| عنوان: | آقا صلی اللہ علیہ وسلم اگر بلائیں تو رکاوٹوں کی کیا مجال؟ |
|---|---|
| تحریر: | عائشہ رضا عطاریہ |
قصد تھا اس شہر کا جسے عشاق شہر محبت کہا کرتے ہیں، جس کا سفر در حقیقت عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر ہوتا ہے۔ الحمدللہ زہے نصیب مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر کرم فرمائی، اور ہم جیسے گناہگاروں کو اپنے مقدس در کی حاضری کا شرف عطا فرمایا۔ یہ وہ بلاوا تھا، جس کا ہر امتی انتظار کرتا ہے، مگر اللہ پاک نے اس مبارک سفر میں صبر، استقامت اور محبت کی کچھ آزمائشیں بھی رکھ دی تھیں۔ ہم دونوں میاں بیوی کے لیے یہ سفر محض ایک زیارت نہ تھی، بلکہ عشق و عقیدت کا وہ امتحان تھا، جو ہر عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کبھی نہ کبھی آتا ہے۔
جیسے ہی خبر ملی کہ مدینہ کی حاضری نصیب ہو رہی ہے، تو آنکھوں میں خوشی کے آنسو، زبان پر شکر کے کلمات، اور دل نے بے پناہ خوشی اور سکون محسوس کیا۔
ہمیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ حقیقت ہے یا پھر ایک خواب، پر ذہن میں بار بار یہ اشعار خاموشی کے ساتھ گونج رہے تھے، کہ آقا جان! صلی اللہ علیہ وسلم
میں آؤں مدینے میری اوقات نہیں ہے
گر آپ بلا لیں تو بڑی بات نہیں ہے
منگل کا دن تھا، (12 نومبر 2024) فضاؤں میں ایک عجب سی طمانیت اور سکون گھلا ہوا تھا۔ ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم نے شکرانے کے طور پر دو رکعت نفل ادا کیے، دل جیسے عاجزی، شکرگزاری اور خوشی کے جذبات سے لبریز تھا۔
ہم نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر سفر کی تمام تیاریاں الحمدللہ پوری طرح سے مکمل کر لی تھیں، اور اب وہ گھڑی آ چکی تھی جس کا برسوں سے انتظار تھا۔
جب ہم گھر سے روانہ ہونے لگے، تو دل کی کیفیت الفاظ میں بیان کرنے سے باہر تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ہو، جیسے دعائیں آسمان سے اتر کر ہماری جھولی میں آ گری ہوں۔
ہر قدم کے ساتھ خوشی کی شدت بڑھتی جا رہی تھی، اور دل بار بار “الحمدللہ” کہہ کر ربّ کے حضور جھک رہا تھا۔
شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے
ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ ہمارے ساتھ ساتھ ہمارے تینوں بچے بھی بے حد خوش تھے، پر کہیں نہ کہیں افسردہ بھی تھے۔
ایک بیٹی (13 سال)، ایک بیٹا (11 سال)، اور سب سے چھوٹا بیٹا (4 سال)۔ تینوں کو مدینہ منورہ کی حاضری کا بے پناہ جذبہ و شوق تھا، پر ابھی ان کا بلاوا نہیں تھا، تینوں بہت زیادہ خوش بھی تھے اور غمگین بھی۔
مگر الحمدللہ ان کے چہروں پر خوشی کے آثار صاف طور پر نمایاں نظر آ رہے تھے۔
تقریباً دو بجے ہم اپنی رہائش گاہ (تروورو، آندھرا پردیش) سے (وجے واڑا) اسٹیشن کے لیے روانہ ہو گئے۔ الحمدللہ مقررہ وقت پر ہم اسٹیشن پہنچ گئے، دہلی جانے کے لیے شام پانچ بجے ٹرین میں سوار ہوئے۔ سفر کا آغاز دعاؤں کے ساتھ ہوا، دل میں بس یہی خیال بار بار گردش کر رہا تھا کہ چند گھنٹوں بعد ہم اس مقدس سرزمین کے لیے روانہ ہوں گے، جہاں ہر دل کو سکون ملتا ہے۔ دہلی پہنچ کر ہمیں بچوں کو ان کی نانی کے سپرد کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔
بچوں کے والد صاحب کی خوشی تو قابل دید تھی۔ ان کی آنکھوں میں تشکر اور خوشی کے آنسو، لبوں پر تبسم کے ساتھ رب کریم کا شکر، اور دل میں سکون کی ایک ان کہی کیفیت موجود تھی۔
اللہ ربّ العزت نے ان کی برسوں کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشا، اور وہ دلی تمنا جو مدتوں سے دل میں پل رہی تھی، بالآخر پوری ہو گئی۔ وہ ہمیشہ ربّ کریم سے یوں فریاد کرتے تھے:
“یا اللہ! جب کبھی مجھے تیرے دربارِ اقدس میں حاضری کا موقع عطا ہو، تو میرے والدین میرے ساتھ ہوں۔”
ادھر اُن کی والدہ بھی اکثر سجدوں میں گر کر، لرزتے ہونٹوں، اور نم آنکھوں کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو دراز کر کے اپنے رب العالمین سے دعائیں مانگتیں:
“اے پروردگار! جب بھی میں تیرے مقدس گھر کا طواف کروں، میرا بیٹا میرے ساتھ ہو۔”
پھر وہ لمحہ بھی آ گیا جس لمحے کا ماں اور بیٹے دونوں کو شدت سے انتظار تھا۔
ایک طرف بیٹا اپنے ربّ کے حضور ہاتھ بلند کیے، دل سے ماں کے ساتھ مکہ معظمہ کی حاضری کی دعائیں مانگ رہا تھا۔ دوسری جانب ماں، اپنے آنچل کو پھیلائے، آنکھوں میں امید، لبوں پر التجا لیے، اپنے بیٹے کے ساتھ حاضری کی بھیک مانگ رہی تھی۔
ایسا لگا جیسے ماں کے دل سے نکلی ہوئی دعا عرشِ الٰہی سے جا ٹکرائی، اور ربِ کریم کے دریائے رحمت میں جوش آ گیا۔ خالقِ کائنات نے ماں بیٹے کی التجاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا، اور دونوں کو اپنے پاک گھر، بیت اللہ شریف، کی حاضری کا عظیم شرف عطا فرما دیا۔
واہ! کیسا مقدس اور دل کو چھو لینے والا منظر تھا! ادھر بیٹے کی خوشی بے قابو تھی، جیسے دل میں بسا خواب حقیقت بن کر سامنے آ گیا ہو۔ اور اُدھر والدین خوشی سے لبریز، سجدۂ شکر میں جھکے جا رہے تھے۔ ماشاءاللہ! وہ لمحے ایسے تھے جنہیں صرف روح محسوس کر سکتی تھی، زبان بیان کرنے سے قاصر، اور قلم اظہار سے عاجز تھا۔
واہ کیا نظارہ تھا اس مبارک سفر کا، ادھر بیٹے کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ادھر والدین خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔
رات کا وقت تھا، ہم ٹرین میں سوار ہو چکے تھے سفر جاری تھا، ہم سب اپنی اپنی سیٹ پر آرام سے لیٹ گئے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب ہم نیند کی گہری وادیوں میں کھو گئے، تھکان کی وجہ سے جلدی ہی نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔
رات کے دو بج رہے تھے اچانک بڑے بیٹے نے ہمیں جھنجھوڑ کر نیند سے بیدار کیا اور کہا کہ ٹرین ایک جگہ پر رکی ہوئی ہے۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ (مہاراشٹر) بلہار شاہ مقام پر ہمارے آگے چلنے والی مال گاڑی پٹری سے اتر گئی ہے۔ یہ خبر سنتے ہی دل دھک سے ہو کر رہ گیا، کیونکہ راستہ مکمل طور پر بند ہو چکا تھا!
