Loading...

مہنگی شادیاں اور کنواری بیٹیاں: ایک سنگین معاشرتی مسئلہ

مہنگی شادیاں اور کنواری بیٹیاں: ایک سنگین معاشرتی مسئلہ
عنوان: مہنگی شادیاں اور کنواری بیٹیاں: ایک سنگین معاشرتی مسئلہ
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

انسانی معاشرہ اعتدال، ہمدردی، تعاون اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم ہوتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں سادگی، قناعت اور ذمہ داری کا شعور زندہ رہتا ہے تو اس کے اجتماعی معاملات نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پاتے ہیں، مگر جب وہی معاشرہ نمود و نمائش، تکلف اور فضول خرچی کو عزت و وقار کا معیار سمجھنے لگے تو رفتہ رفتہ اس کے اندر طرح طرح کے سماجی اور اخلاقی مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔

بدقسمتی سے موجودہ دور میں مسلمان معاشروں کو جن اہم مسائل کا سامنا ہے ان میں مہنگی اور پُرتکلف شادیاں ایک نہایت سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔ نکاح جو دراصل اسلام کی نظر میں ایک سادہ، پاکیزہ اور بابرکت عمل ہے، آج اسے غیر ضروری رسومات، بے جا اخراجات اور معاشرتی دباؤ نے اس قدر مشکل بنا دیا ہے کہ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے شدید پریشانی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے، جہاں بیٹیاں صرف اس وجہ سے شادی کی عمر گزر جانے کے باوجود گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ والدین مہنگی شادی کے تقاضے پورے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

نکاح میں سادگی: قرآنی تعلیمات کی روشنی میں

اسلام نے نکاح کو انسانی زندگی کی فطری ضرورت اور معاشرتی پاکیزگی کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ قرآن کریم نے نکاح کو نہ صرف ایک پاکیزہ رشتہ قرار دیا بلکہ مسلمانوں کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ معاشرے میں نکاح کو آسان بنانے میں کردار ادا کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ﴾ (سورۃ النور: 32) ترجمہ: تم میں جو بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو اور تمہارے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔

اس آیت کریمہ میں واضح طور پر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ نکاح کو آسان بنایا جائے اور غربت کو اس میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کا بنیادی مزاج ہی سہولت اور اعتدال پر مبنی ہے، اسی لیے شریعت نے نکاح کے معاملے میں بھی سادگی کو پسند فرمایا اور بے جا تکلفات کو ناپسند کیا ہے۔

احادیثِ مبارکہ اور نکاح کا معیار

رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات بھی اسی حقیقت کی ترجمان ہیں۔ آپ ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کی تاکید فرمائی اور اس میں فضول خرچی اور نمود و نمائش سے منع فرمایا۔ چنانچہ حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے: "اَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً اَيْسَرُهُ مَؤُوْنَةً" (مسند احمد) ترجمہ: سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے نکاح کے معیار کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "اِذَا اَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِيْنَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوْهُ" (سنن ترمذی) ترجمہ: جب تمہارے پاس ایسا شخص نکاح کا پیغام لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کا نکاح کر دو۔

ان ارشادات نبوی سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام نے نکاح کے لیے اصل معیار دین، اخلاق اور کردار کو قرار دیا ہے، نہ کہ دولت، جاہ و حشم یا ظاہری نمود و نمائش کو۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ معاشرہ اس اسلامی اصول سے بہت دور ہو چکا ہے۔

موجودہ رسم و رواج اور معاشی بوجھ

آج شادی بیاہ کے نام پر جو رسومات رائج ہیں ان میں سے اکثر کا نہ شریعت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ان کا کوئی معقول سماجی فائدہ ہے۔ شادی ہالوں کی مہنگی تقریبات، قیمتی کھانوں کی لمبی فہرستیں، سینکڑوں مہمانوں کی ضیافتیں، اسٹیج کی سجاوٹ، مہنگے ملبوسات، فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی کی نمائش، اور سب سے بڑھ کر بھاری بھرکم جہیز کی رسم نے شادی کو ایک ایسی معاشی آزمائش بنا دیا ہے جس کا بوجھ اکثر والدین کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے سالہا سال پریشان رہتے ہیں، بعض اوقات قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور کئی مرتبہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بیٹیاں شادی کی عمر گزر جانے کے باوجود گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں۔

معاشرتی المیہ اور طعن و تشنیع

یہ صورت حال محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا معاشرتی المیہ ہے، کیونکہ جب کسی گھر کی بیٹی وقت پر رخصت نہ ہو سکے تو اس کے اثرات صرف اس خاندان تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرہ ایسے والدین کے درد کو سمجھنے کے بجائے اکثر انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بناتا ہے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ ابھی تک بیٹی کی شادی کیوں نہیں ہوئی، کبھی غربت کو مذاق کا موضوع بنایا جاتا ہے اور کبھی خاندان اور محلے میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اس طرز عمل سے والدین شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ بیٹیاں بھی احساس محرومی اور اضطراب کی کیفیت سے گزرنے لگتی ہیں۔

نکاح میں تاخیر کے اخلاقی نقصانات

اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو نکاح میں تاخیر اور اس کو غیر ضروری طور پر مشکل بنانا معاشرتی برائیوں کے فروغ کا سبب بن سکتا ہے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جوانی کے دور میں نکاح کے ذریعے جائز اور پاکیزہ راستہ فراہم کیا جائے۔ اگر معاشرہ نکاح کو مشکل بنا دے تو اس کے نتیجے میں اخلاقی کمزوریاں اور سماجی خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اسی لیے رسول اکرم ﷺ نے نوجوانوں کو نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: "يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَاِنَّهُ اَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَاَحْصَنُ لِلْفَرْجِ" (صحیح بخاری، صحیح مسلم) ترجمہ: اے نوجوانوں کے گروہ! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیے کیونکہ یہ نگاہ کو جھکانے والا اور عفت کی حفاظت کرنے والا ہے۔

یہ حدیث اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نکاح دراصل معاشرتی پاکیزگی اور اخلاقی استحکام کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اگر نکاح کو مشکل بنا دیا جائے تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں بے شمار اخلاقی مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عہدِ صحابہ اور علمائے امت کا طرزِ عمل

اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں نکاح نہایت سادگی کے ساتھ انجام پاتا تھا۔ کبھی معمولی سا مہر اور چند ضروری اشیاء کے ساتھ نکاح ہو جاتا تھا اور اس میں کسی قسم کی نمود و نمائش نہیں ہوتی تھی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا واقعہ معروف ہے کہ انہوں نے نہایت سادگی کے ساتھ نکاح کیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی بعد میں اس کا علم ہوا (صحیح بخاری)۔ اسی طرح فقہائے اسلام اور علمائے امت نے بھی ہمیشہ نکاح کی سادگی پر زور دیا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح میں تکلف اور فضول خرچی سے بچنا معاشرتی بھلائی اور نسل انسانی کے استحکام کا سبب ہے (احیاء علوم الدین)۔ جبکہ بعض اہل علم نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ جس معاشرے میں نکاح مشکل اور گناہ آسان ہو جائے وہ معاشرہ اخلاقی زوال کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے۔

لائحہ عمل اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

لہٰذا موجودہ حالات میں اس مسئلے کے حل کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرنا انتہائی ضروری ہے۔

  • مقصد کا شعور: سب سے پہلے معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شادی کا مقصد محض نمائش اور رسم و رواج کی تکمیل نہیں بلکہ ایک پاکیزہ اور ذمہ دارانہ رشتہ قائم کرنا ہے۔
  • سادگی کا فروغ: اگر والدین سادگی کو اختیار کریں، نوجوان فضول رسومات کو مسترد کریں اور معاشرہ غریب گھرانوں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا رویہ اپنائے تو یقیناً اس مسئلے میں بڑی حد تک کمی آ سکتی ہے۔
  • علماء کا کردار: اسی طرح علمائے کرام، دینی اداروں اور سماجی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے خطبات، دروس اور تحریروں کے ذریعے نکاح کی سادگی کو عام کریں اور لوگوں کو اس بات کی ترغیب دیں کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کی شادی کو آسان بنائیں۔
  • صاحبِ حیثیت افراد کا تعاون: مزید برآں صاحب حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ غریب گھرانوں کی بیٹیوں کی شادی میں تعاون کریں، کیونکہ یہ نہ صرف ایک عظیم سماجی خدمت ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک بڑا صدقہ اور کارِ ثواب بھی ہے۔

اگر معاشرہ اس جذبے کے ساتھ آگے بڑھے تو یقیناً ہزاروں پریشان والدین کی مشکلات آسان ہو سکتی ہیں اور بے شمار بیٹیاں ایک باعزت اور خوشگوار ازدواجی زندگی کا آغاز کر سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگی شادیوں کی موجودہ روش نے نکاح جیسے مقدس عمل کو مشکل بنا دیا ہے، حالانکہ اسلام اس کے برعکس نکاح کو آسان اور سادہ بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر مسلمان معاشرہ دوبارہ اسلامی اصولوں کی طرف رجوع کر لے اور سادگی کو اختیار کرے تو نہ صرف اس مسئلے کا حل ممکن ہے بلکہ معاشرے کی اخلاقی اور سماجی صحت بھی برقرار رہ سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پاکیزہ، متوازن اور باوقار معاشرہ دے سکتے ہیں اور نکاح کو اس کی اصل روح یعنی سادگی، برکت اور رحمت کے ساتھ زندہ کر سکتے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!