Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مصنفِ بہارِ شریعت شاگردِ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ|محمد عارف رضا قادری امجدی

مصنفِ بہارِ شریعت شاگردِ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: مصنفِ بہارِ شریعت شاگردِ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
منجانب: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

اللہ رب العزت نے اس روئے زمین پر بے شمار انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ ان مقدس ہستیوں نے لوگوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کیا، توحید و سنت کی دعوت دی، اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو بندوں تک پہنچانے کے لیے ہر طرح کی مشقت برداشت فرمائی۔

پھر اللہ رب العزت نے اپنے آخری نبی، رحمتِ عالم، تاجدارِ مدینہ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے مکمل فرما دیا، لہٰذا اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ یہی اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ اور قطعی عقیدہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ

یعنی اے محبوب آپ سارے نبیوں کے خاتم، اور آخر ہیں۔ پتا چلا اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دین کی تبلیغ و اشاعت اور شریعتِ مطہرہ کی خدمت کا فریضہ کون انجام دے گا؟ تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ

یعنی علمائے کرام انبیائے کرام کے وارث ہیں۔ چنانچہ محدثین، فقہائے کرام قرآن و سنت کی روشنی میں دینِ اسلام کی تعلیم و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے، اور انھی کے ذریعے شریعتِ مطہرہ کی خدمت قیامت تک جاری رہے گی۔

جن شخصیات نے خدمتِ دین میں جاں نثاری، جذبہ اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اور اپنی آئندہ نسلوں پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں، انھی درخشندہ اور پاکیزہ ہستیوں میں ایک مقدس ذات صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، فقیہ اعظم ہند مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کی ہے۔ جنھوں نے اپنی پوری زندگی خدمتِ دین میں صرف کر دی۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ مدینۃ العلماء گھوسی میں 1300ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا گھرانہ ایک علمی گھرانہ تھا۔ آپ کی ابتدائی تعلیم گھر ہی پر ہوئی، اعلیٰ تعلیم کے لیے چودہ سال کی عمر میں بے سروسامانی کے عالم میں جون پور کے لیے روانہ ہوئے، وہاں بہت جلد آپ حضرت مولانا ہدایت اللہ خان جون پوری کے خاص شاگردوں کی فہرست میں سرفہرست ہو گئے، اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خاص سے اخص بھی ہو گئے۔ آپ کی قوتِ حافظہ بہت مستحکم تھی۔ جون پور میں آپ کا معمول یہ ہو گیا کہ خود بھی پڑھتے اور ابتدائی درجات کے طلبہ کو درس بھی دیا کرتے تھے۔

بالآخر آپ نے 1334ھ میں پیلی بھیت سے سندِ فراغت حاصل کی اور شایانِ شان دستار بندی ہوئی۔

پھر آپ کچھ وقت تک درس و تدریس کے منصب پر فائز رہے۔ لیکن جب آپ کا دل مضطرب اور بے قرار ہوا تو اپنے دل کو قرار دینے کے لیے اعلیٰ حضرت کی بارگاہِ فیض میں حاضر ہو کر دینی و علمی خدمات انجام دینے لگے۔ ویسے تو آپ تمام فنون پر خاصہ عبور رکھتے تھے۔ لیکن بارگاہِ رضا میں حاضری کے بعد علمِ فقہ و افتا پر مزید عبور حاصل ہو گیا، یہاں تک کہ خود اعلیٰ حضرت نے مجمع سے فرمایا: “آپ یہاں موجودین میں تفقہ جس چیز کا نام ہے، وہ مولوی امجد علی میں زیادہ پائیے گا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ استفتا سنایا کرتے ہیں۔ طبیعت اخاذ ہے۔” ایک قدم اور آگے چلیں تو امام احمد رضا خان نے ایک تخت لگا کر آپ کا داہنا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اعلان فرمایا: “میں آپ کو ہندوستان کے لیے قاضی شرع مقرر کرتا ہوں۔”

حیاتِ صدر الشریعہ کے بہت سے نمایاں اور اہم کارنامے ہیں، انھی میں ایک آشکارا کارنامہ فقہِ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا بہارِ شریعت ہے۔

بہارِ شریعت فقہِ حنفی کی ایک جامع، مستند اور منفرد کتاب ہے، جس میں متعدد فقہی کتابوں کا نچوڑ جمع کر دیا گیا ہے۔ اس کی زبان آسان اور عام فہم ہے، اس لیے عوام و خواص دونوں اس سے یکساں فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اہلِ علم کے نزدیک اس کتاب کو بڑی قدر و منزلت حاصل ہے، حتیٰ کہ دوسرے مسلک کے لوگ بھی اس کا مطالعہ کرتے اور اپنی لائبریریوں میں اسے جگہ دیتے ہیں۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے کتابوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ایک ایسی عظیم کتاب تصنیف کی جو فقہِ حنفی کا شاہکار بن گئی، اور آج تک بے شمار اہلِ علم اس سے استفادہ کر کے مزید کتابیں مرتب کر چکے ہیں۔ یہی جامعیت، سادگی اور علمی افادیت بہارِ شریعت کو دوسری فقہی کتابوں سے ممتاز بناتی ہے۔

1۔ استنادی حیثیت: ہر مسئلے اور حدیث کے آگے اصل ماخذ کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔ صرف حصہ دوم کا جائزہ لیں تو اس حصے میں 395 قرآنی آیتوں کے علاوہ چالیس سے زائد کتبِ حدیث اور اتنی ہی (45 کتابیں) فقہی کتابوں کے حوالے ہیں۔ بہارِ شریعت کے پہلے سے چھٹے حصے تک اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے خود حرف سنا ہے اور اس کی تصدیق بھی کی ہے۔

2۔ سلاست اور روانی: حصہ دوم کے شروع میں لکھتے ہیں: اس کتاب میں حتی الوسع یہ کوشش ہوگی کہ عبارت بہت آسان ہو کہ سمجھنے میں دقت نہ ہو اور کم علم اور عورتیں، نیز بچے بھی اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ اسی خوبی کی طرف اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی بہارِ شریعت پر اپنی تقریظ میں ان الفاظ میں اشارہ کرتے ہیں: “آج کل ایسی کتاب کی ضرورت تھی کہ عوام بھائی سلیس اردو میں صحیح مسئلے پائیں۔” صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے بہارِ شریعت میں ایسے سیکڑوں اردو الفاظ کا ذکر کر کے انھیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ جس زمانے میں اردو زبان میں یہ کتاب لکھی گئی دور دور تک اس کا سراغ نہیں ملتا۔ بہارِ شریعت کی زبان آج بھی تازہ اور فصیح ہے۔

3۔ اختصار اور جامعیت: کتاب الطہارت سے کتاب الوصایا اور مابعد موت وغیرہ کے سارے مسائل اس کتاب میں جمع ہیں، اور ترتیب اس زیبائی سے دی گئی ہے کہ کوئی بھی اردو خواں کسی بھی مسئلے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے، نیز یہ کہ جو مسئلہ جہاں ذکر کیا جانا چاہیے تھا برموقع اور برمحل ہے۔

4۔ اختلاف سے پرہیز: علما کے اختلافات سے عوام کو کیا سروکار، انھیں تو صرف مسائل چاہئیں تاکہ وہ اس پر عمل کریں۔ یہی چیز بہارِ شریعت میں روا رکھی گئی ہے۔

5۔ پیچیدگی اور الجھاؤ پن سے گریز: مسائل سمجھانے میں وہی زبان و بیان کا انتخاب ہوا ہے جو افہام و تفہیم کے لیے مناسب تھا۔ بہارِ شریعت بھارت میں علمِ فقہ کی عالمگیری اور فتاویٰ رضویہ کے بعد سب سے اہم کڑی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ فقہِ حنفی کی تاریخ میں بہارِ شریعت اور اس کے مصنف حضور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات اس قدر نمایاں ہیں کہ ان کے ذکر کے بغیر فقہ کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔

صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فقیہ ایسے کہ فقیہ اعظم اعلیٰ حضرت فقاہت تسلیم کریں، شاگرد ایسے کہ استاذ ناز کریں اور استاذ ایسے کہ شاگردوں پر زمانہ ناز کرے۔ ان کا کام ایسا کہ پانچ سو علما کے اجتماعی کارنامے فتاویٰ ہندیہ کی طرح اردو میں فقہی انسائیکلوپیڈیا بہارِ شریعت تن تنہا تیار کریں، علم ایسا کہ لائبریری مانے جائیں، شخصیت میں تحریک اتنی کہ کام کی مشین کہے جائیں، منصب ایسا کہ اعلیٰ حضرت خود پورے غیر منقسم ہندوستان کا قاضی شرع مقرر کریں، لقب ایسا کہ مجددِ وقت سے صدر الشریعہ کہلائیں، اور اعلیٰ حضرت کو اعتماد ایسا کہ وصیت فرمائیں کہ اگر صاحب زادے حجۃ الاسلام شرائط مقررہ نہ پائے جائیں تو صدر الشریعہ نمازِ جنازہ پڑھائیں، رضوی مشن کے ایسے کارکن کہ منظرِ اسلام کی صدارت اور مطبع اہلِ سنت کی ذمہ داری سنبھالیں، وارثِ اسلاف ایسے کہ ان کا علمی نسب ایک طرف اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ، دوسری طرف محدث سورتی علیہ الرحمہ اور تیسری طرف مولانا ہدایت اللہ رامپوری علیہ الرحمہ کے واسطے سے علامہ فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سے جا ملے، عازمِ حج بھی ہوئے تو ایسے کہ سفرِ حج پر وفات پائے اور بحکمِ حدیث قیامِ قیامت تک ثوابِ حج پائیں۔

صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ جنھوں نے اردو زبان میں فقہ کا ایسا شاہکار انسائیکلوپیڈیا بہارِ شریعت تیار کیا جس کی نظیر نہیں ملتی، ساتھ ہی اپنے شیخ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے گزارش کر کے ان سے قرآن پاک کا اردو زبان میں ایسا ترجمہ کنز الایمان املا کروایا جو کہ ادب، عشق اور تفسیر میں بے مثال ہے۔ پھر اپنی اور اپنے استاد کی علمی وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے ایسے شاگردوں کی ایک جماعت بھی تیار کی جنھوں نے تقریری، تصنیفی، تدریسی، تبلیغی، تنظیمی اور تحریکی خدمات سے اہلِ سنت کا پورا منظر نامہ سجایا۔

جو استاذ ایسے تھے کہ شیرِ بیشۂ اہلِ سنت، حافظِ ملت، مجاہدِ ملت، صدر العلما، خلیل العلما، سید العلما، شمس العلما، محدثِ اعظم پاکستان جیسے بڑے بڑے علما تیار کیے، بارگاہِ صدر الشریعہ کے یہ فیض یافتگان اہلِ سنت کی زریں تاریخ کے سنہرے ابواب ہیں، بلکہ بذاتِ خود اہلِ سنت و جماعت کی گزشتہ پچاس سالہ تاریخ ہیں کہ گزشتہ پچاس سالوں میں اہلِ سنت و جماعت میں علما نے جو بھی خدمات انجام دی ہیں وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ان بزرگوں سے جا ملتی ہیں، اس طرح دورِ حاضر میں جتنے بھی علمائے اہلِ سنت ہیں ان سب کا علمی نسب کسی نہ کسی طرح صدر الشریعہ سے جا ملتا ہے۔ تو صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ہماری مذہبی روایت کا وہ شجرِ طوبیٰ ہیں جس کی جڑ مجددِ وقت سے ملی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں ہند و پاک پر پھیلی ہوئی ہیں۔

صدر الشریعہ نے زندگی میں تو اجلّہ علما تیار کیے ساتھ ہی عالم بنانے والی کتاب بھی تیار کر دی۔ بہارِ شریعت، فتاویٰ امجدیہ، کشف الاستار، صدر الشریعہ کے چند علمی کارنامے ہیں۔

میرا امجد مجد کا پکا
اس سے بہت کچیاتے یہ ہیں

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا ذوقِ مطالعہ

حضور شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں کہ حضور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی قدس سرہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے شامی اور عالمگیری کا پانچ بار مطالعہ کیا ہے اور کنز کی شروح اَلْبَحْرُ الرَّائِق، اَلنَّهْرُ الْفَائِق، تَبْيِينُ الْحَقَائِق کا دو بار اور هِدَايَة اور اس کی تمام شروح بشمول بِنَايَة ایک بار اور ان کے علاوہ پچاس کتبِ فقہ کا بالاستیعاب بغور مطالعہ کیا ہے۔ یہ کتابیں مختصر سی نہیں بلکہ ان میں صرف مَبْسُوطِ إِمَام سَرَخْسِي کی تیس جلدیں ہیں۔ [مقالات شارح بخاری، ج: 3، ص: 425، دائرۃ البرکات گھوسی، مئو]

اللہ تعالیٰ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبرِ انور کو نور سے بھر دے، اور ہمیں ان کے علم، اخلاص اور مسلکِ اعلیٰ حضرت پر ثابت قدم رہتے ہوئے ان کے علمی و عملی نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!