| عنوان: | میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ثبوت قرآن و سنت و اقوال ائمہ کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | فردان رضا حامدی |
جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی تاریخی خوشی میں مسرت و شادمانی کا اظہار ہے اور یہ ایسا مبارک عمل ہے جس سے ابولہب جیسے کافر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر ابولہب جیسے کافر کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں ہر پیر کو عذاب میں تخفیف نصیب ہو سکتی ہے تو اس مومن مسلمان کی سعادت کا کیا ٹھکانا ہوگا جس کی زندگی میلاد النبی کی خوشیاں منانے میں بسر ہوتی ہو۔
حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اپنے یوم ولادت کی تعظیم فرماتے اور اس کائنات میں اپنے ظہور وجود پر سپاس گزار ہوتے ہوئے پیر کے دن روزہ رکھتے۔ آپ کا اپنے یوم ولادت کی تعظیم و تکریم فرماتے ہوئے تحدیث نعمت کا شکر بجا لانا حکم خداوندی تھا کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے وجود مسعود کے تصدق و توسل سے ہر وجود کو سعادت ملی ہے۔
جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مسلمانوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام جیسے اہم فرائض کی رغبت دلاتا ہے اور قلب و نظر میں ذوق و شوق کی فضا ہموار کرتا ہے۔ صلوٰۃ و سلام بذات خود شریعت میں بے پناہ نوازشات و برکات کا باعث ہے۔ اس لیے جمہور امت نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد مستحسن سمجھا۔
جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اہم مقصد محبت و قرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصول و فروغ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے مسلمانوں کے تعلق کا احیاء ہے اور یہ احیاء منشائے شریعت ہے۔
اس کائنات ارضی میں ایک مومن کے لیے سب سے بڑی خوشی اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہ ولادت آئے تو اسے یوں محسوس ہونے لگے کہ کائنات کی ساری خوشیاں ہیچ ہیں اور اس کے لیے میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی ہی حقیقی خوشی ہے۔ جس طرح امم سابقہ پر اس سے بدرجہ ہا کم تر احسان اور نعمت عطا ہونے کی صورت میں واجب کیا گیا تھا جب کہ ان امتوں پر جو نعمت ہوئی وہ عارضی اور وقتی تھی اس کے مقابلے میں جو دائمی اور ابدی نعمت عظمیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور قدسی کی صورت میں امت مسلمہ پر ہوئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ وہ بدرجہ اتم سراپا تشکر و امتنان بن جائے اور اظہار خوشی و مسرت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔
محفل میلاد کی حقیقت
سب سے پہلے آپ یہ سمجھ لیں کہ حقیقت میلاد کیا ہے؟ میلاد، مولود اور مولد یہ تینوں لفظ متقارب المعنی ہیں۔ میلاد پاک کی حقیقت صرف یہ ہے کہ مسلمان ایک جگہ جمع ہوں اور ایک عالم دین ان کے سامنے حضور سراپا نور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک، معجزات اور آپ کے اخلاق حمیدہ وغیرہ بیان کرے اور آخر میں بارگاہ رسالت میں درود و سلام باادب کھڑے ہو کر پیش کریں، اگر توفیق ہو تو شیرینی پر فاتحہ دے کر فقرا و مساکین کو کھلائیں، احباب میں تقسیم کریں، پھر دعا مانگ کر اپنے اپنے گھروں کو واپس آ جائیں۔
اور قدیم زمانے سے دنیائے اسلام میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب منائی جاتی ہے۔ بارہویں ربیع الاول کا مقدس دن اہل ایمان کے واسطے مسرت و خوشی کے اعتبار سے بمنزلہ عید کے ہے، مگر ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو حضور سراپا نور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم نہیں بھاتی، وہ صرف اس میلاد پاک کو بدعت ہی نہیں کہتے، بلکہ میلاد کرنے والوں کو بدعتی اور گمراہ بھی قرار دیتے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ حضرت (بریلوی) کا ایجاد کردہ ہے حالانکہ یہ محض غلط بات ہے اور یہ لوگ اس بات سے بھی محروم ہیں کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن و سنت، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت ہے۔ سادہ لوح مسلمانوں کو اس کار خیر میں حصہ لینے سے روکتے ہیں، اسی واسطے حق کے اظہار کے لیے میلاد مبارک پر ایک مقالہ پیش ہے، میلاد پاک کا ثبوت قرآن مجید، حدیث پاک اور اقوال سلف سے ہے۔ میلاد پاک میں ہزاروں برکتیں ہیں، اس کو بدعت کہنے والے خود بدعتی اور بے دین ہیں۔
قرآن مجید سے استدلال
قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ [سورة يونس: 58]
کنز الایمان ترجمہ: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔ [سورۃ یونس: 58]
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کے لیے نعمت مائدہ طلب کی تو اپنے رب کے حضور یوں عرض گزار ہوئے:
رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ ٱلسَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَءَايَةً مِّنكَ [سورة المائدة: 114]
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوان (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اترنے کا دن) ہمارے لیے عید (یعنی خوشی کا دن) ہو جائے ہمارے اگلوں کے لیے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لیے (بھی) اور (وہ خوان) تیری طرف سے (تیری قدرت کاملہ کی) نشانی ہو۔ [سورۃ المائدہ: 114]
پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر ہے جس میں وہ بارگاہ الہیٰ میں یوں ملتجی ہوتے ہیں:
رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ ٱلسَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا [سورة المائدة: 114]
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اترنے کا دن) ہمارے لیے عید (یعنی خوشی کا دن) ہو جائے ہمارے اگلوں کے لیے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لیے (بھی)۔ [سورۃ المائدہ: 114]
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ [سورة الضحى: 11]
ترجمہ: اور اپنے رب کی نعمتوں کا (خوب) تذکرہ کریں۔ [سورۃ الضحیٰ: 11]
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ [سورة الشرح: 4]
ترجمہ: اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔ [سورۃ الشرح: 4]
وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَٰلَمِينَ [سورة الأنبياء: 107]
کنز الایمان ترجمہ: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لیے۔ [سورۃ الانبیاء: 107]
نوٹ
ان آیتوں سے اس بات کا استدلال ہو رہا ہے کہ اللہ کی رحمت اور ان کی نعمتوں کا تذکرہ کرو اور ان پر خوشی مناؤ اور اس دنیا میں سب سے بڑی رحمت اور عظیم نعمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیوں نہ ہم ان کی ولادت پر خوشی منائیں؟ تو جس دن ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے اس دن خوشی منانا قرآن سے ثابت ہے۔
حدیث مبارکہ اور ائمہ کے اقوال سے استدلال
مواہب لدنیہ اور مدارج النبوۃ وغیرہ میں ذکر ولادت میں ہے کہ شبِ ولادت میں ملائکہ نے آمنہ خاتون رضی اللہ عنہا کے دروازے پر کھڑے ہو کر صلوٰۃ و سلام عرض کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ میلاد سنتِ ملائکہ بھی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بوقتِ پیدائش کھڑا ہونا ملائکہ کا کام ہے۔
مشکوٰۃ شریف، کتاب: فضائل اور خصائل کا بیان، باب: سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب کا بیان۔
وَعَنِ ٱلْعَبَّاسِ أَنَّهُ جَآءَ إِلَى ٱلنَّبِيِّ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا فَقَامَ ٱلنَّبِيُّ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ٱلْمِنْبَرِ فَقَالَ: «مَنْ أَنَا؟» فَقَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ ٱللَّهِ. فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ٱللَّهِ بْنِ عَبْدِ ٱلْمُطَّلِبِ إِنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ فِرْقَةٍ ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَأَنَا خَيْرُهُمْ نَفْسًا وَخَيْرُهُمْ بَيْتًا» [رقم الحديث: 5757، مشكاة المصابيح]
ترجمہ: حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (غصے کی حالت میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، گویا انہوں نے کچھ (نسب میں طعن) سنا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان میں سے بہتر گروہ میں پیدا فرمایا، پھر اس نے ان کے قبیلے بنائے تو مجھے ان سب سے بہتر قبیلے میں پیدا فرمایا، پھر ان کو گھرانے گھرانے بنایا تو مجھے ان میں سے بہترین گھرانے میں پیدا فرمایا، میں ان سے نفس و حسب کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں اور ان کے گھرانے کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں۔“ [مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر: 5757]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانے پر ابولہب کے عذاب میں تخفیف ہو گئی: امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی بخاری شریف میں نقل کرتے ہیں: جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی قریبی شخص نے خواب میں اسے بری حالت میں دیکھا۔ پوچھا تجھ پر کیا بیتی؟ اس نے جواب دیا کہ جب سے تم سے جدا ہوا ہوں مجھے کبھی آرام نہیں ملا سوائے اس کے کہ میں اپنی انگلی سے پانی پلایا جاتا ہوں اس لیے کہ میں نے اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی میں۔ [صحیح البخاری، ج: 7، رقم الحدیث: 5101]
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جن کا وصال ۳۸۳ سال پہلے ہوا تھا وہ اپنی کتاب مدارج النبوۃ میں اس حدیث کی شرح لکھتے ہوئے فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دودھ نوش فرمانا: وصل: سب سے پہلے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا وہ ثویبہ تھی۔ وہ ابولہب کی کنیز تھی۔ جس رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم متولد ہوئے، اس ثویبہ نے ابولہب کو بشارت دی کہ تمہارے بھائی عبد اللہ کے گھر فرزند پیدا ہوا ہے۔ اس خوشی میں ابولہب نے اسے آزاد کر دیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ انہیں دودھ پلائے۔ ابولہب نے جو یہ خوشی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش مبارک پر کی اس کے باعث حق تعالیٰ نے ابولہب کے عذاب میں کمی فرما دی، ہر سوموار کے دن اس سے عذاب اٹھا لیا۔ جیسے کہ حدیث میں آیا ہے۔ اس میں میلاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کرنے والوں کے لیے سند ہے۔ جو کہ مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ یعنی ابولہب جو کہ کافر تھا اور اس کی مذمت میں قرآن پاک میں ایک سورۃ نازل ہوئی ہے۔ اسے میلاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خوشی کرنے اور ثویبہ کا دودھ خرچ کرنے کے باعث اللہ تعالیٰ نے جزا عطا فرمائی ہے۔ تو اس مسلمان کی جزا کا اندازہ فرمائیں جو آنحضرت سے محبت بھی کرتا ہے، خوشی بھی مناتا ہے اور اپنا مال بھی نچھاور کرتا ہے۔ لیکن چاہیے کہ اس مولود شریف کے انعقاد میں وہ بدعات نہ ہوں جو لوگوں نے وضع کر لی ہیں۔ مثلاً گانا بجانا، ممنوع آلات موسیقی اور وہ امور جن کی ممانعت ہے تاکہ ان کے باعث حرماں نصیبی نہ ہو۔ [مدارج النبوۃ، ج: 2، ص: 25]
اور اسی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے امام ابن الجزری رحمۃ اللہ علیہ جن کا وصال آج سے تقریباً ۵۹۶ سال پہلے ہوا وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
قَالَ ٱبْنُ ٱلْجَزَرِيِّ: فَإِذَا كَانَ هٰذَا ٱلْكَافِرُ ٱلَّذِي نَزَلَ ٱلْقُرْآنُ بِذَمِّهِ جُوزِيَ فِي ٱلنَّارِ بِتَخْفِيفِ ٱلْعَذَابِ عَنْهُ لِكَوْنِهِ فَرِحَ بِمِيلَادِ ٱلنَّبِيِّ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا حَالُ ٱلْمُسْلِمِ ٱلْمُوَحِّدِ مِنْ أُمَّتِهِ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسُرُّ بِمَوْلِدِهِ وَيَحْتَسِبُ بِذٰلِكَ ٱلْأَجْرَ فِي لَيْلَةِ مَوْلِدِهِ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! لَعَمْرِي إِنَّمَا يَكُونُ جَزَاؤُهُ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْكَرِيمِ أَنْ يُدْخِلَهُ بِفَضْلِهِ جَنَّاتِ ٱلنَّعِيمِ. [ص: 261]
ترجمہ: ابن جزری نے فرمایا: پس اگر اس کافر کو جس کی قرآن نے مذمت کی ہے، اس کی سزا جہنم میں اس وجہ سے کم کر دی گئی کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منائی تھی، تو اس کی امت کے موحد مسلمان کا کیا حال ہو گا، جو ان کی ولادت پر خوشی منائے اور ان کی ولادت کی رات ان کا اجر مانگے؟! خدا کی قسم! خدائے کریم کی طرف سے اس کا اجر یہ ہوگا کہ وہ اسے اپنے فضل سے نعمتوں کے باغوں میں داخل کرے گا۔
سبحان اللہ! میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آج کے علماء نہیں بلکہ ۶۰۰، ۷۰۰ سال پہلے کے مجدد علماء ذکر کر رہے ہیں۔ اس مذکورہ حدیث میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے میلاد کا ذکر اس طرح فرمایا کہ آپ نے اپنے خاندانی نسب اور قبیلے کا ذکر فرمایا پھر اپنی ولادت کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ نے مجھے بنو ہاشم میں سے بھیجا، یہی تو ذکرِ میلاد ہے۔ جو سنی مسلمان آج کرتے ہیں اپنی محفلوں میں۔
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اپنی صحیح مسلم میں حضرت قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1160]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی ولادت اور یوم ولادت کو یاد رکھنے کے لیے روزہ رکھا تھا، لہٰذا میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ کو یاد رکھنا سنتِ رسول ہے، اب کوئی غیر عالم یہ نہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو روزہ رکھ کے منایا تم سنی اسے عید کہتے ہو جب عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے تو یہ عید کیسے؟ تو ان جاہلوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ اصطلاحی عید رمضان والی نہیں ہے بلکہ لغوی اور خوشی کے لحاظ سے ہے، جس طرح جمعہ کو عید کا دن کہا جاتا ہے لہٰذا اس دن روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے، اور کھا پی کر بھی یوں خوشی کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے سالے شاہ ملک المظفر علیہ الرحمہ کے بارے میں لکھتے ہیں: میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے دسترخوان پر ۵۰۰۰ اچھی طرح پکی ہوئی بکریاں، ۱۰،۰۰۰ مرغیاں، ۱۰۰ ہزار پیالے (دودھ) اور مٹھائی کی ۳۰ ہزار ٹرے بٹتی تھیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میلاد کے موقع پر بڑے بڑے علماء اور صوفی آتے اور وہ ان کو پوشاک دیتے تھے اور انہیں ہدیہ دیتے تھے۔ [البدایہ والنہایہ، ج: 15، ص: 193]
امام ابن حجر الہیتمی (متوفی ۹۷۴ ہجری) لکھتے ہیں: امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر میرے پاس جبلِ احد کے برابر بھی سونا ہوتا تو میں اسے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھانے میں خرچ کر دیتا۔ [النعمة الکبری، ص: 6]
ہندوستان میں فرقہ وہابی اہلِ حدیث بننے والے نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے کتاب میں لکھا ہے کہ: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خبر سن کر خوشی نہ ہو وہ مسلمان نہیں ہے۔ [الشمامۃ العنبرية، ص: 12]
شاہ ولی اللہ دہلوی جن کا وصال آج سے ۲۶۶ سال پہلے ہوا اپنی مکہ کی حاضری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: میں مکہ مکرمہ میں میلاد شریف کی رات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی جگہ پر حاضر تھا، سب لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت جو معجزات ظاہر ہوئے وہ بیان کر رہے تھے، میں نے اس نور کو دیکھا جو اس محفل میں ظاہر ہوا، وہ نور تھا جو فرشتوں کی ایسی محفلوں میں شرکت سے ظاہر ہوتا ہے۔ [فیوض الحرمین، ص: 26]
ہندوستان کے عظیم امام شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (جن کا وصال ۳۹۰ سال پہلے ہوا تھا) فرماتے ہیں: اے اللہ! میرا کوئی عمل ایسا نہیں جسے تیری بارگاہ میں پیش کرنے کے لائق سمجھوں، لیکن مجھ فقیر کا ایک عمل تیری توفیق کی وجہ سے بہت ہی شاندار ہے، وہ یہ ہے کہ مجلس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں کھڑے ہو کر سلام پڑھتا ہوں۔ اور نہایت عاجزی، انکساری، محبت و خلوص کے ساتھ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا رہا ہوں۔ اے اللہ! وہ کون سی جگہ ہے جہاں میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تیری رحمت نازل ہوتی ہے؟ اس لیے اے اللہ! مجھے یقین ہے کہ میرا یہ عمل کبھی بیکار نہیں جائے گا بلکہ میرا عمل یقیناً تیری بارگاہ میں قبول ہو گا اور جو کوئی درود و سلام پڑھے گا اور اس کے ذریعے دعا کرے گا وہ کبھی رد نہیں ہو سکتی۔ [اخبار الاخیار، ص: 605]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تو حبشہ کے لوگوں نے آپ کی آمد کی خوشی میں جنگ کے ہتھیاروں کے ساتھ خوب کھیل کود کیے۔ [مسند احمد: 12586 | ابو داؤد: 4932]
ہمارے لیے یہ بھی مستحب (ثواب) ہے کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد پر شکر کا اظہار کریں اور کھانا کھلائیں اور دوسری عبادت کریں اور خوشی کا اظہار کریں۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امی جان حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہونے والی تھی تو میں نے ۳ جھنڈے لگے دیکھے، ایک جھنڈا مغرب میں، دوسرا مشرق میں، تیسرا کعبہ کی چھت پر۔ [دلائل النبوۃ، ج: 1، ص: 610، رقم الحدیث: 555 | المواہب اللدنیہ، ج: 1، ص: 77 | البدایہ والنہایہ، ج: 6، ص: 299 | الخصائص الکبریٰ، ج: 1، ص: 82]
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میرے والد کہتے ہیں کہ میں میلاد کے دن کھانا بنوایا کرتا تھا، قسمت سے ایک سال میں کوئی چیز نہ بنوا سکا صرف بھنے ہوئے چنے تھے تو یہی چنے میں نے لوگوں میں بانٹے۔ خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، یہی چنے آپ کے سامنے رکھے ہیں اور آپ بہت خوش نظر آ رہے ہیں۔ [الدر الثمین، ص: 111]
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی مل کر منانا میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہلاتا ہے اور یہاں پر عید خوشی کے معنی میں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی مل کر منانا ایک ایسا عمل ہے جو صحابہ کے زمانے میں بھی موجود تھا۔
دعا
یا اللہ! ہمارے آقا و مولا، رحمۃ للعالمین، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلادِ پاک کی برکت سے ہمارا یہ حقیر سا مقالہ قبول فرما۔
اے رب کریم! ہمیں سچی محبت عطا فرما، ان ہستی سے جو تیرے سب سے پیارے ہیں۔
یا اللہ! ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشقوں میں شامل فرما، ہمیں ان کی سیرت پر چلنے والا، ان کے اخلاق کو اپنانے والا، اور ان کے دین کا خادم بنا دے۔
یا اللہ! ہماری زندگیوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ فرما، ہمارے دلوں میں ان کی عظمت، محبت، اور وفاداری کو راسخ فرما۔
یا رب! جنہوں نے یہ مقالہ پڑھا یا اس کی تیاری میں حصہ لیا، ان سب کے دلوں کو نورِ ایمان سے روشن فرما، ان کی دنیا و آخرت کو سنوار دے۔
اے اللہ! ہمیں وہ دن بھی دکھا کہ تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا پیغام پوری دنیا میں پھیلے، اور ہر زبان پر درود و سلام جاری ہو۔
ٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ ٱللَّهِ
آمین یا رب العالمین!
وَصَلَّى ٱللَّهُ تَعَالَى عَلَىٰ خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ
