Loading...

قرآن… منشورِ حیات (قسط: اول)|انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

قرآن… منشورِ حیات (قسط: اول)
عنوان: قرآن… منشورِ حیات (قسط: اول)
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اس کے سامنے دو سوال ہمیشہ کھڑے رہے ہیں: میں کون ہوں؟ میرا خالق کون ہے؟ اور میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ انسان نے ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے کبھی فلسفے کا سہارا لیا، کبھی سائنس کی طرف رجوع کیا، کبھی عقل کی دہلیز پر دستک دی اور کبھی اپنی خواہشات کو ہی رہبر بنا لیا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے اپنے خالق سے بے نیاز ہو کر اپنی عقل کو تنہا رہنما بنانے کی کوشش کی، وہ کسی نہ کسی فکری، اخلاقی یا روحانی گمراہی کا شکار ہوا۔ اس کے برعکس جب بھی اس نے آسمان سے آنے والی ہدایت کو مضبوطی سے تھاما، اس کی زندگی علم و عمل، عدل و انصاف، امن و سکون اور فلاح و کامیابی کی روشن مثال بن گئی۔

مادی ترقی اور باطنی اضطراب

آج انسان اپنی سائنسی ترقی پر بجا طور پر فخر کرتا ہے۔ وہ فضاؤں کو مسخر کرنے، سمندروں کی تہوں میں اترنے، پیچیدہ بیماریوں کا علاج دریافت کرنے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے حیرت انگیز ایجادات کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے کائنات کے بہت سے رازوں پر دسترس حاصل کر لی ہے، لیکن اگر اسی انسان کی داخلی کیفیت کا جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

دل بے سکون ہیں، ذہن اضطراب کا شکار ہیں، خاندان بکھر رہے ہیں، اخلاقی اقدار دم توڑ رہی ہیں، ظلم و ناانصافی عام ہے، خودکشیوں کی شرح بڑھ رہی ہے اور انسان اپنی تمام تر ترقی کے باوجود حقیقی اطمینان سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ وسائل بڑھتے جا رہے ہیں مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے، معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر حکمت ناپید ہے، سہولتیں میسر ہیں مگر سعادت کا احساس مفقود ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

وحیِ الٰہی کی ضرورت اور قرآن کا نزول

اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو اس سوال کا جواب بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ انسان اس وقت تک کامیاب رہا جب تک اس کا تعلق اپنے رب کی ہدایت سے قائم رہا، اور جب اس نے وحیِ الٰہی سے بے اعتنائی اختیار کی تو اس کی ظاہری ترقی بھی اسے حقیقی کامیابی نہ دے سکی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے اسے اس کی عقل کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اس کی رہنمائی کے لیے ہر دور میں انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں، حق و باطل کے درمیان فرق واضح کیا اور وہ راستہ دکھایا جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات عطا کرتا ہے۔

یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور خاتم النبیین، سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی تکمیل کو پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب نازل ہوئی، وہ صرف سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہی نہیں بلکہ ان سب کی جامع، مکمل اور آخری کتاب بھی ہے۔ یہی قرآنِ مجید ہے، جو کسی ایک قوم، ایک نسل یا ایک خطے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے ہر انسان اور ہر جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دائمی منشورِ حیات ہے۔

اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ [سورۃ البقرة: 185]

ترجمہ: رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے، اور ہدایت و حق و باطل میں فرق کرنے والی روشن دلیلیں اپنے اندر رکھتا ہے۔

یہاں قرآن نے خود اپنے تعارف میں صرف مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ “هُدًى لِلنَّاسِ” فرما کر پوری انسانیت کو مخاطب کیا۔ گویا قرآن کسی خاص طبقے کی کتاب نہیں، بلکہ انسان ہونے کے ناطے ہر فرد کے لیے اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے۔

قرآن: ایک عظیم الشان انقلاب

یہی وہ کتاب ہے جس نے جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو علم کی روشنی عطا کی، منتشر قبائل کو ایک امت بنایا، غلاموں کو عزت بخشی، عورتوں کو وقار دیا، عدل کو اقتدار پر مقدم کیا اور انسان کو اس کے رب سے ایسا جوڑا کہ دنیا نے ایک نئی تہذیب کو جنم لیتے دیکھا۔

یہ محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جس قوم کے پاس نہ کوئی عالمی طاقت تھی، نہ منظم حکومت، نہ مادی وسائل اور نہ ہی دنیاوی اسبابِ غلبہ، اسی قوم نے چند ہی دہائیوں میں دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کو علم، عدل، کردار اور تہذیب کا درس دیا۔ یہ انقلاب تلوار کی دھار سے پہلے قرآن کی تعلیم سے برپا ہوا تھا۔ قرآن نے انسان کا زاویۂ فکر بدلا، اس کے عقائد کی اصلاح کی، اس کے اخلاق کو سنوارا، اس کے معاملات کو پاکیزگی عطا کی اور پھر اسی انسان کے ذریعے دنیا کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس لیے یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ اسلام کی پہلی اور سب سے بڑی معجزہ نما قوت قرآنِ مجید ہی ہے۔

قرآن کی جامعیت

قرآنِ کریم کسی مخصوص عبادت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے کا رہنما ہے۔ یہ انسان کو اپنے رب سے تعلق استوار کرنا بھی سکھاتا ہے اور بندوں کے حقوق ادا کرنا بھی۔ یہ عبادت کا طریقہ بھی بتاتا ہے اور تجارت کے اصول بھی، خاندانی نظام کی حفاظت بھی کرتا ہے اور معاشرتی انصاف کی بنیادیں بھی استوار کرتا ہے، اخلاق کی بلندی بھی عطا کرتا ہے اور حکمرانی کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ ایمان سے لے کر احسان تک، انفرادی کردار سے لے کر اجتماعی نظام تک، اور دنیا کی زندگی سے لے کر آخرت کی کامیابی تک، شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس کے متعلق قرآن نے بنیادی رہنمائی نہ دی ہو۔

اسی جامعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ [سورۃ النحل: 89]

ترجمہ: اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ہر ضروری چیز کا روشن بیان، ہدایت، رحمت اور مسلمانوں کے لیے خوشخبری ہے۔

اسی لیے قرآنِ مجید اپنے آپ کو صرف کتاب نہیں کہتا بلکہ مختلف مقامات پر نور، ہدایت، رحمت، شفا، فرقان، ذکر، حکمت اور مبارک جیسے عظیم اوصاف سے متعارف کراتا ہے۔ گویا قرآن کا ہر تعارف انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کسی عام کتاب کے سامنے نہیں بلکہ ربِّ کریم کے اس کلام کے سامنے بیٹھا ہے جس میں اس کی دنیا بھی آباد ہے اور آخرت بھی۔

ہمارا المیہ اور قرآن سے دوری

افسوس! آج صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ قرآن ہمارے گھروں میں موجود ہے مگر ہماری زندگیوں میں اس کی رہنمائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم اس کی تلاوت سے محبت تو کرتے ہیں، لیکن اس کے پیغام کو سمجھنے کی طرف کم توجہ دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ دنیاوی تعلیم دلانے کے لیے ہر قربانی دینے پر آمادہ رہتے ہیں، مگر کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں قرآنِ کریم کو صحیح پڑھنا، اس کا ترجمہ جاننا اور اس کے احکام سے واقف ہونا ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری زبانوں پر قرآن ہے مگر ہمارے کردار میں اس کی جھلک کم دکھائی دیتی ہے، ہمارے گھروں میں قرآن ہے مگر ہمارے فیصلوں میں اس کی روشنی کم نظر آتی ہے۔

یہی وہ المیہ ہے جس کی طرف رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی توجہ مبذول فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ [صَحِيحُ الْبُخَارِي]

ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔

یہ حدیثِ مبارکہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اسلام میں حقیقی عزت و فضیلت نہ مال و دولت سے حاصل ہوتی ہے، نہ جاہ و منصب سے اور نہ ہی حسب و نسب سے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مضبوط تعلق ہی انسان کو امت کے بہترین افراد میں شامل کر دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری حدیث میں قرآنِ مجید سے وابستگی کی برکات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ [صَحِيحُ مُسْلِم]

