| عنوان: | امام احمد رضا اور علم توقیت (قسط: پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد رفیق الاسلام نوری منتظری |
| پیش کش: | نوری کرن |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
آج کے جدید دانشوروں کے چند مسلمات حاضرِ خدمت ہیں:
(1) کرۂ زمین پر روشنی سورج کی مرہونِ منت ہے۔
(2) شعاعِ بصری بلا حجاب شمسی کرنوں کا سامنا نہیں کر سکتی ہے۔
(3) فضاءِ بسیط سطحِ زمین پر کثیف تر ہے یہ کثافت بخارات اور زمینی ذرات کی وجہ سے ہے۔
(4) سطحِ زمین سے دوری بڑھتی جائے گی کثافت میں کمی آتی جائے گی۔ یہ ہوائے کثیف 45 یا 52 میل تک ہے۔
(5) زمین کی طرح ہوائے کثیف بھی کروی ہے۔
(6) کسی بھی دائرہ میں دو قطر اگر زاویہ قائمہ پر ایک دوسرے کو قطع کریں تو نقطۂ تقاطع مرکزِ دائرہ ہوگا۔
(7) دائرہ کے درمیان جو بھی خطِ مستقیم فرض کیا جائے اگر اس کا مرور مرکز پر نہ ہو تو قطر سے چھوٹا ہوگا۔
(8) مرکز سے بعد میں زیادتی خطِ مستقیم میں نقصان کا سبب بنے گی۔
(9) سطحی مثلث قائم الزاویہ میں قاعدہ اور عمود کے مربع کا مجموعہ وتر کے مربع کے برابر ہوگا۔
(10) نصف قطر کے کسی بھی نقطہ سے زاویہ قائمہ پر خارج خطِ مستقیم جو دائرہ تک وصل کرے نصف قطر سے چھوٹا ہوگا۔
ہفت اقلیم میں بوقتِ نصف النہار کسے جرات کہ بے حجاب سورج کو آنکھیں دکھائے لیکن یہی سورج جب افقِ مغرب یا مشرق میں ہوتا ہے تو ایک دلفرہب منظر پیش کرتا ہے بلکہ اختلافِ مواضع کی وجہ سے ایک ہی وقت میں جو سورج 'لندن' پر آگ برساتا ہے وہی اسی وقت 'ڈھاکہ' والوں کو دعوتِ نظارہ پیش کرتا ہے، آخر ایسا کیوں جبکہ وقت بھی ایک اور سورج بھی ایک۔ اسی مسئلہ کو سمجھاتے ہوئے عالمِ اسلام کے عظیم محقق فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں فضاءِ بسیط کے رازِ سربستہ کو بے نقاب کیا ہے اور فرمایا کہ:
“زمین کے سب طرف کرۂ بخار ہے جسے عالمِ نسیم یا عالمِ لیل و نہار بھی کہتے ہیں اور یہ ہر طرف سطحِ زمین سے 45 میل یا قولِ اوائل پر 52 میل اونچا ہے،” الخ
یعنی فاضل بریلوی نے فرمایا کہ ایک ہی وقت میں سورج کے یہ متضاد اوصاف نہیں ہیں کہ لندن میں آگ برسائے اور ڈھاکہ میں پھول بلکہ یہ تو اختلافِ مواضع کی کارستانی ہے کہ لندن میں جو سورج نصف النہار میں ہے ڈھاکہ میں وہی غروب ہوتا نظر آ رہا ہے اور عالمِ نسیم نے اس وقت ڈھاکہ والوں کو اس عینک سے آزاد کر دیا ہے۔ لندن والے اس وقت سورج کو دیکھنے کے لئے جسے استعمال کرتے ہیں حالانکہ عالمِ لیل و نہار ان دونوں جگہوں کے سر پر برابر ہے۔ اس کے باوجود یہ اختلاف کیوں پڑا؟ لندن میں نصف النہار لیکن ڈھاکہ والوں کے لئے وقتِ عصر کا وقتِ مکروہ۔ وہاں سورج کی طرف نگاہ اٹھانے کی تاب نہیں، یہاں وہی جاذبِ نظر ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
فاضل بریلوی نے اپنے مخصوص انداز میں اسی کو بیان فرمایا ہے، ... قولِ اواخر 45 میل عالمِ نسیم کی بلندی کو پیشِ نظر رکھیں۔ جس پر فاضل بریلوی نے اعتماد کیا۔ اب سطحِ زمین سے ایک خطِ مستقیم مرکزِ شمس تک وصل کرے گا، دوسرا مرکزِ زمین سے مرکزِ شمس تک، تیسرا مرکزِ زمین سے موضعِ رائی سطحِ زمین تک۔ ان خطوط سے ایک مثلث بنا جس میں مرکزِ زمین کا زاویہ قائمہ ہے۔
ہمارے کچھ باوقار علماء نے اسی مثلث سے عالمِ نسیم کی پیمائش کی ہے جبکہ اس مثلث سے بعدِ شمس کو تو دریافت کیا جا سکتا ہے لیکن ہوائے کثیف کی نہیں۔ مزید سطحِ زمین سے مرکزِ شمس اور مرکزِ زمین سے مرکزِ شمس کے دونوں خط کو مساوی قرار دیا گیا ہے جبکہ یہاں سطحِ زمین والا خطِ مستقیم وتر ہے اور دوسرا قاعدہ اس کے باوجود ان دونوں کو مساوی قرار دینا ضابطۂ مسلمہ مذکورہ نمبر (9) نو کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ سطحِ زمین اور مرکزِ زمین دونوں جگہ زاویہ کو قائمہ بتایا گیا۔ اس کے باوجود دونوں کو برابر ماننا مسلمہ ضابطہ نمبر (8) آٹھ کے خلاف ہے پھر بھی اگر دونوں خط برابر ہیں تو پھر مسلمہ ضابطہ نمبر (5) پانچ کے خلاف ہے اور فضاۓ کثیف کروی نہ ہو کر مربع یا مکعب ہو جائے گی۔ اسی طرح متعدد تشریحات سامنے آئیں حالانکہ فاضل بریلوی کی نورانی عبارت کا مفہوم باوقار علمائے کرام سے مخفی نہیں ہے کہ سرکارِ اعلیٰ حضرت نے فرمایا ہے:
“دوپہر کے وقت کا خط اگر 45 ہی میل ہے جب بھی خطِ 'ار' یعنی وقتِ طلوع کا خط پانچ سو اٹھانوے میل سے بھی زائد ہے۔ الخ” [فتاویٰ رضویہ، ج: 2، ص: 260 / ج: 4، ص: 644]
اس نورانی عبارت سے فاضل بریلوی نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ کتبِ فقہ میں جو صراحت ہے کہ وقتِ مکروہِ طلوع اور غروب میں اس وقت کو کہا جاتا ہے جب آفتاب پر آنکھیں جمنے لگیں، دوپہر میں جس کی طرف آنکھ اٹھانے کی بھی جرات نہیں ہوتی تھی، اس وقتِ مکروہ میں اسی کو دیکھنے میں دقت کیوں نہیں ہوتی ہے؟
محقق بریلوی نے اس عبارت سے اسی راز کا انکشاف کیا ہے اور بتایا کہ دوپہر کے وقت انسان کے سر پر عالمِ کثیف کا جو علاقہ تھا اس کی بلندی صرف 45 میل تھی، لیکن غروب یا طلوع کے وقت انسان جب آفتاب کو دیکھتا ہے تو یہی لمبائی پانچ سو اٹھانوے میل سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ حالانکہ یہ اقل مقدار کے قول پر ہے جبکہ قولِ اوائل میں اس سے کافی زیادہ ہے۔
