Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام میں باہمی حقوق|توحید احمد خان رضوی

اسلام میں باہمی حقوق
عنوان: اسلام میں باہمی حقوق
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف

اسلام نے حقوق العباد کی تعلیم جس انداز سے دی ہے، اگر لوگ ان کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام نہ لیں بلکہ اسے پورے طور پر ادا کریں تو آپسی اختلاف و انتشار بالکل ختم ہو جائے اور ایک صالح معاشرہ تشکیل پائے۔ اسلام میں کسی امیر کو کسی غریب پر، کسی گورے کو کسی کالے پر، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، ہاں! اگر کسی کو فضیلت حاصل ہے تو وہ تقوٰی کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ [سورۃ الحجرات: 13]

ترجمہ: بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

اور فرمانِ رسول اللہ ﷺ ہے: اے لوگو! خبردار! تمہارا پروردگار ایک ہے، خبردار! تمہارا باپ ایک ہے، خبردار! کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقوٰی کے۔ اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ معزز اور محترم وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔

انسان پر دو طرح کے حقوق عائد ہوتے ہیں: (۱) حقوق اللہ، (۲) حقوق العباد۔ حقوق اللہ کی پامالی کی صورت میں اللہ تعالیٰ معاف کر سکتا ہے، اگر معاف کر دے تو یہ اس کا فضل ہے اور اگر سزا دے تو یہ اس کا عدل ہے، لیکن حقوق العباد کی پامالی کی صورت میں جب تک وہ بندہ جس کا حق تلف کیا ہے معاف نہ کرے، اللہ تعالیٰ بھی معاف نہیں کرے گا۔ اسلام نے حقوق العباد کو جس طرح ادا کرنے کا حکم دیا ہے وہ دیگر ادیان میں مفقود ہے۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں کہ اسلام نے حقوق العباد کو کس طرح ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

والدین کے حقوق

والدین کے حقوق کو دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (۱) حیات میں والدین کے حقوق، (۲) بعدِ انتقال والدین کے حقوق۔

حیات میں والدین کے حقوق

قرآن کریم اور احادیثِ کریمہ میں والدین کے حقوق کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:

وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا [سورۃ بنی اسرائیل: 23]

ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے 'ہوں' نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔

دوسری جگہ ارشادِ ربانی ہے:

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا [سورۃ النساء: 36]

ترجمہ: اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو۔

ان آیات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ والدین کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرے اور حتی الامکان ان کی راحت و آسائش کے لیے کوشاں رہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں۔ اس نے عرض کیا: اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں۔ اس نے پھر عرض کیا: اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں۔ اس نے پھر عرض کیا: اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا باپ۔ [بخاری]

اس زیادتی کے یہ معنی ہیں کہ خدمت کرنے میں ماں کو باپ پر ترجیح دے اور تعظیم باپ کی زائد کرے اس لیے کہ وہ اس کی ماں کا بھی حاکم ہے۔ مسلم شریف کی حدیث ہے، حضور ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: اس کی ناک خاک آلود ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کس کی؟ سرکارِ مصطفےٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے بوڑھے ماں باپ کو پایا یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کر سکا۔ [مسلم شریف، ج: 2]

ایک مرتبہ حضور ﷺ سے لوگوں نے عرض کیا: والدین کا اپنی اولاد پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ دونوں تیری جنت اور دوزخ ہیں۔ [مشکوٰۃ شریف]

بعدِ انتقال والدین کے حقوق

(۱) سب سے پہلا حق ان کے انتقال کے بعد ان کے جنازے کی تجہیز و تکفین اور تدفین ہے۔ (۲) ان کے لیے مغفرت و بخشش کی دعا ہمیشہ کرتے رہنا، اس سے کبھی غفلت نہ برتنا۔ (۳) ان پر کوئی فرض باقی رہ گیا ہو تو بقدرِ طاقت اس کی ادائیگی کی کوشش کرنا۔ (۴) حسبِ طاقت صدقہ و خیرات و اعمالِ صالحہ کا ثواب انہیں پہنچاتے رہنا۔ (۵) ان پر کسی کا کوئی قرض ہو تو اس کو جلد ادا کرنے کی کوشش کرنا۔ (۶) انہوں نے جو جائز وصیت کی ہو، حتی الامکان اس کو نافذ کرنے کی کوشش کرنا۔ (۷) ہر جمعہ ان کی قبر کی زیارت کے لیے جانا اور وہاں یٰسین شریف پڑھنا اور اس کا ثواب ان کی روح کو پہنچانا۔ (۸) ان کے رشتہ داروں کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کرنا اور ان کا اعزاز و اکرام کرنا۔ (۹) کبھی کسی کے ماں باپ کو برا کہہ کر جواب میں انہیں برا نہ کہلوانا۔ (۱۰) کبھی کوئی گناہ کر کے انہیں قبر میں رنج نہ پہنچانا، اس لیے کہ سب اعمال کی خبر ماں باپ کو پہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں۔

اولاد کے حقوق

والدین پر بچوں کی پیدائش کے وقت سے حقوق کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب بچہ پیدا ہو تو کان میں اذان دی جائے، تحنیک کرے، عمدہ نام تجویز کرے، اور جب کچھ بولنے کے لائق ہو جائے تو کلمۂ طیبہ کا ورد کرانے کی کوشش کرے اور اگر ہو سکے تو عقیقہ بھی کیا جائے۔ اولاد کی تعلیم و تربیت کے تعلق سے نبی ﷺ نے کثرت سے ترغیب دلائی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشادِ عالی شان ہے: مسلمانوں! اپنی اولاد کی تربیت اچھی طرح کیا کرو۔ [طبرانی]

دوسری حدیثِ پاک میں ہے کہ باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دے سکتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ اولاد کی اچھی طرح تعلیم و تربیت ہے۔ [مشکوٰۃ]

اولاد کی تعلیم و تربیت کے تعلق سے حضور اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول ملاحظہ فرمائیں: زبان کھلتے ہی اللہ اللہ، پھر لا الہ الا اللہ، پھر پورا کلمہ طیبہ سکھائے، جب تمیز آئے ادب سکھائے، کھانے پینے، ہنسنے بولنے، اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، حیا، لحاظ، بزرگوں کی تعظیم، ماں باپ، استاد اور دختر کو شوہر کی بھی اطاعت کے طرق و آداب بتائے، قرآنِ مجید پڑھائے، استاد نیک، صالح، متقی، صحیح العقیدہ کے سپرد کرے، اور دختر کو نیک پارسا عورت سے پڑھوائے، بعد ختمِ قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے، عقائدِ اسلام و سنت سکھائے۔ حضورِ اقدس ﷺ کی محبت و تعظیم ان کے دل میں ڈالے کہ اصل ایمان و عینِ ایمان ہے۔ حضور ﷺ کے آل و اصحاب، اولیاء و علماء کی محبت و عظمت تعلیم کرے کہ اصل سنت و زیورِ ایمان ہے۔ سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید کرے، علمِ دین خصوصاً وضو، غسل، نماز، روزہ کے مسائل، توکل و قناعت، زہد و اخلاص، تواضع و امانت، صدق و عدل، حیا، سلامتیِ صدور و لسان وغیرہا خوبیوں کے فضائل، حرص و طمع، حبِ دنیا و حبِ جاہ، ریا و عجب، تکبر و خیانت، کذب و ظلم، فحش و غیبت، حسد و کینہ وغیرہا برائیوں کے رذائل پڑھائے، پڑھانے سکھانے میں رفق و نرمی ملحوظ رکھے، موقع پر چشم نمائی، تنبیہ و تہدید کرے مگر کوسنا نہ دے، مارے تو منہ پر نہ مارے، اکثر اوقات تہدید و تخویف پر قانع رہے، کوڑا قمچی اس کے پیشِ نظر رکھے کہ دل میں رعب رہے، زمانہ تعلیم میں ایک وقت کھیلنے کا بھی دے مگر زنہار زنہار بری صحبت میں نہ بیٹھنے دے کہ یارِ بد، مارِ بد سے بدتر ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9]

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے حقوق

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں: (۱) جب اس سے ملے تو سلام کرے، (۲) جب وہ بلائے تو حاضر ہو، (۳) جب وہ چھینکے تو جواب دے، (۴) جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے، (۵) جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، (۶) اور جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہ اس کے لیے پسند کرے۔

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کامل مسلمان وہ شخص ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ [بخاری]

دوسری حدیثِ شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے مفلس کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ہم میں مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ پیسے ہوں نہ سامان۔ حضور ﷺ نے فرمایا: میری امت میں دراصل مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے، اس حال میں کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھا لیا ہو، کسی کا خون بہایا ہو اور کسی کو مارا ہو، تو اب اس کو راضی کرنے کے لیے اس شخص کی نیکیاں ان مظلوموں کے درمیان تقسیم کی جائیں گی، پس اس کی نیکیاں ختم ہو جانے کے بعد بھی اگر لوگوں کے حقوق اس پر باقی رہ جائیں گے تو اب حق داروں کے گناہ لاد دیے جائیں گے یہاں تک کہ اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ [مسلم، ج: 2]

اس حدیثِ پاک سے عبرت حاصل کریں وہ لوگ جو سرِعام دوسرے مسلمان کو گالیاں دیتے ہیں اور انہیں شرم بھی محسوس نہیں ہوتی۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ بھی حق ہے کہ اس کی غیبت نہ کرے۔ غیبت کے متعلق قرآنِ کریم اور احادیثِ کریمہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:

وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ [سورۃ الحجرات: 12]

ترجمہ: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے؟ تو یہ تمہیں گوارہ نہ ہوگا۔ خدائے تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!