Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ضروریات اہل سنت کے دلائل (قسط: چہارم)

ضروریات اہل سنت کے دلائل (قسط: چہارم)
عنوان: ضروریات اہل سنت کے دلائل (قسط: چہارم)
تحریر: طارق انور مصباحی (توپسیا، کلکتہ)
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

(۴) امام شہاب الدین خفاجی حنفی مصری (۹۶۹ھ - ۱۰۶۹ھ) نے رقم فرمایا:

وَذَهَبَ (إِلَى تَصْوِيبِ أَقْوَالِ الْمُجْتَهِدِينَ) أَيِ الْقَوْلِ بِأَنَّهَا صَوَابٌ (فِي أُصُولِ الدِّينِ) مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِالِاعْتِقَادِ كَالِاجْتِهَادِ فِي الْفُرُوعِ (فِيمَا كَانَ عُرْضَةً) أَيْ قَابِلًا (لِلتَّأْوِيلِ) وَفِي الْأَسَاسِ: فَرَسٌ عُرْضَةٌ لِلسِّبَاقِ أَيْ قَوِيَّةٌ عَلَيْهِ مُطِيقَةٌ لَهُ، انْتَهَى، كَأَنَّهُ لِقَابِلِيَّتِهِ تُعْرَضُ لَهُ۔
(وَفَارَقَ) أَيْ خَالَفَ الْعَنْبَرِيُّ (فِي ذَلِكَ) الْقَوْلِ الَّذِي قَالَهُ فِي تَجْوِيزِهِ الِاجْتِهَادَ فِي أُصُولِ الدِّينِ وَفَارَقَ (فِرَقَ الْأُمَّةِ) مِنْ عُلَمَاءِ الشَّرْعِ وَالسُّنَّةِ وَالْمُتَكَلِّمِينَ، فَإِنَّهَا أُمُورٌ سَمْعِيَّةٌ لَابُدَّ فِيهَا مِنْ نَقْلٍ صَحِيحٍ (إِذْ أَجْمَعُوا) أَيْ عُلَمَاءُ الْأُمَّةِ (سِوَاهُ) أَيْ غَيْرَ الْعَنْبَرِيِّ (عَلَى أَنَّ الْحَقَّ فِي أُصُولِ الدِّينِ) وَالْعَقَائِدِ (فِي وَاحِدٍ) لَا يَقْبَلُ التَّعَدُّدَ لِبَرَاهِينِهِ الْقَطْعِيَّةِ فَلَيْسَ كَالْفُرُوعِ الَّتِي هِيَ مَحَلُّ الِاجْتِهَادِ۔
وَذَهَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى أَنَّ كُلَّ مُجْتَهِدٍ فِيهَا مُصِيبٌ وَفِي نُسْخَةٍ ”فِي الْوَاحِدِ“ (وَالْمُخْطِئَ فِيهِ) الَّذِي لَمْ يُصَادِفِ الْحَقَّ الْوَاحِدَ (آثِمٌ عَاصٍ فَاسِقٌ) لِعُدُولِهِ عَنِ الْحَقِّ بِرَأْيِهِ (وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي تَكْفِيرِهِ) بِاجْتِهَادِهِ الْمُخْطِئِ فِيمَا لَيْسَ مَحَلَّ الِاجْتِهَادِ وَإِنَّمَا مَحَلُّهُ الْفُرُوعُ الْعَمَلِيَّةُ فَهُوَ مُثَابٌ فِي اجْتِهَادِهِ سَوَاءٌ قُلْنَا: الْمُصِيبُ وَاحِدٌ أَمْ لَا؟ عَلَى مَا اشْتَهَرَ فِي الْأُصُولِ أَمَّا فِي أُصُولِ الدِّينِ فَالْمُصِيبُ وَاحِدٌ قَطْعًا فَلَا وَجْهَ لِلِاجْتِهَادِ فِيهَا وَإِنْ بَذَلَ وُسْعَهُ وَجُهْدَهُ۔
(نسیم الریاض: جلد ششم: ص ۳۳۸ - دار الکتب العلمیہ بیروت)
ترجمہ: عبید اللہ بن حسن عنبری معتزلی (م ۱۶۸ھ) نے فروعی مسائل میں اجتہاد کی طرح اعتقاد سے تعلق رکھنے والے قابلِ تاویل اصولِ دین میں اجتہاد کرنے والوں کے اقوال کے صحیح ہونے کا مذہب اختیار کیا کہ وہ اقوال صحیح ہیں۔
اساس البلاغہ میں ہے: گھوڑی گھڑ دوڑ (ریس) کے قابل ہے، یعنی مقابلے کی قوت و طاقت رکھنے والی ہے۔ (اساس کی عبارت مکمل ہوئی)، گویا کہ وہ گھوڑی اپنی لیاقت کے سبب مقابلہ کے لیے پیش کی جاتی ہے۔
اور عبید اللہ عنبری معتزلی امت کی تمام جماعتوں یعنی سنت و شریعت کے علما (فقہائے اسلام) اور متکلمین سے جدا ہو گیا، یعنی اس نے مخالفت کی اس قول میں جو اس نے اصولِ دین میں اجتہاد کو جائز قرار دینے سے متعلق کہا، کیوں کہ یہ سمعی امور ہیں، ان میں نقلِ صحیح ضروری ہے، اس لیے کہ عنبری کے علاوہ سبھوں نے یعنی علمائے امت نے اس پر اجماع کیا کہ اصولِ دین اور عقائد میں ایک حق ہے، وہ (اصولِ دین و عقائد) اپنے قطعی دلائل کے سبب تعدد کو قبول نہیں کرتے ہیں، پس اصولِ دین ان فروع کی طرح نہیں جو محلِ اجتہاد ہیں۔
اور بعض معتزلہ اس جانب گئے کہ اصولِ دین میں ہر اجتہاد کرنے والا صحیح ہے۔
اور ایک نسخہ میں (فی واحد کی جگہ) فی الواحد ہے۔
اور اصولِ دین میں خطا کرنے والا، جس نے ایک حق (حق جو ایک ہے) کو نہ پایا، آثم، عاصی و فاسق ہے، اس کے اپنی رائے کے سبب حق سے عدول کرنے کے سبب۔
صرف اس کی تکفیر میں اختلاف ہے، اس کے اس امر میں اجتہادی خطا کر جانے کے سبب جو محلِ اجتہاد نہیں ہے اور محلِ اجتہاد فروعِ عملیہ ہیں، پس فروعِ عملیات میں اجتہاد کرنے والا اپنے اجتہاد میں ثواب پانے والا ہے، خواہ ہم کہیں کہ: صحت کو پانے والا ایک ہے، یا یہ نہ کہیں، جیسا کہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں مشہور ہے، لیکن اصولِ دین (قطعی عقائد) میں صحت کو پانے والا یقینی طور پر ایک ہے، پس اصولِ دین میں اجتہاد کی کوئی صورت نہیں، اگرچہ اپنی کوشش و محنت صرف کرے۔

