| عنوان: | کوئی بھی شراب حلال نہیں اور سپریم کورٹ قاضی و مفتی نہیں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد ظفر الدین برکاتی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
دوسری قوموں کے پاس کوئی دستور نہیں اور مسلمانوں کے پاس ہر دور کے مطابق دستورِ الٰہی موجود ہے جو فطرت کے مطابق ہے۔ یہ خوبی دوسرے مذاہب میں نہیں اور ہندو مذہب تو رشی منیوں اور سنتوں بھگتوں کا اپدیش ہے، اس لیے ہر علاقے میں ان کا پرسنل لاء بھی الگ الگ ہے۔ اسی مختلف اور غیر فطری پرسنل لاء کو ہم پر تھوپنا چاہتے ہیں اور یہی یکساں سول کوڈ ہے۔ طلاق کے غلط استعمال اور ایک بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے والے پر دوسری شادی کرنے کی وجہ سے اس پر تعزیراتی کارروائی کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اسے آئینِ ہند کے خلاف کہنا آئینِ ہند سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
آج ایک پریشان کن صورت حال ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ درپیش ہے کہ ایک خاص فرقہ پرست گروپ، اقتدارِ ہند پر باضابطہ قابض ہے جس کی پالیسیوں کے تحت ہندوستان کی گنگا جمنی مشترکہ تہذیب کی شناخت اور علامت ”انسانیت دوستی“ اور ”تہذیبی رواداری“ کی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی سازش کام کرنے لگی ہے اور تعلیمی اداروں کے نصابِ تعلیم اور معیارِ تدریس و تربیت میں من چاہی تبدیلی کی منصوبہ بند سرکاری کوشش جاری ہے۔ اب مسلمانوں کو گوشالہ کھولنے کی شرط پر پاٹھ شالہ کھولنے اور سی بی ایس ای بورڈ کے اسکولی نظام و نصاب کی منظوری ملے گی اور اسکولوں کے قیام کی اجازت ہوگی۔ سبھی اعلیٰ تعلیمی، تکنیکی، سائنسی اور تربیتی سرکاری اداروں کے سربراہ اسی سوچ کے ہوں، اس کے لیے بھی خفیہ کوشش جاری ہے۔
ریزرویشن اور قانونی حق طلب کرنے والے مسلمان پاکستانی ہوں گے اور گوشت کھانے والے عربستان جائیں گے، یہ طعنہ دیا جانے لگا ہے۔ ”لو جہاد“ کے نام پر ”گئو جہاد“ کا میدانِ جنگ تیار کیا جا رہا ہے اور ”گھر واپسی“ کے ذریعہ ”فرقہ پرستی“ کی سرحدیں طے کی جا رہی ہیں۔ آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور ہندو یوا واہنی کے علاوہ ہر تنظیم و تحریک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ یہی اصل میں دیش بھکت اور بھارتیہ سنسکرتی کے محافظ ہیں اور باقی بھارتیہ نہیں بلکہ ہندوستان مخالف اور دیش دروہی ہیں۔ ناری شکتی کی بحالی اب سادھوی پرگیہ سنگھ، سادھوی اوما بھارتی اور سادھوی پراچی جیسی دیش بھگت کنواری ناریوں کی قیادت میں ہوگی اور بہت جلد عشرت جہاں، کانگریسی لیڈر احسان جعفری، سہراب الدین اور ہیمنت کرکرے، دادری کے محمد اخلاق، پونہ کے محسن شیخ، کشمیری نوجوان زاہد اور شملہ کے نعمان کو پاکستانی ثابت کر کے دیش دروہی قرار دیا جائے گا، کیوں کہ ان کی وجہ سے سائنس دانوں، ادیبوں اور فن کاروں کی حرکت کے سبب آر ایس ایس کا مستقبل خطرے میں آ سکتا ہے، اسی لیے ان کو دیش واسیوں کی نگاہ میں مجرم ثابت کر ڈالنا ضروری ہے اور پھر تمام مظلوموں کو کنارے لگا کر آر ایس ایس حامیوں کی خدمات کو اسکولی نصابِ تعلیم کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اب شاید ”راشٹر باپو“ گاندھی جی نہ رہیں بلکہ ناتھورام گوڈسے کو بنایا جائے گا، پدم وبھوشن ایوارڈ انھیں دیے جائیں گے جو آر ایس ایس کے ہمدرد ہوں گے اور جو پریم چند کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔
آر ایس ایس کا سب سے بڑا بجٹ مسلم مخالف منصوبوں کے لیے مختص ہے، کیوں کہ یہ پارسی، جین اور سکھ مذہب کو ہندو دھرم کا حصہ سمجھتا ہے اور اسلام کے مقابلے عیسائیت کو بڑا خطرہ نہیں تصور کرتا، اس لیے سارا زور مسلم مخالف منصوبوں پر صرف ہونا بی جے پی اور آر ایس ایس کی ترجیحات میں شامل ہے۔
