Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کیا اہل بیت اطہار سے محبت رافضیت ہے؟|فرحان المصطفیٰ نظامی مدنی

کیا اہل بیت اطہار سے محبت رافضیت ہے؟
عنوان: کیا اہل بیت اطہار سے محبت رافضیت ہے؟
تحریر: فرحان المصطفیٰ نظامی مدنی

جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا تقاضا ہے، اسی طرح صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت و عقیدت بھی ایمان کا حصہ ہے۔ اہل سنت کا موقف بھی یہی ہے کہ محبت اہل بیت کے ساتھ عظمت صحابہ کا بھی پورا لحاظ رکھا جائے، کیونکہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اہل بیت کی طہارت کو بیان فرمایا ہے، وہیں صحابہ کرام کے لیے اپنی رضا کا مژدہ سنایا ہے۔ اور جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے “إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ” فرمایا، وہیں “أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ” بھی ارشاد فرمایا۔

لیکن فتنہ اس وقت جنم لیتا ہے جب ایک مقدس جماعت کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے دوسری مقدس جماعت کی تنقیص کی جائے۔ گزشتہ چند برسوں سے حب اہل بیت کے خوش نما عنوان کے تحت بعض حلقوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع اور تبرا کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جو اب بعض دینی و خانقاہی حلقوں تک بھی پہنچ چکا ہے، حالانکہ صحابہ کرام کی تنقیص اور ان پر طعن و تبرا ہمیشہ سے روافض کا معروف منہج رہا ہے، نہ کہ اہل سنت کا۔ جب اس طرز عمل پر ان کی تنبیہ کی جاتی ہے تو اپنے موقف کے جواز میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب یہ شعر پیش کرتے ہیں:

إِنْ كَانَ رَفْضًا حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ
فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلَانِ أَنِّي رَافِضِي

یعنی: اگر اہل بیت سے محبت کرنا رفض ہے تو جن و انس گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں۔

حالانکہ علماء کی ایک بڑی تعداد نے اس شعر کو امام شافعی کی طرف منسوب ہونے کی نفی کی ہے، تاہم مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے دیوان میں شمار کرتے ہوئے اس کی یہ توجیہ بیان فرمائی ہے: “یعنی حب آل محمد رفض نیست، چنانچہ گمان می‌برند، و اگر ہمیں حب را رافض گویند، پس رفض مذموم نیست، زیرا کہ ذم رفض از راہ تبری دیگران می‌آید، نہ از راہ محبت ایشاں۔”

یعنی اہل بیت کی محبت رفض نہیں ہے جیسا کہ روافض گمان کرتے ہیں، اگر محبت اہل بیت کا نام رفض ہوتا تو رافضیت مذموم نہیں ہوتی (کیونکہ محبت اہل بیت تو اچھی چیز ہے)، البتہ رفض صحابہ کی شان میں تنقیص کرنے سے آتی ہے نہ کہ محبت اہل بیت کی وجہ سے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا منطقی استدلال

منطق میں قیاس اقترانی شرطی ایک اصطلاح ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا شعر بھی قیاس اقترانی شرطی کی قبیل سے ہے جس میں نقیض تالی کا استثناء رفع مقدم کا نتیجہ دیتا ہے۔ لہذا اگر ہم نقیض تالی کا استثناء کریں اور یوں کہیں کہ “إِنْ كَانَ حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ رَفْضًا فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلَانِ عَلَى أَنِّي رَافِضِي” (لٰكِنْ لَسْتُ بِرَافِضِي) تو نقیض تالی کا استثناء کیا گیا، پس نتیجہ آئے گا “فَلَيْسَ حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ رَفْضًا” یعنی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں کہ اگر محبت اہل بیت کا نام رفض ہوتا ہے تو میں بھی رافضی ہوتا لیکن محبت اہل بیت کا نام رفض نہیں پس میں بھی رافضی نہیں ہوں۔

محبت اہل بیت کو رافضیت کس نے قرار دیا؟

محبت اہل بیت کو رافضیت قرار دینے کا نعرہ روافض ہی کے خیمے سے بلند ہوا، موسوعۃ الغدیر نامی کتاب میں ہے:

إِنَّ قَوْمًا لَا يَصْبِرُونَ عَلَى سَمَاعِ فَضِيلَةٍ لِأَهْلِ الْبَيْتِ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدٌ يَذْكُرُهَا يَقُولُونَ: هٰذَا رَافِضِيٌّ. [موسوعة الغدير، ج: ٤، ص: ٢]

یعنی: کچھ لوگ ایسے ہیں جو اہل بیت اطہار کی فضیلت کو سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے، پس جب کوئی شخص اہل بیت کی کوئی فضیلت بیان کرتا ہے تو فوراً اسے رافضی کہہ دیتے ہیں۔

محبت اہل بیت رافضیت ہو ہی نہیں سکتی

یہ حقیقت مزید آشکار ہو جاتی ہے جب ہم رفض کے لغوی اور اصطلاحی معنی پر غور کرتے ہیں۔

لسان العرب میں ہے

اَلرَّفْضُ: اَلتَّرْكُ. تَقُولُ: رَفَضَنِي فَرَفَضْتُهُ. [لسان العرب، ج: ٧، ص: ١٥٦]

یعنی: رفض کا معنی ہے چھوڑ دینا، مثلاً اس نے مجھے چھوڑ دیا تو میں نے بھی اسے چھوڑ دیا۔

اصطلاح میں رافضی اسے کہتے ہیں جو عقائد باطلہ کی وجہ سے اسلام کو چھوڑ دے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کی کردار کشی کرے یا اسے جائز سمجھے۔

