Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شادی کب ہوگی سادہ؟ (قسط: سوم)

شادی کب ہوگی سادہ؟ (قسط: سوم)
عنوان: شادی کب ہوگی سادہ؟ (قسط: سوم)
تحریر: مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی


دولھے میاں کلمہ یاد کرلیں!

(نئے دولھے حضرات کے لیے کچھ اہم باتیں)

شادیوں کا موسم چل رہا ہے۔۔۔ حالات کا رونا رونے والوں کی شادیوں میں ہونے والی فضول خرچیوں کو دیکھ کر ہماری مال داری پر رشک آتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ناشکریِ مولیٰ پر افسوس بھی۔ تقریباً ہر بندہ یہی کہہ رہا ہے کہ "مفتی صاحب! دعا کریں مندی ختم ہو جائے، کاروباری معاملات اچھے نہیں چل رہے ہیں"۔ کہنے والے نے سچ کہا کہ مسلمانوں کی مالداری دیکھنی ہو تو ان کی شادیوں کو دیکھو، اور غربت دیکھنی ہو تو مدارس و مساجد کے حالات اور ائمہ و علماء کی تنخواہوں کی قلت کو دیکھو۔

شادی کا نام سنتے ہی بہتوں کو شادمانی کا تصور ہوتا ہے اور بہتوں کو بہت ساری چیزوں کا۔۔۔۔ عام طور سے جب گھروں میں شادیوں کی تیاریاں شروع ہوتی ہیں، تو کبھی سالوں پہلے سے اور کبھی مہینوں پہلے سے کارڈ، کپڑے، دعوت، ولیمہ، شادی ہال اور کھانے وغیرہ ہر چیز کی تیاری، خاص طور پر دولہے کا جوڑا، جوتا، موزہ، شیروانی اور بارات کے لیے گاڑیاں وغیرہ وغیرہ پر خوب جم کر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے۔ پورے شہر کے شورومز کا چکر لگایا جاتا ہے، ناسک، ممبئی اور دھولیہ تک پہنچ جاتے ہیں۔

حتیٰ کہ پہلی شب کے لیے نیم حکیموں کے بربادی نسخوں اور ہیجانی مشوروں سے بھی ہمارے نیو دولہے اپنے آپ کو مکمل بھر لیتے ہیں۔ بات یہی نہیں رکتی، کچھ قرینۂ زندگی، آدابِ مباشرت اور کئی سائٹس کو زبانی یاد بھی کر لیتے ہیں؛ ان سب میں اگر کچھ نہیں کرتے، تو وہ ان مبارک و بابرکت کلمات کو یاد یا ذہن نشین نہیں کرتے جو قاضیِ نکاح دولہے کو پڑھاتا ہے، الا ماشاءاللہ۔

دولہے کو چاہیے کہ شبِ اول کے تعلق سے جو تیاری کرتا ہے، کم از کم نکاح کے وقت جو کلمات پڑھائے جاتے ہیں ان کو بھی اچھی طرح سن لے، یاد کر لے یا اپنے محلے کے امام سے سیکھ لے تاکہ رسوائی اور ہکلاہٹ سے بچ جائے۔

ہکلا گیا جو نکاح میں دولہا تو کیا ہوا

اکثر دولہے کلمہ وغیرہ پڑھنے میں اتنی غلطی کرتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے شاید ابھی ابھی وہ ان کلمات سے واقف ہوئے ہیں۔ افسوس صد افسوس!!!! جن جوانوں کو کلمۂ طیبہ یاد نہیں، وہ اسلام کی بنیادی باتوں کو کب اور کیسے یاد رکھ پائیں گے؟ دولہا ان سب کو یاد کرے: بسم اللہ، درود شریف، استغفار، پہلا، دوسرا کلمہ، یا پانچوں کلمے، ایمانِ مجمل اور ایمانِ مفصل وغیرہ۔

قاضی حضرات کے لیے مشورہ:
قاضیِ نکاح کو چاہیے کہ وہ کلمہ پڑھانے سے پہلے درود شریف ضرور پڑھائے کہ ہمارے والدین حضرت آدم و حوا علیہما السلام کا مہر یہی تھا۔ تو اولاد کے نکاح کے وقت بھی اس کی برکتیں ضرور ظاہر ہوں گی۔ کچھ ائمہ شرم سے نہیں پڑھاتے ہیں یا کیا وجہ ہے، لا اعلم۔ خیر، درود پاک ضرور پڑھائیں۔

ہمارے نوجوانوں کے حالات اتنے بدتر ہوتے جا رہے ہیں کہ وہ فلمی ایکٹروں اور کرکٹ کھلاڑیوں کے نام اور کام سب جانتے ہیں، لیکن جب نکاح کے لیے سامنے بیٹھتے ہیں تو ایک دوست کہتا ہے: "تھوڑا جلدی پڑھانا حضرت! زبان پلٹتی نہیں"۔ کچھ کہتے ہیں: "پہلا کلمہ پڑھا دینا بس"۔ کچھ کہتے ہیں: "مائیک دولہے کو مت دینا، لوگ سنیں گے تو بے عزتی ہو جائے گی"۔ اللہ خیر فرمائے! جب پڑھاؤ تو کچھ لوگوں کو لفظ "ملائکتہ" (ملا، نکہ، تہ) اس طرح توڑ توڑ کر تین مرتبہ پڑھانا پڑتا ہے۔ اللہ اکبر!

شادی سے قبل ہر چیز کی تیاری کرنے کرانے والے والدین، سرپرست اور پنچ حضرات اس طرف بھی دھیان دیں۔ اب جب کلمہ یاد نہیں، تو خلوت کے وقت کی دعائیں کہاں یاد ہو پائیں گی؟ پھر بچے بنا بسم اللہ کے ہی ہوں گے؟ نافرمان، نالائق، معاشرے پر بوجھ، وغیرہ صفاتِ قبیحہ سے متّصف۔ خیر، صرف آبادی بڑھانا مقصود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نیک اور صالح اولاد معاشرے کو دینا پیشِ نظر ہونا چاہیے، جن سے ماں باپ اور شہر کا نام روشن ہو۔

علماء، تجربہ کار اور ذہین افراد سے اچھے مشورے لیں، نہ کہ سب کچھ خراب کرنے کے بعد مفتیانِ کرام کا دماغ کھائیں۔ ہوتا یہی ہے کہ پہلے علماء سے مشورہ نہیں کرتے، "دروازہ چھوڑ کر کھڑکی کا استعمال کرتے ہیں" اور معاملات حد سے زیادہ خراب ہونے کے بعد علماء سے ملتے ہیں۔ پہلے ہی ملیں، آسانیاں ضرور ملیں گی، ان شاء اللہ۔


دولہے کی جھوٹی شان:

(آتش بازی، دھواں، غبارے اور انٹری کے نام پر مسلم معاشرے کی تباہ کن فضول خرچی)

ایک زمانہ تھا جب نکاح سادگی، حیا، برکت اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کا حسین نمونہ ہوا کرتا تھا۔ مسجدوں میں تکبیر کی صدائیں بلند ہوتیں، درود و سلام کی خوشبو فضاؤں میں بکھرتی، اور دو خاندان ایک پاکیزہ رشتے میں بندھ جایا کرتے تھے۔ مگر آج!... آج نکاح عبادت کم اور "شو" زیادہ بنتا جا رہا ہے۔ دولہے کی "انٹری" کے نام پر دھواں چھوڑنے والی مشینیں، آسمان چیرتی آتش بازیاں، شور مچاتے ڈی جے، فضول غبارے، ناچتی روشنیوں کے طوفان، اور ہزاروں لاکھوں روپے صرف چند لمحوں کی نمائش پر قربان کیے جا رہے ہیں۔

آج باراتیں عبادت کا منظر نہیں بلکہ "نمائشِ دولت" کا جلوس معلوم ہوتی ہیں۔ مہنگی مہنگی کالی گاڑیوں کی لمبی قطاریں، شور مچاتے ہارن، دھواں چھوڑتی گاڑیاں، آتش بازی کے طوفان، اور دولہے کی ایسی "انٹری" گویا کوئی فلمی ہیرو میدان میں اتر رہا ہو! افسوس...! یہ سب اس قوم میں ہو رہا ہے جس کے آقا ﷺ نے سادگی کو ایمان کی خوبصورتی فرمایا تھا۔

ذرا غور کیجیے! بارات میں شامل وہ قیمتی گاڑیاں آخر کس چیز کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں؟ تقویٰ کا؟ اخلاق کا؟ دین داری کا؟ ہرگز نہیں! یہ اکثر صرف جھوٹی شان، دکھاوے اور لوگوں کو مرعوب کرنے کی ایک ناکام کوشش ہوتی ہے۔ لوگ چند لمحوں کے لیے دیکھ کر تعریف کر دیں گے، مگر اس فضول خرچی کا حساب روزِ قیامت ضرور ہوگا۔ افسوس! وہ قوم جس کے نبی ﷺ نے سادگی کو پسند فرمایا، آج وہی قوم نمود و نمائش کی آگ میں جل رہی ہے۔

غریب باپ بیٹی کی شادی کے لیے قرض میں ڈوبا ہوا ہے، کئی گھروں میں نوجوان بچیاں صرف غربت کی وجہ سے بیٹھی ہیں، مدارس کے اساتذہ اپنی قلیل تنخواہوں پر صبر کر رہے ہیں، مساجد کے ائمہ مہینے بھر کی خدمت کے بعد چند ہزار روپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور دوسری طرف ایک رات کی شادی میں لاکھوں روپے دھوئیں کی شکل میں اڑا دیے جاتے ہیں۔

ذرا سوچیے!

  • جو پیسہ آسمان میں پٹاخوں کی صورت پھٹ رہا ہے، اگر وہی پیسہ کسی غریب بچی کے نکاح میں لگ جائے تو کتنے گھر آباد ہو جائیں!
  • جو دولت دولہے کی مصنوعی "انٹری" پر بہائی جا رہی ہے، اگر وہ کسی مدرسے کے یتیم طالب علم پر خرچ ہو جائے تو کتنے حفاظ و علماء تیار ہو جائیں!
  • جو رقم غباروں اور روشنیوں پر لٹائی جا رہی ہے، اگر وہ مسجد کے امام کی تنخواہ میں اضافہ کر دے تو شاید کسی مجبور عالم کے بچوں کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ جائے۔
مگر افسوس صد افسوس! ہم نے دین کو پسِ پشت ڈال کر معاشرے کی جھوٹی شان کو اپنا بنا لیا ہے۔ اب شادیوں میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ سنت کتنی زندہ ہوئی، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ "انٹری" کتنی مہنگی تھی، آتش بازی کتنی زبردست تھی، اور ویڈیو کتنی "وائرل" ہو گی!

یاد رکھیے! آتش بازی کی یہ چمک چند لمحوں کی ہے، مگر فضول خرچی کا گناہ اللہ کے یہاں بہت بڑا ہے۔ قرآنِ کریم نے فضول خرچوں کو "شیطانوں کا بھائی" فرمایا ہے۔ اور کتنی عجیب بات ہے کہ ہم ایک طرف امت کے زوال پر آنسو بہاتے ہیں، اور دوسری طرف اپنی دولت خود اپنے ہاتھوں آگ اور دھوئیں میں جھونک دیتے ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے نکاح کو دوبارہ سنت کے سانچے میں ڈھالے۔ سادگی کو عزت دے، دکھاوے کو چھوڑے، اور اپنی دولت کو ایسے کاموں میں خرچ کرے جہاں آخرت کا سرمایہ جمع ہو۔ یقین مانیے! سادہ نکاح میں جتنی برکت ہے، وہ لاکھوں کی آتش بازی میں کبھی نہیں ہو سکتی۔

آئیے عہد کریں کہ شادیوں کو گناہوں اور فضول رسموں سے پاک کریں گے۔ آتش بازی، دھواں، بے ہودہ انٹری اور فضول خرچی سے بچیں گے۔ مساجد، مدارس، غریبوں اور دینی ضرورتوں کو ترجیح دیں گے۔ اپنی نسلوں کو سادگی اور سنت کا راستہ دکھائیں گے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہماری تقریبات تو جگمگائیں گی، مگر ہمارے دل ایمان کی روشنی سے خالی ہو جائیں گے۔

[حوالہ/کتاب: ماہنامہ فخرِ بہار]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!