| عنوان: | شادی کب ہوگی سادہ؟ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مسجد میں نکاح سنت بھی، برکت بھی:
آج کے دور میں نکاح جیسا مقدس عمل بھی دکھاوے، فضول خرچی اور بے جا رسوموں کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ کہیں شادی ہالوں کی چکا چوند ہے، کہیں سوسائٹی کے شور میں نکاح کی سنجیدگی گم ہو چکی ہے، کہیں قرض لے کر ایک دن کی نمائش سجائی جاتی ہے، اور کہیں سادگی کو غربت سمجھ لیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی یہ اعلان کرے کہ نکاح مسجد میں ہوگا، تو گویا وہ سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو سے معاشرے کو مہکا دیتا ہے۔
مسجد وہ مقام ہے جہاں سجدے ہوتے ہیں، جہاں دلوں کو سکون ملتا ہے، جہاں رحمتیں نازل ہوتی ہیں، جہاں بندہ اپنے رب سے قریب ہوتا ہے۔ اگر اسی پاکیزہ جگہ پر دو زندگیاں ایک مقدس رشتے میں بندھ جائیں تو اس سے بڑھ کر سعادت کیا ہو سکتی ہے؟
مسجد میں نکاح کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ عمل انسان کو بے شمار گناہوں سے بچاتا ہے۔ جب نکاح آسان ہوگا تو نوجوان حرام راستوں سے بچیں گے، ناجائز تعلقات ختم ہوں گے، بے حیائی کے دروازے بند ہوں گے، نگاہیں پاک ہوں گی، دل محفوظ ہوں گے اور معاشرہ گندگی سے بچے گا۔ جو قوم نکاح کو مشکل بنا دیتی ہے، وہاں فتنوں کے بازار گرم ہو جاتے ہیں، اور جو قوم نکاح کو آسان کر دیتی ہے، وہاں پاکدامنی عام ہو جاتی ہے۔
مسجد میں نکاح اس بات کی علامت ہے کہ رشتہ اللہ کے نام پر قائم ہو رہا ہے۔ جہاں آغازِ دعا سے ہو، جہاں کلماتِ خیر پڑھے جائیں، جہاں درود و سلام کی فضا ہو، جہاں فرشتوں کی رحمت ہو، وہاں شیطان کے لیے جگہ کہاں؟ مسجد میں نکاح گھروں میں سکون، میاں بیوی میں محبت، اولاد میں خیر اور زندگی میں برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔
مسجد میں نکاح صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ یہ اعلان ہے کہ ہمارا گھر اللہ کے نام سے آباد ہوگا، ہماری زندگی دین کے اصولوں پر چلے گی، اور ہمارا رشتہ دنیاوی نمائش نہیں بلکہ رب کی رضا کے لیے ہے۔
افسوس! آج بہت سے مسلمان لاکھوں روپے ہالوں، کھانوں، سجاوٹوں اور غیر ضروری رسموں پر خرچ کر دیتے ہیں، مگر مسجد میں نکاح کو پرانا طریقہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسجد میں نکاح عزت بھی ہے، وقار بھی، سنت بھی اور برکت بھی۔ وہاں نہ شور و شرابہ، نہ گناہوں کی محفل، نہ بے پردگی کا ہجوم، نہ وقت اور مال کی بربادی؛ بلکہ دعا ہے، ذکر ہے، خیر ہے اور سکون ہے۔
مسجد میں نکاح معاشرے کو یہ سبق دیتا ہے کہ شادی آسان بناؤ، مشکل نہیں۔ نکاح کو عام کرو، زنا کے راستے بند کرو۔ نوجوانوں کو قرضوں اور رسموں کے بوجھ تلے نہ دباؤ۔ سادہ نکاح ہی کامیاب نکاح کی بنیاد ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان پھر سے مسجدوں کا رخ کریں، اپنے نکاح کو سنت کے سانچے میں ڈھالیں، اور اپنی نسلوں کو بتائیں کہ اصل شان روشنیوں والے ہالوں میں نہیں، بلکہ اللہ کے گھر میں جھکنے والی پیشانیوں میں ہے۔
آج کتنے ہی لوگ شادیوں میں لاکھوں خرچ کر کے گناہوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ موسیقی، بے پردگی، اختلاط، اسراف، تکبر، دکھاوا، حسد اور ریاکاری؛ یہ سب ایسے زہر ہیں جو شادی کی خوشیوں کو کھا جاتے ہیں۔ مگر مسجد میں نکاح ان خرابیوں سے محفوظ راستہ ہے۔ نہ شور شرابہ، نہ فضول رسومات، نہ نام و نمود کا جنون بلکہ سادگی، سنجیدگی اور عبادت کا ماحول۔
مسلمانوں کو سوچنا ہوگا کہ ہم نکاح کو مشکل بنا کر اپنی نسلوں کو کہاں دھکیل رہے ہیں؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان پاکیزہ رہیں، ہمارے گھر آباد رہیں، ہماری بیٹیاں عزت سے رخصت ہوں اور ہمارے بیٹے گناہوں سے محفوظ رہیں، تو ہمیں مسجد میں نکاح جیسے مبارک طریقے کو اپنانا ہوگا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شادی ہالوں کی چمک دمک سے نکل کر مسجدوں کی نورانی فضا میں آئیں، کیونکہ جہاں اللہ کا گھر آباد ہوگا، وہاں گھرانے بھی آباد ہوں گے۔ جہاں نکاح سنت کے مطابق ہوگا، وہاں زندگی بھی رحمتوں کے سائے میں گزرے گی۔ واقعی مسجد میں نکاح صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ گناہوں سے بچاؤ اور برکتوں کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ آئیے عہد کریں کہ نکاح کو آسان بنائیں گے، سنت کو زندہ کریں گے، اور مسجد میں نکاح کی برکتوں سے اپنے گھروں کو روشن کریں گے۔ یقیناً مسجد میں نکاح، سنت بھی ہے اور برکت بھی۔
دولھے کے سر پر عمامہ کی جگہ پگڑی؟
یہ کیسا دور آگیا ہے کہ ہماری شناخت ہم سے چھین لی گئی اور ہمیں خبر تک نہ ہوئی! نکاح جیسا مقدس عمل، جو سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں سادگی، وقار اور دینی شعائر کا مظہر ہونا چاہیے تھا، آج رسم و رواج اور غیر اسلامی اثرات کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ دولھے کے سر پر عمامہ کی جگہ پگڑی کا رواج اسی فکری زوال کی ایک واضح علامت ہے۔
عمامہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک نمایاں سنت ہے، صرف ایک کپڑا نہیں بلکہ ایک شعار ہے، ایک پہچان ہے، ایک روحانی نسبت ہے۔ یہ اسلافِ امت کی شان رہا ہے، اہلِ علم و فضل کی علامت رہا ہے، اور مسلمانوں کی تہذیبی وراثت کا حصہ رہا ہے۔ مگر افسوس! آج ہم نے اس عظیم سنت کو پسِ پشت ڈال کر ایسی پگڑی کو اپنا لیا جو ہماری تہذیب کی نہیں بلکہ دوسروں کی دی ہوئی ہے۔
جیسی شیروانی، ویسی جوتی، ویسی پگڑی؛ کیا ہے یہ اپنی شناخت یا فضول خرچی؟
یہ منظر اب عام ہو چکا ہے کہ دولہا سر سے پاؤں تک ایک ہی رنگ اور ایک ہی طرز میں ڈھلا ہوا ہوتا ہے۔ شیروانی بھی میچنگ، جوتی بھی میچنگ، پگڑی بھی میچنگ! بظاہر یہ ایک خوبصورت ہم آہنگی لگتی ہے، مگر ذرا گہرائی میں جائیں تو یہ سوال خود بخود سر اٹھاتا ہے کہ کیا یہی آج کے مسلم نوجوان کی پہچان ہے؟ یا یہ محض فضول خرچی اور اندھی نقالی کا ایک نیا نام ہے؟