فاضل بریلوی کے پاس آخر وہ کون سا آلہ تھا جس سے آپ نے یہ پیمائش کی؟ کچھ حضرات نے اپنے حساب سے اس کی جستجو کی اور فضاۓ بسیط میں کافی بلندی تک پرواز کرتے رہے لیکن میری ناقص رائے میں وہ آلہ ایسے مثلث کا ہے جس کا کوئی بھی زاویہ مرکزِ شمس میں نہ ہوگا۔ اس مثلث کا ایک زاویہ مرکزِ زمین میں دوسرا زاویہ سطحِ زمین پر یعنی دیکھنے والے کی آنکھوں میں۔ تیسرا زاویہ فضاۓ بسیط کی اس سرحد میں جہاں ہوائے کثیف اور ہوائے صافی کا التقاء ہے یعنی جہاں شعاعِ بصری میں انکسار ہوتا ہے اس مثلث کا وہ زاویہ قائمہ ہے جو رائی کی آنکھ میں ہے، سطحی مثلث قائم الزاویہ کی پیمائش کا مسلمہ ضابطہ نمبر (9) نو میں گزرا کہ قاعدہ اور عمود کے مربع کا مجموعہ وتر کا مربع ہوگا، جن دونوں خط کی وجہ سے زاویہ قائمہ بنا ہے انھیں میں سے ایک قاعدہ ہوگا دوسرا عمود اور عمود کو قاعدہ پر تقسیم سے ظلّ زاویہ بنتا ہے جبکہ قاعدہ کو عمود پر تقسیم سے ظلّ تمام ہے۔
یہاں وتر کی مقدار ہمیں معلوم ہے۔ وہ مرکزِ زمین سے سطحِ ہوائے کثیف تک ہے اس کی لمبائی یہی ہے کہ نصفِ قطرِ زمین پر 45 میل کا اضافہ کیا جائے اور زمین کا نصف قطر استوائی 3963.296 میل + 45 میل = 4008.296 میل طویل وتر ہوا۔ اس کی معرفت کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ 45 میل ÷ 3963.296 میل = 0.011354 + 1 = 1.011354 وتر طویل ہوا اور اس کا مربع 1.022837 آیا، نصف قطر کو اس سے ساقط کیا تو 0.011354 باقی رہا، اور اس کا جذر 0.151119 ہے۔ یہی اس خطِ مستقیم کی لمبائی ہوئی جو بصرِ رائی سے خارج اور ہوائے کثیف کی سطح تک واصل ہے پھر میل میں اس کی جانکاری کے لئے نصف قطرِ زمین سے اسے ضرب دیا جائے یعنی 0.151119 × 3963.296 = 598.931 میل ہوا۔
سبحان اللہ! نتیجہ وہی برآمد ہوا جو فاضل بریلوی نے فرمایا تھا کہ طلوع یا غروب کے وقت یہ مسافت پانچ سو اٹھانوے میل سے بھی زائد ہے۔ مسلمہ ضابطہ نمبر (9) کے مطابق عمل ہوا تو وہی ثمرہ بر آمد ہوا جو فتاویٰ رضویہ میں ہے۔ اس روح پرور حکم پر بھی کچھ لوگ یہ شبہات ظاہر کر رہے ہیں۔
پہلا شبہ:
حساب سطحِ زمیں سے کیا گیا جبکہ آدمی چھ فٹ اونچا ہے
دوسرا شبہ:
چشمِ رائی سے خارج خطِ مستقیم یہاں مرکزِ شمس تک واصل ہے تو پھر نصف قطرِ زمین سے اس کا تقاطع قائمہ پر کیسے ہو گا جب کہ دوسرا خط مرکزِ زمیں سے مرکزِ شمس ہے۔
شبہ اول دراصل کوئی شبہ ہی نہیں اس لئے کہ نصف قطرِ زمین پر چھ فٹ کے اضافہ کی کوئی حیثیت ہی نہیں کہ چھ فٹ برابر ایک سو اسی سینٹی میٹر رکھئے، اور نصف قطرِ زمین چھ ہزار تین سو کلومیٹر سے بھی زائد اس کو صرف چھ ہزار کلومیٹر ہی مان لیا جائے تو 6000 ÷ 180 = 33.33 ایک سینٹی میٹر کے مقابلہ میں 33.33 کلومیٹر کی مسافت آئی یعنی انسان اور نصف قطرِ زمین میں تناسب میں ایک اور 3333330 ہے۔ یعنی ایک رائی کے دانہ کا ایک چوتھائی حصہ اگر ماؤنٹ ایورسٹ پر رکھ دیا جائے تو ہمالیہ کی بلندی پر کوئی قابلِ اعتبار اثر انداز نہیں ہو گا جبکہ انسان اور زمین میں یہ نسبت بھی نہیں ہے تو پھر ایسے شبہات کے اظہار کا کیا معنی؟
