قبولیت حاصل کرنے کے لیے اخلاصِ عمل بہت ضروری ہے۔ یعنی وہ کام صرف اللہ ہی کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے کیا جائے۔ اگر کسی اور غرض و غایت سے کیا گیا ہے تو اس کی جزا نہ ملے گی۔ چنانچہ قرآنِ عظیم نے بار بار عمل میں اخلاص پیدا کرنے پر زور دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادت جو صرف اللہ پاک کی ہی کی جاتی ہے اور اس میں بھی حسنِ نیت اور اخلاص پر انحصار کیا گیا ہے، کہ عبادت سے بھی مراد صرف رضائے الہی ہو، اور دوسری کوئی بات مقصود نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ [سورۃ الزمر: 11]

“پس اللہ کی عبادت کیجیے خلوص اور اطاعت کے ساتھ۔”

عبادت کے علاوہ بھی جملہ امورِ دینی میں اخلاص بہت ضروری ہے تاکہ وہ عند اللہ مقبول و ماجور ہو سکیں۔ شیطان جب انسان کو نیک عمل سے باز نہیں رکھ سکتا تو اس کا آخری حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس میں کوئی دنیاوی غرض شامل کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا کل کیا دھرا مٹی بن جاتا ہے۔ دین کی راہ میں کام کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ کوئی ایسا طریقہ نہ اختیار کریں جس میں شیطان کو بہکانے کا موقع مل جائے بلکہ ہر وقت اور ہر آن رضائے الہی کو پیش نظر رکھیں۔ حدیث پاک میں اخلاصِ عمل پر ابھارنے کے لیے میدانِ قیامت اور روزِ حساب کا ایک دردناک منظر پیش کیا گیا ہے، جس میں تین آدمیوں کو خدائے ذوالجلال کے حضور میں پیش کیا جائے گا:

  1. قرآنِ عظیم کی تلاوت کرنے والا۔

  2. صدقہ و زکوٰۃ دینے والا مالدار آدمی۔

  3. اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مجاہد۔

چنانچہ جب خدائے وحدہ لاشریک ارشاد فرمائے گا کہ ہم نے تجھے قرآن کا علم دیا تھا، تاکہ لوگوں کو قرآن سکھائے، قاری جواب دے گا: میں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو قرآن کی تعلیم دی۔ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا: “تو کاذب ہے۔ تو نے قرآن اس لیے پڑھایا تھا کہ لوگ تجھ کو قاری کہیں۔” پھر دولت مند سے ارشاد فرمائے گا: “میں نے تجھے اپنی نعمتیں دی تھیں۔” وہ عرض کرے گا: میں نے صلۂ رحمی کی۔ تیری نعمتوں کو تیرے بندوں پر خرچ کیا۔ تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: “تو نے جو کچھ کیا محض اس لیے کہ لوگ تجھ کو فیاض اور سخی کہیں۔” مجاہد سے اس کو عطا کی گئی قوت و طاقت کا حساب لے گا تو وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: “تو نے جہاد میری رضا کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ اس لیے کیا تھا کہ لوگ تجھ کو مجاہد کہیں، بہادر کہیں۔” اور پھر ان لوگوں کو جہنم میں ڈال دے گا۔ اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ خدا کے حضور میں صرف خلوصِ عمل مقبول ہے۔

اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

“اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔”

اس معیار پر جب ہم صحابہ کرام کی مقدس زندگیوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ان کے ہر عمل میں ان کی نیت اور ان کا ارادہ رضائے الہی کا حصول ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جلیل القدر صحابہ کرام اپنی تمام تر عظمتوں کے باوجود خدائے ذوالجلال کے حضور میں ہمیشہ لرزتے رہتے تھے اور اس سے دنیا میں جزا مانگنے کے بجائے آخرت میں صرف اس کی رضا کے خواست گار ہوتے تھے۔