ترجمہ: قرآن پڑھا کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرنے والا بن کر آئے گا۔

اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ [جَامِعُ التِّرْمِذِي]

ترجمہ: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے، اور ایک نیکی کا اجر دس گنا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ “الم” ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔

غور کیجیے! جس کتاب کے ایک ایک حرف پر اتنا عظیم اجر رکھا گیا ہو، جسے سیکھنے اور سکھانے والوں کو امت کا بہترین فرد قرار دیا گیا ہو، جس کی تلاوت آخرت میں شفاعت کا سبب بننے والی ہو، اور جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود ربِّ کائنات نے اپنے ذمۂ کرم پر لے رکھی ہو، اگر اسی کتاب سے ہمارا تعلق محض رسمی رہ جائے تو پھر ہماری زندگیوں سے برکت، ہمارے کردار سے عظمت اور ہماری قوم سے قیادت کا رخصت ہو جانا باعثِ تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

علامہ اقبال نے اسی تلخ حقیقت کو نہایت درد بھرے انداز میں بیان کیا ہے:

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر

یہ صرف دو مصرعے نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے عروج و زوال کی پوری تاریخ کا نچوڑ ہیں۔ جب قرآن فکر کا محور تھا، کردار کا معیار تھا، فیصلوں کا سرچشمہ تھا اور زندگی کا دستور تھا، تب یہی امت دنیا کی معلم تھی۔ لیکن جب قرآن ہماری زندگیوں میں رہنما کے بجائے محض رسم و رواج کا حصہ بنتا چلا گیا تو ہماری عظمت بھی رفتہ رفتہ ماضی کا قصہ بنتی گئی۔

دعوتِ فکر اور آئندہ کا لائحہ عمل

آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہمارے گھروں میں صرف قرآن موجود ہو، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن ہمارے دلوں میں اترے، ہماری فکر کو بدل دے، ہمارے کردار کو سنوار دے، ہمارے گھروں کو اس کی تعلیمات سے منور کر دے اور ہمارے اجتماعی نظام کو اس کے احکام کا آئینہ دار بنا دے۔ یقیناً جس دن ہمارا تعلق قرآن سے وہی ہو جائے گا جو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا، اسی دن امتِ مسلمہ کے عروج کی نئی صبح طلوع ہوگی۔

مگر اس منزل تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر قرآن ہے کیا؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ لفظِ “قرآن” کا مفہوم کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقدس کلام کے کون کون سے اسمائے مبارکہ بیان فرمائے ہیں؟ ہر نام اپنے اندر کون سا پیغام سموئے ہوئے ہے؟ قرآن کا اعجاز کن پہلوؤں سے نمایاں ہوتا ہے؟ اور وہ کون سی خصوصیات ہیں جنہوں نے اسے تمام آسمانی کتابوں پر امتیاز و فضیلت عطا کی؟

جب تک ان بنیادی حقائق کو نہیں سمجھا جائے گا، اس وقت تک قرآن سے ہمارا تعلق بھی ادھورا رہے گا اور اس کے حقوق کی ادائیگی بھی مکمل نہ ہو سکے گی۔ انہی بنیادی مباحث سے اس سلسلۂ مضامین کی اگلی قسط کا آغاز ہوگا، جہاں قرآنِ مجید کی حقیقت، اس کے لغوی و اصطلاحی مفہوم، اسمائے مبارکہ، اوصافِ جلیلہ، اعجاز، جامعیت اور امتیازات پر قرآن و سنت، اقوالِ مفسرین اور ائمۂ امت کی روشنی میں مفصل گفتگو کی جائے گی، تاکہ ہم اس کتابِ ہدایت کو صرف تلاوت کرنے والی امت نہ رہیں بلکہ اسے سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی زندگی کا حقیقی منشور بنانے والی امت بھی بن سکیں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

(جاری ہے...)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!