اب سوچنے لگے، کہ کیا کریں؟ کیسے دہلی پہنچیں؟ ہماری دہلی سے جمعرات (14 نومبر) کی صبح 5 بجے کی فلائٹ تھی، اور ہم پھنس چکے تھے!
تقریباً دو گھنٹے ٹرین وہیں کھڑی رہی سبھی ٹرین میں سوار لوگ حیران و پریشان تھے کہ اب کیا کریں۔ بدن لرزنے لگا، آنکھوں سے اشک رواں ہونے لگے، جیسے امیدیں دم توڑنے لگی ہوں۔
وقت گزرتا جا رہا تھا، لیکن کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہم دونوں میاں بیوی بہت زیادہ بے چین تھے، آنکھوں میں اشک، دل میں اضطراب، لیکن زبان پر صرف دعا تھی۔ یہ سوچ کر دل غمگین ہوا جا رہا تھا کہ ہم مدینہ شریف نہیں جا پائیں گے، شاید ہم اس قابل نہیں، لیکن ساتھ ہی یقین بھی تھا کہ جسے آقا صلی اللہ علیہ وسلم بلاتے ہیں، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
مدینے پاک سے جو لوگ لو لگاتے ہیں
خود اپنے در پر انھیں مصطفیٰ بلاتے ہیں
کوششیں جاری تھیں کہ کسی نہ کسی طرح ٹرین کو کسی متبادل راستے سے دہلی پہنچایا جائے۔ بالآخر فیصلہ ہوا کہ ٹرین کو پیچھے کی طرف موڑ کر دوسرے راستے سے دہلی روانہ کیا جائے۔ چنانچہ ٹرین نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا، لیکن کچھ ہی دور چلنے کے بعد مناسب راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ایک مقام، مہاراشٹر کے ناندیڑ، پر دوبارہ رک کر کھڑی ہو گئی۔ وہاں تقریباً ایک گھنٹے تک کھڑی رہی، اب مسافروں کی بے چینی مزید بڑھنے لگی۔
ہماری پریشانی میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ بالآخر ہم نے فیصلہ کیا کہ ٹرین سے اتر کر فلائٹ کے ذریعے دہلی پہنچنے کی کوشش کریں۔ ہم نے فوری طور پر فلائٹ کی ٹکٹیں بک کیں، اور ناندیڑ (مہاراشٹر) اسٹیشن پر ٹرین سے اتر کر ناگپور ایئرپورٹ جانے کے لیے فوراً ایک گاڑی بک کروائی۔ تقریباً ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد جب گاڑی آ پہنچی تو ہم فوراً سوار ہو کر ناگپور ایئرپورٹ کی جانب روانہ ہو گئے۔
جب بچوں کو معلوم ہوا کہ اب وہ دہلی ٹرین سے نہیں بلکہ فلائٹ کے ذریعے جائیں گے تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ جیسے ہی انہیں یہ خبر ملی کہ وہ فلائٹ میں سفر کریں گے، خوشی اور جوش کے مارے ان کا حال دیدنی تھا۔ تینوں بچے خوشی سے اچھل پڑے۔ آخر بچے تو بچے ہوتے ہیں، چھوٹے چھوٹے معصوم دلوں کو کیا خبر کہ حالات کیا رخ اختیار کر رہے ہیں، انہیں تو بس فلائٹ میں بیٹھنے کی خوشی تھی، کیونکہ یہ ان کا پہلا فضائی سفر تھا۔ ان کے پھول جیسے خوبصورت چہروں پر سجی معصوم سی مسکراہٹ نے ہمارا دل جیت لیا۔
(13 نومبر) بدھ کا دن بھی ہمارا بے چینی اور اضطراب میں گزرا، نہ کچھ کھانے کا ہوش رہا، نہ آرام کا خیال۔ دل و دماغ پر بس ایک ہی دعا چھائی ہوئی تھی:
“یا اللہ! ہم گناہگاروں کو اپنے در پر اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے در پر پہنچا دے!”
