Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تواضع اور عاجزی کی فضیلت ( قسط:سوم) | امام احمد بن حجر مکی

تواضع اور عاجزی کی فضیلت (قسط:سوم)
عنوان: تواضع اور عاجزی کی فضیلت (قسط:سوم)
تحریر: شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

115۔ خاتمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "ہر آدمی کے سر میں دو زنجیریں ہوتی ہیں: ایک زنجیر کا سرا ساتویں آسمان پر اور دوسری کا ساتویں زمین میں ہوتا ہے، اگر وہ عاجزی کرے تو اللہ عزوجل زنجیر کے ذریعے اس کا درجہ ساتویں آسمان تک بلند فرما دیتا ہے اور اگر وہ تکبر کرتا ہے تو اللہ عزوجل (دوسری) زنجیر کے ذریعے اسے ساتویں زمین تک گرا دیتا ہے۔" [المرجع السابق، الحدیث: 5742، ج 3، ص 50]

116۔ سیّدِ مُبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جو دنیا میں سرکشی کرے گا اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے ذلیل کرے گا اور جو دنیا میں تواضع اختیار کرے گا اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجے گا جو کہے گا: ’اے نیک بندے! اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے قرب میں آ جا کہ تو ان لوگوں میں سے ہے جن پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ کچھ غم۔‘ " [المرجع السابق، الحدیث: 5743، ج 3، ص 51]

117۔ شفیعِ المذنبین، انیس الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جو حسین و جمیل اور شریف الاصل ہونے کے باوجود منکسر المزاج ہو گا تو وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جنہیں اللہ عزوجل قیامت کے دن نجات عطا فرمائے گا۔" [حلیۃ الاولیاء، رقم: 7777، ج 3، ص 222]

مسلمان کا بچا ہوا پانی پینے کی فضیلت:

118۔ محبوبِ ربِّ العٰلمین، جنابِ صادق و امین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "عاجزی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے مسلمان بھائی کا جوٹھا یعنی بچا ہوا پانی پی لے اور جو اپنے بھائی کا جوٹھا پیتا ہے اس کے 70 درجات بلند کر دیے جاتے ہیں، 70 گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور اس کے لئے 70 نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔" [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحدیث: 5745، ج 3، ص 51]

کھردرا لباس جنت کے لباس سے بدل جائے گا:

119۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جو اللہ عزوجل کی خاطر زینت ترک کر دے اور اللہ عزوجل کی خاطر تواضع کرے اور اس کی رضا چاہتے ہوئے کھردرا لباس اپنائے تو اللہ عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے کہ وہ اسے جنت کے نفیس لباس سے تبدیل فرما دے۔" [المرجع السابق، الحدیث: 5746، ج 3، ص 51، "تبدل" بدله "يكسوه"]

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تواضع:

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کی طرف تشریف لے گئے تو حضرت سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں گھٹنوں تک پانی تھا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹنی سے اترے اور اپنے موزے اتار کر اپنے کندھے پر رکھ لئے، پھر اونٹنی کی لگام تھام کر پانی میں داخل ہو گئے۔ تو حضرت سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ’اے امیر المؤمنین! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کام کر رہے ہیں، مجھے یہ پسند نہیں کہ یہاں کے باشندے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نظر اٹھا کر دیکھیں۔‘ تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ’افسوس! اے ابو عبیدہ! اگر یہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا تو میں اسے امتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے لئے عبرت بنا دیتا۔ ہم ایک بے سرو سامان قوم تھے، پھر اللہ عزوجل نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی، جب بھی ہم اللہ عزوجل کی عطا کردہ عزت کے علاوہ کہیں اور سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو اللہ عزوجل ہمیں رسوا کر دے گا۔‘

120۔ مَخْزنِ جُود و سخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو تنگی نہ ہوتے ہوئے تواضع اختیار کرے اور جائز طریقے سے حاصل کیا ہوا مال راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرے اور محتاج و مسکین پر رحم کرے اور اہل علم و فقہ سے میل جول رکھے۔" [المعجم الكبير، الحدیث: 4616، ج 5، ص 72]

121۔ مروی ہے کہ محبوبِ ربِّ العزّت، محسنِ انسانیت ﷺ مقامِ قبا میں ہمارے ساتھ تھے جبکہ آپ ﷺ روزے سے تھے۔ افطار کے وقت ہم آپ ﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک برتن لے کر حاضر ہوئے جس میں ہم نے کچھ شہد بھی ملا دیا تھا۔ جب آپ ﷺ نے اسے اٹھا کر چکھا اور اس کی مٹھاس پائی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’یہ کیا ہے؟‘ ہم نے عرض کی: ’یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے اس میں کچھ شہد ملا دیا ہے۔‘ تو آپ ﷺ نے وہ برتن رکھ دیا اور ارشاد فرمایا: ’میں اسے حرام قرار نہیں دیتا مگر جو اللہ عزوجل کے لئے تواضع اختیار کرے تو اللہ عزوجل اسے رفعت عطا فرماتا ہے، جو تکبر کرے اللہ عزوجل اسے رسوا کر دیتا ہے، جو میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ عزوجل اسے غنی فرما دیتا ہے، جو فضول خرچی کرتا ہے اللہ عزوجل اسے تنگدست کر دیتا ہے اور جو کثرت سے اللہ عزوجل کا ذکر کرتا ہے اللہ عزوجل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔‘ [اتحاف السادة المتقين، كتاب الذم الكبير، ج 10، ص 253]

122۔ اس حدیثِ پاک کو بزار نے بھی روایت کیا ہے مگر اس میں نہ تو مقامِ قبا کا ذکر ہے اور نہ یہ الفاظ ہیں کہ ’جو اللہ عزوجل کا کثرت سے ذکر کرتا ہے اللہ عزوجل اس سے محبت کرنے لگتا ہے‘۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!