| عنوان: | خاتم المحققین علامہ نقی علی خان بریلوی قدس سرہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ولادت
امام احمد رضا قدس سرہ کے والد ماجد علامہ مفتی نقی علی خان بن رضا علی خان بریلوی 30 جمادی الآخرہ یا یکم رجب المرجب 1246ھ کو بریلی میں پیدا ہوئے۔
تعلیم و تربیت
اپنے والد محترم مولانا رضا علی خان بریلی سے جملہ علوم ظاہری و باطنی کا اکتساب کیا، والد ماجد نے آپ کی تعلیم پر کافی توجہ دی، آپ کو انوارِ علوم اسلامیہ کا درخشندہ آفتاب بنا دیا اور مسندِ افتا سونپ دی۔ مولانا سید شاہد علی رضوی تحریر فرماتے ہیں:
“امام العلماء نے نہ صرف خود مسندِ افتا کو زینت بخشی بلکہ اپنے فرزندِ سعید امام المتکلمین مولانا مفتی نقی علی خان بریلوی قدس سرہ کو خصوصی تعلیم و تربیت دے کر مسندِ افتا پر فائز کیا۔” [مفتی اعظم اور ان کے خلفا، شہاب الدین رضوی، رضا اکیڈمی، ص: 75]
آپ تینتالیس علوم و فنون کے علاوہ منطق و فلسفہ کے ماہر تھے۔ آپ کا مطالعہ نہایت وسیع تھا۔ [حیات مفتی اعظم، مرزا عبدالوحید بیگ، ص: 35]
بیعت و خلافت
اپنے خلفِ اکبر امام احمد رضا خان محدث بریلوی اور تاج الفحول علامہ عبدالقادر بدایونی کے ہمراہ 5 جمادی الآخرہ 1294ھ کو خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف حاضر ہوئے اور خاتم الاکابر سیدنا شاہ آلِ رسول قادری برکاتی سے آپ نے اور آپ کے صاحبزادے نے شرفِ بیعت حاصل کیا، اسی مجلس میں خاتم الاکابر نے دونوں کو خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔
فتویٰ نویسی
امام العلماء مفتی رضا علی خان نے 1246ھ مطابق 1831ء میں سرزمینِ بریلی پر مسندِ افتا کی بنیاد رکھی اور چونتیس سال تک فتویٰ دیا۔ امام العلماء نے اپنے فرزند علامہ نقی علی خان کو خصوصی تعلیم دے کر مسندِ افتا پر فائز کیا، اس کے بعد آپ نے 1297ھ تک نہ صرف فتویٰ نویسی کا گراں قدر فریضہ انجام دیا بلکہ معاصر علما و فقہا سے اپنی علمی بصیرت کا لوہا منوا لیا، آپ کے پاس ملک و بیرونِ ملک سے بکثرت سوالات اور تصدیقات کے لیے فتاویٰ آتے۔ آپ انتہائی احتیاط سے کام لیتے اگر جوابات صحیح ہوتے تو دستخط فرما دیتے ورنہ علیحدہ کاغذ پر جواب لکھ دیتے، مفتی حافظ بخش آنولوی لکھتے ہیں:
“مولوی صاحبِ ممدوح کو کسی کی تکفیر مشتہر کرنے سے کیا غرض تھی نہ آپ کی عادت۔ مسائل جو مہر کے واسطے آتے اگر صحیح ہوتے مہر ثبت فرماتے ہیں اور جو خلافِ کتاب (شریعت) ہوتے ہیں جواب علیحدہ سے لکھ دیتے ہیں کسی کی تحریر سے تعرض نہیں کرتے۔” [تنبیہ الجہال بالہام الباسط المتعال، ص: 23]
