Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خود پسندی

خود پسندی
عنوان: خود پسندی
تحریر: شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی شافعی علیہ الرحمۃ
پیش کش: محمد فرید خان قادری مدنی
منجانب: جامعۃ المدینہ شاہ جہان پور

{49} خاتم المرسلین، رحمۃ للعلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’خود پسندی ستر سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔‘‘

{50} صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو سب سے بدصورت انسان ہوتا۔‘‘ [جامع الاحادیث للسیوطی، قسم الاقوال، الحدیث:۷۱۵۰، ج ۵، ص ۱۳۰]

{51} سید المبلغین، رحمۃ للعلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اگر تم گناہ نہ کرتے ہوتے تو تم پر گناہوں سے بڑی مصیبت ڈال دی جاتی جو کہ خود پسندی ہے۔‘‘ [شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، الحدیث: ۷۲۵۵، ج۵، ص۲۵۳]

{52} حضرت سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ’’حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی کوہِ مروہ پر ملاقات ہوئی تو دونوں حضرات آپس میں گفتگو کرنے لگے، پھر جب حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف لے گئے تو حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رونے لگے، لوگوں نے پوچھا: ’’اے ابو عبدالرحمٰن! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کس چیز نے رلایا ہے؟‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’انہوں نے یعنی حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے، جنہیں یقین ہے کہ انہوں نے محبوبِ ربِّ العالمین، جنابِ صادق و امین عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہوگا اللہ عزوجل اسے منہ کے بل جہنم میں گرائے گا۔‘‘ [شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، الحدیث: ۸۱۵۳، ج۶، ص ۲۸۰]

{53} تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوّت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اپنے فوت شدہ آباؤ اجداد پر فخر کرنے والی قوموں کو باز آ جانا چاہئے، کیونکہ وہی جہنم کا کوئلہ ہیں، یا وہ قومیں اللہ عزوجل کے نزدیک گندگی کے ان کیڑوں سے بھی حقیر ہو جائیں گی جو اپنی ناک سے گندگی کو کریدتے ہیں، اللہ عزوجل نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور ان کا اپنے آباء پر فخر کرنا ختم فرما دیا ہے، اب آدمی متقی و مؤمن ہوگا یا بد بخت و بدکار، سب لوگ حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی اولاد ہیں اور حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ [جامع الترمذی،ابواب المناقب،باب فی فضل الشام والیمن،الحدیث:۳۹۵۵،ص۲۰۵۵]

{54} حضرت سیدنا سلیمان بن داؤد علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام نے ایک دن جن وانس ، درندوں اور پرندوں کو باہر نکلنے کا حکم دیا تو دو لاکھ انسان اور دو لاکھ جن حاضر خدمت ہوگئے، پھر آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اتنے بلند ہوئے کہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے آسمانوں کے فرشتوں کی تسبیح کرنے کی آواز سن لی، پھر آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نیچے تشریف لائے یہاں تک کہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدم مبارک سمندر سے مل گئے کہ اچانک آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک آواز سنی: ’’اگر تمہارے ساتھی کے دل میں رائی کے دانے جتنا بھی تکبر ہوتا تو میں اسے اس سے بھی دور تک زمین میں دھنسا دیتا جتنا اسے بلندی پر لے گیا تھا۔‘‘

{55} مخزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اللہ عزوجل تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والے پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔‘‘ [صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب من جر ثوبہ من الخيلاء، الحدیث۵۷۸۸، ص۴۹۴]

{56} حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس حاضر ہوا تو حضرت سیدنا عبداللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے نئے کپڑے پہن رکھے تھے تو میں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’بیٹا! اپنا تہبند اونچا کرلو کیونکہ میں نے محبوبِ رَبِّ العزت، مُحسنِ انسانیت عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’اللہ عزوجل تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والے پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔‘‘ [صحیح مسلم، کتاب اللباس و الزینۃ، باب تحریم جر الثوب خيلاء، رقم ۵۲۵۳، ص ۱۰۵۱]

{57} سیدنا امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس روایت کو مرفوع ذکر کیا ہے اور اس میں حضرت سیدنا عبداللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قریب سے گزرنے کا ذکر نہیں۔‘‘ نیز امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی کی ایک روایت میں ہے: ’’گزرنے والا وہ شخص بنی لیث سے تھا جس کا نام مذکور نہیں۔‘‘

{58} شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اپنا لعابِ دہن اپنی مبارک ہتھیلی پر ڈالا پھر اس میں اپنی انگلی ڈال کر ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ’’اے فرزندِ آدم! کیا تو مجھے عاجز کرے گا؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا فرمایا ہے، یہاں تک کہ جب میں نے تجھے درست اور بے عیب پیدا کیا تو تو دو چادریں اوڑھ کر زمین پر اترا کر چلنے لگا، تو نے مال جمع کیا اور لوگوں سے روکے رکھا یہاں کہ جب تو انتہا کو جا پہنچا تو کہنے لگا: ’’میں صدقہ کروں گا۔‘‘ مگر اب صدقہ کا وقت کہاں؟‘‘ [المستدرک، کتاب الرقاق، باب اشقی الاشقیاء......الخ، الحدیث: ۷۹۸۴، ج۵، ص۴۶۰، بدون "بردین وللأرض منك وئيد"]

{59} صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جہنم سے ایک ایسا بچھو نکلے گا جس کے دو کان ہوں گے اور وہ ان سے سنتا ہوگا، دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور ایک بولنے والی زبان ہو گی، اسے تین شخصوں پر مسلط کیا جائے گا: (1) ہر عناد رکھنے والے ظالم (2) مشرک اور (3) تصویر بنانے والے پر۔‘‘ [جامع الترمذی،ابواب صفۃ جہنم،باب ماجاء فی صفۃ النار،الحدیث:۲۵۸۴،ص۱۹۱۱]

{60} تاجدارِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جنت اور جہنم میں مباحثہ ہو گیا تو جہنم نے کہا: ’’مجھے متکبرین اور ظالموں سے ترجیح دی گئی۔‘‘ اور جنت نے کہا: ’’مجھے کیا پرواہ ہو سکتی ہے کہ مجھ میں کمزور، عاجز اور گرے پڑے لوگ داخل ہوں گے۔‘‘ تو اللہ عزوجل نے جنت سے ارشاد فرمایا: ’’تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔‘‘ اور جہنم سے ارشاد فرمایا: ’’تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا، اور تم دونوں کو بھر دیا جائے گا۔‘‘ [صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا، باب النار یدخلہا......الخ،الحدیث:۷۱۷۳،ص۱۱۷۲]

{61} دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحر و بَر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جنت اور جہنم میں مباحثہ ہو گیا تو جہنم نے کہا: ’’مجھ میں ظالم اور متکبر لوگ ہیں۔‘‘ اور جنت نے کہا: ’’مجھ میں کمزور اور مسکین مسلمان ہیں۔‘‘ تو اللہ عزوجل نے ان دونوں کے درمیان یوں فیصلہ فرمایا: ’’اے جنت! تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا، اور اے جہنم! تو میرا عذاب ہے تیرے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میرے ذمۂ کرم پر ہے۔‘‘ [صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا، باب النار یدخلہا......الخ،الحدیث:۷۱۷۳،ص۱۱۷۲،بتغیرقلیل]

{62} سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’بدتر ہے وہ بندہ جو بخل اور تکبر کرے اور بلند و بالا اور بڑائی والے (یعنی اللہ عزوجل) کو بھول جائے، بدتر ہے وہ بندہ جو ظلم و زیادتی کرے اور جبار عزوجل کو بھلا دے، بدتر ہے وہ بندہ جو غافل ہو اور کھیل کود میں پڑا رہے اور قبرستان اور اس میں بوسیدہ ہونے کو بھول جائے، بدتر ہے وہ بندہ جو سرکشی کرے اور حد سے بڑھ جائے اور اپنی ابتدا اور انتہا کو بھول جائے، بدتر ہے وہ بندہ جو دین کو شہواتِ نفسانیہ سے فریب اور دھوکا دے، بدتر ہے وہ بندہ جس کا رہنما حرص ہو، بدتر ہے وہ بندہ جس کو خواہشات راہِ حق سے بھٹکا دیں، بدتر ہے وہ بندہ جس کا شوق اور رغبت اس کو ذلیل و خوار کر دے۔‘‘ [جامع الترمذی،ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع،باب حدیث اضاعۃ الناس،الحدیث:۲۴۴۸،ص۱۸۹۸]

{63} شفیعِ روزِ شمار، دو عالم کے مالک و مختار، بإذنِ پروردگار عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جب فارس (ایران) و روم میری اُمت کے ماتحت ہوں گے اور وہ متکبرانہ چال چلے گی تو وہ ایک دوسرے پر ہی قبضہ جمائیں گے۔‘‘

{64} حُسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو اپنے آپ کو بڑا جانے یا متکبرانہ چال چلے وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ عزوجل اس پر ناراض ہوگا۔‘‘ [المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عمر بن خطاب،الحدیث:۶۰۰۲،ج۲،ص۴۲۱]

{65} نبیِّ کریم، رءُوف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں: (1) لالچ جس کی اطاعت کی جائے (2) خواہش جس کی پیروی کی جائے (3) بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود پسندی۔‘‘ [مجمع الزوائد، کتاب الایمان، باب فی المنہیات و المہلکات، الحدیث:۳۱۳،ج۱،ص۲۶۹]

{66} حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، نبی مکرّم، نُورِ مجسّم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب نوح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر ارشاد فرمایا: ’’میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو باتوں سے منع کرتا ہوں جن دو باتوں سے منع کرتا ہوں وہ شرک اور تکبر ہیں، اور جن دو باتوں کا حکم دیتا ہوں: (1) ان میں سے پہلی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پر استقامت ہے، کیونکہ اگر زمین و آسمان اور ان کی ہر چیز ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائے اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ان سب پر غالب آجائے گا اور اگر زمین و آسمان ایک حلقہ ہو اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کو اس پر رکھ دیا جائے تو یہ اس کو توڑ دے گا اور (2) دوسری چیز جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں وہ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ پڑھنا ہے کیونکہ یہی ہر چیز کی تسبیح ہے اور اسی کے سبب ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔‘‘ [المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عمرو بن عاص،الحدیث:۷۱۲۳،ج۲،ص۵۹۵]

{67} حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں: ’’سعادت ہے اس کے لئے جسے اللہ عزوجل نے اپنی کتاب سکھائی اور پھر وہ شخص ظالم ہو کر نہ مرا۔‘‘ [الزہد للامام احمد بن حنبل،بقیۃ زہد عیسیٰ علیہ السلام،الحدیث:۷۲۷،ص۱۲۵]

{68} حضرت سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بازار سے اس حالت میں گزرے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر پر لکڑیوں کی گٹھڑی اٹھا رکھی تھی، تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا: ’’جب اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے بے نیاز کر دیا ہے تو پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گٹھڑی اٹھانے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟‘‘ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے اپنے آپ سے تکبر دور کرنے کے لئے ایسا کیا ہے کیونکہ میں نے رسول اکرم، شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ [المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۰۰۰،ج۱۰،ص۱۷۵]

{69} اور ایک روایت میں ہے: ’’رائی کے ذرے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ [صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر، الحدیث:۲۶۷،ص۲۹۴]

{70} حضرت سیدنا کریب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو لے کر ابو لہب کی بھٹی کی طرف جا رہا تھا کہ انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایا: ’’کیا ہم فلاں مقام پر پہنچ گئے ہیں؟‘‘ تو میں نے عرض کی کہ ’’آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اب اس مقام کے قریب پہنچ چکے ہیں۔‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے میرے والد عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا: ’’میں اس جگہ پر حضورِ پاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص دو چادریں اوڑھے متکبرانہ چال چلتا ہوا آیا، وہ اپنی چادریں دیکھتا ہوا اس پر اترا رہا تھا کہ اللہ عزوجل نے اسے اس جگہ زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔‘‘ [مسند ابی یعلی الموصلی، مسند العباس بن عبدالمطلب، الحدیث:۶۶۶۹،ج۶،ص۵۰]

{71} اللہ کے محبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر متکبر، اترا کر چلنے والا، مال جمع کرنے اور دوسروں کو نہ دینے والا جہنمی ہے، جبکہ ہر کمزور و مغلوب شخص جنتی ہے۔‘‘ [شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، فصل فی التواضع، الحدیث:۸۱۷۰،ج۶،ص۲۸۴]

{72} شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن و جمال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (حضرت سیدنا سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے ارشاد فرمایا: ’’اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ (آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! ضرور بتائیے۔‘‘ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر سختی کرنے والا، اترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔‘‘ [المعجم الکبیر، الحدیث:۶۵۸۹،ج۷،ص۱۲۹]

{73} حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم دافعِ رنج و ملال، صاحبِ جُود و نوال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ بد اخلاق اور متکبر ہے، کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے سب سے بہترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ کمزور اور ضعیف سمجھا جانے والا بوسیدہ لباس پہنے والا شخص ہے جسے کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم اٹھا لے تو اللہ عزوجل اس کی قسم ضرور پوری فرمائے۔‘‘ [المسند للامام احمد بن حنبل،مسند حذیفہ بن یمان،الحدیث:۲۳۵۱۷،ج۹،ص۱۲۰،بدون "لایؤبہ لہ"]

{74} رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں اہلِ جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟ (وہ) ہر کمزور یا کمزور سمجھا جانے والا وہ شخص ہے کہ جو اگر کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم اٹھا لے تو وہ اس کی قسم ضرور پوری فرمائے، کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر سرکش، اترا کر چلنے والا اور متکبر شخص جہنمی ہے۔‘‘ [صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب عقل بعد ذالک......الخ،الحدیث:۴۹۱۸،ص۴۲۲]

{75} خاتم المرسلین، رحمۃ للعلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’بے شک قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے نزدیک اور پسندیدہ شخص وہ ہوگا جو تم میں سے اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہوگا اور قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے قابلِ نفرت اور میری مجلس سے دور وہ لوگ ہوں گے جو واہیات بکنے والے، لوگوں سے ٹھٹھا کرنے والے اور مُتَفَیْہِق ہیں۔‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! بے ہودہ بکواس بکنے والوں اور لوگوں سے ٹھٹھا کرنے والوں کو تو ہم نے جان لیا مگر یہ مُتَفَیْہِق کون ہیں؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اس سے مراد تکبر کرنے والا شخص ہے۔‘‘ [جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی معالی......الخ،الحدیث:۲۰۱۸،ص۸۵۳]

جہنم کی وادی ہَبْہَب کا حق دار کون؟

{76} حضرت سیدنا محمد بن واسع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا بلال بن ابی بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: ’’اے بلال! مجھے تیرے والد محترم نے اپنے باپ سے مروی یہ حدیث پاک بتائی تھی کہ سید المبلغین، رحمۃ للعلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جہنم میں ایک وادی ہے جسے ہَبْہَب کہا جاتا ہے، یہ حق ہے کہ اللہ عزوجل ہر عناد رکھنے والے جابر انسان کو اس میں ٹھہرائے گا، لہٰذا اے بلال! تم اس وادی کے رہائشی بننے والوں میں شامل ہونے سے بچتے رہنا۔‘‘ [مسند ابی یعلی الموصلی،مسند ابی موسیٰ الاشعری،الحدیث:۷۲۱۳،ج۶،ص۷۰]

{77} حضورِ نبیِّ کریم، رءُوف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو چیونٹیوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [مجمع الزوائد، کتاب البعث، باب کیف یحشر الناس،الحدیث:۱۸۴۲۸،ج۱۰،ص۴۰۶]

جہنم کے تابوت

{78} محبوبِ رَبِّ العالمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’بے شک جہنم میں کچھ تابوت ہیں جن میں متکبرین کو ڈال کر انہیں بند کر دیا جائے گا۔‘‘

{79} تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوّت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو بندہ روح کے جسم سے جدا ہوتے وقت تین چیزوں سے بری ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا اور وہ تین چیزیں ہیں: (1) تکبر (2) قرض اور (3) خیانت۔‘‘ [المستدرک، کتاب البیوع، باب من مات وهو يرى......الخ،الحدیث:۲۲۶۴،ج۲،ص۲۴]

{80} مخزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو شخص تکبر، خیانت اور قرض سے بری ہو کر مرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ [جامع الترمذی،ابواب السیر،باب ماجاء فی الغلول،الحدیث:۱۵۷۲،ص۱۸۱۲]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!