Loading...

سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: پنجم) | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: پنجم)
عنوان: سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: پنجم)
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

وفات حسرت آیات

بروز جمعۃ المبارک 25 صفر المظفر 1340ھ، مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو دن دو بج کر 38 منٹ پر عین اذانِ جمعہ میں ادھر “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ” کی پکار سنی ادھر روحِ پرفتوح نے “دَاعِيَ إِلَى اللّٰهِ” کو لبیک کہا۔ لیکن وفات سے قبل ہی آپ نے اپنی وفات کی خبر دے دی تھی جیسا کہ محدثِ اعظم ہند حضور سید محمد اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

“بتاؤں کہ وہ محی الدین مجدد کون ہے؟ جو اپنی وفات شریف سے چار ماہ بائیس روز قبل بمقام کوہ بھوائی اپنے وصال کی تاریخ فرما چکا ہے، بلکہ یوں کہو کہ تاریخِ وفات کے لیے بھی جس کی زبان سے قدرت نے آیہ کریمہ تلاوت کرائی:”

وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ بِآنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا

خدام چاندی کے کٹورے اور وہ گلاس لیے ان کو گھیرے ہیں (40 ہج 13)۔ [وصایا شریف، علامہ حسنین رضا خاں، مطبع: الیکٹرک ابوالعلائی پریس، آگرہ، ص: 15]

اور اپنی وفات کی خبر دینے کے مطابق ٹھیک 1340ھ ہی میں وفات پائی حکیم الاسلام حضرت مولانا حسنین رضا خاں صاحب جنہوں نے اس الوداعی سفر کا روح پرور نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ تحریر فرماتے ہیں کہ فاضل بریلوی نے:

“وصیت نامہ تحریر کرایا، وصال شریف تک کے تمام کام گھڑی دیکھ کر ٹھیک وقت پر ارشاد فرمائے۔ جب دو بجنے میں 4 منٹ باقی تھے، وقت پوچھا عرض کیا گیا، فرمایا گھڑی کھلی ہوئی سامنے رکھ دو۔ یکایک ارشاد فرمایا: تصاویر ہٹا دو، یہاں تصاویر کا کیا کام؟ یہ خطرہ گزرنا تھا کہ خود ارشاد فرمایا: یہی کارڈ، لفافہ، روپیہ، پیسہ، پھر ذرا وقفہ سے برادرِ معظم حضرت مولانا مولوی محمد حامد رضا خاں صاحب سے ارشاد فرمایا:”

“وضو کراؤ، قرآن عظیم لاؤ، ابھی وہ تشریف نہ لائے تھے کہ برادرم مولانا مصطفیٰ رضا خاں صاحب سلمہ سے پھر ارشاد ہوا: اب بیٹھیے کیا کر رہے ہو۔ یٰسین شریف اور سورہ رعد شریف تلاوت کرو، اب عمر شریف سے چند منٹ رہ گئے ہیں۔ حسب الحکم دونوں سورتیں تلاوت کی گئیں ایسے حضورِ قلب اور تیقظ سے سنیں کہ جس آیت میں اشتباہ ہوا یا سننے میں پوری نہ آئی یا سبقتِ زبانی سے زیر، زبر میں اس وقت فرق ہوا۔ خود تلاوت فرما کر بتادی۔ سفر کی دعائیں جن کا چلتے وقت پڑھنا مسنون ہے تمام و کمال، بلکہ معمول شریف سے زائد پڑھیں، پھر کلمہ طیبہ پورا پڑھا جب اس کی طاقت نہ رہی اور سینہ پر دم آیا ادھر ہونٹوں کی حرکت و ذکرِ پاسِ انفاس کا ختم ہونا تھا کہ چہرہ مبارک پر ایک لمحہ نور کا چمکا جس میں جنبش تھی جس طرح لمعانِ خورشید آئینہ میں جنبش کرتا ہے اس کے غائب ہوتے ہی وہ جانِ نور جسم اطہر حضور سے پرواز کر گئی۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔”

“خود اسی زمانہ میں ارشاد فرمایا تھا: جنہیں ایک جھلک دکھا دیتے ہیں۔ وہ شوقِ دیدار میں ایسے جاتے ہیں کہ جانا معلوم بھی نہیں ہوتا: 25 صفر 1340ھ کو ٹھیک نمازِ جمعہ کے وقت مجھے اس بات کا مشاہدہ ہوا کہ محبوبانِ خدا بڑی خوشی سے جان دیتے ہیں۔” [وصایا شریف، ص: 17]

غسلِ شریف

آپ کے غسلِ شریف میں علمائے عظام، ساداتِ کرام اور حفاظ شریک تھے۔ جناب سید اظہر علی صاحب نے لحد کھودی۔ جناب حضرت مولانا امجد علی رحمۃ اللہ علیہ نے حسبِ وصیت شریف غسل دیا، اور جناب حافظ امیر حسن صاحب مرادآبادی نے مدد دی۔ مولانا سید سلیمان اشرف صاحب اور سید محمود جان صاحب اور سید ممتاز علی صاحب اور جناب مولانا محمد رضا خاں صاحب نے پانی ڈالا، اور جناب حکیم رضا خاں صاحب، جناب لیاقت علی خاں صاحب رضوی اور منشی فدایار خاں صاحب رضوی پانی دینے میں مصروف رہے۔

تجہیز و تکفین

سیدی حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں صاحب قدس سرہ علاوہ دیگر خدمات کے وصیت نامہ کی دعا بھی لوگوں کو یاد کراتے رہے۔ حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خاں صاحب قدس سرہ نے مواضعِ سجود پر کافور لگایا۔

حضرت صدر الافاضل استاذ العلماء مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ نے کفنِ شریف بچھایا۔ الغرض غسل و تکفین سے فراغت حاصل ہونے پر عورتوں کو زیارت کا موقع دیا گیا۔ گھر میں عورتوں اور باہر مردوں کی بے حد کثرت تھی۔ ایسا جوش کبھی نہ دیکھا، کاندھا دینے کی آرزو میں آدمی پر آدمی گرتا تھا۔ وجد و شوق نے لوگوں کو از خود رفتہ و بے خود بنا دیا تھا۔ جو جنازہ تک پہنچ گئے وہ ہٹنے کا نام نہ لیتے تھے۔ وہابی، رافضی، نیچری حتیٰ کہ گاندھوی تک بکثرت موجود تھے۔ ایک رافضی المذہب انتہائی کوشش اور پوری قوت صرف کر کے جنازہ تک پہنچا۔ اسے ایک سنی نے کہہ کر ہٹا دیا کہ مدت العمر اعلیٰ حضرت کو تم لوگوں سے نفرت رہی میں جنازہ کو کاندھا دینے دوں گا۔ اس نے کہا: بھائی اب مجھے یہ کہاں ملیں گے۔ اللہ! اب نہ روکو۔

نمازِ جنازہ

جنازہ ہر وقت کم از کم بیس کاندھوں پر رہا۔ شہر میں کسی جگہ نماز کی گنجائش نہ تھی۔ عیدگاہ میں نمازِ جنازہ ہوئی، نمازِ جنازہ آپ کے صاحب زادے حجۃ الاسلام مفتی حامد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی۔ پہلے سے عیدگاہ سے کسی معین راستہ کا اعلان نہ تھا، مگر دو رویہ چھتیں، عورتوں سے اور راستے مردوں سے بھرے ہوئے منتظر تھے کہ امامِ اہلِ سنت، مجددِ اعظم کا یہ آخری جلوس ہے، لاؤ نظارہ کر لیں۔ بعد نماز عیدگاہ میں زیارت کرائی گئی اور واپسی پر تمام راہ میں لوگوں نے دل کھول کر زیارت کی۔ حسبِ وصیت “کروڑوں درود” والی نظم نعت خواں پڑھ رہے ہیں۔ [وصایا شریف، ص: 18، 19]

مزارِ مقدس

آپ کا مزار پُر انوار خانقاہِ بریلی شریف، یوپی، ہند، محلہ سودگرانِ رضا نگر میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ [امام احمد رضا اور القاب نوازی، ص: 41 تا 57]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!