Loading...

ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری

ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ (سوانح حیات)
عنوان: ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ (سوانح حیات)
تحریر: محمد عطا النبی حسینی مصباحی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

نام و کنیت اور نسب

گاؤں کے بعض معززین نے آپ کا اسم گرامی ”عبد الحکیم“ تجویز کیا، بعض نے سنہ فصلی کے مطابق تاریخی نام ”مختار احمد“ کا انتخاب کیا اور والدِ محترم ملک عبدالرزاق قدس سرہ نے آپ کا نام ”ظفر الدین“ رکھا۔ پھر جب آپ بریلی شریف تشریف لائے تو اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے حرفِ علت ”یا“ کے حذف کے ساتھ ”محمد ظفر الدین“ پسند فرمایا اور اسی نام کو آپ نے بھی اختیار فرمایا نیز اسی نام سے آپ کو شہرت و مقبولیتِ دوام حاصل ہوئی۔

کنیت کی جہاں تک بات ہے تو آپ نے پہلے پہل ”ابو البرکات“ اپنی کنیت رکھی لیکن جب آپ کے صاحب زادے ”محمد معروف بہ مختار الدین“ کی ولادت ہوئی تو ”ابو محمد“ بطورِ کنیت اختیار فرمایا۔

آپ کے مورثِ اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار الملک ہیں۔ ان کا نسب ساتویں پشت میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔

تاریخِ ولادت

آپ رسول پور میجر ضلع پٹنہ (اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۹؍ محرم الحرام ۱۳۰۴ھ مطابق ۸؍ اکتوبر ۱۸۸۶ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم

چار سال کی عمر میں رسمِ بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی۔ ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی، ابتدائی فارسی کتب حافظ مخدوم اشرف، مولانا کبیر الدین اور مولانا عبداللطیف سے پڑھیں۔ پھر مدرسہ ”حنفیہ“ میں مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی سے مسندِ امامِ اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی۔ پھر منڈی کانپور میں مولانا قاضی عبدالرزاق، مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا شاہ عبیداللہ پنجابی کانپوری سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد خوب سے خوب تر کی تلاش انھیں بریلی شریف لے گئی، جہاں مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رامپوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مولانا احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل ہوئی۔

درس و تدریس

ملک العلماء کی تدریسی زندگی کا آغاز بھی مدرسہ منظرِ اسلام بریلی ہی سے ہوا جہاں ان کی تعلیم کی تکمیل ہوئی۔ تقریباً چار سال تک وہاں درس دیتے رہے، اور فاضلِ بریلوی کی ہدایت پر فتاویٰ نویسی کی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔ ۱۳۸۲ھ [ممکنہ تصحیح: ۱۳۲۸ھ] کے اواخر میں جناب حامیِ دین متین خلیفہ تاج الدین صاحب کے گرامی نامہ کے سبب اعلیٰ حضرت نے اپنے نفس پر ایثار کرتے ہوئے حضور ملک العلماء کو ”انجمن نعمانیہ“ ہند، لاہور روانہ فرما دیا جہاں تقریباً ایک سال تدریس فرمائی۔

۱۳۲۹ھ کے آغاز میں عالم اور خطیب کی حیثیت سے شملہ تشریف لے گئے۔ اگلے سال آپ مدرسہ حنفیہ آرا ضلع شاہ آباد بہار تشریف لے گئے۔ اسی سال ۱۳۳۰ھ کے اخیر میں مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ میں بحیثیتِ مدرسِ اول ان کا تقرر عمل میں آیا، جہاں وہ تفسیر و حدیث و فقہ کا درس دینے لگے۔ چار سال بعد ۱۳۳۴ھ میں سید شاہ ملیح الدین احمد سجادہ نشین خانقاہِ کبیریہ سہسرام کی فرمائش پر وہ صدر مدرس ہو کر سہسرام چلے گئے، جہاں چار سال تک تدریسی فرائض انجام دیے۔

۱۳۳۸ھ میں دوبارہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ سینئر مدرس کی حیثیت سے تشریف لائے۔ تقریباً ۲۸ سال کی خدمت کے بعد ۱۹۴۸ء میں آپ پرنسپل کے عہدے پر سرفراز ہوئے اور پھر دو سال بعد ۱۹۵۰ء میں تقریباً تیس سالہ علمی خدمات انجام دے کر سبکدوشی حاصل کی۔ لیکن ۱۳۷۱ھ کو کٹیہار ضلع پورنیہ بہار میں جامعہ لطیفیہ بحر العلوم میں صدر مدرس کے عہدے کو رونق بخشی، لطیفیہ بحر العلوم میں تقریباً ۹ سال تک خدمت انجام دینے کے بعد آپ ۱۳۸۰ھ کو اپنے گھر منزلِ مقصود تشریف لے آئے اور اس طرح ۱۳۲۵ھ سے ۱۳۸۰ھ تک تقریباً ۵۵ سال تک مسلسل تدریس کا سلسلہ قائم رکھا۔

بیعت و خلافت

حضرت ملک العلماء رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے آپ کو حلقہ بگوشانِ اعلیٰ حضرت میں یکم محرم الحرام ۱۳۲۲ھ میں شامل کیا اور حسبِ تعلیم وظائف و اعمالِ قادریہ رضویہ میں مشغول رہنے لگے۔ ۱۳۲۵ھ میں عرسِ سراپا قدس سرکار مارہرہ سید آلِ رسول مارہروی قدس سرہ سے دستارِ خلافت سے مشرف ہوئے اور بیعت و ارشاد کی اجازت سے سرفراز ہوئے۔

تصنیف و تالیف

ملک العلماء کی تالیفات و تصانیف کی تعداد ستر سے زائد ہے۔ تصانیف کا سلسلہ فراغت سے دو سال قبل ۱۳۲۳ھ سے شروع ہو کر پچاس پچپن سال تک جاری رہا۔ یہ متعدد فنون اور موضوعاتِ حدیث، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، تاریخ، سیرت، فضائل، مناقب، اخلاق، نصائح، صرف، نحو، منطق، فلسفہ، کلام، ہیئت، توقیت، تکسیر اور مناظرہ پر مشتمل ہیں۔ جن میں سے درج ذیل کتب کو شہرت و مقبولیتِ دوام حاصل ہے:

  • (۱) الجامع الرضوی المعروف بصحیح البہاری
  • (۲) حیاتِ اعلیٰ حضرت
  • (۳) مجموعہ فتاویٰ بنام ”فتاویٰ ملک العلماء“
  • (۴) جواہر البیان ترجمہ الخیرات الحسان
  • (۵) المجمل المعدد لتالیف المجدد
  • (۶) تنویر السراج فی ذکر المعراج
  • (۷) مولودِ رضوی
  • (۸) النور والضیاء فی سلاسل الاولیاء
  • (۹) موذن الاوقات

وصال

۱۹؍ جمادی الآخرۃ ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۸؍ نومبر ۱۹۶۲ء شبِ دوشنبہ سپیدۂ سحر کی نمودگی سے قبل اللہ اللہ کہتے ہوئے جانِ جاں آفریں کے سپرد کر دی اور اس دارِ فانی کو خیر باد کہا۔ حضرت شاہ ایوب ابدالی شاہدی رشیدی اسلام پوری نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور قبرستان محلہ شاہ گنج، پٹنہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!