| عنوان: | ضروریات اہل سنت کے دلائل (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی (توپسیا، کلکتہ) |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
فقہائے کرام کے یہاں قطعی کی ایک تیسری قسم بھی ہے، یعنی جس میں جانبِ مخالف کا احتمال ہو، اور اس احتمال پر کوئی مضمحل و ناقابلِ اعتبار دلیل ہو، وہ بھی قطعی ہے۔ چوں کہ یہ دلیل ناقابلِ اعتبار ہوتی ہے، لہٰذا فقہائے کرام اپنے اصول و قوانین کے مطابق اس مضمحل دلیل کا لحاظ نہیں فرماتے۔ اس قطعی سے ضروریاتِ اہل سنت کا ثبوت نہیں ہوتا۔ فقہائے کرام اس قسمِ سوم کو بھی قطعی بالمعنی الاعم کہتے ہیں اور متکلمین کے یہاں جو قطعی بالمعنی الاعم اور قطعی بالمعنی الاخص ہیں، فقہائے کرام ان دونوں قطعیات کو قطعی بالمعنی الاخص کہتے ہیں۔
کتاب الشفا کی منقولہ بالا عبارت میں ” فیما کان عرضۃ للتاویل“ سے قطعی بالمعنی الاعم امورِ دینیہ مراد ہیں جن کی دلیل میں احتمالِ بعید کی گنجائش ہوتی ہے۔ ایسے دینی امور ضروریاتِ اہل سنت میں شمار ہوتے ہیں۔ اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اصولِ دین میں دونوں قسم کے امورِ دینیہ کا شمار ہوتا ہے۔ جن اصولِ دین کے دلائل میں احتمالِ بعید ہو، ان کو ضروریاتِ دین قسمِ دوم میں شمار کیا جاتا ہے۔ ضروریاتِ دین کی قسمِ دوم کو ضروریاتِ اہل سنت کہا جاتا ہے۔ ضروریاتِ دین کی قسمِ اول ناقابلِ تاویل دینی امور ہیں۔
عنبری کے قول میں ضروریاتِ دین مراد نہیں ہیں، یعنی اس نے ضروریاتِ دین میں اجتہاد کرنے والوں کو صحیح نہیں کہا، بلکہ ضروریاتِ اہل سنت میں اجتہاد کرنے والے کو صحیح کہا۔
(۲) امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:
الذي نقل عن العنبرى هو استثناء ضروريات الدين ألا ترى الى قوله: فيما كان عرضة للتأويل۔ (المعتمد المستند: ص ۲۱۴ - المجمع الاسلامی مبارک پور)ترجمہ: عبید اللہ بن حسن عنبری معتزلی (م ۱۶۸ھ) سے جو منقول ہے، وہ ضروریاتِ دین کا استثناء ہے۔ کیا تم عنبری کا قول (جس میں تاویل کی گنجائش ہو) نہیں دیکھتے۔
عنبری معتزلی نے صراحت کر دی ہے کہ جن اصولِ دین میں تاویل (تاویلِ بعید) کی گنجائش ہو، اس میں اجتہاد کرنے والا صحیح و غیر خاطی ہے۔ ضروریاتِ دین کی دلیل میں تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی ہے، پس عنبری معتزلی کے قول سے ضروریاتِ دین مستثنیٰ ہیں۔
اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ اصولِ دین میں ایک ہی قول حق ہے۔ اس کے علاوہ سب باطل ہیں۔ اصولِ دین کی دونوں قسموں کے انکار کا حکم جداگانہ ہے۔
ظنی امور کے دلائل میں بھی تاویل کی گنجائش ہوتی ہے، لیکن یہ ظنی امور اصولِ دین نہیں، بلکہ فروعِ دین ہیں اور کتاب الشفا کی مذکورہ عبارت میں اصولِ دین کی بحث ہے۔ ہاں، وہ ظنی عقائد جو اجماعی ہیں، ان کا شمار بھی اصولِ دین میں ہوتا ہے۔ اجماع کے بعد ظنی اجماعی عقائد کا انکار بھی ضلالت و گمراہی ہے، کیوں کہ اس مسئلہ کی دلیل اگرچہ ظنی ہے، لیکن اس پر اجماع ہو چکا ہے۔ اس مسئلہ کے انکار سے اجماع کا انکار ہوگا۔
(۳) ملا علی قاری حنفی (۹۳۰ھ - ۱۰۱۴ھ) نے رقم فرمایا:
قَدْ ذَهَبَ (إِلَى تَصْوِيبِ أَقْوَالِ الْمُجْتَهِدِينَ) أَجْمَعِينَ (فِي أُصُولِ الدِّينِ) وَلَوْ كَانُوا مِنَ الْمُبْتَدِعِينَ (فِيمَا كَانَ عُرْضَةً لِلتَّأْوِيلِ) أَيْ قَابِلًا لَهُ مِمَّا لَمْ يَرِدْ فِيهِ نَصٌّ صَرِيحٌ كَتَأْوِيلِ الْمُعْتَزِلَةِ أَنَّهُ تَعَالَى مُتَكَلِّمٌ بِخَلْقِهِ الْكَلَامَ فِي جِسْمٍ مُتَمَسِّكِينَ بِشَجَرَةِ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ (وَفَارَقَ) الْعَنْبَرِيُّ (فِي ذَلِكَ) الْقَوْلِ (فِرَقَ الْأُمَّةِ) أَيْ طَوَائِفَهَا مِنَ النَّاجِيَةِ وَغَيْرِهَا (إِذْ أَجْمَعُوا سِوَاهُ عَلَى أَنَّ الْحَقَّ فِي أُصُولِ الدِّينِ وَاحِدٌ وَالْمُخْطِئَ فِيهِ آثِمٌ عَاصٍ فَاسِقٌ وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي تَكْفِيرِهِ) عَلَى مَا سَبَقَ بَعْضُ تَحْرِيرِهِ، وَأَمَّا فُرُوعُ الدِّينِ فَالْمُخْطِئُ فِيهَا مَعْذُورٌ بَلْ مَأْجُورٌ بِأَجْرٍ وَاحِدٍ وَالْمُصِيبُ لَهُ أَجْرَانِ كَمَا فِي حَدِيثٍ وَرَدَ بِذَلِكَ۔ترجمہ: عبید اللہ بن حسن عنبری معتزلی (م ۱۶۸ھ) نے ان اصولِ دین میں تمام اجتہاد کرنے والوں کے اقوال کے صحیح ہونے کا مذہب اختیار کیا، اگرچہ وہ مجتہدین اصحابِ بدعت ہوں، جن اصولِ دین میں تاویل کی گنجائش ہو، یعنی وہ قابلِ تاویل ہوں جن میں نصِ صریح وارد نہ ہو، جیسے شجرِ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے استدلال کرتے ہوئے معتزلہ کی تاویل کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کسی جسم میں اپنے کلام کو پیدا فرما کر کلام فرماتا ہے۔
(شرح الشفا: جلد دوم: ص ۷۰ ۵ - دار الکتب العلمیہ بیروت)
اور عبید اللہ بن حسن عنبری معتزلی اس قول میں امت کی تمام ناجی و غیر ناجی جماعتوں سے جدا ہو گیا، کیوں کہ عنبری معتزلی کے علاوہ تمام جماعتوں کا اس پر اجماع ہے کہ اصولِ دین میں ایک ہی حق ہے اور اس (قابلِ تاویل اصولِ دین) میں خطا کرنے والا آثم، عاصی و فاسق ہے اور صرف اس کی تکفیر میں اختلاف ہے، جیسا کہ اس کی بعض تشریح گزر چکی۔
اور لیکن فروعِ دین، پس اس میں خطا کر جانے والا معذور، بلکہ ایک ثواب کا مستحق ہے اور صحت کو پانے والے کے لیے دو اجر ہے، جیسا کہ حدیث میں اس کا بیان آیا۔
فروعِ دین سے امورِ عملیہ اجتہادیہ یعنی مسائلِ فقہیہ اجتہادیہ مراد ہیں جو ظنی ہوتے ہیں جن میں اجتہاد جائز ہے۔ مجتہد اپنے دلائل کی روشنی میں ظنی امور میں اختلاف کرے تو یہ اختلاف جائز و صحیح ہے۔ اگر حق کو پالے تو دو اجر ہے، لغزش ہو جائے تو ایک اجر ہے۔
قطعیاتِ کلامیہ کی دونوں قسموں یعنی قطعی بالمعنی الاخص و قطعی بالمعنی الاعم میں اجتہاد جائز نہیں۔ اسی طرح جن ظنی امور پر اجماع قائم ہو، ان میں بھی اجتہاد جائز نہیں۔ ایسے امور فقہائے کرام کے یہاں قطعیات کی قسمِ سوم میں شامل ہیں۔ قطعیات کی قسمِ سوم کا منکر گمراہ و بدعتی (گمراہِ محض) قرار پاتا ہے۔ وہ کافر کلامی و کافر فقہی نہیں ہوتا ہے، جیسے تفضیلیہ۔
