Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: پنجم)|مفتی نظام الدین رضوی

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: پنجم)
عنوان: طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: پنجم)
تحریر: مفتی نظام الدین رضوی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

محدث ابو داؤد نے اس روایت کو ترجیح دی ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو محض “طلاقِ بتہ” دی تھی، کیوں کہ اس حدیث کے راوی رکانہ کے اہل و عیال ہیں اور یہ ایک مضبوط دلیل ہے۔ ابن جریج والی روایت میں یہ احتمال ہے کہ بعض راویوں نے لفظ “البتہ” کو تین طلاق پر محمول کر کے یہ روایت کر دیا ہو کہ انہوں نے تین طلاق دی تھی، تو اس نکتے کی وجہ سے ابن عباس والی اس روایت سے استدلال ساقط الاعتبار ہوگا۔ [فتح الباری، ج: 9، ص: 363]

مطلب یہ ہے کہ لفظ “البتہ” ایک طلاق کا بھی احتمال رکھتا ہے اور تین طلاق کا بھی، جیسا کہ گزرا، تو کسی راوی نے اس لفظ کے دوسرے احتمال کو سامنے رکھتے ہوئے “البتہ” کی جگہ “ثلاثاً” (تین) روایت کر دیا، حالانکہ رکانہ نے لفظ “ثلاثاً” سے طلاق نہ دی تھی، بلکہ لفظ “البتہ” سے دی تھی۔

روایتِ ابن عباس پر اصولی اعتراضات

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مجہول راویوں نے جو حدیث بیان کی ہے کہ رکانہ نے تین طلاق دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک قرار دیا، یہ حدیث اس لیے بھی ناقابل عمل اور ساقط الاستدلال ہے کہ حضرت ابن عباس کے اپنے فتاویٰ اس کے بر خلاف ہیں جن میں سے چار فتاویٰ ہم گزشتہ قسطوں میں نقل کر چکے ہیں۔ صحابہ کرام میں سے کسی صحابی کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کرے اور پھر اس کے خلاف فتویٰ صادر کرے۔

اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی صحابی حدیثِ رسول کی روایت کے بعد اس کے خلاف عمل کرے یا فتویٰ دے، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حدیث یا تو بعد میں منسوخ ہو گئی یا وہ غیر معتبر ہے۔ چنانچہ “نور الانوار” میں ہے:

وَالْمَرْوِيُّ عَنْهُ إِذَا عَمِلَ بِخِلَافِهِ بَعْدَ الرِّوَايَةِ مِمَّا هُوَ خِلَافٌ يَقِينٌ سَقَطَ الْعَمَلُ بِهِ؛ لِأَنَّهَا إِمَّا خَالَفَهُ لِلْوُقُوفِ عَلَى نَسْخِهِ أَوْ مَوْضُوعَتُهُ فَقَدْ سَقَطَ الِاحْتِجَاجُ بِهِ. [نور الأنوار، ص: 194، 195]

ترجمہ: حدیث کا راوی روایت کے بعد جب اس کے خلاف عمل کرے اور یہ عمل حدیث کے خلاف ہونا یقینی ہو تو اس حدیث پر عمل ساقط ہو جائے گا، اس لیے کہ راوی نے یا تو اس حدیث کے منسوخ ہونے پر آگاہی حاصل کر لی تھی یا وہ حدیث غیر مستند تھی، لہٰذا اس سے استدلال ختم ہو گیا۔

غرض کہ تین طلاق کو ایک قرار دینے والی حدیث تین طرح سے ناقابل عمل اور ناقابل استدلال ہے:

  1. یہ حدیث ضعیف و منکر ہے، اس کے راوی مجہول افراد ہیں۔
  2. یہ حدیث حضرت رکانہ کے اہل و عیال کی (مستند) روایت کے خلاف ہے۔
  3. راویِ حدیث حضرت ابن عباس کا اپنا فتویٰ اس کے خلاف ہے۔

دوسری روایت پر کلام

دوسری حدیث جسے حضرت طاؤس نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاق ایک مانی جاتی تھی، یہ بھی دو وجہ سے ناقابل استدلال ہے:

  1. یہ حدیث اپنے مفہوم میں مطلق ہے، جس کے عموم میں مدخولہ یا غیر مدخولہ، ایک ساتھ یا الگ الگ، ایک ہی مجلس یا مختلف مجالس میں دی گئی ہر قسم کی تین طلاقیں شامل ہو جاتی ہیں، حالانکہ یہ بلاشبہ اجماعِ امت کے خلاف ہے اور امت کا اجماع کبھی گمراہی پر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے یہ حدیث اپنے عموم و اطلاق کے لحاظ سے ناقابل حجت ہے۔
  2. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے فتاویٰ اس حدیث کے بھی خلاف ہیں، لہٰذا اس حیثیت سے بھی یہ حدیث اپنے عموم کے ساتھ قابلِ حجت نہ رہی۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!