مجمع الزوائد میں ہے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ، سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي قَوْمٌ يَنْتَحِلُونَ حُبَّ أَهْلِ الْبَيْتِ، لَهُمْ نَبَزٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ، قَاتِلُوهُمْ فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ. [مجمع الزوائد، ج: ١، ص: ٢٢، رقم الحديث: ١٦٤٣٤]

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اے علی! میری امت میں ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو اہل بیت سے محبت کا دعویٰ کرے گی، ان کا ایک لقب ہوگا “رافضی”، پس ان سے قتال کرو، کیونکہ وہ مشرک ہیں۔”

امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

وَمَنْ أَبْغَضَ الشَّيْخَيْنِ وَاعْتَقَدَ صِحَّةَ إِمَامَتِهِمَا فَهُوَ رَافِضِيٌّ مَقِيتٌ، وَمَنْ سَبَّهُمَا وَاعْتَقَدَ أَنَّهُمَا لَيْسَا بِإِمَامَيْ هُدًى فَهُوَ مِنْ غُلَاةِ الرَّافِضَةِ. [سير أعلام النبلاء، ج: ١٦، ص: ٤٥٧]

جو شخص شیخین (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) سے بغض رکھے گرچہ انہیں خلیفہ برحق بھی سمجھے، تو ایسا شخص رافضی اور قابل نفرت ہے اور جو شخص انہیں خلیفہ برحق نہ سمجھے اور برا کہے تو یہ شخص غالی رافضیوں میں سے ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

وَالتَّشَيُّعُ مَحَبَّةُ عَلِيٍّ وَتَقْدِيمُهُ عَلَى الصَّحَابَةِ، فَمَنْ قَدَّمَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَهُوَ غَالٍ فِي تَشَيُّعِهِ، وَيُطْلَقُ عَلَيْهِ رَافِضِيٌّ. [هدي الساري مقدمة فتح الباري، ص: 459]

ترجمہ: شیعیت مولا علی کو صحابہ پر فضیلت دینے کا نام ہے، پس جس نے مولا علی کو سیدنا ابوبکر و عمر پر فضیلت دی وہ شخص غالی شیعہ ہے، اور اسی کو رافضیت کہتے ہیں۔

یہ بات واضح ہو چکی کہ محبت اہل بیت کا نام رفض نہیں بلکہ بغض صحابہ کا نام رفض ہے، نیز امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے شعر کا مطلب بھی وہ نہیں ہے جو روافض اور نیم روافض نے سنیوں کو دام فریب میں لانے کے لیے بیان کیا تھا، پھر بھی اگر کسی کے دل میں خیال گزرے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے شعر سے غلط استدلال کیا گیا ہے تو آئیے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی ہی جانتے ہیں کہ آپ کا روافض کے متعلق کیا نظریہ ہے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ اور روافض کے متعلق نظریہ

اب آخر میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ اور روافض کے متعلق ان کا نظریہ پیش ہے تاکہ آپ فیصلہ کر سکیں کہ ایسی فکر کا حامل رافضی کیسے ہو سکتا ہے؟

امام لالکائی نقل فرماتے ہیں

وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَلِيفَةُ رَبِّهِ
وَكَانَ أَبُو حَفْصٍ عَلَى الْخَيْرِ يَحْرِصُ

وَأُشْهِدُ رَبِّي أَنَّ عُثْمَانَ فَاضِلٌ
وَأَنَّ عَلِيًّا فَضْلُهُ مُتَخَصِّصُ

أَئِمَّةُ قَوْمٍ مُقْتَدًى بِهُدَاهُمُ
لَحَا اللّٰهُ مَنْ إِيَّاهُمُ يَتَنَقَّصُ [شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة، ج: ٨، ص: ١٤٧٤، رقم: ٢٦٦٨]

ابوبکر رب کے خلیفہ ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نیکیوں پر بڑے حریص ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ عثمان بڑی فضیلت والے ہیں اور مولا علی کی فضیلت بھی خاص ہے، یہ سب قوم کے امام ہیں، جو ان کی تنقیص کرے اللہ اسے ہر خیر سے محروم کر دے۔

روافض کے متعلق نظریہ

امام لالکائی نقل فرماتے ہیں:

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ بْنُ زِيَادٍ الْأُبُلِّيُّ، سَمِعْتُ الْبُوَيْطِيَّ يَقُولُ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ: أُصَلِّي خَلْفَ الرَّافِضِيِّ؟ قَالَ: لَا تُصَلِّ خَلْفَ الرَّافِضِيِّ. [سير أعلام النبلاء، ج: ١٠، ص: ٣٠]

دوسرے مقام پر نقل فرماتے ہیں

حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: مَا أَحَدٌ أَشْهَدَ عَلَى اللّٰهِ بِالزُّورِ مِنَ الرَّافِضَةِ. [شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة، ج: ٨، ص: ١٥٥٤، رقم: ٢٨١٠]

یعنی: حرملہ بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا کہ اللہ جل وعلا پر جھوٹ باندھنے میں روافض سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔

ذرا غور فرمائیے! امام شافعی روافض کو دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا اور اللہ کا گستاخ قرار دے رہے ہیں نیز ان کے پیچھے نماز کی ادائیگی سے منع فرما رہے ہیں تو بھلا وہ خود کو رافضی کیسے کہہ سکتے ہیں، معلوم ہوا کہ امام شافعی کے شعر کا استدلال روافض نے غلط کیا تاکہ سنیوں کو دام فریب میں لا سکیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!