| عنوان: | سوشل میڈیا اور اخلاقی زوال |
|---|---|
| تحریر: | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
مکرمی!
انسانی تاریخ کے ہر دور میں ذرائعِ ابلاغ نے معاشروں کی فکری، تہذیبی اور اخلاقی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جس معاشرے کے ذرائعِ ابلاغ صالح، متوازن اور ذمہ دار رہے وہاں خیر، علم، شعور اور اخلاقی اقدار کو فروغ ملا، اور جہاں ابلاغی ذرائع بے لگام، غیر ذمہ دار اور مفاد پرستانہ رجحانات کے حامل ہوئے وہاں فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور تہذیبی بگاڑ نے جنم لیا۔
موجودہ دور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ دنیا ایک عالمی گاؤں کی صورت اختیار کرچکی ہے، فاصلے سمٹ گئے ہیں، معلومات تک رسائی آسان ہوگئی ہے، اور انسان چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی گوشے سے رابطہ قائم کرسکتا ہے۔ اس انقلابی تبدیلی کا سب سے نمایاں مظہر “سوشل میڈیا” ہے جس نے ابلاغ و ترسیل کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
سوشل میڈیا: ایک عظیم ایجاد مگر دہرا کردار
سوشل میڈیا بلاشبہ عصر حاضر کی ایک عظیم ایجاد ہے جس کے ذریعے علم و تحقیق، دعوت و تبلیغ، تعلیم و تربیت، سماجی رابطہ اور عوامی آگاہی کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہی سوشل میڈیا آج اخلاقی زوال، تہذیبی بے راہ روی، فکری انتشار اور سماجی بے اعتدالی کا ایک بڑا ذریعہ بنتا جارہا ہے۔
جدید دنیا میں اخلاقی اقدار کو جن خطرات کا سامنا ہے ان میں سوشل میڈیا کا بے جا اور غیر محتاط استعمال سرفہرست دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں خیر و شر، حق و باطل، علم و جہالت اور تعمیر و تخریب سب ایک ساتھ موجود ہیں۔ اب یہ انسان کے اختیار پر منحصر ہے کہ وہ اس سے خیر حاصل کرتا ہے یا شر۔
اسلام کا تصورِ اخلاق
اسلام نے انسانی زندگی کی بنیاد اخلاقِ حسنہ پر رکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ایک اہم مقصد ہی اخلاقی اقدار کی تکمیل قرار دیا گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ [مُسْنَدُ أَحْمَد]
ترجمہ: میں بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
قرآن کریم نے بھی متعدد مقامات پر اخلاقی تطہیر اور کردار سازی کو کامیابی کا معیار قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا [سورۃ البقرة: 83]
ترجمہ: لوگوں سے بھلی بات کہو۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ [سورۃ ق: 18]
ترجمہ: انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے اس پر ایک نگہبان مقرر ہوتا ہے۔
زبان و قلم کا بحران
اگر ان قرآنی تعلیمات کو سوشل میڈیا کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ آج کا سب سے بڑا بحران زبان اور قلم کا بحران ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد بغیر تحقیق، بغیر ذمہ داری اور بغیر اخلاقی حدود کے اظہارِ رائے کرتے ہیں۔ گالم گلوچ، کردار کشی، بہتان تراشی، جھوٹ، تحقیر، تضحیک اور الزام تراشی معمول بنتی جارہی ہے۔ اختلافِ رائے جو علمی معاشروں کی زینت ہوتا ہے، دشمنی اور نفرت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ قرآن کریم نے واضح حکم دیا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا [سورۃ الحجرات: 12]
ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، تجسس نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔
افسوس کہ یہی تمام امور آج سوشل میڈیا کی بڑی شناخت بنتے جارہے ہیں۔
حیا کا فقدان اور بے حیائی کا فروغ
اخلاقی زوال کا ایک اہم پہلو حیا اور عفت کے تصورات کا کمزور ہونا بھی ہے۔ اسلام نے حیا کو ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ [صَحِيحُ الْبُخَارِي]
ترجمہ: حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔
مگر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر فحاشی، عریانی، بے حیائی اور شہوانی مواد کی فراوانی نے نوجوان نسل کے ذہن و فکر کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے مناظر جو کبھی معاشرتی معیوب سمجھے جاتے تھے آج فیشن اور آزادی کے نام پر عام کیے جارہے ہیں۔ نتیجتاً خاندانوں کی بنیادیں کمزور، تعلقات غیر مستحکم اور اخلاقی حدود پامال ہورہی ہیں۔ قرآن مجید نے تنبیہ فرمائی:
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ [سورۃ النور: 19]
ترجمہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
خود نمائی، شہرت پسندی اور نفسیاتی دباؤ
سوشل میڈیا نے انسانی شخصیت میں خود نمائی اور شہرت پسندی کے رجحان کو بھی غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ لائکس، فالوورز، ویوز اور مقبولیت کی دوڑ نے اخلاص، سادگی اور حقیقت پسندی کو نقصان پہنچایا ہے۔ بہت سے افراد اپنی حقیقی زندگی کے بجائے مصنوعی اور نمائشی زندگی پیش کرنے لگے ہیں۔ اس عمل نے حسد، احساسِ کمتری، نفسیاتی دباؤ اور معاشرتی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ اسلام نے ریاکاری اور نمود و نمائش سے بچنے کی تعلیم دی ہے کیونکہ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار اخلاص پر ہے۔ جب انسان اپنی شخصیت کو دوسروں کی توجہ کا مرکز بنانے میں مصروف ہوجاتا ہے تو اخلاقی توازن متاثر ہونے لگتا ہے۔
افواہ سازی اور جھوٹی خبروں کی ترسیل
سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی خبروں اور افواہوں کی تیز رفتار ترسیل بھی ایک سنگین اخلاقی مسئلہ بن چکی ہے۔ کسی خبر کی تحقیق کیے بغیر اسے آگے بڑھا دینا آج معمول بن گیا ہے۔ قرآن کریم نے اس رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا [سورۃ الحجرات: 6]
ترجمہ: اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ [صَحِيحُ مُسْلِم]
ترجمہ: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔
موجودہ دور میں یہ حدیث سوشل میڈیا کے استعمال کنندگان کے لیے ایک عظیم اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
وقت کا ضیاع اور خاندانی نظام پر اثرات
اخلاقی زوال کا ایک پہلو وقت کا ضیاع بھی ہے۔ سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے انسان کو سنجیدہ مطالعے، خاندانی تعلقات، علمی سرگرمیوں اور تعمیری مصروفیات سے دور کردیا ہے۔ گھنٹوں اسکرین کے سامنے گزار دینے کے باوجود انسان کے علم، کردار اور عملی زندگی میں کوئی مثبت اضافہ نہیں ہوتا۔ اسلام وقت کو ایک عظیم نعمت قرار دیتا ہے۔ سورۂ عصر میں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھا کر انسان کو خسارے سے بچنے کی راہ دکھائی ہے۔
خاندانی نظام بھی سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ گھروں میں موجود افراد جسمانی طور پر تو ایک ساتھ ہوتے ہیں لیکن ذہنی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان مکالمہ کم ہورہا ہے، رشتوں میں بے اعتمادی بڑھ رہی ہے اور حقیقی تعلقات کی جگہ ورچوئل تعلقات لے رہے ہیں۔ یہ صورت حال معاشرتی استحکام کے لیے خطرناک ہے کیونکہ مضبوط خاندان ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔
اعتدال کی راہ اور ہماری ذمہ داری
اس تمام صورت حال کے باوجود سوشل میڈیا کو مطلقاً شر یا فساد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جس کا استعمال خیر اور شر دونوں کے لیے ممکن ہے۔ جس طرح قلم سے علم بھی لکھا جاسکتا ہے اور گمراہی بھی پھیلائی جاسکتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا بھی انسان کے اخلاقی شعور کے مطابق نتائج پیدا کرتا ہے۔ آج بے شمار دینی ادارے، علماء، محققین اور دعوتی تنظیمیں اسی ذریعے سے قرآن و سنت کی تعلیمات عام کررہی ہیں، علمی مواد نشر کررہی ہیں اور نوجوان نسل کی فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کو اسلامی اخلاقیات کے تابع بنایا جائے:
-
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی ہر تحریر، تصویر، ویڈیو اور تبصرے کو شریعت کی کسوٹی پر پرکھیں۔
-
جھوٹ، غیبت، بہتان، تحقیر، فحاشی، نفرت انگیزی اور غیر ضروری مباحث سے اجتناب کریں۔
-
خبر نشر کرنے سے پہلے تحقیق کریں، اختلاف میں شائستگی اختیار کریں، وقت کے استعمال میں اعتدال پیدا کریں اور سوشل میڈیا کو علم، دعوت، اصلاح اور خیر کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔
آج امتِ مسلمہ بالخصوص نوجوان نسل کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی چمک دمک اور ظاہری کشش کے پیچھے اپنی اخلاقی شناخت، دینی اقدار اور تہذیبی ورثے کو فراموش نہ کرے۔ اخلاق ہی انسان کا حقیقی سرمایہ اور معاشروں کی اصل قوت ہیں۔ جب اخلاق باقی رہتے ہیں تو قومیں زندہ رہتی ہیں اور جب اخلاق ختم ہوجاتے ہیں تو ترقی، ٹیکنالوجی اور مادی آسائشیں بھی انہیں زوال سے نہیں بچا سکتیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں اسلامی تعلیمات، اخلاقی حدود اور انسانی ذمہ داریوں کو پیشِ نظر رکھا جائے تاکہ جدید ذرائعِ ابلاغ انسانیت کی تعمیر کا ذریعہ بنیں نہ کہ اخلاقی تباہی کا۔