ناگپور پہنچ کر پہلے ایک ڈھابے پر بچوں کو کھانا کھلایا اور اس کے بعد ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہو گئے۔ ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ہم اب پُرسکون ہو چکے تھے کہ ان شاء اللہ عزوجل، اب وقت پر دہلی پہنچ جائیں گے۔ دل ہی دل میں اللہ پاک کا شکر ادا کیا، لیکن ابھی ایک اور امتحان ہمارا منتظر تھا!
ہماری فلائٹ رات 9 بجے کی تھی، مگر وہ تاخیر کا شکار ہو کر 10 بجے کی ہو گئی، اس کے باوجود ہم مطمئن تھے۔ لیکن جب 10 بجے کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ فلائٹ مزید تاخیر سے اب 12 بجے روانہ ہوگی! یہ سن کر دل مزید پریشان ہو گیا، بدن کانپنے لگا، آنکھوں میں اشک تیرنے لگے، اور امیدیں بکھرتی نظر آنے لگیں۔
بے بس دل، مدینے والے آقا سے ایک خاموش چیخ کے ساتھ رو رو کر فریاد کرنے لگا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ انْظُرْ حَالَنَا۔ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْمَعْ قَالَنَا۔
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، میرے حال پر نظر فرمائیے، میری فریاد کو سن لیجئے۔ المدد یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، المدد!
“یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا واقعی ہم اس قابل نہیں کہ مدینہ شریف آ کر آپ کی مقدس بارگاہ میں حاضری دے سکیں؟”
بس یہی سوچ سوچ کر دل بیٹھا جا رہا تھا مگر امید کی کرن ابھی باقی تھی، کیونکہ فریاد مدینہ کے تاجدار سے کی تھی، رب العالمین کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی۔
ہم نے فریاد اپنے غم گسار سے کی تھی، اُس دربار سے جس سے کبھی کوئی سائل خالی نہیں لوٹا، تو بھلا ہم کیوں کر خالی لوٹ سکتے تھے؟ ہم اپنے پیارے آقا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے امیدوار، آنکھوں میں آنسو لیے، اللہ رب العزت کی رحمت سے لو لگائے، امید اور یقین کے ساتھ دعا کرتے رہے کہ ان شاء اللہ عزوجل ہماری مشکل ضرور آسان ہوگی۔
جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یقین کے ساتھ اس کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ بنا کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے جائیں، تو وہ خالی نہیں لوٹتے۔
نہیں پاس حسنِ عمل میرے مولا
نظر میری تیرے کرم پہ لگی ہے
رات کے 12 بج چکے تھے۔ تمام فلائٹس اپنی اپنی اُڑان بھر چکی تھیں، صرف ہماری فلائٹ ہی باقی رہ گئی تھی۔ بار بار اسکرین کی طرف نظریں اٹھتیں اور پھر مایوسی کے ساتھ جھک جاتیں۔
ہم دونوں ایک دوسرے کو بے بسی اور مایوسی کے عالم میں دیکھنے لگے، اور کہنے لگے: “اگر اب مزید تاخیر ہوئی، تو وقت پر پہنچنا ناممکن ہو جائے گا۔” دل پر مایوسی کا بادل چھا گیا، ایسا لگنے لگا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہو۔ دل میں طرح طرح کے خیالات گردش کرنے لگے، “اگر ہم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے قابل نہیں ہیں، تو کس کام کی ہے یہ زندگی؟”
لیکن اللہ پاک نے ہمیں ایک یقین و امید کی دولت عطا فرمائی تھی، وہ واقعی ایک انمول نعمت تھی۔ الحمد للہ! ہمارا یقین اور ہماری امید بہت مضبوط تھی۔ ہم اسی یقین کے ساتھ اپنے رب سے دعاؤں میں مصروف تھے۔
وہ جو چاہے تو کیا نہیں ممکن
وہ جو نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
ابھی ہم انہی خیالوں میں گم تھے کہ اچانک اعلان ہونے لگا کہ دہلی جانے والی فلائٹ کچھ ہی دیر میں پرواز کرنے والی ہے۔ جیسے ہی یہ الفاظ ہماری سماعت کو پہنچے، دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ آنکھوں میں خوشی کے آنسو اُمڈ آئے، امید کی کرن جاگ اُٹھی، اور خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔
دل کی گہرائیوں سے اپنے ربِّ کریم کا شکر ادا کیا، اور تیز تیز قدموں سے اپنی منزل کی جانب بڑھنے لگے!