اصولِ دین میں قابلِ تاویل امور سے ضروریاتِ دین کی قسمِ دوم مراد ہے جو قطعی بالمعنی الاعم دلائل سے ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے منکر کی تکفیر میں اختلاف ہے۔ متکلمین اس کے منکر کو ضال و گمراہ کہتے ہیں اور فقہائے احناف اور ان کے مؤیدین کافرِ فقہی کہتے ہیں۔
قطعی علم ہونے کی حالت میں ضروریاتِ دین کا انکار ہو تو کفرِ کلامی ہے، خواہ تاویل کے ساتھ انکار ہو، یا بلا تاویل۔ ضروریاتِ اہل سنت کی قطعیت کا علم ہو جانے کے بعد تاویلِ فاسد کے ساتھ ان کے انکار پر فقہائے احناف اور ان کے مؤیدین حکمِ کفر نافذ کرتے ہیں اور متکلمین اور مذہبِ کلامی کے متبع فقہائے کرام ضلالت و گمراہی کا حکم نافذ کرتے ہیں۔

نسیم الریاض کی عبارت اس طرح ہونی چاہئے: (كَأَنَّهَا لِقَابِلِيَّتِهَا تُعْرَضُ لَهُ)
شاید کاتب کی بے توجہی کے سبب تبدیلی آگئی ہوگی اور (كأنه) مرقوم ہو گیا۔
اساس البلاغہ میں ہے: (هَذِهِ الْفَرَسُ عُرْضَةٌ لِلسِّبَاقِ أَيْ قَوِيَّةٌ عَلَيْهِ مُطِيقَةٌ لَهُ) (اساس البلاغہ: جلد دوم: ص ۱۰۲ - مکتبہ شاملہ)
لفظِ فرس مذکر و مؤنث دونوں کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔ کبھی مؤنث کے لیے لفظ (فرسۃ) کا استعمال ہوتا ہے۔ اساس البلاغہ میں مؤنث اسمِ اشارہ (هذه) اور مؤنث صفات (قوية و مطيقة) سے ظاہر ہے کہ یہاں مؤنث یعنی گھوڑی مراد ہے: واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
نسیم الریاض میں پہلے مؤنث صفات (قوية و مطيقة) کا ذکر ہے، پھر ضمیر مذکر (ه) یعنی (كأنه) مرقوم ہے۔ مؤنث صفات سے واضح ہے کہ یہاں پر مؤنث ضمیر ہونا چاہئے۔

اجتہادی و غیر اجتہادی امور
درج ذیل دلائل سے ثابت ہونے والے احکام و مسائل میں اجتہاد جائز نہیں:
(۱) قطعی الثبوت بالمعنی الاخص و قطعی الدلالت بالمعنی الاخص
(۲) قطعی الثبوت بالمعنی الاخص و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم
(۳) قطعی الثبوت بالمعنی الاعم و قطعی الدلالت بالمعنی الاخص
(۴) قطعی الثبوت بالمعنی الاعم و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم

درج ذیل دلائل سے ثابت ہونے والے احکام و مسائل میں اجتہاد جائز ہے:
(۱) قطعی الثبوت بالمعنی الاخص و ظنی الدلالت بالمعنی الاخص
(۲) قطعی الثبوت بالمعنی الاخص و ظنی الدلالت بالمعنی الاعم
(۳) قطعی الثبوت بالمعنی الاعم و ظنی الدلالت بالمعنی الاخص
(۴) قطعی الثبوت بالمعنی الاعم و ظنی الدلالت بالمعنی الاعم
(۵) ظنی الثبوت بالمعنی الاخص و قطعی الدلالت بالمعنی الاخص
(۶) ظنی الثبوت بالمعنی الاخص و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم
(۷) ظنی الثبوت بالمعنی الاخص و ظنی الدلالت بالمعنی الاخص
(۸) ظنی الثبوت بالمعنی الاخص و ظنی الدلالت بالمعنی الاعم
(۹) ظنی الثبوت بالمعنی الاعم و قطعی الدلالت بالمعنی الاخص
(۱۰) ظنی الثبوت بالمعنی الاعم و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم
(۱۱) ظنی الثبوت بالمعنی الاعم و ظنی الدلالت بالمعنی الاخص
(۱۲) ظنی الثبوت بالمعنی الاعم و ظنی الدلالت بالمعنی الاعم
(۱۳) جس بارے میں نہ نص ہو، نہ ہی اجماع ہو، اس میں بھی اجتہاد ہوتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!