Loading...

سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: چہارم) | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: چہارم)
عنوان: سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: چہارم)
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ازواجی زندگی

آپ کی شادی بعد تکمیلِ تعلیم 1291ھ کو جناب فضلِ حسین صاحب رام پوری کی صاحب زادی “ارشاد بیگم” سے ہوئی۔ جیسا کہ حیاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے:

“اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مجددِ دین و ملت قدس سرہ العزیز کی شادی 1291ھ میں افضلِ حسین صاحب کی بڑی صاحب زادی (ارشاد بیگم) صاحبہ سے ہوئی۔ شیخ صاحب موصوف شیخ عثمانی تھے۔ ان کے والد کا نام شیخ احمد حسین تھا۔” [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 56]

اہلیہ محترمہ ارشاد بیگم

قدرت نے آپ کو تجدیدِ دین جیسے عظیم کام کے لیے منتخب فرمایا تھا اس لیے آپ کو زندگی کے ہر موڑ پر قدرت نے ان عظیم نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے آپ کو دینی کام کی انجام دہی میں آسانیاں ہوں اور مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ ان نعمتوں میں سے ایک آپ کی “اہلیہ محترمہ” بھی ہیں جو نیک اور متشرع خاتون تھیں۔ حکیم الاسلام علامہ حسنین رضا خاں علیہ الرحمہ “سیرتِ اعلیٰ حضرت” میں لکھتے ہیں:

“یہ ہماری محترمہ اماں جان رشتہ میں اعلیٰ حضرت کی پھوپھی زادی تھیں۔ صوم و صلوٰۃ کی سختی سے پابند تھیں۔ نہایت خوش اخلاق، بڑی سیر چشم، انتہائی مہمان نواز، نہایت متین اور سنجیدہ بی بی تھیں۔ اعلیٰ حضرت کے یہاں مہمانوں کی بڑی آمد و رفت تھی، ایسا بھی ہوا ہے کہ عین کھانے کے وقت ریل سے مہمان اتر آئے اور جو کچھ کھانا تھا وہ سب پک چکا تھا اب پکانے والوں نے ناک بھوں سمیٹی آپ نے فوراً مہمانوں کے لیے کھانا اتار کر باہر بھیج دیا اور سارے گھر کے لیے دال چاول یا کھچڑی پکنے کو رکھوا دی گئی کہ اس کا پکنا کوئی دشوار کام نہ تھا۔ جب تک مہمانوں نے باہر کھانا کھایا گھر والوں کے لیے بھی کھانا تیار ہو گیا۔ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی کہ کیا ہوا۔ اعلیٰ حضرت کی ضروری خدمات وہ اپنے ہاتھ سے انجام دیتی تھیں۔ خصوصاً اعلیٰ حضرت کے سر میں تیل ملنا یہ ان کا روزمرہ کا کام تھا، جس میں کم و بیش آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا پڑتا تھا اور اس شان سے تیل جذب کیا جاتا تھا کہ ان کے لکھنے میں اصلاً فرق نہ پڑے، یہ عمل ان کا روزانہ مسلسل تاحیاتِ اعلیٰ حضرت برابر جاری رہا۔ سارے گھر کا نظم اور مہمان نوازی کا عظیم بار بڑی خاموشی اور صبر و استقلال سے برداشت کر گئیں۔ اعلیٰ حضرت قبلہ کے وصال کے بعد بھی کئی سال زندہ رہیں، مگر اب بجز یادِ الٰہی کے انہیں اور کوئی کام نہ رہا تھا۔”

“اعلیٰ حضرت کے گھر کے لیے ان کا انتخاب بڑا کامیاب تھا، رب العزت نے اعلیٰ حضرت قبلہ کی دینی خدمات کے لیے جو آسانیاں عطا فرمائی تھیں ان آسانیوں میں ایک بڑی چیز اماں جان کی ذات گرامی تھی۔ قرآن پاک میں رب العزت نے اپنے بندوں کو دعائیں اور مناجاتیں بھی عطا فرمائی ہیں تاکہ بندوں کو اپنے رب سے مانگنے کا سلیقہ آجائے ان میں سے ایک دعا یہ بھی ہے:”

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [پ: 2، سورۃ البقرة: 201]

ترجمہ: اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا۔

تو دنیا کی بھلائی سے بعض مفسرین نے ایک پاک دامن، ہمدرد اور شوہر کی جاں نثار بی بی مراد لی ہے۔ ہماری اماں جان عمر بھر اس دعا کا پورا اثر معلوم ہوتی رہیں، اپنے دیوروں اور نندوں کی اولاد سے بھی اپنے بچوں جیسی محبت فرماتی تھیں گھرانے کے اکثر بچے انہیں اماں جان ہی کہتے تھے۔ اب کہاں ایسی پاک ہستیاں۔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا۔ [سیرتِ اعلیٰ حضرت از مولانا حسنین رضا خاں، مطبوعہ: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف، ص: 49، 50]