دیر سے سہی، لیکن الحمدللہ، (14 نومبر) جمعرات کو صبح صادق کے وقت جیسے تیسے ہم دہلی پہنچ ہی گئے۔ دہلی ایئرپورٹ پر ہمارے اہلِ خانہ ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لیے پہلے سے ہی منتظر تھے۔ ہمارے بھائیوں اور کچھ قریبی رشتہ داروں نے آگے بڑھ کر محبت و اپنائیت کے ساتھ ہمارا پُر جوش خیرمقدم کیا۔
ہماری والدہ بھی بڑی بے تابی کے ساتھ ایئرپورٹ پر ہماری منتظر کھڑی تھیں، طبیعت ناساز ہونے کے باوجود بھی وہ ہم سے ملنے کے لیے آئی تھیں، آخر ماں تو ماں ہوتی ہے اس کی محبت کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ مادر شفیق نے آگے بڑھ کر ہمارے گلے میں ایک خوبصورت پھولوں کا ہار ڈال کر پیار و محبت کے ساتھ گلے سے لگا لیا، ان کے سینے سے لگ کر ایک عجیب سا سکون محسوس کیا۔ مشفقہ ماں نے سر پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر بہت ساری دعاؤں سے نوازا، یہ وہ دعائیں تھیں جن کی ٹھنڈک روح تک اتر گئی۔
وقت بہت کم تھا، کیونکہ ہم بالکل فکس ٹائم پر ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اب آزمائش ختم ہو چکی ہے، خوشی اتنی کہ لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی کیونکہ اب چند گھنٹوں میں ہم مکہ معظمہ کی پر کیف فضاؤں میں پہنچنے والے تھے، اس لیے خوشی کی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی تھی، بس آنکھوں میں خوشی کے آنسو موتی بن کر چمک رہے تھے۔
بس بار بار یہی الفاظ دل میں خیالات بن کر ابھر رہے تھے کہ
کہاں کا منصب کہاں کی دولت قسم خدا کی ہے یہ حقیقت
جنھیں بلایا ہے مصطفیٰ نے وہی مدینے کو جا رہے ہیں
تینوں بچوں کو ہم نے ان کی نانی جان اور مامو کے سپرد کیا، اور جلدی جلدی سب سے ملنے کے بعد ہم نے اپنے سامان کو سنبھالا، کیونکہ اب ہماری اینٹری ہونے والی تھی۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، ایک پیار بھری نظر اپنے بچوں پر ڈالی اور پھر ہم آگے بڑھ گئے کیونکہ ہمارے پاس ٹائم بہت کم تھا، ایئرپورٹ کے اندر ہماری اینٹری شروع ہو چکی تھی، مکہ مکرمہ اور مدینہ شریف کا سفر اب حقیقت بننے والا تھا۔
جب مکہ مکرمہ پہنچے تو (15 نومبر) جمعہ کا مبارک دن نمودار ہو چکا تھا، رب کی رحمت جوش پر تھی، واہ کیا نورانی سماں تھا، سفر مکہ معظمہ کا، دن جمعہ مبارک کا، عظمت والا مبارک شہر، رب کے مقدس گھر کی با ادب حاضری، تو دل خوشی سے جھوم اٹھا۔
کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے دل ذوقِ تماشہ بھول گیا
پہلی نظر جب کعبہ شریف پر پڑی، تو آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو گئیں۔ قدم ساکت ہو گئے، زبان گنگ ہو گئی، اور دل کہہ اٹھا:
اے ابرِ کرم آ برس جا برس جا
عجب آگ عصیاں کی مجھ میں لگی ہے
“یا اللہ! ہم مجرم ہیں، خطاکار ہیں، سیاہ کار ہیں مگر تیرے ہی تو ہیں۔ اے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب ہم سے سدا کے لیے راضی ہو جا، اے رب العالمین تو نے ہی ہمیں اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے کا شرف بخشا ہے۔ یا اللہ پاک! ہمارے گناہوں کو ہماری خطاؤں کو معاف فرما دے۔”
کہتے ہیں کہ جب کعبہ شریف پر پہلی نظر پڑتی ہے تو جو دعا بھی مانگی جاتی ہے وہ قبول ہوتی ہے۔ جب ہماری پہلی نظر کعبہ شریف پر پڑی تو ہر ایک خواہش اور دعا دل سے نکل گئی، کعبہ مقدسہ کو دیکھ کر بس ہمارے لبوں پر ایک ہی دعا تھی، اے اللہ پاک ہمیں کچھ نہیں چاہیے، ہم تجھ سے تجھی کو مانگتے ہیں اے اللہ عزوجل ہم سے تو سدا کے لیے راضی ہو جا، ایسا راضی ہو جا کہ پھر کبھی ناراض نہ ہونا۔
