Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور علم توقیت (قسط: چہارم)|مفتی محمد رفیق الاسلام نوری منتظری

امام احمد رضا اور علم توقیت (قسط: چہارم)
عنوان: امام احمد رضا اور علم توقیت (قسط: چہارم)
تحریر: مفتی محمد رفیق الاسلام نوری منتظری
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

سیدنا سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

“قولِ سیدنا الامامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہی مثلین بعد فئی الزوال ہے۔ اور وہی احوط، وہی اصح وہی من حیث الدلیل ارجح اسی پر اجماع و اطباق جملہ متونِ متین، وہی مختار و مرضی محققین شارحین اسی پر افتا اکثر کبرائے ائمہ مفتیین۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 2، ص: 253]

وقتِ عصر کے لیے امام احمد رضا نے اپنے ان چند جملوں میں سب کچھ بتا دیا ہے۔ اب وقتِ عصر کے لیے ہمیں سایۂ اصلی کی طرف توجہ مرکوز کرنی ہے۔ یہ سایۂ اصلی ہمیشہ ایک نہیں رہتا ہے۔ اس میں زیادتی و نقصان ہوتا رہتا ہے۔ رات میں جب کوئی سقفی بلب آن ہو اور اسی کے نیچے ایک آدمی فرش پر کھڑا ہو تو اس کا سایہ قریب معدوم ہوگا۔ شمال یا جنوب کی طرف اس شخص کے معمولی میلان سے آدمی کے مقابلہ میں سایہ کا میلان زائد ہوگا۔ یہ میلان عرضِ بلد ہے۔ بلب مثلِ سورج ہے۔ اور یہ سایہ سایۂ اصلی ہے۔ اور بلب میں چونکہ کوئی حرکت نہیں جبکہ سورج مغرب کو رواں دواں ہے۔ تو پھر آفتاب کی تبعی حرکت کے مطابق سایہ مشرق کی طرف جھکتا جائے گا۔ یہی سایۂ اصلی پر زیادتی ہے۔

اگر وہ آدمی چھ فٹ کا ہے، بریلی کی بابرکت زمین پر کھڑا ہے اور میلِ شمس جنوبی اٹھارہ ڈگری اڑتیس منٹ ہے تو اس کا سایۂ اصلی بھی چھ فٹ کا ہوگا۔ جب سایہ کا جھکاؤ مشرق کو ہوا اور اس آدمی کا تین گنا اس کا سایہ ہو جائے تو مذکورہ میل میں بریلی شریف کا وقتِ ظہر ختم ہو گیا کہ فئی اصلی کے علاوہ اور دو مثل پا لیا گیا ان میں ایک اصلی تھا اور دو زائد۔

یہیں سے وقتِ عصر کی ابتدا ہے۔ اسی مقدارِ حرکت کی معرفت اصل میں ابتداءِ عصر کی معرفت ہے۔ بائیس مارچ یا تئیس ستمبر کی تاریخ کو پیشِ نظر رکھیں۔ جب آفتاب معدل میں ہو، اور آپ بریلی شریف کے لیے وقتِ عصر کی جستجو میں ہیں تو اس وقت دائرۂ یومیہ اور بریلی کے دائرۂ سمتیہ کے تقاطع سے بننے والے زاویہ کی پیمائش آپ کی اولین ذمہ داری ہے۔ جبکہ اول السّموت اور معدل کا تقاطع اٹھائیس ڈگری بائیس منٹ پر ہے۔ اس کا ظل 0.54 ہے یعنی چھ فٹ آدمی کا سایۂ اصلی مذکورہ تاریخ میں شمال کی طرف قریب سوا تین فٹ کا ہوگا۔ اور جب اس پر دو مثل کا اور اضافہ کریں تو 2.54 کا ظل برآمد ہوا۔ جس کے لیے سمت الراس بلد اور شمس کے مابین کم از کم 68 ڈگری 33 منٹ کا بعد لازم ہے۔ اور اس کی جیب 0.9307 ہے۔

لہٰذا جیب عرضِ بلد 0.4751 ضرب جیب بعد 0.9307 مساوی برآمد جیب زاویہ 0.515

جدولِ جیب میں اس کی مقدار اکتیس ڈگری ہے جو مطلوب زاویہ کی مقدار ہے۔ پھر 90 ڈگری سے بعد کو ساقط کریں تو اس کا تمام اکیس ڈگری ستائیس منٹ باقی رہا۔

جبکہ مطلوب زاویہ جس کا حصول ہو چکا ہے اس کا قاطع 1.1666 ہے۔ تمام بعد کی جیب سے اس کا حاصلِ ضرب 0.4383 آیا۔ جدولِ جیب میں اس کی مقدار چھبیس ڈگری ہے۔ ہر ایک ڈگری میں جب حرکتِ وسطی چار منٹ ہے تو پھر اس میں ایک گھنٹہ چوالیس منٹ کا وقت ہوگا وقتِ غروبِ آفتاب سے۔ اسی کو ساقط کیا جائے تو وقتِ عصر کی ابتداء کا وقت برآمد نتیجہ ہوگا۔

امام احمد رضا اور اوقاتِ مکروہہ

علما ہی نہیں باشعور عوام بھی اچھی طرح سے واقف ہیں کہ عرفی دن میں تین وقت ایسے بھی پائے جاتے ہیں جنہیں وقتِ مکروہ کہا گیا ہے۔

ان میں پہلا وقت طلوعِ آفتاب کے بعد۔ دوسرا نصف النہار عرفی سے قبل۔ اور تیسرا قبلِ غروب۔

دن کے دونوں کناروں میں جو دو وقتِ مکروہ ہیں دونوں کی مقدار برابر ہے۔ ان دونوں کے مجموعہ کے برابر بلکہ اس سے بھی زائد وقتِ مکروہ قبلِ زوالِ آفتاب ہے۔ اس وقت شمسی کرنوں کی شدت میں تیزی ہوتی ہے جبکہ باقی دونوں وقتوں میں ان کرنوں پر فضائی کثافت کا غلبہ نظر آتا ہے۔ ان تینوں اوقات میں بھی امام احمد رضا نے اپنے فیوض و برکات سے ہمیں محروم نہیں رکھا۔ اور خوب سے خوب تر ہماری رہنمائی فرمائی:

“تجربہ سے یہ وقت تقریباً بیس منٹ ثابت ہوا ہے، تو جب سے آفتاب کی کرن چمکے اس وقت سے بیس منٹ گزرنے تک نماز نا جائز اور وقتِ کراہت ہوا۔ اور ادھر جب غروب کو بیس منٹ رہیں وقتِ کراہت آ جائے گا اور آج کی عصر کے سوا ہر نماز ممنوع ہو جائے گی۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 2، ص: 260]

اوقاتِ مکروہہ میں طرفین کے بیس بیس منٹ کی بنیاد فاضل بریلوی کے تجربات پر ہونے کے باوجود الحمد للہ ثم الحمد للہ ایک صدی سے زائد کا عرصہ گزر گیا خوش عقیدہ مسلمان تو مسرت و شادمانی سے بیس منٹ کی اس تقدیر پر لبیک کہتے رہے لیکن حاسدین اور معاندین کا فتویٰ بھی آج تک اسی رضوی تجربہ پر ہی ہے کہ ان دونوں کی مقداریں آج یہ لوگ بھی بیس بیس منٹ ہی بتا رہے ہیں۔ حالانکہ شرعِ پاک نے حرکتِ شمس کی اس مقدار کو نہیں بتایا ہے۔

بلکہ حالاتِ شمس کے تغیر کی طرف رہنمائی کی ہے۔ ان دونوں وقتوں میں سورج پر آنکھیں بلا تکلف جم جاتی ہیں۔ اور سورج بڑا دلکش نظر آتا ہے لیکن یہی حالات موسمِ سرما کے نصف النہار میں بھی آ سکتی ہیں۔ جب شمال میں عرضِ بلد پینتالیس ڈگری کے آس پاس ہو۔ اور میلِ جنوبی تحویلِ جدی میں ہو تو بلا تکلف خاص نصف النہارِ عرفی میں بھی آنکھیں ٹھہر جاتی ہیں۔ اس کے باوجود کوئی بھی وقتِ زوال کو وقتِ مکروہ نہیں کہتا ہے۔ اور قبلِ زوال ضحوۂ کبریٰ کو اگرچہ وقتِ کراہت میں بتایا گیا لیکن اس کی معرفت تغیرِ حالاتِ شمس کی وجہ سے نہیں بلکہ مقدارِ حرکت سے ہے۔

امام احمد رضا فرماتے ہیں:

“اور نہارِ شرعی طلوعِ فجر صادق سے غروبِ کلِ آفتاب تک ہے تو اس کا نصف ہمیشہ اس کے نصف سے پہلے ہوگا۔ مثلاً فرض کیجئے آج تحویلِ حمل کا دن ہے۔ آفتاب بریلی اور اس کے قریب مواضع میں جیب گھڑی کے 6 بجکر 7 منٹ پر چمکا اور 6 بجکر 14 منٹ پر ڈوبا۔ 4 بجکر 48 منٹ پر صبح ہوئی تو اس دن نہارِ شرعی 13 گھنٹے 26 منٹ کا ہے۔ جس کا آدھا 6 گھنٹے 43 منٹ ہوا۔ اسے 4 بجکر 48 منٹ پر بڑھایا تو 11 گھنٹے 31 منٹ کا وقت آیا اور نصف النہارِ شرعی وقتِ استواءِ حقیقی سے 20 منٹ پیشتر ہوا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 2، ص: 250]

نہارِ عرفی اور نہارِ شرعی میں چونکہ مقدارِ صبح کا تفاوت ہے عرفی دن کی ابتدا کا تعلق افقِ حسی شرقی سے ہے اور انتہا کا تعلق افقِ حسی غربی سے۔ اور شرعی دن مشرق میں زائد ہے نہ کہ مغرب میں اور وہ زیادتی وقتِ فجر ہے جس کی مدت وقتِ مغرب کے برابر ہے لیکن مغرب کا وقت جزءِ لیل ہے اور وقتِ فجر جزءِ نہار۔ پھر جب ان دونوں دنوں کی تنصیف ہو تو عرفی دن کا نصف قطر دائرہ نصف النہارِ عرفی میں پایا جائے گا۔ اور جب آفتاب اس دائرہ میں آئے گا تو یہی نصف النہارِ عرفی ہے، اور یہیں پر وقتِ کراہت کا خاتمہ ہوگا۔ اسی سے متصل غرب میں وقتِ زوال ہے۔ جہاں سے وقتِ ظہر کی ابتدا ہے۔

پھر نہارِ شرعی کی تنصیف کریں جو عرفی سے زائد ہے کہ وقتِ فجر اس میں داخل ہے تو اس کے نصف النہار کا نصفِ قطر یقیناً پہلے سے شرقی ہوگا اور دونوں میں تفاوت نصفِ وقتِ فجر کا ہوگا۔

امام اہل سنت نے اسی کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے کہ:

“نصف النہارِ شرعی وقتِ استواءِ حقیقی سے چالیس منٹ پیشتر ہوا۔”

اسی وقت کو ضحوۂ کبریٰ کہا جاتا ہے اور اس میں بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ اس وقت سورج پورے جاہ و جلال میں ہوتا ہے۔ اکثر مواضع سے کسی کو اس کی طرف نگاہیں اٹھانے کی جرات نہیں ہوتی ہے۔ بر خلاف باقی دونوں وقتوں میں کہ ان میں سورج دلکش اور خوبصورت ہوتا ہے۔ حالانکہ حالاتِ شمس کے تغیر پر نظر رکھنے والے حضرات بخوبی واقف ہیں کہ سورج میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے بلکہ شعاعِ بصری اور فضائی کثافت کا یہ کمال ہے۔

طرفین کے اوقاتِ مکروہہ میں سورج پر نگاہیں جمنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام احمد رضا فرماتے ہیں:

“زمین کے سب طرف بخار ہے جسے عالمِ نسیم اور عالمِ لیل و نہار بھی کہتے ہیں اور یہ ہر طرف سطحِ زمین سے 45 میل یا قولِ اوائل پر 52 میل اونچا ہے اس کی ہوا اوپر کی ہوا سے کثیف تر ہے تو آفتاب اور نگاہ میں اس کا جتنا زائد حصہ حائل ہوگا اتنا ہی نور کم نظر آئے گا اور نگاہ ٹھہرے گی۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 2، ص: 259]

ماہِ مبارک شعبان 1331ھ کو اس زمانہ میں عالمِ اسلام کی ممتاز ترین شخصیت امام احمد رضا کے دارالافتاء میں ایک مختصر سوال آیا تھا جو بمشکل ایک سطر میں تھا:

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عصر کا وقتِ مستحب و وقتِ مکروہ کیا ہے؟ [فتاویٰ رضویہ، ج: 2، ص: 258]

اس مختصر سوال کا جواب مذکورہ حوالہ میں کچھ اس انداز سے موجود ہے کہ ایک ایک جملہ سمندر کی طرح وسیع نظر آتا ہے۔ فاضل بریلوی نے دلائل سے قطعِ نظر صرف مسلماتِ فقہاء اور اہل ہیئت کے مقررات کو قلمبند فرما کر اپنا مدعا ثابت کیا ہے۔ یعنی بہت ہی اختصار سے جواب تحریر فرمایا ہے اس کے باوجود یہ جوابِ ہدایہ سائز کے پانچ صفحات پر مشتمل ہے۔ جب کوئی اہلِ ذوق اس کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کے معانی و مفاہیم کی گہرائی پر نظر ڈالتا ہے تو وہ اس نوکِ قلم کی رفعتِ شان کے تصور میں انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ یہ انمول نقوش جس کے شاہکار میں مطالعہ کرنے والا ایک ایک سطر کو پڑھتا ہے اور چشمِ تصور سے فاضل بریلوی کی شکل میں غوثِ اعظم کی کرامت کا مشاہدہ کرتا ہے اسی جواب کے وہ چند الفاظِ مبارکہ ہیں اوپر جن کا بیان ہے۔ اس کی تفہیم میں فاضل بریلوی نے ایک نقشہ بھی تحریر فرمایا ہے جس میں آپ نے زمین سے لے کر سورج تک کے وسیع ترین علاقہ کو بھی سمیٹ لیا ہے جو عالمِ لیل و نہار سے ماورا ہے۔

طوالت سے احتراز کرتے ہوئے فقہائے کرام کے مسلمات کو میں نے نقل نہیں کیا اور صرف ریاضی سے ہی کچھ کام لیا کہ آج ماڈرن دانشور نیوٹن و پیتھا گورس کے قوانین و تجربات کو حرزِ جاں سمجھ کر علمائے کرام سے دور ہوتے جا رہے ہیں نہ انہیں مذہب پر نظر ہے نہ عواقب کی خبر ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ چند احکامِ فقہیہ کے مجموعہ کا نام ہی علمِ دین ہے۔ [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، اکتوبر، نومبر، دسمبر 2018، ج: 4، شمارہ: 36، ص: 479 تا 482]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!