Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: ششم)|مفتی نظام الدین رضوی

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: ششم)
عنوان: طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: ششم)
تحریر: مفتی نظام الدین رضوی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ان دونوں وجہوں (روایت کے عموم اور ابن عباس کے اپنے فتاویٰ کے برخلاف ہونے) کے پیشِ نظر اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے، کیوں کہ اس حدیث کے عموم میں جیسے ایک مجلس داخل ہے، ویسے ہی تین مجلسیں بھی تو داخل ہیں، ساتھ ہی تین طہر بھی تو شامل ہیں، تو پھر یہ بھی استدلال کیا جا سکتا ہے کہ تین مجلس میں، تین طہر میں اور تین کلمات میں دی گئی تین طلاق بھی ایک ہی طلاق ہوگی، حالانکہ اس کا قائل کوئی بھی نہیں، تو معلوم ہوا کہ یہ حدیث مؤول ہے (اس کی تاویل کی ضرورت ہے)۔

اسی لیے علمائے امت نے اس کی کئی تاویلیں فرمائیں، ان میں سے ایک تاویل یہ ہے کہ یہ حدیث خاص “غیر مدخولہ” (جس سے خلوت نہ ہوئی ہو) کے متعلق ہے۔ عہدِ رسالت، عہدِ صدیقی اور خلافتِ فاروقی کے ابتدائی دو سالوں تک جب کوئی غیر مدخولہ کو الگ الگ تین مرتبہ طلاق دیتا تو بعد کی دو طلاق لغو (بے اثر) ہو جاتی تھیں اور اعتبار صرف پہلی طلاق کا ہوتا تھا، لیکن بعد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ اسے ایک ساتھ تین طلاق دینے لگے۔ اس لیے اب تینوں طلاقوں کا اعتبار ضروری تھا، یہی پوری امتِ مسلمہ کا موقف بھی ہے۔ اس تاویل کی تائید ابو داؤد شریف کی اس حدیث سے ہوتی ہے:

حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ ابوالصہباء نام کے ایک شخص حضرت ابن عباس سے سوال پوچھتے رہتے تھے، انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ شوہر اپنی غیر مدخولہ بیوی کو تین طلاق دے دیتا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق کے زمانے میں اور عمر فاروق کی خلافت کے ابتدائی دور میں ایک طلاق قرار دیا جاتا تھا؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا: کیوں نہیں، شوہر جب اپنی بیوی کے ساتھ دخول سے پہلے تین طلاق دے دیتا تو عہدِ رسالت، عہدِ صدیقی اور عمر فاروق کی خلافت کے ابتدائی دور میں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا، پھر جب حضرت عمر نے یہ مشاہدہ کیا کہ لوگ ایک ساتھ تین طلاق دینے لگے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تینوں طلاق ان پر نافذ کر دو۔ [سنن ابی داؤد، ج: 1، ص: 299]

مسلم شریف کی حدیث کے الفاظ “قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ” (انہوں نے اس معاملے میں جلد بازی کی جس میں انہیں ڈھیل ملی تھی) کا مفاد بھی یہی ہے کہ الگ الگ تین طلاق دینے میں ڈھیل تھی، لیکن انہوں نے جلد بازی کر کے ایک ساتھ تینوں طلاق دینا شروع کر دیا۔

نتیجہ بحث

اس حدیثِ پاک سے بہت کھل کر یہ ثابت ہوا کہ حضرت ابن عباس کی وہ روایت جس سے تین طلاق کے ایک ہونے کا شبہ ہوتا ہے، اس کا تعلق خاص اس صورت سے ہے جب کہ شوہر نے اپنی غیر مدخولہ کو تین بار میں تین طلاق دی ہو۔ اور اسی لیے اب صورتِ مسئلہ بدل چکی تھی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے صحابہ کرام کی موجودگی میں تین طلاق قرار دیا، اور صحابہ نے بلا انکارِ و نکیر اسے تسلیم فرمایا جو ان کے اجماع کی دلیل ہے۔

الحاصل کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ اور اجماعِ امت سے یہ ثابت ہو گیا کہ:

  1. اگر کوئی مسلمان اپنی **مدخولہ** بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دے دے (خواہ ایک دفعہ میں یا کئی دفعہ میں) تو بہر حال اس پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
  2. اگر **غیر مدخولہ** بیوی کو ایک ہی مجلس میں **ایک ساتھ** تین طلاق دے تو بھی تینوں طلاقیں پڑ جائیں گی۔
  3. ہاں، اگر غیر مدخولہ کو ایک مجلس یا متعدد مجالس میں، کئی مرتبہ یا کئی کلمات میں **الگ الگ** تین طلاق دے تو صرف پہلی طلاق پڑے گی اور بعد کی دو طلاق لغو ہوں گی۔

یہی مذہب تمام حنفیوں، مالکیوں، شافعیوں اور حنبلیوں کا ہے اور یہی مذہب صحابہ کرام کا ہے اور یہی احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے خلاف اگر کوئی حاکمِ مسلم یا غیر مسلم فیصلہ دے گا تو وہ نافذ نہ ہو گا بلکہ کالعدم و باطل ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!