دوسرا شبہ قلتِ تأمل سے ناشی ہے کہ مرکزِ زمیں سے خارج خطِ مستقیم اور چشمِ رائی سے خارج خطِ مستقیم دونوں کو مرکزِ شمس تک واصل قرار دیا گیا جبکہ معاملہ یہ نہیں ہے وہ خطِ مستقیم جو مرکزِ زمیں سے مرکزِ شمس تک ممتد ہے، اس خط کے مساوی ضرور ہے جو سطحِ زمیں سے خارج اور آفتاب تک واصل ہے۔ یہ دونوں خطوط اگر چہ متوازی اور مساوی ہیں لیکن ان دونوں کا کوئی بھی جزء دوسرے کے کسی بھی جزء سے کہیں بھی متصل نہیں ہے۔ یہاں زمین میں دونوں کے مابین جو نصف قطرِ زمین کا فاصلہ ہے وہ سورج تک موجود ہے۔
لہٰذا ان دونوں خط سے شکلِ مستطیل کا وجود ہو گا نہ کہ مثلث کا سطحِ زمین سے وقتِ مکروہ کو دیکھنے والا اس وقت سورج کو دیکھ رہا تھا نہ کہ اس کے مرکز کو پھر یہ کہنا کیسے مناسب ہو گا کہ ایک مبدأ سے اگر دو خطِ مستقیم بہت دور تک پہنچے اور دونوں میں کچھ فاصلہ رہ جائے تو اس کو کالعدم قرار دیا جائے گا اور دونوں خط کو برابر مان لیا جائے گا جیسا کہ دورِ حاضر کے بعض مؤقر علماء کا خیال ہے۔
سیدنا سرکارِ اعلیٰ حضرت کی اس عبارت سے کہیں بھی اس کا پتہ نہیں چلتا ہے کہ آپ نے دونوں کا مبدأ یہاں مرکزِ شمس کو قرار دیا ہے بلکہ فاضل بریلوی کی دوسری تحریریں بتا رہی ہیں کہ جس طرح ان دونوں خطوط میں یہاں مرکزِ عالم میں 3963.296 میل کا فاصلہ ہے وہی بعد سورج میں بھی موجود ہے۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:
“ان 33 دقیقوں سے اختلافِ منظر کے 9 ثانیہ منہا کر کے باقی پر اس کا نصف قطرِ شمس زائد کریں یہ مقدارِ انحطاطِ شمس ہوگی۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 645]
وقتِ غروب کے بارے میں فاضل بریلوی نے یہ فرمایا ہے کہ مرکزِ شمس جب کسی بھی افقِ بلد پر منطبق ہو کر چہ یہ نجومی غروب یا طلوع کا وقت ہو گا لیکن عرفی کافی انحطاط میں ہے جس کا اعتبار شریعت میں ہے کہ ابھی نصف قطرِ شمس بالائے افقِ حقیقی ہے اس کے علاوہ منکسر الشعاع کے 33 دقیقے دونوں کا مجموعہ 22.5 دقیقہ نصف قطر + 33 دقیقہ انکسار = 55.5 دقیقہ ہوا۔ جب میل صفر ہو اور افقِ استوائی ہو تو نجومی غروب کے بعد یا طلوع سے پہلے 55.5 دقیقے کا مزید انحطاط سے ہی طلوع یا غروب ہونا چاہئے جس کا وقت تین منٹ بیالیس سیکنڈ ہے یعنی نجومی طلوع سے تین منٹ بیالیس سیکنڈ پہلے آفتاب کو طلوع کرنا چاہئے یا پھر غروب سے یہی مقدار بعد میں غارب ہونا چاہئے لیکن اس کے طلوع اور غروب میں اہلِ نجوم سے اہلِ عرف کا فاصلہ تین منٹ کے علاوہ پورے بیالیس سیکنڈ کا نہیں ہے بلکہ 0.6 سیکنڈ پہلے غروب اور اسی مقدار کی تاخیر سے طلوع کرتا ہے یعنی تین منٹ پورے بیالیس سیکنڈ نہیں بلکہ تین منٹ 41.4 سیکنڈ کا یہ فاصلہ ہے۔ یعنی ایک سیکنڈ کے پانچ حصے کئے جائیں ان میں سے تین حصہ پہلے غروبِ آفتاب ہو گا اور یہ فرق اس لئے پڑا کہ اختلافِ منظر کی طرف توجہ نہیں دی گئی اسی کے بارے میں محققِ بے بدل نے فرمایا:
“اختلافِ منظر کے 9 ثانیہ منہا کر کے باقی پر” الخ
9 ثانیہ کا یہ اختلاف سورج میں کہاں سے آیا دراصل نجومی طلوع یا غروب میں جب مرکزِ شمس افقِ بلد پر منطبق ہوا، اس وقت مرکزِ زمین سے خارج خطِ مستقیم بھی وہاں تک وصل کر چکا تھا لیکن اس وقت سورج کو دیکھنے والا انسان مرکزِ زمین میں نہیں بلکہ سطحِ زمین پر ہے اور ان دونوں مواضع کے مابین فاصلہ کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے سرکارِ اعلیٰ حضرت نے فرمایا:
“اختلافِ منظر کے 9 ثانیہ منہا کر کے” الخ
یعنی مرکزِ زمین سے سطحِ زمین کا فاصلہ نو ثانیہ فلکیہ ہے اور یہی نصف قطرِ شمس و شعاعِ بصریہ کے مجموعہ سے منہا ہو گا صاف ظاہر ہوا کہ جو فاصلہ ان دونوں خطوط میں یہاں ہے وہی سورج میں بھی موجود ہے اسی لئے تو اس کے لئے 9 ثانیہ کے اسقاط کا حکم آیا تو پھر یہ شبہ کیوں کیا جائے کہ فاضل بریلوی نے ایک سطحی مثلث میں دو زاویہ قائمہ مان لیا ہے۔
فاضل بریلوی کا یہ جملہ بڑا ہی انمول ہے بلکہ محققِ بے مثیل نے ایک ایسا پیمانہ علمائے کرام کے حوالہ کیا ہے جس سے ہمارے باوقار علماء یہاں سے سورج کا بعد اور اس کی ضخامت کی پیمائش بھی بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں۔ مثلاً یہاں تو سطح اور مرکز کا بعد صرف 9 ثانیہ کا ہوا جبکہ آفتاب تین منٹ میں غروب ہوتا ہے جس پر جدید سائنس دانوں کا بھی اتفاق ہے۔ لہٰذا قطرِ شمس 45 دقیقے کا ہو گا اسی سے 9 ثانیہ کو ساقط کیا جائے گا جو نصف قطرِ زمین کی پیمائش ہے ثوانی فلکیہ سے لہٰذا 9 × 2 = 18 ثوانی فلکیہ قطرِ زمین کی مقدار آیا جبکہ ایک دقیقہ ساٹھ ثوانی کا مجموعہ ہے تو 45 دقیقہ × 60 ثانیہ = 2700 ثانیہ کا قطرِ شمس ہوا اسے قطرِ زمین پر تقسیم سے دونوں کے درمیان کا تناسب ظاہر ہو گا یعنی 2700 ÷ 18 = 150 یعنی یہ زمین جس میں دیگر جزائر کے علاوہ ساتوں براعظم ہیں ساتوں سمندر ہیں، سیکڑوں دریا ہیں، ہزاروں ندیاں ہیں، ایک قطار میں اسی طرح کی ایک سو پچاس زمینیں رکھی جائیں ہر ایک دوسری سے ملی ہوئی ہو ٹرین کے ڈبوں کی طرح ایک دوسرے سے متصل ہوں، ڈیڑھ سو زمینوں کی اس قطار کی جو لمبائی ہو گی وہ سورج کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کے برابر ہو گی۔
اللہ تعالیٰ اس عظیم محقق کے روضہ پر تاحشر گہر باری کرے۔ اور ان کے نقوشِ قلم کو ہمارے لئے مشعلِ راہ بنائے رکھے۔ آمین۔ [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، اکتوبر، نومبر، دسمبر 2018، ج: 4، شمارہ: 32، ص: 482 تا 485]