وہ پہلی نظر، پہلا طواف کعبہ، پہلا سجدہ، وہ پہلی دعا، وہ پہلی حاضری… ایسا لگا جیسے دنیا کی سب سے بڑی دولت مل گئی ہو۔
الحمد للہ کئی مقدس مقامات پر بھی حاضری نصیب ہوئی جس میں جبل رحمت، اور جبل ثور بھی شامل ہیں۔
جس وقت ہماری جبل ثور پر حاضری ہوئی تو جبل ثور اور اس کی اونچائی کو دیکھ کر وہ لمحہ یاد آیا، ہجرت کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غار ثور میں پناہ گزین ہوئے تو پہاڑ پر چڑھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زخمی ہو گئے تھے، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کندھوں پر سوار کر کے غار میں پہنچایا تھا۔
اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی لختِ جگر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا روزانہ دو بار جبل ثور پر چڑھتیں اور غار میں اپنے بابا جان اور پیارے آقا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پہنچاتی تھیں، کتنا مشکل ہوگا روزانہ دو بار جبل ثور پر چڑھنا اور اترنا۔ جبل ثور کی سطح زمین سے بلندی 759 میٹر (2,490 فٹ) ہے۔
اللہ اکبر، باپ اور بیٹی نے دین اسلام کی خاطر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اپنی جان و مال سب کچھ قربان کر دیا تھا، دونوں نے کتنی بڑی بڑی پریشانیوں کا سامنا کیا۔ لاکھوں سلام ہوں یار غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اور ان کی آل پر۔
تقریباً 12 دن تک ہمیں مکہ معظمہ کی مقدس فضاؤں میں رہنا نصیب ہوا، ہر لمحہ، ہر سانس اللہ کی رحمت میں لپٹی ہوئی محسوس ہوئی، الحمدللہ۔
12 دن مکہ معظمہ میں گزارنے کے بعد اب ہمیں مدینہ شریف کے لیے روانہ ہونا تھا جہاں جانے کی تمنّا اور تڑپ ہر عاشق رسول کو ہوتی ہے، وہ مدینہ جو کعبہ کا بھی کعبہ ہے، تبھی تو عاشق رسول مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب (حدائق بخشش) میں لکھتے ہیں کہ:
حاجیوں آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
ایک طرف مدینہ شریف جانے کی خوشی کے خوبصورت احساس سے دل جگمگا رہا تھا، اور دوسری طرف مکہ مکرمہ کی جدائی کا غم ستا رہا تھا۔
جب مکہ مکرمہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہونے کا وقت آیا، تو دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ غم اور خوشی کا ملا جلا احساس تھا، ایک طرف کعبہ چھوڑنے کا غم، اور دوسری طرف مدینہ منورہ کی زیارت کا شوق۔
جس وقت ہم اپنے ہوٹل سے ٹیکسی میں سوار ہونے کے لیے باہر نکلے تو بہت زیادہ تیز بارش ہو رہی تھی، حسرت بھری نگاہوں سے مسجد حرم کے میناروں کو دیکھا تو آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے، جب تک مینار آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گئے تب تک ہم ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہے۔
بارش تیز ہوتی جا رہی تھی، بارش کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اللہ کی رحمت ہم پر برس رہی ہو۔ بارش کی ہر بوند دل کو یہ پیغام دے رہی تھی کہ یہ سفر بھی ان شاء اللہ عزوجل رحمتوں بھرا ہوگا۔
کیا بتاؤں ملی دل کو کیسی خوشی
