| عنوان: | ہم بدل کیوں نہیں جاتے؟ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
پہلی قسط کے اختتام پر ہم اس حقیقت تک پہنچے تھے کہ دنیا کی ہر بڑی تبدیلی انسان کے باطن سے جنم لیتی ہے۔ کوئی قوم، کوئی معاشرہ اور کوئی فرد اس وقت تک حقیقی تبدیلی حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کے اندر تبدیلی کی خواہش، اس خواہش کے مطابق عمل اور اس عمل پر استقامت پیدا نہ ہوجائے۔
لیکن یہاں ایک نہایت اہم سوال جنم لیتا ہے کہ اگر تبدیلی اتنی ہی ضروری ہے، اگر اس کے فوائد اتنے ہی واضح ہیں، اگر قرآن و سنت بار بار اصلاحِ نفس کی دعوت دیتے ہیں، تو پھر انسان بدل کیوں نہیں جاتا؟ یہ سوال محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا سوال ہے۔ یہی سوال انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کے پس منظر میں بھی موجود تھا۔ یہی سوال ہر مصلح، ہر داعی اور ہر مربی کے سامنے رہا ہے۔
آخر وہ کون سی زنجیریں ہیں جو انسان کو اس کی کمزوریوں سے باندھے رکھتی ہیں؟ وہ کون سی دیواریں ہیں جن سے ٹکرا کر ارادے ٹوٹ جاتے ہیں؟ وہ کون سی تاریکیاں ہیں جن میں حق کی روشنی دیکھنے کے باوجود انسان قدم آگے نہیں بڑھا پاتا؟
نفس: انسان کا سب سے بڑا دشمن
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر چھپا ہوا ہے۔ قرآنِ مجید نے اسے “نفس” کے نام سے یاد کیا ہے۔ یہی نفس کبھی خواہشات کی شکل میں سامنے آتا ہے، کبھی غرور کی صورت میں، کبھی دنیا کی محبت بن کر اور کبھی گناہوں کی لذت کا پردہ اوڑھ کر۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي [سورۃ یوسف: 53]
ترجمہ: بیشک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے۔
یہ آیت انسانی نفسیات کا ایسا جامع تجزیہ پیش کرتی ہے جس کی مثال دنیا کے بڑے بڑے ماہرینِ نفسیات بھی پیش نہیں کرسکتے۔ انسان کا نفس ہمیشہ آسان راستہ چاہتا ہے۔ وہ عبادت کی مشقت نہیں چاہتا، لیکن گناہ کی لذت چاہتا ہے۔ وہ مجاہدہ نہیں چاہتا، مگر کامیابی چاہتا ہے۔ وہ قربانی نہیں دینا چاہتا، مگر عزت و وقار کا طالب ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کا سفر انسان کے لیے سب سے دشوار سفر بن جاتا ہے۔ کسی پہاڑ کو کاٹنا شاید آسان ہو، سمندر کو عبور کرنا ممکن ہو، مگر اپنے نفس کو شکست دینا سب سے بڑا معرکہ ہے۔
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کے باطن کی اصلاح پر سب سے زیادہ زور دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا:
“طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔” [صحیح البخاری، حدیث: 6114]
غور کیجیے! دنیا طاقت کو جسمانی قوت سمجھتی ہے لیکن اسلام طاقت کی تعریف ہی بدل دیتا ہے۔ اصل قوت اپنے نفس پر غلبہ پانے کا نام ہے۔
شیطان کے ہتھکنڈے اور معاشرتی فریب
افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں نفس کی آواز کو اتنا بلند کردیا ہے کہ ضمیر کی آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔ ہم جانتے ہیں کہ فلاں عمل غلط ہے، مگر نفس کہتا ہے: “سبھی تو کررہے ہیں۔” ہم جانتے ہیں کہ وقت ضائع ہورہا ہے، مگر نفس کہتا ہے: “ابھی عمر ہی کیا ہوئی ہے؟” ہم جانتے ہیں کہ موت قریب آسکتی ہے، مگر نفس کہتا ہے: “ابھی بہت وقت باقی ہے۔”
شیطان بھی انسان کو گمراہ کرنے کے لیے زیادہ تر یہی راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ کھلے عام کفر کی دعوت نہیں دیتا بلکہ انسان کو غفلت میں مبتلا کرتا ہے۔ وہ گناہ کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔ وہ برائی کو معمولی اور نیکی کو مشکل بنا دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں شیطان کا یہ اعلان محفوظ ہے:
وَلَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ [سورۃ الحجر: 39]
ترجمہ: اور میں ان کے لیے زمین میں (گناہوں کو) آراستہ کرکے دکھاؤں گا۔
آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ آیت مجسم حقیقت دکھائی دیتی ہے۔ بے حیائی کو ترقی کا نام دیا جارہا ہے، دنیا پرستی کو ذہانت کہا جارہا ہے، دین سے دوری کو روشن خیالی سمجھا جارہا ہے، اور گناہوں کو شخصی آزادی کے عنوان سے پیش کیا جارہا ہے۔
ایسے ماحول میں تبدیلی کا سفر مزید دشوار ہوجاتا ہے۔ انسان صرف اپنے نفس سے نہیں لڑ رہا ہوتا بلکہ ایک پورے ماحول سے برسرِ پیکار ہوتا ہے۔ اس کے دوست، اس کا معاشرہ، اس کی ترجیحات اور اس کے مشاغل سب مل کر اسے موجودہ حالت پر قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نیک صحبت کی اہمیت
اسی لیے قرآن نے نیک صحبت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ انسان جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہے، رفتہ رفتہ انہی جیسا بن جاتا ہے۔ اگر وہ غافل لوگوں کے درمیان رہے گا تو غفلت اس کے مزاج کا حصہ بن جائے گی، اور اگر اہلِ علم و تقویٰ کی صحبت اختیار کرے گا تو اس کے اندر بھی خیر پیدا ہوگی۔
اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس کو دوست بناتا ہے۔” [سنن ابی داؤد، حدیث: 4833]
ندامت اور عملی جدوجہد
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنی غلطیوں کو جانتے بھی ہیں، ان پر نادم بھی ہوتے ہیں، مگر پھر بھی بدل نہیں پاتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ندامت اگر عمل میں تبدیل نہ ہو تو محض احساس بن کر رہ جاتی ہے۔
صرف یہ جان لینا کہ میں غلط ہوں، کافی نہیں؛ بلکہ غلطی چھوڑنے کے لیے عملی اقدام بھی ضروری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر لوگ ناکام ہوجاتے ہیں۔ وہ سوچتے بہت ہیں مگر قدم نہیں اٹھاتے۔ ارادے بہت کرتے ہیں مگر استقامت پیدا نہیں کرپاتے۔
اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے حقیقی مجاہدہ شروع ہوتا ہے۔
