Loading...

ہم بدل کیوں نہیں جاتے؟ (قسط: اول)|انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

ہم بدل کیوں نہیں جاتے؟ (قسط: اول)
عنوان: ہم بدل کیوں نہیں جاتے؟ (قسط: اول)
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

انسان کی زندگی میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں پہنچ گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس سمت میں جارہا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال، افراد کی کامیابی و ناکامی اور معاشروں کی تعمیر و تخریب کا اصل راز تبدیلی میں پوشیدہ ہے۔ جو قومیں اپنے حالات بدلنے کا عزم کرتی ہیں، وہ تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں، اور جو اپنی غلطیوں، کمزوریوں اور بیماریوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتی ہیں، وہ رفتہ رفتہ زوال کے اندھیروں میں گم ہوجاتی ہیں۔

شکایات کا طوفان اور ایک چبھتا ہوا سوال

آج جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ ہر شخص شکایت کررہا ہے۔ کوئی معاشرے سے نالاں ہے، کوئی حکومت سے، کوئی حالات سے، کوئی زمانے سے، کوئی نوجوان نسل سے اور کوئی بزرگوں سے۔ ہر طرف بے چینی، اضطراب، بے سکونی اور شکایتوں کا ایک طوفان برپا ہے۔ مگر ان تمام شکایتوں کے درمیان ایک سوال مسلسل ہمارے ضمیر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے: آخر ہم بدل کیوں نہیں جاتے؟

یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے، لیکن درحقیقت ہماری پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محاسبہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جھوٹ برا ہے مگر جھوٹ بولتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ غیبت گناہ ہے مگر غیبت سے باز نہیں آتے۔ ہم جانتے ہیں کہ نماز فرض ہے مگر اس میں سستی کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ والدین کی نافرمانی اللہ کی ناراضی کا سبب ہے مگر ان کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ ہم جانتے ہیں کہ حسد، تکبر، بغض اور نفرت انسان کو تباہ کردیتے ہیں مگر پھر بھی ان بیماریوں کو اپنے دلوں میں جگہ دیے رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب حق واضح ہے، راستہ معلوم ہے، نتائج سامنے ہیں، تو پھر تبدیلی کیوں نہیں آتی؟

تبدیلی کا قرآنی اصول

قرآنِ کریم اس سوال کا ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ [سورۃ الرعد: 11]

ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔

یہ آیت دراصل انسانی زندگی کے ایک ابدی قانون کو بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اسباب کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے۔ جس طرح کھیتی بغیر محنت کے نہیں اگتی، علم بغیر کوشش کے حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح اصلاح بھی بغیر ارادہ اور جدوجہد کے حاصل نہیں ہوسکتی۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نتائج تو بدلنا چاہتے ہیں مگر اسباب نہیں بدلنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہوجائے مگر خود کو بہتر بنانے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اولاد نیک ہوجائے مگر اپنی تربیت کا جائزہ نہیں لیتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ امت کا زوال ختم ہوجائے مگر اپنی عملی زندگی میں اسلام کو نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

خود پسندی: اصلاح کی سب سے بڑی رکاوٹ

حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی کا سب سے بڑا دشمن خود پسندی ہے۔ انسان جب اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اصلاح کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ شیطان کی پہلی اور سب سے بڑی غلطی بھی یہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے اپنی خطا ماننے کے بجائے تکبر کا راستہ اختیار کیا:

أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ [سورۃ الاعراف: 12]

ترجمہ: میں اس سے بہتر ہوں۔

یہی تکبر آج بھی انسان کو بدلنے نہیں دیتا۔ ہم دوسروں کی غلطیاں فوراً دیکھ لیتے ہیں لیکن اپنی خامیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کے بجائے دوسروں پر تنقید میں مصروف رہتے ہیں۔ حالانکہ اصلاح کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے چلتا رہے اور پھر اللہ سے امیدیں باندھے رکھے۔” [جامع الترمذی، حدیث: 2459]

اس حدیث میں انسانی اصلاح کا پورا فلسفہ بیان کردیا گیا ہے۔ جو شخص خود احتسابی کرتا ہے وہ بدل جاتا ہے، اور جو خود کو بے عیب سمجھتا ہے وہ جمود کا شکار ہوجاتا ہے۔

جذباتی فیصلے اور عملی جدوجہد کا فقدان

آج ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم تبدیلی کو صرف خواہش کی حد تک رکھتے ہیں۔ ہر سال نئے عزم کیے جاتے ہیں، نئے منصوبے بنائے جاتے ہیں، نئی قسمیں کھائی جاتی ہیں، لیکن چند دن بعد سب کچھ پہلے جیسا ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جذباتی فیصلے تو کرلیتے ہیں مگر عملی جدوجہد کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم منزل چاہتے ہیں مگر سفر نہیں۔ ہم کامیابی چاہتے ہیں مگر قربانی نہیں۔ ہم جنت چاہتے ہیں مگر اس کے تقاضے پورے نہیں کرنا چاہتے۔

قرآنِ کریم بار بار انسان کو غور و فکر، محاسبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت دیتا ہے۔ مگر جدید دور کا انسان اپنے نفس کے محاسبے سے فرار اختیار کرچکا ہے۔ وہ ساری دنیا کی خبریں جانتا ہے مگر اپنے دل کی خبر نہیں رکھتا۔ اسے دنیا کے بازاروں کے نرخ معلوم ہیں مگر اپنی روح کی قیمت معلوم نہیں۔ وہ اپنے موبائل کی بیٹری ختم ہونے پر پریشان ہوجاتا ہے مگر اپنے ایمان کی کمزوری پر بے فکر رہتا ہے۔

یہی وہ المیہ ہے جس نے ہمیں اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ ہم ظاہری ترقی کے باوجود باطنی اعتبار سے کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ ہماری مساجد آباد ہیں مگر دل ویران ہیں۔ ہمارے پاس علم کی کثرت ہے مگر عمل کی کمی ہے۔ زبان پر دین کا ذکر ہے مگر زندگی میں دین کے آثار کم ہوتے جارہے ہیں۔

خود احتسابی: تبدیلی کا نقطۂ آغاز

حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی کسی ایک دن کا معجزہ نہیں بلکہ مسلسل مجاہدے کا نام ہے۔ نفس کے خلاف جنگ، خواہشات پر قابو، غلطیوں کا اعتراف، توبہ کی طرف رجوع، اور عمل کی استقامت ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو بدلتا ہے۔ یہی راستہ انبیائے کرام علیہم السلام نے دکھایا، یہی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اختیار کیا، اور یہی راستہ ہر دور کے صالحین اور مصلحین کا رہا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ معاشرہ کیوں نہیں بدلتا، سوال یہ ہے کہ میں کیوں نہیں بدلتا؟ سوال یہ نہیں کہ لوگ دین سے دور کیوں ہیں، سوال یہ ہے کہ میں دین کے کتنا قریب ہوں؟ سوال یہ نہیں کہ زمانہ خراب کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ میں زمانے کی خرابی کے مقابلے میں کیا کردار ادا کررہا ہوں؟

جب تک یہ سوالات ہمارے ضمیر کو بیدار نہیں کریں گے، تبدیلی محض ایک نعرہ رہے گی۔ لیکن جس دن انسان سچائی کے ساتھ اپنے اندر جھانک لے گا، اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرلے گا، اپنے رب کے سامنے جھک جائے گا اور اصلاحِ نفس کی راہ اختیار کرلے گا، اسی دن اس کی زندگی کا رخ بدلنا شروع ہوجائے گا۔

کیونکہ تاریخ کا اٹل فیصلہ ہے کہ دنیا کی ہر بڑی تبدیلی انسان کے اندر سے شروع ہوئی ہے، اور جو اپنے آپ کو بدل لیتا ہے، وہی اپنے زمانے کو بدلنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔

(جاری ہے...)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!