جب یہ مژدہ سنا میں مدینے چلا
مدینہ طیبہ کی حاضری ہماری زندگی کا سب سے مبارک لمحہ تھا۔ درِ یار صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کے لیے دل بیقرار تھا، لیکن سب غموں سے بڑا غم ستا رہا تھا کہ اِتنے گندے گناہوں سے لتھڑے ہوئے وجود کو لے کر اُن کی بارگاہِ بے کس پناہ میں ہم کِس منہ سے حاضر ہوں گے؟
بے شک وہ صلی اللہ علیہ وسلم کریم ہیں کرم ہی اُن کا شیوہ ہے لیکن۔
مجھ سا عاصی بھی امت میں ہوگا کہاں
أَنَا مُجْرِمَةٌ، پشیماں یا حبیبی صلی اللہ علیہ وسلم
یہی تو وہ مقام ہے جہاں انسان فنا ہو جاتا ہے۔ اور اس کا دل، زبان، آنکھیں سب کچھ صرف محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو جاتا ہے۔
فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَرُوحِي وَقَلْبِي يَا سَيِّدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم
جب مدینہ منورہ پہنچے، تو وہ لمحہ آیا جس کا صدیوں سے انتظار تھا…
حالِ دل ان کو سناؤں گا بہت روؤں گا
گر مدینے کو میں جاؤں گا بہت روؤں گا
جب پہلی بار نظر روضۂ اطہر پر پڑی، تو جیسے وقت تھم گیا، سانسیں رکنے لگیں، اور دل کی دھڑکنیں بے قابو ہو گئیں۔ قدم زمین میں گڑ گئے، زبان بے بس ہو گئی، اور آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا خواب ہم نے نجانے کتنی راتوں میں دیکھا تھا، اور آج ہم حقیقت میں اس مقام پر کھڑے تھے جہاں ہر دل سکون پاتا ہے۔
وہ سبز گنبد… وہ نورانی فضا… جیسے پوری کائنات کی روشنی اسی ایک مقام پر سمٹ آئی ہو۔
کاش مجھ پر کرم فرمائیں سلطانِ امم
ذوقِ دل، ذوقِ وفا، ذوقِ تمنا دیکھ کر
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہیں ناں۔
أَسْأَلُكَ الشَّفَاعَةَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم
أَسْأَلُكَ الشَّفَاعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم
الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم
الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِي يَا حَبِيبَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم
الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِي يَا نُورَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم
الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ صلی اللہ علیہ وسلم
یہ کہتے ہی دل کو ایسا سکون ملا جو کبھی الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ پہلی نظر تھی، لیکن اس نظر نے سب کچھ بدل دیا۔
میں بھول گیا نقش و نگار رخ دنیا
صورت جو میرے سامنے آئی تیرے در کی
یہ سفر ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ اصل زندگی کی شروعات یہیں سے ہوئی تھی۔ اب جو بھی لمحہ گزرے گا، وہ اسی در کی یاد میں گزرے گا، اب جو بھی دعا نکلے گی، وہ اسی در سے وابستہ ہو گی، کیونکہ یہ در وہ در ہے جہاں سے کوئی خالی نہیں لوٹایا جاتا۔
اتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں
یہ تو کرم ہے ان کا ورنہ مجھ میں تو ایسی بات نہیں
دو جہان کے سلطان صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا نہیں عطا فرمایا۔ ہم جیسے گناہگاروں کو اپنے پاک دربار میں حاضر ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔ ہمارے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو سکتی ہے۔
مدینہ کی فضا میں جو نورانیت تھی، وہ ہر پریشانی، ہر غم، ہر تکلیف کو مٹا دینے کے لیے کافی تھی۔ ہر لمحہ محبت سے بھرا تھا، ہر سانس عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبی ہوئی تھی۔
9 دن تک مدینہ میں رہے، روضۂ اطہر پر حاضری دی، دعائیں کیں، تو دل کو وہ سکون ملا جو دنیا کی کسی شے میں نہیں۔ وہ لمحہ، وہ کیفیت، وہ سرشاری… دنیا کی کوئی لذت، کوئی خوشی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دل چاہتا تھا کہ وقت تھم جائے، یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے ٹھہر جائے، اور ہم ہمیشہ اس در پر سجدہ ریز رہیں۔
جب مدینہ چھوڑنے کا وقت آیا، تو ایسا لگا جیسے دل پر کوئی پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔
تازیست تیرے در سے میرا سر نہ اٹھے گا
مر جاؤں تو ممکن ہے جدائی تیرے در کی
آنسوؤں کا سیلاب تھا، غم کا طوفان تھا، قدم بوجھل ہو گئے، دل کہہ رہا تھا: آقا جان! صلی اللہ علیہ وسلم
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمھیں تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمھیں تو ہو
دنیا میں رحمت دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمھیں تو ہو
“یا رسول اللہ! ہم کیسے جائیں؟ اے میرے آقا! ہمیں اپنے پاس روک لیجیے!”
اُن کے در پر موت آ جائے تو جی جاؤں حسان
اُن کے در سے دور رہ کر زندگی اچھی نہیں
ہچکیاں بندھ گئیں، الفاظ ساتھ چھوڑ گئے، لیکن دعا یہی تھی کہ ہمیں اکثر مدینہ میں بلانا رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم۔
آہ آقا کا مدینہ چھوٹ رہا تھا، ہم نے مسجد نبوی شریف میں نماز ظہر ادا کرنے کے بعد آقا جان صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس روضہ مبارک کے سامنے کھڑے ہو کر الوداعی سلام پیش کیا، اور حسرت بھری نگاہوں سے گنبد خضرا کو دیکھا، تو دل فریاد پر فریاد کرنے لگا آقا جان صلی اللہ علیہ وسلم ہم پردیسی آپ کا پیارا مدینہ شریف چھوڑ کر جا رہے ہیں، آقا جان صلی اللہ علیہ وسلم نظر کرم کیجیے ہمیں اپنے قدموں میں پڑا رہنے دیں، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے پاس روک لیجئے، آقا جان صلی اللہ علیہ وسلم۔
بوجھل قدموں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے مسجد نبوی شریف سے باہر نکلنے لگے اس وقت کیا کیفیت تھی وہ بیان سے باہر ہے۔
خدا کا گھر بھی چھوٹا ہے نبی کا آستانہ بھی
لگا ہے دوہرا غم آقا مدینہ چھوڑ آئے ہیں
مدینہ چھوڑ آئے اپنی دنیا چھوڑ آئے ہیں
ہمارے پاس جتنا تھا اثاثہ چھوڑ آئے ہیں
یہ سفر آزمائشوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن ہر مشکل کے بعد اللہ نے آسانی عطا فرمائی۔ یہی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت ہے کہ جو درِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسافر بنتا ہے، اس کے راستے کی ہر رکاوٹ، اللہ کے حکم سے دور ہو جاتی ہے!
اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حَجًّا وَعُمْرَةً مَبْرُورًا وَزِيَارَةً مَقْبُولَةً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
“اے اللہ! ہمیں بار بار مقبول حج، عمرہ اور مدینہ کی حاضری نصیب فرما، دنیا و آخرت میں اسے ہمارے لیے باعثِ خیر و برکت بنا۔” آمین!
قلبِ مُضطر کے لیے آپ کا مدینہ آغوشِ مادر ٹھہرا
تکلیف سے سسکتے ہوئے مجھے ہر بار بڑا یاد آیا