نکاح، جو اسلام میں سادگی، برکت اور سنت کا مظہر ہے، آج فشن شو بنتا جا رہا ہے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے صرف اس بات پر خرچ کیے جا رہے ہیں کہ دولہا کا لباس ایک خاص ”تھیم“ کے مطابق ہو۔ ہر چیز کا رنگ، ڈیزائن اور اسٹائل ایسا ہو کہ دیکھنے والے داد دیں۔ لیکن کیا کبھی یہ سوچا گیا کہ اس سب میں دین کہاں ہے؟ سنت کہاں ہے؟ سادگی کہاں ہے؟
یہ ”میچنگ کلچر“ دراصل ایک ذہنی غلامی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں۔ اب ہمیں اس بات کی فکر نہیں کہ نکاح سنت کے مطابق ہو، بلکہ اس بات کی فکر ہے کہ تصاویر اچھی آئیں، ویڈیو شاندار بنے، اور لوگ تعریف کریں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہم اپنی اصل کھو دیتے ہیں۔
افسوس اس بات پر ہے کہ ایک طرف معاشرے میں غریب نوجوان جہیز اور اخراجات کے بوجھ تلے دب کر نکاح سے دور ہو رہے ہیں، اور دوسری طرف ہم محض دکھاوے کے لیے اسراف کی نئی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ شیروانی کے ساتھ مخصوص جوتی، پگڑی کے ساتھ قیمتی زیورات، اور پھر اس سب کی نمائش؛ کیا یہی وہ نکاح ہے جس کی تعلیم ہمیں دی گئی تھی؟ یاد رکھیے! اسلام نے نکاح کو آسان بنایا، ہم نے اسے مشکل کر دیا۔ اسلام نے سادگی سکھائی، ہم نے نمائش کو اپنا لیا۔ اسلام نے سنت کو اپنانے کا حکم دیا، ہم نے رسم و رواج کو ترجیح دے دی۔
یہ وقت ہے خود احتسابی کا۔ اگر واقعی ہم اپنی پہچان کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگیوں میں سنت کو جگہ دیں گے یا فیشن کو؟ ہم اپنی تقریبات کو برکت کا ذریعہ بنائیں گے یا محض دکھاوے کا میدان؟ آئیے! نکاح کو آسان بنائیں، فضول خرچی سے بچیں، اور اپنی پہچان کو سنت کے ذریعے زندہ کریں۔ یہی اصل کامیابی ہے۔
عمامہ چھوڑ کر پگڑی اور اس پر جھومتا زیور اختیار کرنا محض لباس کی تبدیلی نہیں، بلکہ سوچ کی گراوٹ اور شناخت کے زوال کی علامت ہے! یہ وہ بے حسی ہے جہاں سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر انداز کر کے دوسروں کی تہذیب کو سینے سے لگایا جا رہا ہے۔ کیا ہمارے اندر اتنی بھی غیرت باقی نہیں رہی کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی سنت کو فخر سے اپنائیں؟ نکاح جیسے مقدس موقع پر، جہاں ہر عمل میں برکت سمیٹنے کی کوشش ہونی چاہیے، وہاں ہم جان بوجھ کر سنت کو چھوڑ کر ایسی رسموں کو اپنا رہے ہیں جن کا ہمارے دین سے کوئی تعلق نہیں! یہ صرف ایک پگڑی نہیں، یہ ہماری فکری غلامی کا اعلان ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے اپنی پہچان خود اپنے ہاتھوں مٹا دی ہے۔ اگر آج بھی ہم نہ جاگے تو کل ہماری نسلیں سنت کو صرف کتابوں میں پڑھیں گی اور عملاً اس سے بالکل ناآشنا ہوں گی۔
یہ صرف ایک وقتی غفلت نہیں، بلکہ ایک مسلسل فکری انحراف ہے جس نے ہمارے شعور کو مفلوج کر دیا ہے! عمامہ جیسی واضح سنت کو چھوڑ کر پگڑی کو فخر سمجھنا دراصل اپنی دینی غیرت کا سودا کرنا ہے۔ ہم نے اپنی ترجیحات اس قدر بدل لی ہیں کہ اب ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا سے زیادہ لوگوں کی واہ واہ عزیز ہو گئی ہے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ ہم زبان سے عشقِ رسول ﷺ کے دعوے کرتے ہیں، مگر عمل میں سنت کو چھوڑ کر دوسروں کی نقالی اختیار کرتے ہیں؟ یہ طرزِ عمل صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری قوم کی فکری بیماری بن چکا ہے۔ اگر اب بھی ہم نے خود کو نہ بدلا، تو یاد رکھیں! یہ پگڑی محض سر پر نہیں، بلکہ ہمارے ایمان کی کمزوری کا بوجھ بن کر ہمارے اوپر رہے گی، اور کل قیامت کے دن یہی کوتاہی ہمارے لیے سوال بن کر کھڑی ہوگی کہ جب سنت تمہارے سامنے تھی تو تم نے اسے کیوں چھوڑا؟
یہ سوال ہر باشعور مسلمان کے دل میں اٹھنا چاہیے کہ آخر کیوں؟ کیا ہمیں اپنی سنتوں پر شرم آنے لگی ہے؟ یا ہم نے اپنی شناخت کو خود ہی مٹا دینے کا عزم کر لیا ہے؟ نکاح کے موقع پر جب ایک مسلمان نوجوان زندگی کے نئے سفر کا آغاز کرتا ہے تو کیا یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق اپنے سر کو عمامہ سے زینت بخشے؟ کیا یہ موقع نہیں کہ ہم اپنے دین کی جھلک دنیا کو دکھائیں؟
بدقسمتی سے آج نکاح ایک دینی فریضہ کم اور ایک ثقافتی نمائش زیادہ بن چکا ہے۔ لباس، انداز، رسومات؛ سب کچھ غیر مسلم معاشروں سے مستعار لیا جا رہا ہے اور اس سب کے درمیان سنتیں خاموشی سے دفن ہو رہی ہیں۔ پگڑی باندھنا اگرچہ بذاتِ خود کوئی گناہ نہیں، مگر جب یہ عمامہ کی سنت کو چھوڑ کر، غیر اسلامی تہذیب کی نقالی کے طور پر اختیار کی جائے تو یقیناً یہ قابلِ غور اور باعثِ تشویش ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عزت اور وقار اپنی شناخت میں ہے، نہ کہ دوسروں کی اندھی تقلید میں۔ نکاح جیسے بابرکت موقع پر اگر ہم سنت کو زندہ کریں، عمامہ کو اختیار کریں، سادگی کو اپنائیں، تو یہ نہ صرف ہمارے لیے باعثِ اجر ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بھی بنے گا۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، آج کل تو پگڑی اور شیروانی پر زیورات بھی جھوم رہے ہیں۔ ذرا سوچیئے! کیا نبی کریم ﷺ کے نکاح کا انداز ایسا تھا؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اپنی شادیوں کو اس طرح سونے چاندی اور بھاری لباسوں سے سجایا تھا؟ ہرگز نہیں! وہاں سادگی تھی، عاجزی تھی، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رضا کا جذبہ تھا۔ اور یہاں؟ یہاں ہر چیز دکھاوے، مقابلہ بازی اور لوگوں کی تعریف کے لیے ہے۔
یہ پگڑی پر لٹکتے زیورات، یہ شیروانی پر چمکتے نگینے؛ یہ سب دراصل ہمارے اندر چھپی ہوئی ریاکاری اور دنیا پرستی کی علامت ہیں۔ ہم نے دین کو پسِ پشت ڈال کر رسم و رواج کو اپنا لیا ہے، اور پھر بھی خود کو دین دار سمجھتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں شعور بیدار کریں، نوجوانوں کو سنت کی اہمیت بتائیں، اور نکاح جیسے مقدس عمل کو اس کی اصل روح کے مطابق ادا کریں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہماری پہچان مکمل طور پر مٹ جائے گی اور ہم صرف نام کے مسلمان رہ جائیں گے۔ آئیے! سنت کو زندہ کریں، عمامہ کو اپنائیں، اور اپنی پہچان کو بچائیں۔