چنانچہ خلیفۂ اول یارِ غارِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کو خدائے ذوالجلال نے بذریعہ جبرائیل علیہ السلام سلام بھیجا ہے، جن کا تذکرہ قرآنِ عظیم میں موجود ہے، جنہیں ساری دنیا افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق کہتی ہے۔ جن کی خدمات کا یہ عالم ہے کہ ابتدائے اسلام سے لے کر اپنی وفات شریف تک ہر ہر لمحہ دین متین کی خدمت میں گزارا ہے۔ بڑے بڑے صحابہ کرام جن کی ایک نیکی کے بدلے میں زندگی بھر کی نیکیاں قربان کرنے کے لیے تیار تھے۔ جو زندہ رہے تو یارِ غار بن کر، اور پردہ فرمانے کے بعد یارِ مزار کی حیثیت سے آرام فرما ہیں، ایک مرتبہ ایک باغ سے گزر رہے تھے۔ درختوں کی شاخوں پر کچھ پرندے چہچہا رہے تھے۔ ان کو دیکھ کر بے ساختہ آنکھوں میں آنسو بھر لائے اور ارشاد فرمایا: “اے طیورِ خوش الحان! تم ہم سے ہزارہا درجہ بہتر ہو، اس لیے خلّاقِ عالم نے تم کو آخرت کے احتساب سے بے نیاز فرمایا ہے۔ آہ! ہمارا کیا عالم ہوگا جب خدا کے حضور میں ہمارے اعمال پیش کیے جائیں گے۔” اسلام قیامت تک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احسانات سے دبا رہے گا۔ ہماری گردنیں ان کے پائے عظمت پر ہمیشہ خم رہیں گی، مگر آپ کے انکسار کا یہ عالم ہے کہ اپنے اعمال کو مدارِ نجات و ذریعۂ فخر و مباہات نہیں قرار دیتے بلکہ خدا کے حضور میں لرزاں و ترساں ہیں اور صرف اس کے فضل کے طلبگار ہیں۔

حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق کے بعد سب سے بلند و بالا ہے۔ جن کی بے پناہ قوت و شجاعت نے اسلام کو طاقت و شوکت بخشی۔ جن کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کے پیروں سے زنجیرِ محن ٹوٹی۔ جن کے بارے میں خود سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ

“اگر میرے بعد کوئی نبی ممکن ہوتا تو، جناب عمر ہوتے۔”

ان کا یہ عالم ہے کہ صحرا سے گزرتے وقت اچانک بے قرار ہو جاتے ہیں۔ اور آسمان کی طرف نگاہ مبارک اٹھا کر عرض کرتے ہیں: “اے اللہ تیرے احسانات کا شکر ادا نہیں ہو سکتا۔ ورنہ ایک دن وہ تھا جب میں اپنے والد خطاب کے اونٹ اسی میدان میں چرایا (چ بالفتح) کرتا تھا اور مجھے جھڑکیاں دیتے تھے۔” یہ کہتے کہتے زمین پر بیٹھ گئے اور ریت کے ذروں کو سینے سے لگا کر ارشاد فرمایا: “ریت کے ذروں! مجھے تمہاری قسمت پر رشک آتا ہے، اس لیے کہ تم کو خدائے پاک کے حضور میں حساب نہ دینا ہوگا۔”

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ذوالنورین ہیں، جن کی حیا فرشتوں کے لیے بھی مثالی ہے، جن کی سخاوت نے غربائے مدینہ کو ہر غم سے بے نیاز کر دیا تھا، جن کی مالی امداد نے اسلام کو کفر سے مزاحمت کی استعداد بہم پہنچائی، جن کا عظیم کارنامہ جمعِ قرآن ہے۔ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفۂ ثالث ہیں۔ اپنے مکان میں بلوائیوں کی یلغار سے بچنے کے لیے محصور ہیں، بے شمار ننگی تلواریں ان کے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں، جو ان کے خون کی پیاسی ہیں، کچھ مخلصین بڑی مشکل سے ان تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اور خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں: حضور حکم فرمائیں تاکہ اسلام کے بہترین مجاہد جن کی تلواروں نے بدر و حنین و خیبر میں کافروں کو شکست فاش دی تھی، ان بلوائیوں کو ان کے اعمالِ بد اور اقدامِ بے محل کی سزا دیں۔ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور ارشاد فرمایا: “میرے رفیق! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ عثمان اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کی گردنیں کٹوائے؟” اور پھر بلوائیوں نے ان کو اس حالت میں شہید کیا کہ وہ قرآنِ عظیم کی تلاوت کر رہے تھے۔ حالانکہ ان کی عظمت کے حضور میں اگر مسلمانوں کی گردنیں بطور نذر پیش کی جاتی تو وہ اس کے حقدار تھے، مگر انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ صرف رضائے الہی کے لیے، مسلمانوں کا تعاون حاصل کر کے اپنے اعمالِ حسنہ کا صلہ اس دنیا میں نہیں لینا چاہتے تھے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو خلیفۂ چہارم ہیں اور جنہوں نے سب سے پہلے رسولِ گرامی وقار صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت و نصرت کا اعلان فرمایا، حالانکہ اس وقت وہ کم عمر تھے جن کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بے پناہ محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ جو باب مدینۃ العلم ہیں۔ جو مرکزِ اولیائے عالم ہیں ان کو لوگوں نے ایک بار اس حالت میں دیکھا کہ وہ اپنی مقدس داڑھی پکڑے ہوئے رو رہے ہیں اور وفورِ غم و اندوہ میں ڈوب کر ارشاد فرما رہے ہیں: “اے دنیا تو مجھے دھوکہ نہ دے، تیرا مقصد حقیر ہے۔” [مقالات خطیب اعظم، ص: 248 تا 252]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!