لیکن سب سے زیادہ خطرناک منصوبہ یہ ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ کو خرید کر مسلم پرسنل لاء، مسلمانوں کے آئینی حقوق اور مسلم روایت و تہذیب کو خطرے میں لانا ہے، اسی لیے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے ایک نیشنل کمیٹی بنائی جا رہی تھی جس میں ناکام ہو گئے۔ اب مسلم پرسنل لاء کے خلاف مختلف رٹ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں داخل کیے جا رہے ہیں جس کی ابتدا دہلی ہائی کورٹ میں واقع قدیمی مسجد میں نماز پڑھنے پر مطالبہ سے ہوئی تھی اور تاج محل کو مندر ثابت کرنے کی حرکت بھی الہ آباد ہائی کورٹ میں ہوتی رہی ہے اور یہ سبھی مسائل تعمیرات اور ظاہری تاریخ سے متعلق ہیں جن کا مقابلہ کرنا آسان ہے۔
دراصل خطرناک اور اہم مسئلہ مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کا ہے جس کے خلاف سپریم کورٹ (کا فرقہ پرست جج گروپ) خود دلچسپی دکھانے لگا ہے، اسی دلچسپی کا نتیجہ ہے کہ طلاق اور ایک سے زائد شادی پر علاحدہ بنچ بھی بٹھا دیا گیا ہے۔ کورٹ نے مسلم پرسنل لاء کو نظر انداز کرتے ہوئے اس تعلق سے خود ہی ایک پٹیشن رجسٹرڈ کیا پھر اٹارنی جنرل اور نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی کو ۲۳ نومبر (۲۰۱۵ء) تک جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ دراصل ۱۶ اکتوبر (۲۰۱۵ء) کو سپریم کورٹ میں راکیش بنام پھول وتی کے ازدواجی معاملہ کی سماعت تھی۔ بحث کے دوران مسلم خواتین کے حقوق کی بات سامنے آئی تو کورٹ نے از خود مفادِ عامہ میں پٹیشن رجسٹرڈ کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنا دیا۔ کورٹ کے دو جج جسٹس انل آرودہے اور جسٹس آدرش کمار گوئل کی دو رکنی بنچ نے یہ تبصرہ کیا کہ مسلم خواتین کی جانب سے مسلسل یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ ان کے ساتھ ایک سے زائد شادی اور طلاق کے سلسلے میں زیادتی ہوتی رہی ہے لیکن سپریم کورٹ میں اب تک اس موضوع پر بحث نہیں ہو سکی ہے، اس لیے یہ خصوصی بنچ تشکیل دیا گیا ہے۔
اب ایک بار پھر اسی بینچ نے یکم مارچ (۲۰۱۶ء) کو مرکزی حکومت اور خواتین و اطفال سے متعلق وزارت سے اس موضوع پر جواب طلب کیا ہے اور تین طلاق اور ایک سے زائد شادی پر مرکز کو اپنا موقف واضح کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس بینچ نے حکومت کو یہ لکھا ہے کہ ایک عورت نے یہ عرضی داخل کی ہے کہ اس کے شوہر کے ذریعہ محض تین مرتبہ ”طلاق“ بول دینے سے نکاح ختم اور ہمیں الگ کر دیا گیا ہے۔ اس عورت کا نام سائرہ بانو ہے جو صوبہ اتراکھنڈ کی رہنے والی ہے۔ اس پر مرکز سے وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ مسلم خواتین کو بھی برابر کا حق دیا جائے اور ایک بیوی کے رہتے ہوئے دوسری شادی کرنے کی اجازت پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس پر کوئی خاص قدم اٹھایا جائے، ان مسائل کے مدنظر مسلم پرسنل لاء میں بھی تبدیلی ضروری ہے، اس لئے کہ آئینِ ہند میں مسلم خواتین کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور عوامی اخلاقیات کے لئے یہ مسئلہ خطرناک اور مہلک ہے، اس کو بھی ”ستی رواج“ کی طرح ختم کر دینا چاہئے کہ یہ رواج، آئین کی طرف سے دیے گئے برابری اور جینے کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سپریم کورٹ بھارت میں انصاف کا سب سے بڑا قانونی اور سماجی مندر ہے۔ سمجھنے کے لئے یوں کہہ لیجئے کہ اس کی حیثیت ایک صاحبِ اختیار قاضی اور تسلیم شدہ مفتی کی ہے کہ اگر کوئی فتویٰ پوچھتا ہے تو جواب دیتا ہے اور جتنا پوچھا گیا ہے، اتنے ہی کا جواب دیتا ہے اور جواب دینے کے لیے اسے اسلامی قوانین کے متعلقہ دفعات کی توضیح و تطبیق سے کام لینا ہوتا ہے۔ مطلب قانون بنانا ایک قاضی اور مفتی کا کام نہیں، یہی حال سپریم کورٹ کا ہے کہ وہ دستورِ ہند کی توضیح کرتا ہے، مقدمات کو دستورِ ہند کے دفعات کے تناظر میں دیکھ کر صحیح فیصلہ تک رسائی کے لیے تطبیق کی صورت نکالتا ہے۔ اس کے سامنے دستورِ ہند کا دفعہ ۲۱ بھی موجود ہے جس کے تحت ہمیں مذہبی آزادی دی گئی ہے اور مذہبی آزادی کا مطلب ہے اپنی مذہبی روایت اور عائلی اور ذاتی زندگی کے مذہبی مسائل میں مسلم پرسنل لاء کی آزادی۔ سپریم کورٹ اس قانونی آزادی کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے؟
جج صاحبان کو معلوم نہیں کہ ہندو دھرم کی طرح اسلامی شریعت اور مسلم پرسنل لاء پیروں فقیروں کے اصولوں اور تعلیمات کا مجموعہ نہیں اور نہ مسلمانوں کی علاقائی تہذیب و ثقافت اسلامی شریعت کا حصہ ہے، یہاں تو شریعت ایک ہے چاہے ملک و خطہ بدل جائے، دنیا کے سات براعظموں میں جہاں بھی مسلم بستے ہیں سب کے لیے ایک ہی شریعت ہے۔ قانونِ وراثت، عائلی قوانین، نکاح و طلاق، خلع و لعان، ارکانِ اسلام، ایمان و عقائد اور بنیادی معمولات سب ایک ہیں، اس لیے سپریم کورٹ ہندوستانی تہذیب و مذاہب کے تناظر میں مسلم پرسنل لاء کو دیکھنے کی غلطی نہ کرے، کیوں کہ مسلمان مسلم پرسنل لاء کے خلاف کوئی بھی فیصلہ برداشت نہیں کر سکتا، اگرچہ اس کا عمل جیسا بھی ہو۔
جج صاحبان کو معلوم ہے کہ قانون میں خرابی اور کمزوری نہیں ہوتی بلکہ سماج کے قانون توڑنے والے افراد کے مجرمانہ حیلوں اور بہانوں کی وجہ سے قانون کمزور ہو جاتا ہے یا بے معنی اور بے حیثیت ہو جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح عام سینس کا استعمال کریں تو غور و فکر کیے بغیر معلوم ہو جائے گا کہ خرابی اسلامی دستور و قانون میں نہیں بلکہ ہندوستانی سماج اور سماجی افراد میں ہے، اس لیے بھارت کے سماجی جرائم اور قانون شکنی کے واقعات و معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے سماج کو بدلنے کی ضرورت پر غور کریں۔
خصوصی بنچ ہی بٹھانا ہے تو اس لیے بٹھائیں کہ طلاق اور ایک سے زائد شادی کے معاملے میں غلطی کہاں ہو رہی ہے اور زیادتی کس حد تک ہو رہی ہے اور مرد ہی مجرم ہیں یا عورتیں بھی مجرم ہوتی ہیں پھر جیسی رپورٹ آ جائے، اس کی روشنی میں قانون سازی کے لیے راجیہ سبھا و لوک سبھا کے سامنے تجویز رکھے کیوں کہ سپریم کورٹ کا منصب دستورِ ہند اور قانون کی ترجمانی اور توضیح و تطبیق ہے، قانون سازی نہیں، کوئی نیا قانون بنانے کا حق سپریم کورٹ کو حاصل نہیں، اگر کورٹ اپنے اس منصبی حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا تو مسلمان بھی اپنے قانونی رنگ و آہنگ اور دستوری طاقت کا پرامن مظاہرہ کریں گے اور کوشش کریں گے کہ (ریلی نہ کریں اور اخباری بیان بازی سے پرہیز کریں بلکہ) انتظامیہ, عدلیہ اور میڈیا پر اثر انداز ہونے والے سبھی طریقے اور حیلے اپنائیں گے لیکن ابھی ۲۳ نومبر (۲۰۱۶ء) کی شنوائی کے بعد سپریم کورٹ کے رجحان کا انتظار ہے۔ البتہ مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور، شرعی کونسل بریلی شریف، مسلم پرسنل لاء بورڈ، علما و مشائخ بورڈ جیسے ادارے ذہنی طور سے ہمیشہ ہی تیار ہیں اور عملی طور سے بھی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ ابھی (یکم اکتوبر) سپریم کورٹ کے سمینار ہال میں تین طلاق، تفویضِ طلاق، خلع اور آن لائن نکاح و طلاق پر مفتی محمد نظام الدین رضوی صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارکپور کا توسیعی خطاب اور سوال و جواب کا سیشن ہونے جا رہا ہے، یہ بھی اسی تیاری کا عملی حصہ ہے۔