تصنیف و تالیف
تصنیف و تالیف کے میدان میں آپ اپنے دور میں نادرِ روزگار مصنف تھے اور جمیع علوم میں اپنے معاصر علما پر فوقیت رکھتے تھے، آپ نے اردو، عربی اور فارسی کو اپنی گراں قدر تصانیف سے مالامال کیا۔ آپ نے چالیس کتابیں تصنیف کیں اور اعلیٰ حضرت نے 26 کتابوں کا ذکر کیا ہے جن میں سے چند مشہور یہ ہیں:
ٱلْكَلَامُ الْأَوْضَحُ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ أَلَمْ نَشْرَحْ، سُرُورُ الْقُلُوبِ فِي ذِكْرِ الْمَحْبُوبِ، جَوَاهِرُ الْبَيَانِ فِي أَسْرَارِ الْأَرْكَانِ، أُصُولُ الرَّشَادِ لِقَمْعِ مَبَانِي الْفَسَادِ، هِدَايَةُ الْبَرِيَّةِ إِلَى الشَّرِيعَةِ الْأَحْمَدِيَّةِ، إِذَاقَةُ الْأَثَامِ لِمَانِعِي عَمَلِ الْمَوْلِدِ وَالْقِيَامِ، فَضْلُ الْعِلْمِ وَالْعُلَمَاءِ، أَحْسَنُ الْوِعَاءِ لِآدَابِ الدُّعَاءِ، إِزَالَةُ الْأَوْهَامِ، تَزْكِيَةُ الْإِيقَانِ رَدُّ تَقْوِيَةِ الْإِيمَانِ، الْكَوْكَبُ الْأَزْهَرُ فِي فَضَائِلِ الْعِلْمِ وَآدَابِ الْعُلَمَاءِ، الرُّؤْيَةُ فِي الْأَخْلَاقِ النَّبَوِيَّةِ، النَّقَاهَةُ النَّقَوِيَّةُ فِي الْخَصَائِصِ النَّبَوِيَّةِ، وَسِيلَةُ النَّجَاةِ، لُمْعَةُ النِّبْرَاسِ فِي آدَابِ الْأَكْلِ وَاللِّبَاسِ، تَرْوِيحُ الْأَرْوَاحِ، التَّمَكُّنُ فِي تَحْقِيقِ مَسَائِلِ التَّزَيُّنِ، خَيْرُ الْمُخَاطَبَةِ فِي الْمُحَاسَبَةِ وَالْمُرَاقَبَةِ، هِدَايَةُ الْمُشْتَاقِ إِلَى سِيَرِ الْأَنْفُسِ وَالْآفَاقِ، إِرْشَادُ الْأَحْبَابِ إِلَى آدَابِ الِاحْتِسَابِ، أَجْمَلُ الْفِكْرِ فِي مَبْحَثِ الذِّكْرِ، عَيْنُ الْمُشَاهَدَةِ لِحُسْنِ الْمُجَاهَدَةِ، تَشَوُّقُ الْإِلٰهِ إِلَى طَرِيقِ مَحَبَّةِ اللّٰهِ، نِهَايَةُ السَّعَادَةِ فِي تَحْقِيقِ الْهِمَّةِ وَالْإِرَادَةِ، أَقْوَى الذَّرِيعَةِ إِلَى تَحْقِيقِ الطَّرِيقَةِ وَالشَّرِيعَةِ، إِصْلَاحُ ذَاتِ بَيْنٍ۔
درس و تدریس
آپ نے تصنیف کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کی طرف بھی توجہ دی، آپ کا درس مشہور تھا، طلبہ دور دور سے آپ کے پاس علم کی پیاس بجھانے کے لیے آتے، آپ بہت شوق سے طلبہ کو تعلیم دیتے۔ آپ نے قوم کی فلاح و بہبود کے لیے بریلی میں “مدرسہ اہل سنت” قائم کیا۔
وصال
ماہِ ذوالقعدہ 1297ھ کو علامہ نقی علی خان راہیِ ملکِ بقا ہوئے۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ آپ کے آخری لمحات کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
“روزِ وصال نمازِ صبح پڑھ لی تھی اور ہنوز وقتِ ظہر باقی تھا کہ انتقال فرمایا۔ نزع میں سب حاضرین نے دیکھا کہ آنکھیں بند کیے متواتر سلام فرماتے تھے۔ جب چند انفاس باقی رہے، ہاتھوں کو اعضاے وضو پر یوں پھیرا گویا وضو فرماتے ہیں یہاں تک کہ استنشاق بھی فرمایا۔ سُبْحَانَ اللّٰهِ! وہ اپنے طور پر حالتِ بے ہوشی میں نمازِ ظہر بھی ادا فرما گئے۔ جس وقت روح پر فتوح نے جدائی فرمائی۔ فقیر سرہانے حاضر تھا۔ وَاللّٰهِ الْعَظِيْمِ! ایک نورِ ملیح علانیہ نظر آیا کہ سینے سے اٹھ کر برقِ تابندہ کی طرح چہرے پر چمکا، اور جس طرح لمعانِ خورشید آئینے میں جنبش کرتا ہے، یہ حالت ہو کر غائب ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی روح بدن میں نہ تھی۔ پچھلا کلمہ، کہ زبانِ فیض ترجمان سے نکلا، لَفْظِ اللّٰهِ تھا وبس اور اخیر تحریر کہ دستِ مبارک سے ہوئی ’’بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ‘‘ تھی کہ انتقال سے دو روز پہلے ایک کاغذ پر لکھی تھی۔” [اذاقۃ الاثام لما نفی عمل المولد والقیام، ص: 33]
القابات و خطابات
-
تَاجُ الْعُلَمَاءِ
-
رَأْسُ الْفُضَلَاءِ
-
حَامِي سُنَّةٍ مَاحِي بِدْعَةٍ
-
بَقِيَّةُ السَّلَفِ
-
حُجَّةُ الْخَلَفِ
-
خَاتَمُ الْمُحَقِّقِينَ
-
أَعْلَى حَضْرَتْ عَظِيمُ الْبَرَكَةِ
-
أَعْلَمُ الْعُلَمَاءِ
-
أَفْضَلُ الْفُضَلَاءِ
-
آيَةٌ مِنْ آيَاتِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
-
مُعْجِزَةٌ مِنْ مُعْجِزَاتِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ صلی اللہ علیہ وسلم
-
تَاجُ الْمُحَقِّقِينَ
-
أَفْضَلُ الْمُحَقِّقِينَ
-
أَمْثَلُ الْمُدَقِّقِينَ
-
سِرَاجُ الْمُدَقِّقِينَ
-
إِمَامُ الْمُدَقِّقِينَ
-
أَكْمَلُ الْفُقَهَاءِ وَالْمُحَدِّثِينَ
-
حُجَّةُ اللّٰهِ فِي الْأَرَضِينَ
-
حُجَّةُ الْإِسْلَامِ
-
سَيِّدُ الْعُلَمَاءِ
-
سَنَدُ الْكُمَلَاءِ
-
تَاجُ الْأَفَاضِلِ
-
سِرَاجُ الْأَمَاثِلِ
-
فَرْدُ الْأَمَاثِلِ
-
فَخْرُ الْأَكَابِرِ
-
وَارِثُ الْعِلْمِ
حضرت علامہ نقی علی خان رضی اللہ عنہ اپنے دور کے مرجع العلما تھے اور امام اہل سنت کو عظیم المرتبت شخصیت بنانے میں آپ کے والد ماجد علامہ نقی علی خان کا بھی کافی حصہ رہا۔ آپ کے علم و فن سے امامِ اہل سنت اس درجہ متاثر تھے کہ آپ نے علامہ نقی علی خان کو عظیم عظیم القاب سے یاد فرمائے، نہ اس لیے کہ وہ آپ کے والد ماجد تھے بلکہ اس لیے کہ واقع میں آپ ایسے ہی تھے۔ جیسا کہ خود امامِ اہل سنت فتاویٰ رضویہ میں ایک جگہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛
