Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق کی ضرورت و نوعیت (قسط: اول)|مولانا غلام رسول سعیدی

طلاق کی ضرورت و نوعیت
عنوان: طلاق کی ضرورت و نوعیت
تحریر: مولانا غلام رسول سعیدی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

لغوی معنی: امام اللغت سید زبیدی طلاق کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: عباب میں ہے کہ عورت کی طلاق کے دو معنی ہیں: (۱) نکاح کی گرہ کو کھول دینا، (۲) ترک کر دینا، چھوڑ دینا۔ لسان العرب میں ہے کہ عثمان اور زید کی حدیث ہے۔ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے اور عدّت کا تعلق عورتوں سے ہے۔ [تاج العروس، ج: 6، ص: 425]

اصطلاحی معنی: علامہ زین الدین ابن نجیم (م 970ھ) طلاق کا فقہی معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: الفاظِ مخصوصہ کے ساتھ فی الفور یا از روئے مآل نکاح کی قید کو اٹھا دینا، طلاق ہے۔ الفاظِ مخصوصہ سے مراد وہ الفاظ ہیں جو مادۂ طلاق پر صراحتہً یا کنایتہً مشتمل ہوں۔ اس میں خلع بھی شامل ہے اور نامردی اور لعان کی وجہ سے قاضی کی تفریق بھی شامل ہے۔ طلاقِ بائنہ کی وجہ سے نکاح کی قید فی الفور اٹھ جاتی ہے اور طلاقِ رجعی کی وجہ سے نکاح کی قید از روئے مآل اٹھ جاتی ہے۔ [البحر الرائق، ج: 3، ص: 235]

طلاق کی اقسام

طلاق کی تین قسمیں ہیں: (۱) احسن، (۲) حسن، (۳) بدعی۔

طلاقِ احسن: جن ایام میں عورت ماہواری سے پاک ہو اور ان ایام میں بیوی سے مقاربت بھی نہ کی ہو، ان ایام میں صرف ایک طلاق دی جائے۔ اس میں دورانِ عدت مرد کو رجوع کا حق رہتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد عورت بائنہ ہو جاتی ہے اور فریقین کی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔

طلاقِ حسن: جن ایام میں عورت پاک ہو اور مقاربت بھی نہ کی ہو، ان ایام میں ایک طلاق دے دی جائے اور جب ایک ماہواری گزر جائے تو بغیر مقاربت کے دوسری طلاق دی جائے، اور جب دوسری ماہواری گزر جائے تو بغیر مقاربت کے تیسری طلاق دی جائے۔ اس کے بعد جب تیسری ماہواری گزر جائے گی تو عورت مغلظہ ہو جائے گی اور اب شرعی حلالہ کے بغیر اس سے دوبارہ عقد نہیں ہو سکتا۔

طلاقِ بدعی کی تین صورتیں:

  1. ایک مجلس میں تین طلاقیں دفعۃً دی جائیں، خواہ ایک کلمہ سے ہو، مثلاً "تم کو تین طلاق دیں" یا کلماتِ متعددہ سے ہو۔

  2. عورت کی ماہواری کے ایام میں اس کو ایک طلاق دی جائے۔ اس طلاق سے رجوع کرنا واجب ہے اور یہ طلاق شمار کی جاتی ہے۔

  3. جن ایام میں عورت سے مقاربت کی ہو، ان ایام میں عورت کو ایک طلاق دی جائے۔

طلاقِ بدعی کسی صورت میں ہو، اس کا دینے والا گنہگار ہوتا ہے۔ [درمختار، ج: 2، ص: 573]

صریح لفظِ طلاق کے ساتھ ایک یا دو طلاقیں دی جائیں تو یہ طلاقِ رجعی ہے اور اگر صریح لفظِ طلاق نہ ہو، کنایہ سے طلاق دی جائے تو یہ طلاقِ بائن ہے۔ مثلاً طلاق کی نیت سے بیوی کو ماں، بہن کہہ دے۔ طلاقِ رجعی میں دوبارہ رجوع کیا جا سکتا ہے، لیکن پچھلی طلاقیں شمار ہوں گی۔ اگر پہلے دو طلاقیں دی تھیں تو رجوع کے بعد صرف ایک کا مالک رہ جائے گا۔ طلاقِ بائن سے فی الفور نکاح منقطع ہو جاتا ہے، لیکن اگر تین سے کم طلاقیں بائن ہوں تو باہمی رضامندی سے دوبارہ عقد ہو سکتا ہے، مگر پچھلی طلاق کا شمار ہوگا۔

طلاق کیوں مشروع کی گئی؟

اسلام کا منشا یہ ہے کہ جو لوگ رشتۂ نکاح میں منسلک ہو جائیں ان کے نکاح کو قائم اور برقرار رکھنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے۔ اگر کبھی ان کے درمیان اختلاف یا نزاع پیدا ہو تو رشتہ دار اور مسلم سوسائٹی کے اربابِ حل و عقد اس اختلاف کو دور کر کے صلح کرائیں۔ اگر ان کی پوری کوشش کے باوجود صلح نہ ہو سکے اور یہ خطرہ ہو کہ اگر یہ بدستور رشتۂ نکاح میں بندھے رہے تو یہ حدودِ اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور نکاح کے مقاصد فوت ہو جائیں گے تو ان کی عدمِ موافقت اور باہمی نفرت کے باوجود ان کو نکاح میں رہنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اس صورت میں ان کی، رشتہ داروں اور معاشرہ کی مصلحت اسی میں ہے کہ عقدِ نکاح کو توڑنے کے لیے شوہر خلع کرا لے، یا تیسری صورت قاضی کی تفریق، یا چوتھی صورت یہ ہے کہ جن دو حَکموں کو معاملہ سپرد کیا گیا ہو، وہ نکاح کو فسخ کرنے کا فیصلہ کر دیں۔

صرف ناگزیر حالت میں طلاق کی اجازت

قرآن مجید کی تعلیم یہ ہے کہ اگر شوہر کو بیوی ناپسند ہو پھر بھی وہ اس سے نباہ کرنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا [سورۃ النساء: 19]

اور بیویوں کے ساتھ بھلائی اور حُسنِ سلوک کے ساتھ رہو، اور اگر تم کو وہ ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو، اللہ تعالیٰ اس میں بہت سی بھلائی پیدا کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

مَا أَحَلَّ اللَّهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ [سنن ابوداؤد، رقم الحديث: 2177]

اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حلال کیا ہے، ان میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ قرآن اور سنت کی ان ہدایات کی روشنی میں شوہر پر یہ لازم ہے کہ اختلاف اور نزاع کی صورت میں حتی الامکان طلاق سے گریز کرے اور طلاق دینا ناگزیر ہو تو صرف ایک طلاقِ رجعی دے۔ آج کل لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ تین بار کہے بغیر طلاق نہیں ہوتی، اس لیے خود تین طلاقیں دے دیتے ہیں یا وکیل لکھ دیتے ہیں اور جب طلاق نافذ ہو جاتی ہے تو پشیمان ہو کر حیلے تلاش کرتے ہیں، حتیٰ کہ حلالہ کی ناگوار صورت تک قبول کر لیتے ہیں۔ یہ میری بائیس سالہ افتاء کی زندگی کا تجربہ ہے۔

صرف مرد کو طلاق کا اختیار کیوں دیا گیا؟

طلاق کا حق صرف مرد کو تفویض کیا گیا ہے۔ اس کی چند وجوہات ہیں:

  1. عورت مغلوب الغضب ہوتی ہے، اگر طلاق کا اختیار عورت کے ہاتھ میں ہوتا تو وقوعِ طلاق کی شرح دو چند سے زیادہ بڑھ جاتی۔

  2. مرد کے مقابلہ میں عورت کی قوتِ فیصلہ کمزور ہوتی ہے۔ حیض کے ایام میں عورت ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوتی ہے، اگر تب اختیار ہوتا تو اکثر گھر ویران ہو جاتے۔

  3. عورتیں ناقصاتِ عقل ہوتی ہیں اور فسخِ نکاح کا معاملہ ان کے سپرد کرنے کے لائق نہیں ہے۔ [بخاری، ج: 1، ص: 263]

  4. مرد اپنا مال خرچ کر کے حقوقِ زوجیت حاصل کرتا ہے، اس لیے ان سے دست کش ہونے کا اختیار بھی اسی کو دیا گیا ہے۔ جو روپیہ خرچ کر کے کوئی چیز حاصل کرے وہ اسے آخری حد تک رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برخلاف عورت کو حقوقِ زوجیت قائم کرنے میں کوئی مالی قربانی نہیں دینی پڑتی، اس لیے طلاق کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دینا عدل و انصاف کے بھی خلاف ہوتا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!