اولاد و امجاد

اب تک امام اہل سنت کی سیرت و سوانح پر جتنی بھی کتابیں لکھی گئیں ہیں تقریباً سب میں یہی درج ہے کہ آپ کی سات اولادیں تھیں جن میں سے دو صاحب زادے اور پانچ صاحب زادیاں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کی کل آٹھ اولادیں ہوئیں؛ تین صاحب زادے اور پانچ صاحب زادیاں۔ بڑے صاحب زادے حضور حجۃ الاسلام علامہ محمد حامد رضا خاں، منجھلے صاحب زادے محمود رضا خاں مرحوم جو بچپن ہی میں انتقال کر گئے اور چھوٹے صاحب زادے حضور مفتی اعظم ہند علامہ محمد مصطفی رضا خاں۔

امام اہل سنت نے خود اپنے صاحب زادے “محمود رضا خاں” کا ذکر “تیسیر شرح جامع صغیر” کے حاشیہ میں فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

قَدْ وُلِدَ لِيْ بِحَمْدِ اللّٰهِ تَعَالَى الْآنَ ذَكَرَانِ فَكِلَاهُمَا سَمَّيْتُ مُحَمَّدًا وَأَرْجُوْ بَرَكَةَ اللّٰهِ تَعَالَى، أَمَّا الْأَكْبَرُ فَيُعْرَفُ بِحَامِدِ رَضَا فَحَيٌّ بِحَمْدِ اللّٰهِ وَأَسْأَلُ اللّٰهَ تَعَالَى أَنْ يَّرْزُقَهُ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ بِبَرَكَةِ اسْمِ مَحْبُوْبِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وُلِدَ لِخَمْسٍ بَقِيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فِي الثُّلُثِ الْآخِرِ عَنْ لَيْلَةِ سَبْتٍ عَامَ اثْنَيْنِ وَتِسْعِيْنَ بَعْدَ الْأَلْفِ وَالْمَائَتَيْنِ. وَأَمَّا الْأَصْغَرُ وَكَانَ يُعْرَفُ بِمَحْمُوْدِ رَضَا فَنَحْتَسِبُهُ عِنْدَ اللّٰهِ تَعَالَى جَعَلَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فَرَطًا لَّنَا وَأَجْرًا وَذُخْرًا، آمِيْن بِجَاهِ الْمَوْلَى الْكَرِيْمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. عَاشَ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ وَأَيَّامًا ثُمَّ مَضَى لِسَبِيْلِهِ، وَكَانَ مِنَ الْحُسْنِ وَالْجَمَالِ بِمَكَانٍ يَقُوْلُ الْقَائِلُ إِذَا رَآهُ: لَمْ تَرَ عَيْنِيْ مِثْلَهُ قَطُّ . وَالْعَيْنُ تُدْخِلُ الرَّجُلَ فِي الْقَبْرِ وَالْجَمَلَ فِي الْقِدْرِ، وَكُلُّ أَمْرٍ بِقَدَرِ اللّٰهِ ، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُّسَمًّى. [حاشیہ تیسیر شرح جامع صغیر قلمی]

بحمد اللہ میرے یہاں اس وقت تک دو لڑکے ہوئے ہیں، میں نے ان دونوں کا نام “محمد” رکھا۔ ان میں بڑے “حامد رضا خاں” کے نام سے معروف ہیں اور یہ بحمد اللہ تعالیٰ باحیات ہیں، اللہ ان کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی برکت سے ہر بھلائی عطا فرمائے۔ ان کی ولادت 25 صفر 1292ھ کو ہوئی۔ دوسرے چھوٹے بیٹے “محمود رضا خاں” کے نام سے معروف تھے۔ ان کے بارے میں ہم اللہ تعالیٰ کے یہاں ثواب کے طالب ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ہمارے لیے آگے بھیجا ہوا اجر و ثواب بنائے اور ذخیرہ آخرت فرمائے، آمین بجاہ المولیٰ الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ پانچ مہینے کچھ دن باحیات رہے اور پھر سفرِ آخرت اختیار فرمایا۔ یہ ایسے حسین و جمیل تھے کہ دیکھنے والا یہ کہتا، میری آنکھ نے ان جیسا نہیں دیکھا۔ اور حدیث میں ہے کہ “نظر آدمی کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں داخل کر دیتی ہے” اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک وقت مقرر ہے۔

درج بالا اعلیٰ حضرت کی تحریر سے واضح ہے کہ آپ کے چھوٹے صاحب زادے کا اسم گرامی “محمود رضا خاں” تھا جو پانچ ماہ کچھ دن کے بعد دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اعلیٰ حضرت نے جب یہ تحریر فرمایا اس وقت حضور مفتی اعظم ہند کی دنیائے گیتی پر تشریف آوری نہیں ہوئی تھی۔

اب مذکورہ تحریر کی روشنی میں یہ کہنا حق و صواب ہے کہ اعلیٰ حضرت کے صاحب زادے تین اور صاحب زادیاں پانچ اور کل تعداد اولاد کی آٹھ تھی جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

  1. حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ

  2. محمود رضا خاں مرحوم

  3. مفتی اعظم ہند مولانا محمد مصطفیٰ رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ

  4. مصطفائی بیگم

  5. کنیز حسن

  6. کنیز حسین

  7. کنیز حسنین

  8. مرتضائی بیگم

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!