Loading...

سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: سوم) | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: سوم)
عنوان: سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: سوم)
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

بیعت و ارادت

آپ رحمۃ اللہ علیہ 1293ھ، مطابق 1877ء کو شیخ المشائخ حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے۔ اس سے قبل آپ قطبِ زماں حضرت فضلِ رحمٰن گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ اور تاج الفحول علامہ عبدالقادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں بغرضِ بیعت تشریف لائے تھے لیکن نوشتہ تقدیر نے شیخ المشائخ آلِ رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر آپ کا بیعت ہونا لکھ دیا تھا اس لیے آپ ان کے ہاتھ پر بیعت کے شرف سے مشرف ہوئے۔ بقیۃ السلف حضرت سید اسمعیل حسن شاہ جی میاں رحمۃ اللہ علیہ آپ کے واقعہ بیعت و خلافت کے متعلق بیان فرماتے ہیں:

“حضرت تاج الفحول محب الرسول مولانا شاہ عبدالقادر صاحب بدایونی قدس سرہ العزیز نے فقیر سے بیان فرمایا کہ مولانا نقی علی خاں صاحب والدِ ماجد حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب نے اپنی بیعت کے ارادے کا اظہار فرمایا۔ اس سے پہلے حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بہ خیالِ بیعت مولانا فضلِ رحمٰن صاحب گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جا چکے تھے اور وہاں سے بغیر بیعت واپس آچکے تھے۔ مولانا بدایونی نے مولانا نقی علی خاں صاحب کو یہ جواب دیا کہ آپ امرِ بیعت میں مجھ پر اعتماد رکھتے ہیں تو جس جگہ مناسب جان کریں آپ کو بیعت کرادوں وہاں منظور کر لیجیے۔”

“مولانا (نقی علی) بریلوی کی طرف سے اس پر رضا مند ہونے کے بعد مولانا (عبدالقادر) بدایونی، مولانا نقی علی خاں صاحب، مولانا احمد رضا خاں صاحب اور مرزا غلام قادر بیگ کو ہمراہ لے کر مارہرہ تشریف لائے۔ چونکہ مولانا نقی علی خاں صاحب نے فرمایا کہ میں بغیر تجدیدِ غسل کیے ہوئے خانقاہِ برکاتیہ میں حاضر نہ ہوں گا لہذا سب حضرات پہلے مارہرہ میں ایک سرائے میں جا کر فروکش ہوئے۔ مگر سرائے کے راستے میں سواری کا پہیہ الٹ گیا اور مولانا نقی علی خاں صاحب کو چوٹ لگی۔ پھر اسی حالت میں انہوں نے نہا دھو کر کپڑے پہنے اور سب حضرات خانقاہِ برکاتیہ تشریف لائے اور فقیر ہی کے مکان موسوم بہ مدرسہ پر جو درگاہِ معلیٰ برکاتیہ کے سامنے تھا اور اس وقت ٹوٹا پڑا ہے اس میں فروکش ہوئے۔ فقیر کے والدِ ماجد حضرت سید شاہ محمد صادق و برادرِ مکرم حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں صاحب قدس سرہما بھی ان دنوں مارہرہ شریف ہی میں تشریف فرما تھے۔ اسی دن ظہر کے وقت مولانا بدایونی، مولانا نقی علی خاں صاحب اور مولانا احمد رضا خاں صاحب اور مرزا غلام قادر بیگ صاحب کو ہمراہ لے کر حضرت خاتم الاکابر سید شاہ آلِ رسول صاحب قدس سرہ العزیز کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ فقیر اور فقیر کے والدِ ماجد اور (نوری) میاں صاحب بھائی مرحوم بھی ہمراہ گئے۔”

“حضرت خاتم الاکابر نے پہلے مولانا نقی علی خاں صاحب پھر مولانا احمد رضا خاں صاحب پھر مرزا عبدالقادر بیگ صاحب کو داخلِ سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ جدیدہ فرمایا۔” [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 59، 60]

اجازت و خلافت

بعد بیعت حضور آلِ رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت سے بھی نوازا۔

آپ کو جن سلاسلِ طریقت میں اجازت و خلافت حاصل تھی اس کی تفصیل خود موصوف نے اس طرح لکھی ہے:

  1. قادریہ برکاتیہ جدیدہ

  2. قادریہ آبائیہ قدیمہ

  3. قادریہ ابدایہ

  4. قادریہ رزاقیہ

  5. قادریہ منصوریہ

  6. چشتیہ نظامیہ قدیمہ

  7. چشتیہ محبوبی یہ جدیدہ

  8. سہروردیہ واحدیہ

  9. سہروردیہ فضلیہ

  10. نقشبندیہ علائیہ صدیقیہ

  11. نقشبندیہ علائیہ علویہ

  12. بدیعیہ

  13. علومیہ منامیہ وغیرہ وغیرہ۔ [الاجازات المتینہ، ص: 21]

مندرجہ بالا سلاسل میں اجازت کے علاوہ فاضلِ بریلوی کو مصافحاتِ اربعہ کی سندات بھی ملیں جس کی تفصیل موصوف نے اس طرح تحریر فرمائی ہے:

  1. مصافحہ الجنیہ

  2. مصافحہ الخضریہ

  3. مصافحہ المعمریہ

  4. مصافحہ المنامیہ [الاجازات المتینہ، ص: 26]

ان مصافحات و اجازت کے علاوہ مختلف اذکار، اشغال و اعمال وغیرہ کی بھی آپ کو اجازت حاصل تھی مثلاً خواص القرآن، اسماء الہیہ، دلائل الخیرات، حصنِ حصین، حزب البحر، حزب البر، حزب النصر، حرز الامیرین، حرز الیمانی، دعاء مغنی، دعاء حیدری، دعاء عزرائیلی، دعاء سریانی، قصیدہ غوثیہ، صلوٰۃ الاسرار، قصیدہ بردہ وغیرہ وغیرہ۔ [فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں، ص: 22]

زیارتِ حرمین شریفین

آپ کو اپنی پوری زندگی میں دو مرتبہ سفرِ حج و زیارتِ حرمین شریفین کی سعادت نصیب ہوئی جس کی مختصر تفصیل یہ ہے:

پہلی بار کی حاضری حضرات والدین ماجدین رحمۃ اللہ علیہما کے ہمراہ رکاب (یعنی ہمراہی میں) تھی۔ اس وقت مجھے تیئیسواں سال تھا۔ واپسی میں تین دن طوفان شدید رہا تھا، اس کی تفصیل میں بہت طول ہے۔ لوگوں نے کفن پہن لیے تھے۔ حضرت والدہ ماجدہ کا اضطراب (یعنی پریشانی) دیکھ کر ان کی تسکین (یعنی تسلی) کے لیے بے ساختہ میری زبان سے نکلا کہ آپ اطمینان رکھیں، خدا کی قسم! یہ جہاز نہ ڈوبے گا۔ یہ قسم میں نے حدیث ہی کے اطمینان پر کھائی تھی جس کشتی پر سوار ہوتے وقت غرق (یعنی ڈوبنے) سے حفاظت کی دعا ارشاد ہوئی ہے۔ میں نے وہ دعا پڑھ لی تھی لہٰذا حدیث کے وعدہ صادقہ (یعنی سچے وعدے) پر مطمئن تھا۔ پھر بھی قسم کے نکل جانے سے خود مجھے اندیشہ ہوا اور معاً حدیث یاد آئی:

مَنْ يَّتَأَلَّ عَلَى اللّٰهِ يُكَذِّبْهُ

حضرتِ عزت (یعنی اللہ تعالیٰ) کی طرف رجوع کی اور سرکارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد مانگی الحمد للہ (عزوجل) کہ وہ مخالف ہوا کہ تین دن سے بشدت چل رہی تھی دو گھڑی میں بالکل موقوف ہو گئی (یعنی رک گئی) اور جہاز نے نجات پائی۔

ماں کی محبت!

وہ تین شبانہ روز (یعنی دن رات) کی سخت تکلیف یاد تھی، مکان میں قدم رکھتے ہی پہلا لفظ مجھ سے یہ فرمایا کہ “حج فرض اللہ تعالیٰ نے ادا فرما دیا، اب میری زندگی بھر دوبارہ ارادہ نہ کرنا۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 181، 182]

دوسری بار 1323ھ / 1905ء میں آپ حجِ بیت اللہ اور زیارتِ حرمین شریفین کے لیے گئے۔ اس مبارک سفر میں علمائے حجاز نے آپ کی بڑی قدر و منزلت کی اور اسی سفرِ حج میں آپ نے “اَلدَّوْلَةُ الْمَكِّيَّةُ” اور “كِفْلُ الْفَقِيْهِ الْفَاهِمِ” لکھا۔ [ماخوذ از ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!